“حالتِ جنگ میں لکھا گیا خط”———-عظمی طور

میرے شہر کی فضا نے چند سیکنڈز میں دو بار جیٹ طیاروں کی آواز سنی ہے ۔ میرا دل بالکل نہیں ڈرا میں نے سر اٹھا کر اپنے وطن کے لیے امن مانگا ہے. مگر تمھارے خیال سے ایک گہری ٹیس میری پسلیوں میں چھپے دل سے اٹھی ہے ۔ اسے میں نے وہیں دبے رہنے کا حکم دیا ہے جہاں دل کو چھپا رکھا ہے میں نے ۔ دل کے معاملات گر دیکھنے دکھانے کے ہوتے تو اسے اتنا چھپا کر کیوں رکھا جاتا ۔
میں نے سوچا تھا ہم دونوں مل کر خوشی لکھیں گے ،آزادی لکھیں گے ، پھول لکھیں گے ، خوشبو لکھہں گے ۔ ہم خون کی بات نہیں کریں گے ۔ ہم ستر ہزار جانوں کا نزرانہ دے کر بھی پھول اور اسکی خوشبو کو رقم کریں گے ۔ ہم لکھنے والے ایسے ہی لوگ ہیں ہم خوشبو کو لکھ سکتے ہیں ہاں ہم طاقت رکھتے ہیں ۔ بالکل __
مگر میرے ہم نفس ہمیں گولیاں کی بوچھاڑ ، ٹینکوں کی دھاڑ اور فضا میں اڑتے طیاروں کی گڑگڑاہٹ سے نمٹنا ہے ۔
میں نے آئیندہ کل میں تمھیں بھیجے جانے والے سارے پھول شہداء کے گھروں میں رخصت کر دیئے ہیں ۔مجھے ماؤں ،بیوؤں ، بیٹیوں کے سوجے پپوٹوں نے سونے نہیں دیا اور ان پھولوں کی خوشبو نے بھی جو تمھیں آئیندہ آنے والے کل میں بھیجے جانے تھے.
میں نے دھڑکنوں کو روک کر یقین کے بھاری ڈال دیئے ہیں مجھے دعا کیلئے ہاتھ اٹھانا ہونگے ۔
گرے ہاتھوں کی فریادیں آسمانوں سے لوٹتی ہیں تو یقین کی رگیں ٹوٹتی ہیں ۔ مجھے خود غرض نہیں کہلانا مجھے دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا ہی ہونگے ۔
تمھارے نام کی گئی تمام رحمتیں جو رب نے بارش کی صورت میری چھت پر برسائیں میں نے خاکی وردیوں میں ملبوس نفوس کے لبوں کے نام کر دیں ہیں ۔
تم خفا نہ ہونا ۔ میں جانتی ہوں تم نہیں ہو گے ۔
میرے ہم نفس میں تمھارے قرب کے لمحے جو کبھی میرے نصیب میں آئے ہی نہیں انھیں میں نے شہید ہونے والوں کیساتھ دفنا دیا ہے ۔ میرا رب شہید کو مردہ نہ کہنے کا حکم دیتا ہے ۔
میرے ہم نفس تمھارے لبوں پر ٹھہرا میرا ذکر جو کسی بے دھیانی کے سبب لمحہ بھر کو اٹکا تھا تمھارے ہونٹوں پر اور میری یاد اور میرا دھیان اور میرا خیال اور ہم نفس میرا احساس وہ میں نے اپنی زمین کی مٹی پر ان بھاری قدموں تلے بچھا دیا ہے ۔
تمھاری تلخیاں ساری تمام بارڈرز پر باندھ دی ہیں ۔
تمھارے دیئے گئے تمام تحفے جن میں ڈھیروں شعر ،نظمیں ، غزلوں کے ادھورے مصرعے ، تمھاری ہی آواز میں گنگنائے گیت سب میں ہوا میں اچھالتی ہوں گاہے گاہے تو ہوا میں کچھ پل کے لیے امن پھیلتا ہے ۔
تم سے مل کر جو باتیں مجھے کرنا تھیں اور جو زخم دکھانے تھے اور جو ڈھیروں قصے بیان کرنا تھے انھیں میں نے تہہ خانوں محفوظ کر دیا ہے انھیں عادت ہے بھوکا رہنے کی.
میرے ہم نفس تمھارے سچے ہاتھوں کی قسم میں نے لمس کی سب حسرتیں بہت لپیٹیں ،چھپائیں ،دفنائی مگر وہ پھر مجھ سے لپٹ جاتی ہیں. میں بارڈر پر موجود نہ ہو کر بھی زخمی ہوں ۔
رات کے آخری پہروں میں جس ہیولے کے کاندھے پر سر رکھ کر میں نے کئی سرد و گرم راتیں بتائی ہیں وہ بمباری کے شور سے بھاگ گیا ہے ۔ وہ شاید اور بوجھ سہار نہیں پاتا سو میں نے بھی اسے آواز نہیں دی ۔
میں نے اپنی آنکھوں کی چمک جو تمھارے نام سے میری آنکھوں میں ٹھہری تھی برسوں پہلے اور مسکراہٹ جو تمھاری آواز سے ابھرتی تھی فقط ، وہ سب میں نے جسموں پر تمغے سجانے والوں کے یورنیفارموں پر ٹکا دی ہیں ۔
سیالکوٹ میں شیلنگ کے دوران میری آنکھیں بھیگتی رہیں اس احساس سے کہ وہاں موجود جوانوں کا خون بہا ہو گا اسی طرح بھیگتی رہیں جس طرح تمھارے سردیوں بیمار پڑ جانے پر بھیگتی رہی ہیں.
تمھاری ضد کی طرح دشمن بھی ہڈ دھرم ہے. اسے امن پسند نہیں ۔
میرے ہم نفس اگر کبھی تمھیں گڑگڑاتے ٹینکوں اور غراتے طیاروں میں فرصت کا کوئی لمحہ میسر آئے تو آئینہ دیکھ لینا ۔ کہیں تمھاری دائیں آنکھ کا پردہ تھکن کے باعث ڈھلک تو نہیں گیا ؟؟ کہیں رات دیر گئے تک کام کرتے رہنے کے بعد بھی کسی مصروفیت میں شرٹ کا ایک کونہ پینٹ سے نکل آیا ہو اور تصویر خراب ہو جائے ۔ تمھاری خراب تصویریں بھی کب خراب ہوتی ہیں تم جانتے ہو ۔
میرے ہم نفس خیال کرنا کہیں غائب دماغی کی حالت میں بولتے رہو اور سب ٹھیک بھی ہو جائے مگر تم تھک جاؤ اور دل بوجھل یو جانے کی شکایت کرو ، سنو ! میں ایسا کچھ سہہ نہیں پاتی ۔
تم ٹھیک سے وقت پر دوا لینے کی عادت کو چھوڑنا نہیں جنگیں تو ہوتی رہیں گی.
تم بس اپنا خیال رکھنا اور اپنے شہر کا بھی اور شہر والوں کا بھی ۔
تمھارے شہر نے تم سے جو خاموشی مستعار لے رکھی ہے اس میں گھلے سکون کو میرا خدا برقرار رکھے ۔
میرے پاس کبھی نفرتیں نہیں تھیں تم جانتے ہو گے شاید سو میں نے دشمن کی جانب اڑنے والی گولیوں اور گولوں میں محض دفاع باندھا ہے.
اور محبت کے تمام پیغام میری سر زمین کے لیے ہیں. میرے جوانوں کیلئے میرے شہیدوں کے لیے ۔
تم سے کی جانے والی بلکہ ہو جانے والی محبت اور تم سے حاصل کی گئی محبت کی چند بوندیں میں نے میری زمین پر بانے والوں کے دلوں، ان کی مسکراہٹوں میں باندھ دی ہیں ، ہم جنگ جیت جائیں گے انشاءاللہ
آخر میں تمھارے نام ایک نظم جو میں گزشتہ رات میں سیالکوٹ میں شیلنگ کے دوران لکھی
تمھارے لیے ایک نظم
“حالتِ جنگ “
تم سے ملاقات کی جو امید کہیں باقی تھی
اب وہ بھی ٹوٹتی نظر آتی ہے
حالات اب ویسے نہ رہیں شاید
امن کے دنوں میں یوں بھی فراغت کے
لمحے میسر ہوں بھی
تو مصروفیت محسوس ہوتی ہے
یوں لگتا ہے جیسے وقت ہمیں اڑائے رکھتا ہے
مگر اب حالتِ جنگ میں شاید میں تمھیں دیکھ بھی نہ سکوں
شاید تمھارے شہر ، تمھارے گھر کے باہر کسی جیٹ طیارے یا کرفیو کا خطرہ ہو
اور تم خود کو اور اپنے پیاروں کو بچانے میں مصروف رہو
اور میں ہر بارش کو پیغام سمجھنے والی
پھر خالی رہ جاؤں __
تمھارے شہر کے لیے بہت دعائیں
(عظمیٰ طور)
(چھبیس فروری دوہزار انیس جب دشمن رات کے اندھیرے میں حملہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ناکام رہتا ہے )
___________________
تحریر: عظمی طور
فوٹوگرافی:عرفان فاروق

کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

Advertisements