کفارہ۔۔۔۔۔۔۔صوفیہ کاشف

“یہ چہرہ بہت خوبصورت تھا جب تک اس پر محبت کے نام کی کالک نہیں لگی تھی”

مجھے آتے ہوئے دیکھنا رات کی تاریکی کو دن کے اجالے میں دیکھنا تھا۔میرے رات جیسے چہرے پر سب کچھ تھا جو رات کا اصل ہے:وحشت،نحوست،اندھیر،لامکانی،پریشانی،آسیب اور ظلمت۔میں اسکی آنکھ کا سوال پڑھ بیٹھی تھی۔

“واقعی؟ لگتا تو نہیں! پھر اس کا حسن کہاں گیا؟”

وہ حیرت زدہ ہوا۔

“پھر اس پر محبت ایک کلنک کی طرح آ پڑی،ایسی کی اس کی سیاہی سے چہرے اور وجودکی سب جاذبیت اور حسن غائب ہو گیا۔صرف ایک نحوست نام کا آسیب تمام چہرے پر کسی بدرح کے ضدی وجود کی طرح آ کر لپٹ گیا۔”میں نے بتایا

“تم نے اس کلنک سے بچنے کی کوئ کوشش تک نہ کی؟”

“بہت کی !بہت خود کو روکا میں نے! سجدے کئے،دعائیں مانگیں،منتیں چڑھائیں کہ مجھے دھکیل کر لے جاتی محبت میرا دامن چھوڑ دے،بہت سے در،ان گنت چوکھٹیں تھام کر اس گردباد میں اڑ جانے سے بچنے کے بہت جتن کئے مگر اس سیلاب میں کوئ چوکھٹ میرے ہاتھ لگی نہ کوئ دم میرے کام آیا اور میں اک ٹوٹے شستہ حال شجر کی طرح کی طرح روتی پیٹتی اس طوفان کے ساتھ لاوارث بہتی چلے گئی۔”

“اوہ!۔بہت برا ہوا!_____بہت سوں کے ساتھ یہی ہوتا ہے !پھر اس کے بعد؟”

‘پھر وہی ہوا جو نحوست کے دامن سے لپٹنے کے بعد ہوتا ہے۔میرے چہرے پر پھٹکار برسنے لگی کیونکہ اس کے اندر کسی کی طلب جاگنے لگی تھی۔لوگوں کے ہاتھ اچھل اچھل کر میری گردن اور بالوں کی طرف لپکنے لگے کیونکہ ان میں کسی کے وجود کی موسیقی اپنی تان چھیڑنے لگی تھی۔میرا دلنشیں وجود کسی بدعا کی طرح میرے اپنوں کو چھبھنے لگا۔میں ایسی ایک بددوح بن گئی جس سے ہر کوئ بھاگ جانا چاہتا تھا،مجھ سے بچ کر یا مجھے دبوچ کر ہر کوئ میری سانسوں کی ڈور کو توڑ پھینکنے پر بضد تھا”

“پھر؟پھر کیا ہوا؟”

” میرے وجود کی کہیں بھی طلب نہ رہی تو میں اپنے گھر کی دہلیز سے نکلی ۔اور میں نے چاہا کہ وہ میرا آسرا بنے گا جس کے نام کی تسبیح پڑھتے میں خود راندہِ درگاہ ہو چلی تھی۔

“تو اس کی طرف جاتے جاتے تم میری طرف کیسے نکل آئیں؟”

“اس کی طرف جاتے نہیں۔اس کی طرف سے ہو کر میں تم تک آئ ہوں ۔اسکا در بھی ہر کلنک کے لئے بند ہو چکا تھا”

“اس نے بھی جھٹلا دیا ؟”

“ہاں!میں بدصورت ہو چکی تھی ناں۔اس کے نام کی سیاہی اپنے چہرے پر الٹ کر میرا حسن لٹ چکا تھا۔وہ کہتا جو سارے دیس کے پتھر کھاتی پھرتی ہو وہ بھی کوئ گھر میں سجانے کی چیز ہوتی ہے”؟

” یہ بات تمھیں کبھی کسی نے نہیں بتائ؟”

ہاں بتائ تھی مگر مقدر میں رٹی ہوئ باتوں کا بھی بھول جانا لکھا تھا سو اس لئے یہ بہت محنت سے یاد رکھی ہوئ بات بھی بھول گئی”

“تو اب تم میری لہروں سے لپٹ کر جان دینے آئ ہو!”سمندر قہقہ لگا کر ہنس پڑا۔ایک اور وجود مجھے نگل جانے کو تیار تھا۔” ان ساری عورتوں کی طرح جو محبت کی تلاش میں نکلتی ہیں پر ان کو پناہ میری گہرائیوں میں ہی ملتی ہے۔”سمندر اٹھلا اٹھلا کر ہنستا تھا۔

“نہیں!”مجھے اسکی لہروں میں سب لوگوں کی صورتیں دکھائ دینے لگی تھیں جنہوں نے مجھے دھتکار دیا تھا”۔مجھے پناہ نہیں چاہئیے! میں تو عبرت کی جاہ بن جانا چاہتی ہوں۔اس کنارے بیٹھ کر میں چاہتی ہوں کہ دنیا دیکھے کہ یہ ہے محبت کا مقدر تا کہ کوئ بھی دوبارہ اس کے میٹھےسُر کی زد میں نہ آئے۔”

‘کب تک بیٹھو گی پیاری؟”سمندر نے آنکھ ماری

“جب تک کہ میری رگوں سے یہ گواہی نہ آ جائے کہ میں اپنے گناہ کی سزا کاٹ چکی۔جب تک کہ میرے اعمال کی سیاہی نم ہو کر اتر نہ جائے اور میرے چہرے کی جاذبیت پھر دھل کر کھل نہ جائے۔جب تک یہاں سے بہنے والی ہر لہر اک نیا جنم لیکر واپس نہ لوٹے اور میرے ماتھے کے کلنک کوفراموش نہ کر دے،مجھے یہیں تمھارے کنارے بیٹھنا ہے اور گناہوں کے دھلنے کا انتظار کرنا ہے”

————————-

تحریر و فوٹوگرافر:صوفیہ کاشف

Advertisements