“چلوباتیں بناتے ہیں”______عظمی طور

چلو باتیں بناتے ہیں

تم اسکو کوسنا
اور میں
کسی پھاپھے کٹنی کی طرح اسکی ناکردہ دلربائی کی داستانوں کی تشہیر کروں گی
تم اسکے کوٹ سے نکلے کاغز کے ٹکڑوں کو
جو اکثر میرے ہاتھ لگتے تھے
انہی کی بابت بولتی جانا
میں پھاپھے کٹنی بن کر تمھارے اور اسکے درمیاں آنے کی سبھی باتیں سبھی کو سنانے کی تمھیں
دھمکی دوں گی
تمھاری اور اسکی انسیت کے قصے زمانے کے سامنے چھیڑ کر خود کو ہلکان کر لوں گی
تم بھی ایسے میں میری
خود سے نفرت کو بھانپتے ہی جب
اِدھر اُدھر چھپنے لگتی تھی
بتانا سبھی کو
اور یہ بھی بتانا کہ میں نے کسی عیار محبت کی کہانی کو آغاز بخشا تھا
اور ایسے میں
یہ سنتے ہی
میں لال بھبھوکا چہرہ لیے تمھارے بال پکڑوں گی
تمھاری چوٹی بنا دوں گی
تمھاری درگت بنانے کی خواہش میں
خود کو ہلکان کر دوں گی
ہا ہا ہا … …
مگر تم تو اسکے جاتے ہی میری ایسی کی تیسی کرتی ہو
بھلا میں کیسے پھاپھے کٹنی بن پاؤں گی
اور کیسے تمھارے اور اسکے درمیاں آنے کی کہانی کو
تمھارے منہ پہ ماروں گی
چلو چھوڑو سبھی باتیں
آؤ ہم دوستی کر لیں
اور اب آئیندہ میں
تمھیں کچھ بھی نہ بولوں گی
اور
جب جب
اسکی کسی یاد کی آڑ میں
ہنستے ہوئے
تمھارے ہاتھ پہ ہاتھ مارنے کی کوشش کروں
تو تم
ہاتھ آگے مت کرنا
میری پیاری تنہائی
اسکے بعد ہی تو تم میری ہوئی ہو
سو
مجھے مایوس مت کرنا
جب بات یہاں تک پہنچے گی کہ
میں تم کو مناؤں
اور تم کچھ کچھ ماننے لگو
تو ہم یہ کھیل پھر سے دھرائیں گے
کہ جسکا نام ہم نے
“چلو باتیں بناتے ہیں”
رکھا ہے ____!

__________________

کلام:عظمیٰ طور

فوٹوگرافی و کورڈئزائن:صوفیہ کاشف

ماڈل :عائشہ

Advertisements