محبت کی ایک اور کوشش _____حمیرا فضا

کلام:حمیرا فضا

کورڈیزائن:صوفیہ کاشف

چلو پچھتاوے کی کالی جھیل میں
تم اور میں اپنی آنکھوں کے بدلے ہوئے رنگ پھینکیں
اپنی ہاتھوں کی بے وفا لکیریں ڈبوئیں
اپنی اکڑی ہوئی مغرور انگلیاں
اجنبی پاؤں
بھگو کر بیٹھیں
خود کو کھو کر بیٹھیں
ماضی کی باہوں میں رات
رات گزاریں
ہوسکتا ہے موذی مرض میں مبتلا ہماری محبت
زندگی کے بے رنگ تکیے پر
ایک اور سانس رکھ جائے
مایوسی کا الارم
خودبخود رک جائے
بیزاری تھک جائے
میرے وہمی دل کو
یقین ہے
صبح کے آخری کنارے پر
امید کی کشتی اترے گی
تم اُس کشتی میں کہیں چھپا ہوا
پیار کا رنگ ڈھونڈ لینا
جو پرانے گھر کی
اکلوتی نئی دیوار پر
تم سجانا چاہتے تھے
اور وہ پینٹنگ بنانا
جو میری بائیسویں سالگرہ کی پہلی شام
بنانا چاہتے تھے
وہی تصویر تمھارا پورا عشق ہوکر بھی
اِس آدھی محبت میں
ادھوری رہ گئی ہے
میں بھی کچھ رنگ
مٹھی میں بھر لونگی
تمھاری عنایت کی منتظر
ایک لاوارث نظم کی
پھر سے ـــــــــ
مانگ بھر دونگی
حمیرا فضا

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.