برفیلے دل کا آنگن_______ثروت نجیب،ک

تحریر:ثروت نجیب

کابل افغانستان

:کور ڈیزائن:ثوبیہ امبر

____________________

”تمھیں دل کے قفس کی تاریں کسنے کے علاوہ آتا کیا ہے؟ “

وہ سر جھکائے خاموشی سے لکڑیاں کاٹتا رہا ـ جب باپ کی کوئی بات ذیادہ تلخ لگتی تو کلہاڑی کی ضرب شدید ہو جاتی ـ لکڑی کے ٹکڑے اِدھر اُدھر بکھر جاتے ـ

جھکی بوڑھا سفید داڑھی کجھاتے پھر بولتا !

” ارے خارکشی تو گھر کی عورتوں کا کام ہے ـ تجھ سے تیز کلہاڑی تو وہ بھی چلا سکتی ہیں ـ مرد ہے تو شھر جا نا! “

شھر کا نام سنتے ہی اسے اختلاج ہونے لگتا ـ مصنوعی زندگی اور مالکوں کی چاکری ـ اُن کے جوتے سیدھے کرنے سے اچھا تھا دس پندرہ دن بعد باپ کی پھٹکار سن لیتا ـ باپ جب دل کی بھڑاس نکال لیتا تو پھر اس کا مزاج معمول پہ آ جاتا ـ وہ جانتا تھا بڑھاپا انسان کو سنکی بنا دیتا ہے ـ

اس عمر میں آس پاس کی چیزیں کھٹکھنے لگتی ہیں ـ چاہے وہ انسان ہوں یا پلاسٹک کے لفافے ـ

جسے اس کی ماں چن کر قرینے سے لپیٹ کر باورچی خانے کے ستون اور دیوار کے درمیان اڑس لیتی ـ کسی دن کام آئیں گے ـ

جہاں پلاسٹک کے لفافے اہم تھے وہاں جوان بیٹا آخر کس دن کام آنے کے لیے پیدا کیا تھا ؟

بیٹی کا المیہ ہے پیدا ہوتی ہے تو منہ بنا کر سہی لوگ اس کے اچھے نصیبوں کی دعا تو دیتے ہیں مگر بیٹا پیدا ہو جائے تو کسی کو اس کے نصیب کی فکر نہیں ہوتی بس شادیانے بجتے اسی خوشی میں کہ والدین کے بڑھاپے کا سہارا آ گیا ـ

وہ سہارا بڑا ہو کر جب عین ان کی مرضی کے مطابق نہ نکلے تو کسی معذور بچے کی طرح دل میں خار بن کے چبھ سا جاتا ہے ـ

نیابت گل بوٹے قد کا گُھٹی ہوئی جسامت والا تندومند نوجوان تھا ـ جس کے گھنگھریالے بال ٹوپی کی طرح سر سے چپکے معلوم ہوتے ـ جُھکی ہوئی شربتی آنکھیں ‘ دودھیا رنگت ‘ اللہ لوک طبعیت کا مالک اور بےحد کم گو تھا ـ فطرت کی رنگینی میں گم رہتا ـ درختوں کی چھال کو تراش کر سجاوٹی اشیاء بناتا کبھی چربی سے موم بتیاں اور صابن ‘ مار خور کے سینگھ مل جاتے تو ان سے انگشتریاں تراشتا ـ وہ دن بھر گاؤں کے اطراف میں پہاڑوں پہ قدرت کو دل کی نگاہوں سے چھانتا رہتا ـ جنگلی ہوائیں اس کی سانسوں میں رچی ہوئی تھیں ـ انھیں کشید کر کے جدا کرنے سے اسے لگتا اس کا دم شہری ایندھن کے دھوئیں میں گھٹ جائے گا ـ نیابت گل کو پردیس کی بھٹی میں جھونکنے کے لیے باپ ایڑی چوٹی کا زور لگا کر ہار گیا تو کسی نہ کسی دن تلخیاں اس کی شکستِ فاش کے طور پہ مغلضات کی صورت زبان سے برآمد ہونے لگتیں ـ

ان کا گاؤں شھر سے دور ایک ایسی وادی میں تھا جہاں بمشکل بیس ‘ پچیس کے قریب گھر ہوں گے ـ جن میں بیشتر کے لڑکے کمانے شھر جاتے عورتیں اور عمر رسیدہ گھر پہ رہتے ـ شھر کی کمائی سے ان کے محض اوپر کی ضروریات ہی پوری ہوا کرتی تھیں ـ جیسے کپڑا ‘ لتہ ـ دوا ‘ دارو باقی سب کچھ تو مال مویشی اور کھیت و باغات سے حاصل کر لیتے ـ یہاں سرکار کی رسائی نہ تھی ـ پہاڑ کی چوٹیوں پہ تخریب کار مقبوض تھے ـ گاؤں والوں کا ان سے کوئی سروکار تھا نہ تخریب کاروں کو گاؤں والوں سے ـ بہت بھی ہوتا تو کسی روز نیچے اترے ہوتے تو روٹی ‘ سالن کے لیے کسی گھر کا دروازہ کھٹکھا لیتے ـ کھا ‘ پی کے واپس سفر پہ روانہ ہو جاتے ـ مگر ایسا شاذو نادر ہی ہوتا ـ عموماً گاؤں والوں کی زندگی موسمی لحاظ سے ترش مگر پرسکون تھی ـ اگر غربت نہ ہوتی تو سونے پہ سہاگہ ہی ہو جاتا ـ یہ چند خود ساختہ گھر بھی ایک دوسرے سے کافی دور دور تھے البتہ کریانے کی اکلوتی دوکان مرکز بنی ہوئی تھی ـ جہاں ضروری سودا سلف کے علاوہ گاؤں بھر کی خبریں مفت مل جاتیں ـ گاؤں میں تین موسم ہی اپنے جوبن پہ آتے ـ بہار آتی پھر موسم زرا معتدل ہوتا ـ تب فصلیں اُگتیں ‘ کھیت پکتے’ باغ میں درختوں پہ بور آتا ‘ پھل اُترتے ‘ سوکھتے اور پالا پڑنا شروع ہو جاتا ـ اس سے قبل ہی گاؤں کے تمام باشی اناج ذخیرہ کر لیتے ـ سبزیاں و میوے سوکھا لیتے ـ نیابت گل کے گھر میں والدین سمیت اس کی تین بہنیں اور دو بھابیاں رہتیں ـ جن کے چھ بچے گھر کی رونق تھے ـ بھائی شھر میں مزدوری کرتے ـ عورتیں گھر کے کام کاج کے علاوہ سلائی کڑھائی کرتیں جن کو شھر جا کر بیچا جاتا ـ ان کے دستی رومال ‘ ٹوپیاں ‘ کفش نفاست میں یکتا تھیں مگر دام اونے پونے ہی ملتے ـ ان کے لیے یہی کافی تھا ـ ہاں جب نیابت گل لومڑیوں کا شکار کرتا تو ان کی کھال سے اس کی ماں جو پوستین بناتی وہ شھر میں خال خال ہی نظر آتی ـ اس لیے ہر دکاندار اس کے اچھے دام دے کر لینے کی خواہش کرتا ـ

نیابت گل باپ کی باتیں سن کر افسردہ تھا تو اس نے دام نکالا اور لومڑی کے شکار پہ چلا گیا ـ لومڑیاں اب پہلے کی نسبت کم ہونے لگیں تھیں ـ وہ مخصوص علاقے پہ دام بچھا دیتا جس میں لومڑی پھنس جاتی ـ سرخ لومڑیوں کی کھال تو مل جاتی مگر سفید لومڑی نایاب ہوتی جا رہی تھی ـ وہ سلیقے سے لومڑی کا چہرہ تک محفوظ کر لیتا جو کہ مفلر سے لٹکتا ہوا بےحد اچھا لگتا ـ جبکہ کھال سے پوستین اور دم کے بالوں سے مصوری کے برش بنائے جاتے ـ نیابت گل اس فن میں کافی ماہر تھا ـ وہ لکڑی کو نفاست سے تراش کر ایسے دیدہ زیب برش بناتا کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ـ اسی وادی کے چپے چپے سے عشق اس کے پیروں کی بیڑی بن چکا تھا ـ وہ تر ہواؤں کے اسرار سے واقف تھا ـ برفباری سے قبل ہی خوشبو سونگھ کر بتا دیتا کہ کل برف پڑے گی یا بارش ہوگی ـ عصر تک دام میں کوئی لومڑی نہیں پھنسی ـ اسے یقین تھا اس کی بھابھی اس کا مذاق اڑائے گی ـ وہ ان کی نظروں میں پرلے درجے کا نکما اور تیار خور تھا ـ

شام وادی سے علیک سلیک کرنے لگی تو وہ چپکے سے گھر لوٹا ـ

”آدے ـــ آدے ــ

بارش کے آثار ہیں تناؤ سے کپڑے اتار لینا ـ“

بس اتنا کہنا تھا کہ باپ پھر سے بھڑک اٹھا !

”پیش بینی کرنے کا شکریہ ـــ

مگر پیش بینی کے عوض نقدی نہیں ملتی “

نیابت گل چمڑے کے لمبے بوٹ اتارتے بولا !

”نہ ملے ! کپڑے تو بھیگنے سے بچ جائیں گے تیرے “

بوڑھا باپ ہڈیوں کی مُٹھی بن چکا تھا وہ ناچاہتے ہوئے بھی باپ کو جواب دے کر پشیمان ہوا ـ

یہ سردیاں اس کا باپ گزار لے تو اگلا سارا سال جینے کے باآسانی قابل ہوگا ـ اس سال ہوا کے تیور بھیانک تھے ـ پہاڑوں کی چوٹیوں پہ وہ سفید مرغولے اٹھتے دیکھ چکا تھا جو اس سے قبل اس نے کبھی نہیں دیکھے تھے ـ جاڑا شروع ہونے لگا ـ نیابت گل کی ماں زری گُلے نے تار پہ لٹکی ململ کی تھیلی سے دہی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا !

چار ماہ باآسانی چل جائے گی ـ

دہی کا سارا پانی نچڑ چکا تھا وہ ایک سفید بڑے گولے میں ڈھل کر خالص چکّا بن چکی تھی ـ

بیٹی پتاسا بولی ادیے باقی دو ماہ کیا کریں گے؟

ادیے مسکرائی !

”قروت کھائیں گے ـ“

وہ بھی اس نے دہی کو دھوپ میں سکھا کر بنائے تھے ـ جب ضرورت پڑتی وہ سخت سوکھی دہی کے ٹکڑیوں کو گرم پانی میں بھگو کر رکھ دیتی پھر گھسا گھسا کر مائع کی حالت میں لے آتی ـ وہ گاڑھی ترش دہی میں بدل جاتے تو کٹورے میں بھر کے رکھ دیتی ـ جسے سب سفید چاولوں کی کھچڑی پہ ڈال کر کھاتے تو بہت لذید معلوم ہوتی ـ

ہوا بغاوت پہ اتر آئی تھی ـ گرم کپڑے نکال کر سب کپڑوں کی گھٹری بنے پھر رہے تھے ـ بچوں کو کنٹوپ اور دنبے کے اونی کوٹ پہنا دہے گئے ـ تیز ہواؤں کے جھکڑ کھڑکیاں توڑنے پہ آمادہ تھے ـ

نیابت گل نے چھ ماہ کی لکڑی کا ذخیرہ تہہ خانے میں جمع کر رکھا تھا ـ گودام میں سب سے اہم چیز راشیپل (پلاسٹک کا بیلچہ) تھا جو اسے نہ ملا ـ وہ مضطرب تھا ـ مگر اسے یقین تھا ـ آج رات کم از کم برف نہیں پڑے گی ـ صرف بارش برسے گی ـ بہت موسلادھار طوفانی بارش ــــ ہواؤں کی سیٹیاں تیز ہونے لگیں ـ زری گلُے نے اپنا بستر باورچی خانے میں لگا دیا ـ دہکتے انگارے جوڑوں کے درد کو ٹکور دینے لگے ـ

صبح ایک جہان جل تھل تھا ـ

درختوں پہ بچے کھچے کرمزی پتے بھی جھڑ چکے تھے ساتھ بےشمار ٹہنیاں بھی ـ

نیابت گل دکان سے بیلچہ لے آیا ـ

”ارے دیکھو دیکھو راشپیل لا رہا ہے حرام کے پیسوں سے “

باپ کی چھبتی آواز سن کے نیابت گل افسردہ ہو گیا ـ

باپ پھر ہنس کر بولا !

”یہ عورتوں والے کام ہیں زویا ـــ“

اس سے پہلے کہ نیابت گل کچھ بولنے کے لیے منہ کھولتا ـ زری گُلے نے اپنے ہونٹوں پہ ہاتھ کر اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا تو وہ سنی ان سنی کرتا گودام میں چلا گیا ـ کچھ دنوں بعد برفباری کا سلسہ شروع ہوگیا ـ اُدھر اس کے والد کی طبعیت بگڑنے لگی ـ نیابت گل نے میمنے کو ذبح کر کے اُس کی کھال باپ کو اوڑھا دی ـ وہ باپ کے سینے پہ ہر رات دنبے کی چربی ملتا ـ زری گُلے گرم دودھ میں چربی گھول کر دیتی مگر سینے کی جکڑن ختم نہ ہوئی ـ وقتی افاقہ تو ہو جاتا مگر یہ مستقل حل نہیں تھا ـ وقت گزرنے کے ساتھ شکست و ریخت کا عمل شروع ہو جاتا ہے ـ جیسے قدیم بوسیدہ عمارتیں عمر پوری کرنے کے بعد جاہ جلال کی علامت تو ہوتیں ہیں مگر ان کے سایے کا اعتبار نہیں ہوتا ـ نیابت گل کو باپ کی فکر تھی ـ گھر میں خاموشی فرش سے دیواروں تک شام کے سائے کی طرح بتدریج بڑھ رہی تھی ـ زری گلُے نے بہو کو ململ کی تھیلی سے سوکھے گوشت کے چند ٹکڑے نکال کر دیے ساتھ ـ ہار میں پروئی خشک سبزیوں کے ٹکڑے جن میں شلغم ‘ کدو اور سائے میں سوکھائی سبز مرچیں تھیں ـ نیابت گل نے زمین کھود کے آلو نکالے جو انھوں نے سردی آنے سے پہلے زمین دوز ذخیرہ کر لیے تھے تاکہ تازہ رہیں ـ ورنہ سرد ہوائیں آلوؤں کو پھوپھس اور کڑوا کر دیتی ہیں ـ شاید یہ شوربہ نیابت گل کے باپ کو تقویت دے ـ عموماً وہ سارا سرما انھی سوکھی سبزیوں ‘ نخود اور لوبیا کھا کر گزارا کرتے ـ باہر برفباری نے سبھی مناظر پہ سفیدی کا چھڑکاو کر دیا تھا ـ درخت برف کی دوشالا اوڑھے کھڑے تھے ـ پہاڑ اپنی ہیت سے جدا بادلوں کے مرغولوں میں گم ہو چکے تھے ـ پرندے کب کے کوچ کر چکے تھے ـ آسمان برف کے گولوں سے زمین کو چومنے کا لطف لینے میں مگن تھا ـ یہ عشق بازی زمین و آسمان کو تو جچتی ہے مگر غریبوں کے لیے وبالِ جان بن جاتی ہے ـ اچانک طوفانی برفباری کا خطرناک سلسلہ شروع ہوا ـ شام پھیل چکی تھی مگر اس کی سیاہی کو برف نے چوس لیا ـ تاریکی کے بجائے الوہی سفیدی سے سارا گاؤں روشن تھا ـ برف کی اپسرائیں باہیں پھیلائے سکوت سے ہم صحبت تھیں ـ زری گُلے نے جوڑوں پہ چربی ملی ـ انگھیٹی سلگائی اور تہہ خانے میں گودام کے ساتھ والے دالان میں لے گئی ـ جہاں گھر کی سب عورتیں اور اس کا بیمار شوہر سونے کی تیاری کر رہے تھے ـ کمرے کے وسط میں انگھیٹی رکھ کے اس پہ بہت بڑی رضائی ڈال دی ـ جس کے چاروں اطراف عورتیں اور بچے پاؤں پسارے سو گئے ـ نیابت گل اپنے کمرے میں بخاری سے ہاتھ تاپتے متفکر تھا ـ اس نے رات ڈھلے دیکھا کہ برف کئی فٹ اوپر آ چکی ہے ـ یہاں تک کہ کھڑکیاں تک برف میں دھنس چکی ہیں ـ اس نے باورچی خانے میں جا کر چربی کا تھیلا کھولا ـ ہاتھ ‘ چہرے اور چمڑے کے کوٹ اور پنڈلیوں تک لمبے بوٹوں پہ اچھی خاصی چربی ملی ‘ راشپیل اٹھایا اور چھت پہ چڑھ گیا ـ یہاں برف کا ایک عالم تھا جو دھرتی کو ڈھکنے کے لیے باولا ہوا جا رہا تھا ـ وہ چھت سے راشپیل کی مدد سے برف ہٹانے لگا ـ وہ اسی دھن میں لگ گیا ـ کئی فٹ برف جھاڑنے کے بعد زرا توقف کیا مگر پھر سے اتنی ہی مقدار میں برف پڑی ـ اس نے مصمم تہیہ کر لیا کہ وہ برف کو چھت پہ ٹکنے نہیں دے گا ـ برف کی اپسرا میں اسے موت کا فرشتہ دیکھائی دے رہا تھا ـ یہ ٹھنڈ نجانے کس کس کی جان لے گی آج ـ اس کی آنکھوں میں باپ کا چہرہ گھوما ـ خون نے گرمجوشی دیکھائی اور وہ بازوؤں کی پوری قوت سے برف ہٹانے لگتا ـ ٹھنڈ اس کے چرمی کوٹ سے تحلیل ہو کر اس وجود کو جمانے لگی تھی ـ مگر اسے معلوم تھا کہ اگر وہ رک بھی گیا تو برف نہیں رکے گی ـ ارگرد برف کی تہہ بلند سے بلند تر ہوتی گئی ـ رات ڈھلنے والی تھی برفباری اب آہستہ آہستہ کم ہو رہی تھی ـ نیابت گل کی بینائی دھندلانے لگی ـ برف اندھا کر دیتی ہے ـ پر وہ اپنے کالے چشمے تو نیچے بھول آیا تھا ـ کیا وہ اندھا ہونے والا تھا ؟

نہیں نہیں ـ انسان سے ذیادہ محبت اندھی ہوتی ہے ـ جو اسے چھت صاف کرنے پہ اکسا رہی تھی ـ وہ اپنے کام میں مگن رہا ـ صبح لاج کی ماری برف سے جھجھکتی صادق کی پو پھوٹی ـ زری گُلے نے روشن دان کی جانب دیکھا تو دل دھک سے رہ گیا ـ وہ اوپر منزل کی جانب بڑھی ساری کھڑکیاں برف سے بند تھیں ـ دروازہ کھلنے کا نام نہ لے ـ تب تک گھر کی سبھی عورتیں جاگ چکیں تھیں ـ زری گُلے چھت پہ چڑھی ـ چھ فٹ برف میں آدھا گھر دھنس چکا تھا ـ وہاں نیابت گل عمودی لیٹا ہوا تھا ـ نیلے ہونٹ ‘ پھٹی ہوئی کھلی آنکھیں برف کی طرح سفید چہرہ جس پہ ملی چربی کی پپڑیاں اکھڑی ہوئی تھیں ـ اور ہاتھ میں راشپیل ـ جو دستانے کے سوت سے ٹھنڈ کی وجہ سے چپکا ہوا تھا ـ اردگرد سارا گاؤں سبھی گھر برف سے دفن ہو چکے تھے ـ صرف ایک گھر بچا تھا ـ

جس میں نیابت گل کی مرگ کا ماتم جاری تھا ـ

Advertisements