کتاب تعارف___”گہر ہونے تک “

ذندگی اک کھیل ہے مگر ایسا جسے کھیلنے کو بہت سی بہادری اور کمال چاہیے۔یہ بچوں کا کھیل ہر گز نہیں!یہاں کھڑے رہنے کا نام ہارنا ہے!،کھیلنا ہے تو چلنا ہے ہر قدم ,ہر منزل پر،ہار سے بچنا ہے تو تیز چلنا ہے،ٹھہرنا نہیں!،جیتنے والوں میں ہونا ہے تو بھاگنا ہے،مسلسل،ہر مشکل،ہر سختی سے بڑھ کر! اور اگر سب سے اوپر پہنچنا ہے تو پھر آپ میں ناکامیوں سے لڑنے والا حوصلہ اورہار کو ہرا دینے کی طاقت،سب سے ذیادہ ہونی چاہیے۔یہ کتاب ہے دنیا کے کچھ ایسے ہی بڑے کامیاب تخلیق کاروں کی داستان جنکو ناکامی نے ہر موڑ پر کچلنے کی کوشش کی مگر ہر بار انہوں نے پھر سے آگے نکلنے کی بازی لڑی یہاں تک کہ بلآخر ہار کو ہار جانا پڑا۔تخلیق کےسفر میں کبھی لوگ،کبھی خاندان،کبھی معاشی وسائل، کبھی معاشرتی مسائل،کبھی نفسیاتی الجھنیں ،کبھی اخلاقی انحطاط ،کیا کچھ نہ آڑے آیا مگر ان ٹوٹے پھوٹے لوگوں کو سڈنی شیلڈن،اوپرا ونفری،ولیم شیکسپیئر،والٹ ڈزنی اور پاؤلو کاہلو بننے کے لئے ہر مشکل سے لڑنا اور اسے ہرانا پڑا ۔یہاں تک کہ دنیا ان کے سامنے جھک گئی۔انہی لوگوں کی محنت کی کہانیاں جو انہوں نے اپنا شاہکار پیش کرنے سے پہلے کی !یہ کتاب ہے ان سب بڑے ناموں کی حیات کی سچی کہانیاں جو آپ کو اپنی منزل کی جدوجہد کے لئے نیا حوصلہ دیں گی۔

کچھ لوگ جن کی محبت کا مجھ پر قرض ہے اور جن کی توجہ کے بغیر یہ کتاب آپ کے ہاتھوں میں نہیں آ سکتی تھی۔عمیرہ احمد اور ان کے پلیٹ فارم الف کتاب کا جہاں سے اس سیریز کا جنم ہوا اور آغاذ سے ہی اسے میرے نام پر لکھ دیا گیا جب تک کہ میں خود ہی تنگی داماں سے گھبرا نہ گئی۔مدیحہ ریاض اور شاذیہ خان جن کے اعتماد اور محبت نے مجھے اس کے لئے نہ صرف ہمت دی بلکہ مجھے ہر وقت اپنا بھرپور کام کرنے کا حوصلہ بھی۔فرحین خالد ،جنہوں نے میری کتاب کے تمام انتظامی امور سنبھالے اور مجھ سے بڑھ کر میرے معملات کا خیال رکھا۔خرم بقا صاحب جنہوں نے کمال مہارت سے میری کتاب کے لئے سرورق تخلیق کیا اور بلامعاوضہ کیا۔صفیہ شاہد جو پروف ریڈ کی مشکل ترین گھاٹیوں پر کئی بار اتریں۔اور میرے پبلشر عکس پبلیکیشن کے فہد صاحب جنہوں نے ذاتی توجہ سے اس کتاب کو شروع سے آخر تک پہنچایا ورنہ بہت بار درمیان میں گھبرا کر میں نے ارادہ بدلنے کی نیت باندھی مگر فہد صاحب نے اپنی لگن اور دلچسپی سے اسے بلآخر پایہ تکمیل تک پہنچایا۔آپ سب کی توجہ اور محبت کی میں ہمیشہ تہہ دل سے خود کو مشکور پاؤں گی۔آخر میں میری فیملی،میرے ذندگی کے ہر قدم کے ساتھی کاشف جنہوں نے میرے قلم کا ہمیشہ حوصلہ بڑھائے رکھا ،میرے بچے،دیا اور آریز جنہوں نے اپنے حصے کے اوقات میں سے کچھ پر مجھے اختیار دیا ، خصوصاً آریز جس نے اکثر اس وقت کی قیمت ادا کی۔خدا آپ سب کو ہمیشہ محفوظ،سلامت اور کامیاب رکھے۔آمین!

صوفیہ کاشف

Advertisements

2 Comments

Comments are closed.