ھم بطور والدین بمقابلہ ھمارے والدین ____________اسما ظفر

میں کوئ کمپٹیشن یا موازنہ نہیں کر رہی اپنی تحریر میں اس بات کو مدنظر رکھ کر اس تحریر کو پڑھیں براہِ مہربانی

جب آپ ھم کوئ بھی اس درجے پر پہنچتا ھے کہ کوئ ھمیں امی یا ابو کہنے والا / والی اس دنیا میں آئے تو وہ وقت ہر ایک شخص کے لیئے نہایت اہم اور خوبصورت ھوتا ھے اور ساتھ ساتھ ظاہر ہے ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں ہر دور کے اپنے کچھ تقاضے ہوتے ہیں جن سے ہر دور کے والدین نبرد آزما ہوتے ہیں جس وقت ہم بچے تھے اس وقت اور آج کے وقت میں اگر میں کہوں زمین آسمان کا فرق ہے تو مبالغہ نہیں ہوگا ہم اس دور کے بچے ہیں جب ٹیکنا لوجی اتنی ایڈوانس نہیں تھی جتنی آج ہے ساری دنیا سکڑ کر ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے بچوں کے پاس سینکڑوں ذرائع ہیں معلومات کے اب یہ معلومات علمی بھی ہیں اور تفریحی بھی جس خطرناک طریقے سے اور وقت سے پہلے بچوں میں ہر چیز کی awareness بڑھی ہے اسی رفتار سے معصومیت رخصت بھی ہورہی ہے اسکا مطلب یہ نہیں کہ میں چاہتی ہوں کہ بچوں کو کمپیوٹر سیل فون سوشل میڈیا سے بلکل دور کردیا جائے بلکہ اب باری ہے ھماری بطور والدین اس ذمہ داری کو نبھانے کی کہ کس حد تک ہم اپنے بچوں کو آزادی دے سکتے ہیں ہمارے زمانے میں ہمارے والدین کو صرف ٹیلی ویژن کا چیلنج تھا جو کہ ہر گھر میں صرف ایک ہوتا تھا چینل بھی ایک ہی ہوتا تھا بچے ٹی وی پر کیا دیکھ رہے ہیں سب والدین کی نظر میں ہوتا تھا لینڈ لائن کی شکل میں گھر میں ایک عدد فون موجود ہوتا تھا جو زیادہ تر مرکزی کمرے میں رکھا ہوتا تھا بچے کس سے اور کیا بات کررہے ہیں گھر میں سب کو پتہ ہوتا تھا
مگر اب ایسا نہیں ہے ہر گھر میں ایک سے زائد ٹی وی سیٹس ہیں متعدد چینلز ہیں ہر دوسرے بچے کے ہاتھ میں موبائل فون ہے مجھے لگتا ہے آج کے دور کے والدین بہت کٹھن امتحان سے گزرتے ہیں بیک وقت بچوں کی تعلیم تربیت اور بدلتے ہوئے وقت کی ایجادات جو اگر غفلت میں غلط استعمال ھورہی ھوں تو سب کچھ خاک میں مل سکتا ہے ہر وقت چوکنا رہنا والدین کی مجبوری بن گیا ہے اچھے برے کی تمیز تو والدین ہر دور میں دیتے آرہے ہیں اپنے جگر گوشوں کو مگر آج جسقدر چیزیں اخلاق کو بگاڑنے والی موجود ہیں کبھی نا تھیں بچے بہت معصوم ہوتے ہیں انکو اچھے برے کی تمیز اتنی نہیں ہوتی جتنی انکے والدین کو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر چیز پر آپکی دسترس ھو انکا موبائل فون ہو یا کمپیوٹر لیپ ٹاپ وغیرہ انکا پاس ورڈ کیا ہے وہ کن لوگوں سے رابطے میں ہیں کن سائٹس کو وزٹ کرتے ہیں سب آپکو معلوم ہونا چاہیئے کم از کم کالج لیول تک اس بات کو کچھ لوگ اظہار رائے کی آزادی میں رکاوٹ قرار دیتے ہیں مگر میرے نزدیک یہ بہتر تربیت کے لیئے والدین کا حق ہے جب ھم بچے تھے جب ہمارے والدین نے ہم پر جو پابندیاں عائد کی تھیں کیا انکی وجہ سے ہماری ذہنی نشوونما پر کوئ فرق پڑا؟ یقینا نہیں بلکہ آج ہم کو جو عزت اور مقام حاصل ہے ان میں ان پابندیوں کا بڑا عمل دخل ہے بچوں کو ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے دیں اگر آپ انہیں مناسب عمر میں موبائل فون نہیں لے کر دیں گے تو وہ دوسری راہ نکالیں گے اپنے دوستوں سے لے کر چھپ کر استعمال کریں گے جو مذید خطرناک بات ہے اسلیئے بہتر یہ ہے کہ کسی چیز کو انکے لیئے عجوبہ نابنائیں مناسب عمر میں انہیں ہر چیز کو برتنے کا سلیقہ سیکھائیں اگر آپ انکے ہاتھ میں موبائل یا لیپ ٹاپ دے رہے ہیں تو اس پر نظر رکھنا آپکی ذمہ داری ہے کبھی کبھی انکے سیل فون سے کال کریں انکی فرینڈ لسٹ چیک کرکے دوستوں سے متعلق سوال کریں کب کیسے وہ انکی لسٹ میں داخل ھوئے میں اپنے بچوں کے دوستوں کی وال چیک کرتی ہوں یہ ایک بہت اچھا طریقہ ہے انکے دوستوں سے متعلق معلومات کا اور اس بات کو جانچنے کا کہ وہ کیا رجہان رکھتے ہیں ھمارے والدین بھی ھمارے دوستوں کے گھر جاتے تھے انکے بارے میں معلومات رکھتے تھے وہ اچھا دور تھا کہ وہ ذاتی طور پر انکے گھرانوں سے واقفیت رکھتے تھے اب تو والدین کو انجان دوستوں کو جانچنے میں بڑی مشکلات کا سامنا ہے کوشش یہ کریں کہ بچے کم از کم اسکول لیول تک انجان لوگوں سے سوشل میڈیا پر دوستی نا کریں یہ عمر ناسمجھی کی ھوتی ہے اور احتیاط آپکو ہی کرنی ھوگی بچے اپنی معصومیت میں سبکو دوست سمجھتے ہیں یہ تو بطور والدین ہمیں ہی سمجھنا ہے کہ کس سے کتنا دوستانہ رکھنا ہے بڑی عمر کے انجان افراد سے اسکول کالج کے لیول پر دوستی کی حوصلہ شکنی کریں گو کہ سوشل میڈیا پر عمر کا اندازہ لگانا نہایت مشکل کام ہے مگر آپکا امتحان ہی یہی ہے واقعی بہت جان جوکھم کاکام ہے آجکل کے دور میں بطور والدین اپنی ذمہ داریاں عمدہ طریقے سے نبھانا اللہ سب والدین کو سرخ رو کرے اور ہمارے بچوں کو بھی ہر برے وقت سے محفوظ رکھے جہاں اولاد کے پیدا ہونے اور والدین بننے کی خوشی انمول ہے وہیں انکو بہتر تربیت دے کر معاشرے کا کامیاب فرد بنانا بھی ایک اہم ذمہ داری ہے اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین ۔____________

تحریر:اسما ظفر

کور ڈیزائن:

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.