شاعروں کا جمعہ بازار________عظمی طور

ہمارے ہاں آرٹ کی بے قدری کوئی نئی بات نہیں ۔ آرٹ کی کوئی سی بھی صنف ہو وہ ہمارے ہاں بد حالی کا شکار ہے ۔ جہاں کہیں کچھ کام ہوتا نظر آتا ہے تو وہ کسی کا سراسر ذاتی فعل ہوتا ہے ۔

شاعری برسوں سے ہمارے ادب کا حِصّہ ہے اور پڑھنے والے خوب سرہاتے رہے ہیں ۔ لیکن جب سے یہ بی بی فیس بک معرضِ وجود میں آئی ہے شاعری کا بیڑا ہی غرق ہو گیا ہے ۔

اب تو پلک جھپکنے پر شاعر تیار ہو جاتے ۔ کل کوئی کسی کی شاعری پہ واہ واہ کر رہا تھا اور آج وہ ایک بارہ پندرہ ستروں کی آڑھی ترچھی تحریر تلے اپنا نام لکھ کر واہ واہ وصول رہا ہے ۔

کچھ اچھی چیزیں بھی سامنے آتی ہیں لیکن ذیادہ تر کا حال برا ہی ہے ۔

شاعری کا ذوق رکھنا اچھی یعنی معیاری (حالانکہ معیار اپنی سوچ کے مطابق تیار کیے جاتے ہیں لیکن اب یہاں اور کیسے سمجھایا جائے) شاعری کا ذوق رکھنا بذاتِ خود ایک انفرادیت ہے (آجکل یونیک ہونا لازم و ملزوم ہے) تو کیا ضرورت ہے کہ آپ خود شعر کہنے لگیں __ اپنی بات کو آپ شاعری کے علاوہ نثر کی صورت بھی لکھ سکتے ہیں اور اس میں بھی اگر کچھ مشکل ہے تو بے شمار شاعر بے بہا شاعری ایسی ہے جو آپکے دل کی بات کہتی ہے __ شاعری کے باقاعدہ اصول ہیں اسکی بندشیں ہیں خدارا خود کی اور اپنے خیال کی توہین نہ کیجئے( قافیے ملانے کو شاعری نہیں کہتے) نہ ہی شاعری کو دکھی کیجئے __ اگر آپکو اتنا ہی شوق ہے تو اپنی شاعری کسی استاد کو دکھا لیں (لیکن پھر آپکا دل دکھ جائے گا ) ___

ایسی باتیں آپ کہیں اصلاح کی غرض سے لکھ دیں تو آپ کے خوب لتے لیے جاتے ہیں ۔

کہ بی بی آپ اصلاح کر دیں ۔ اور آپ ضرور ہی جلتی ہونگی وغیرہ وغیرہ __

دراصل ہمیں عادت ہے باتوں کو گھمانے کی ۔ اب اگر ایسی سادہ باتیں اور ان میں چھپی تشویش کو بھانپ لینے کے بجائے آپ اسے محض تنقید کہیں گے تو یہ سراسر آپ کے دماغ کا خلل ہے ۔

اگر آپ اچھے ذوق کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں اور باذوق کہلاوانا چاہتے ہیں تو بڑے شعراء کو پڑھیے اور ان کے کلام کو اپنا “اسٹیٹس” بنائیے اور داد وصول کیجئے (بڑے شعراء کے نام جاننا ایسا مشکل بھی نہیں )

فیس بک پر ہونے والی شاعری کلی طور پر تصدیق شدہ نہیں معیاری نہیں _ یہاں تک کہ بڑے شعراء کا کلام بھی اِدھر اُدھر کر دیا جاتا ہے سو براہِ کرم تصدیق اور تحقیق عادت بنا لیں _

اب جہاں شاعر اور شاعری کو اتنے مسائل کا سامنا ہو وہاں اس بی بی فیس بک پر متشاعروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس مسلے کو باقی مسائل کی طرح اور بھی پیچیدہ کر دے گی ۔ اور مزے کی بات آپ کا حسین ہونا (جو کہ سراسر سامنے والی آنکھ کا قصور ہے) آپ مزے سے کیش کروا سکتے ہیں ۔ایک بڑھکتی ہوئی تصویر فلیپ پر لگا دیجئے اور پھر دیکھتے جائیے ۔ فی زمانہ ترقیاں بھی خود کو ایکسپوز کرنے سے مشروط ہیں __

شاعر پہلے ہی کئی قسم کی الجھنوں کا شکار ہے ۔ مشاعروں میں اپنی کتابیں جو کہ اس نے اپنی جمع پونجی سے ایک بڑے ہی پرفیشنل پبلیشر (جن کے ہاں کی شرائط پر ایک مسکین قسم کے لکھاری کے لیے پورا اترنا انتہائی مشکل ہے) سے چھپوائی ہے وہ اسے بانٹنا ہوتی ہیں ۔

اپنا کام اپنے ہی ہم عصروں کو سنا کر داد وصولنا بھی کوئی کم مشکل کام نہیں ۔

سونے پہ سوہاگہ اب شاعری خریدی اور بیچی بھی جا رہی ہے ۔ شہرت خریدنا بھی کوئی عجوبہ بات نہیں لیکن حضور ادب کو بخش دیتے کہ لکھنے والا اپنی اس خدا داد صلاحیت پر کم از کم مان تو کر لیتا ۔

اور بے وقتی کا یہ عالم ہے کہ جب کوئی غریب بیچارہ پبلشر کے دھتکارے جانے کے بعد کسی بک اسٹال ، بک شاپ پر اپنی کتاب بیچنے جاتا ہے تو شاعری دنیا کی سب سے بے وقعت چیز معلوم ہوتی ہے ۔

آج تم نے شاعرہ جتنے بھی ہیں سچ کہے

دلفریبی کی ہر اِک فہرست سے تم خارج ہوئی

___________________

تحریر:عظمیٰ طور

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements

4 Comments

  1. بقول پروین شاکر،
    ابھی پڑھنے کے دن ہیں، لکھ بھی لینا حالِ دل اپنا
    مگر لکھنا تبھی جب لائقِ اظہار ہو جاؤ

    Liked by 1 person

Comments are closed.