خط ہی کیوں لکھے جائیں از جون ایلیا کا جواب_______سدرتہ المنتہی جیلانی

خط ہی کیوں لکھے جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جون ایلیا

(سدرتہ کی طرف سے فارحہ ارشد کے لئے )

فارحہ نگارینہ
تم نے مجھ کو لکھا ہے، میرے خط جلا دیجے
مجھ کو فکر رہتی ہے آپ انہیں گنوا دیجے
آپ کا کوئی ساتھی دیکھ لے تو کیا ہو گا
دیکھیے میں کہتی ہوں یہ بہت بُرا ہو گا
میں بھی کچھ کہوں تم سے
فارحہ نگارینہ
اے بنازُکی مینا
عطر بیز حسینا
زشکِ سروِ سیمینا
میں تمہارے ہر خط کو لوحِ دل سمجھتا ہوں
لوحِ دل جلا دوں کیا
جو بھی سطر ہے ان کی، کہکشاں ہے رشتوں کی
کہکشاں لُٹا دوں کیا
ہے سوادِ بینائی، ان کا جو بھی نقطہ ہے
میں اسے گنوا دوں کیا
جو بھی حرف ہے ان کا ، نقشِ جاں ہے جاناناں
نقشِ جاں مٹا دوں کیا
لوحِ دل جلا دوں کیا
کہکشاں لُٹا دوں کیا
نقشِ جاں مٹا دوں کیا
مجھ کو لکھ کےخط جانم اپنے دھیان میں شاید
خواب خواب جذبوں کے خواب خواب لمحوں میں
یونہی بے خیالانہ
جرم کر گئی ہو تم
اور خیال آنے پر اس سے ڈر گئی ہو تم
جُرم کے تصور میں گر یہ خط لکھے تم نے
پھر تو میری رائے میں جُرم ہی کئے تم نے
جرم کے تصور میں ، گر یہ خط لکھے تم نے
پھر تو میری رائے میں
جُرم ہی کیے تم نے
جرم کیوں کیے جائیں؟؟۔۔۔
خط ہی کیوں لکھے جائیں۔۔۔

جون ایلیا کی فارحہ ۔۔ 🙂 کے جواب میں.

فارحہ نگارینہ
اے بناز کی مینا
عطر بیز حسینہ
رشک سرو سیمینا
تم محبت کی آخری امیدوں میں خط لکھا کرو جاناں
اس سے دل کے دامن میں اک چراغ جلتا ہے
جب رتوں کی تنہائی
دل اکیلا کرتی ہے
خط تمہارے پڑهتا ہوں
دل آباد کرتا ہوں
دہر میں محبت کا آسرا تو رہتا ہے
آسرا تو رہنے دو
خط تمہارے سب میں نے
اپنے دل کہ لاکر میں یوں چھپائے رکھے ہیں
کیوں کوئی بھی دیکھے گا
دیکھ کہ پڑھے گا اور
پڑھ کہ وہ سمجھ لے گا
میں تمہیں بتاؤں کہ
جو زبان محبت کی ہے
کوئی بھلا کیوں سمجھے
یہ تو بس محبت کے رازداں سمجهتے ہیں
اب بناز کی مینا
فارحہ نگارینہ
خط اگرچہ لکھا ہے
گو یہ جرم کتھا ہے
پھر بھی میں کہوں تم سے
میری سرو سیمینا
دیکھ لو محبت میں جرم کچھ کئیے جائیں
کچھ تو خط لکھے جائیں.
کچھ تو خط لکھے جائیں

____________

کلام:سدرت المنتہی’

فوٹوگرافر:صوفیہ کاشف

ماڈل :عائشہ

Advertisements