جان کنی کے عالم میں____________خدیجہ خان

جاں کنی کے عالم میں
عشق وکیل کروا کے بھی
جب ہجر کی سولی نصیب ٹھہرے!
کوئی کس کے تھامے گریباں کو ۔۔
سر حشر بخش دے کوتاہیاں ۔
ہم کس کے اتنا قریب ٹھہریں۔۔
کوئی کس کے پیٹے نصیباں کو!
اکھڑتی سانسوں پہ لرزتے لمحے
توحید و رسالت کے اقرار میں ۔
ریزہ ریزہ بکھیر خود کو!
ذرہ ذرہ سمیٹیں ایسے ۔۔
زماں و مکاں کے مدار میں ۔
کی کائنات کی وسعتیں
حیرت میں غوطہ زن ہوکر ۔
یوں جاں بہ لب ہوکے پکار اٹھیں۔۔
مرحبا اے صحرائے تن میں۔
دبی ہوئی اجاڑ روح ۔۔
گھنگھرو باندھے پامال ہو کر ۔
میں طوائفوں کو مات دوں ۔
مرشد پاک کے مجاوروں کو۔
کامل نگاہ عطا کرکے ۔۔۔
خاک کو قابل داد کرکے ۔
عالماوں کو پچھاڑ دوں!!
ایک جلوہ ہو تو ایسا ۔
پستیوں میں معراج چھو لوں ۔۔
جسے تم نے ٹھوکر ماری ہو ۔
حسرت سے وہ تاج چھو لوں۔
تاج چھو لوں،، معراج ہو لے۔
آسیب ہنس لے، ہمزاد رو لے۔۔
ایک جلوہ عالماوں کا۔
قابل داد کو خاک کرکے۔۔
مرشد پاک کے مجاوروں کو
گھنگھرو باندھ کے نچوا دے ۔۔
تھیا تھیا کے ساز پہ ۔
عزتیں پانی میں بہا دے۔۔
مرحبا اے لاعلاج تن میں
بسی ہوئی طبیب سی روح
جاں بہ لب اور سرگوشیاں یہ۔۔
حیرت کے سمندر کو!
لہر بہ لہر یوں مات دے!
لے ہاتھ پکڑ۔۔میرا ساتھ دے!
لرزتی سانسوں پہ اکھڑتے لمحے ۔۔۔
پیٹیں اپنے نصیباں کو۔
کوتاہیوں کا ہار لے کر۔۔
گلے جلاد سے لگ کے روئی!!
تھامے فنا کے گریباں کو ۔
عشق وکیل کروا کے بھی ۔۔
میں ہجر کی سولی چڑھ کے سوئی

_________

کلام:خدیجہ خان

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.