عشق محشر کی ادا رکھتا ہے۔6——————-حمیرا فضا

کور ڈیزائن: ثروت نجیب

مصنفہ :حمیرا فضا

’’’’چھٹا حصہ ‘‘‘‘‘‘   

کانچ کی لڑکیاں

جب آزادی سے سانس لینے کے لیے

کھڑکیوں سے جھانکتی ہیں

دروازوں کو کھول دیتی ہیں

آنگن کو پار کرتی ہیں

دیواروں سے سر ٹکراتی ہیں

تب حقوق کے کاغذوں پر

بغاوت کی مہر لگا کر

اُنھیں اُن کے وجود کے اندر

قید کر دیا جاتا ہے

انسان جب تک حق مانگتا رہتا ہے اُسے بزدل سمجھا جاتا ہے اور جب وہ اپنا حق چھیننے کی کوشش کرتا ہے اُسے باغی قرار دیا جاتا ہے ۔آزادی اور سکون سے سانس لینا صاحبہ کا حق تھا ،لیکن اُسے نافرمانی پر اکسایا گیا ،سرکشی پر مجبور کر دیا گیا تھا۔اب وہ قید کے اندر قید ہو گئی تھی بلکل ایسے جیسے بڑے پنجرے کے اندر چھوٹا پنجرہ بنا دیا جاتا ہے۔اتنا چھوٹا کہ انسان دو قدم بھی نہ چل سکے۔۔۔اتنا تاریک کہ اپنے وجود کا نشاں تک نہ ملے۔۔۔ اتنا تنگ کہ سانس لینا بھی محال ہو۔۔۔اتنا تعفن زدہ کہ زندگی بدصورت نظر آئے ۔یہ قید ایک کمرے کی قید نہیں تھی یہ سوچ کی قید تھی ،ذات کی قید تھی ،یہ جسم کی قید تھی ،یہ روح کی قید تھی ۔پہلی بار وہ اِتنے خوف سے کانپی تھی،پہلی بار اُس نے ایسی سزا بھگتی تھی ،پہلی بار وہ اِتنے درد سے لڑی تھی ۔یہ قید پہلی قید سے زیادہ اذیت ناک تھی۔ اُسے پوری طرح سے زنجیروں میں جکڑ کر ا ندھیرے کے ایک سمندر میں چھوڑ د یا گیا تھا ،جہاں بس خاموش آنسوؤں کا کھارا پانی تھا ،جہاں بس تنہائی کی شوریدہ لہریں تھیں، جہاں بس ایک طوفان کے بعد اگلے طوفان کا سامنا تھا۔وہ اِس قیدی سے لاتعلق ہو کر اپنا کمرہ الگ کر چکا تھا ،مگر وہ پہلے سے زیادہ اُس کی نظر میں تھی۔ وہ نہ اُس کی صورت دیکھنے آتا نہ فریاد سُننے ۔ اُس کا کھانا پینا ،پہننا اُوڑھنا سادہ کر دیا گیا تھا اور کمرے سے آسائش کی بچی کچی چیزیں بھی نکال لی گئی تھیں۔خالی تاریک دل اور خالی تاریک کمرہ اُس کے لیے اندر باہر ایک جیسا منظر تھا۔اب اُسے انسانوں کے تصور پر بس چاچی شگو کا چہرہ دیکھائی دیتا ،جو دن رات اُس کے کمرے کا پہرہ دیتیں،اُس پر کڑی نگاہ رکھتیں۔ارد گرد بس اذیتوں کے کانٹے تھے اور اُس کی حالت ادھ مسلے گلاب سی ہوگئی تھی جس کی جگہ نہ پھول توڑنے والے کے دل میں تھی نہ زندگی کے باغیچے میں۔

    سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے

       اے حسن تیرے چاہنے والے کہاں گئے

مارنے والے نے بس توڑنے کی کسر چھوڑی تھی ہفتہ گزر چکا تھا ،مگر اُس کے پاؤں کی سوجن کم نہ ہوئی ۔آج کتنے دنوں بعد اُس نے اپنے گورے پیروں کو فرصت سے دیکھا تھا، سفید چمڑی پر عیاں ظلم کے سُرخ نشان اور خوبصورت تراشیدہ ناخنوں پر پڑی درد کی کالی لکیریں۔ وہ بیڑیوں میں جکڑے اپنے گورے پیروں کو غور سے دیکھ رہی تھی۔ناچاہتے ہوئے بھی اُسے وہ دن یاد آگیا جب وہ اُس کے لیے پہلا تحفہ لایا تھا۔

“یہ کیا ہے ؟”

ایک لمبی ڈبیا اُس کے سامنے لہرائی تو اُس نے کافی کا مگ میز پر رکھتے ہوئے تجسس سے پوچھا۔

“کھول کر دیکھو ۔ ”

وہ اُسے محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے رومانوی لہجے میں بولا تھا۔

نفاست سے سُرخ گفٹ پیپر اتارنے کے بعد، ویلویٹ کی لال مخملی ڈبی میں سنہری ننھے موتیوں سے چمکتی سونے کی پائل دیکھ کر وہ یکدم اُچھل پڑی تھی۔

“اُف! یہ کتنی قیمتی اور پیاری ہے ۔”

صاحبہ کی آنکھیں خوشی سے چمک اُٹھیں ۔

“یہ نہ تمھارے پیروں سے زیادہ خوبصورت ہے اور نہ ہی قیمتی ۔”

اُس کے لہجے سے چاہت اور سخاوت ٹپکنے لگی تھی۔

“مگر اتنا قیمتی تحفہ دینے کی کیا ضرورت تھی؟میں تو سستی چیز سے بھی خوش ہوجاتی ۔”

صاحبہ نے سنہری موتیوں کو رشک سے دیکھتے ہوئے ممنونیت سے کہا۔

“تم خود قیمتی ہو تمھارے لیے کوئی قیمتی چیز ہی ہونی چاہیے ۔”

اِس بات پر صاحبہ نے اپنے محبوب کو فخر اور محبت سے دیکھا ،اور اِس دنیا سے پرے کسی اور ہی دنیا میں کھو گئی ،ایسی دنیا جو بے حد خوبصورت اور مکمل تھی ۔اُس نے کھلی آنکھوں سے اپنی تصوراتی دنیا کو پا لیا تھا۔

“کیا سوچ رہی ہو ؟ جلدی سے یہ پہن کر دیکھاؤ ! ”

وہ اپنا تحفہ اُس کی ہتھیلی پر رکھ کر فرمائش کرنے لگا تو وہ جیسے اُس کی آواز پر خوابوں کی دنیا سے لوٹ آئی۔

“آپ کا حکم سر آنکھوں پر ۔”

صاحبہ ایک ادا سے پلکوں کو جھکاتے ہوئے مسکرا کر بولی۔

“کیسی لگ رہی ہے ؟ ”

وہ چمکتی پائل اپنے دودھیا پاؤں میں پہن کر سرگوشی سے سوال کر رہی تھی۔

“تمھارے پاوؤں کے گلے لگ کر اب یہ واقعی قیمتی اور خوبصورت ہو گئی ہے ۔۔۔اب اِس کی چمک دوگنی ہوگئی ہے ۔۔۔ اب اِس کا مول بڑھ گیا ہے ۔ ”

وہ کچھ پل یہ حسین منظر دیکھتا رہا، پھر اُس کے پیروں کے لمبے ناخنو ں پر اپنی انگلیوں سے ساز بجاتے ہوئے دیوانہ ہوا۔

وہ پائل نہیں ،اُسے قید کرنے کے لیے ایک زنجیر تھی۔بس وہ اندھی چاہت میں اُس کی شکل اور ساخت  دیکھ نہ پائی تھی۔

صاحبہ نے بیڑیوں میں جکڑے پیروں کو یاسیت سے دیکھتے دیکھتے ایک یاد کا درد سختی سے بند کیا ، جس کا اِس لمحے کھل جانا اِس اُس کے کرب کو دہرا کر گیا تھا۔

*****    

  پاؤں میں رشتوں کی زنجیریں ہیں دل میں خوف کی

  ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنے گھروں میں قید ہیں

دروازہ کھلا اور تاریک کمرے میں روشنی کی ایک لکیر داخل ہوگئی۔پورا کمرہ گندگی کی لپیٹ میں تھا ۔وہ اُس کی نفیس اور صفائی پسند طبیعت سے بخوبی واقف تھا ، اِس لیے اُس کے حکم پر اچھے خاصے کمرے کو گرد و غبار اور سناٹوں سے بھرا کھڈر بنا دیا گیا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا اُس کے قریب پہنچ کر زمین پر بیٹھ گیا ۔اُس نے تکبرانہ نگاہ سے اُسے دیکھا ۔زنجیروں میں جکڑی وہ صدیوں کی بیمار لگ رہی تھی۔اُس کے ریشمی خوبصورت بال مٹی سے لڑ لڑ کر اکڑ چکے تھے تو ہونٹوں پر پپڑیوں کی سخت تہہ نے گلابی رنگ مٹ دیا تھا ،اور اُس کے گورے رنگ پر جگہ جگہ پڑنے والے سیاہ دھبے ایسے تھے جیسے چاند کو گہنا رہے ہوں،چھپا رہے ہوں ۔

“صاحبہ۔۔۔صاحبہ۔”

وہ لبوں کو اُس کے کان کے قریب لاکر نرمی سے پکارنے لگا۔ وہ یوں بے سدھ پڑی رہی جیسے کئی راتوں کی مسافت کے بعد ابھی ابھی سوئی ہو ۔اُس نے ماتھے پر بکھری دو لٹوں کو آہستہ سے ہٹایا اور اپنا ٹھنڈا ہاتھ اُس کی جلتی ہوئی پیشانی پر رکھ دیا۔

“صاحبہ۔۔۔ملکہ۔۔۔دیکھو میں آگیا ہوں۔۔۔آنکھیں کھولو۔”

اب اُس کی آواز قدرے اونچی تھی ۔رعب دار آواز اور ٹھنڈے ہاتھ کے لمس نے صاحبہ کو آنکھیں کھولنے پر مجبور کر دیا تھا۔اُس نے بامشکل کمزور پلکیں اوپر اُٹھائیں اور اجنبیوں کی طرح حیرت سے اُس شخص کو دیکھنے لگی۔اجنبی دیکھائی دینے والا چہرہ اُس کا شناسا ہی تو تھا ۔وہ اُس شخص کی صورت کیسے بھول سکتی تھی جس نے اُس کی ذات کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا تھا۔وہ تکلیف بھرا دن اُس کی نظروں کے سامنے گھوم گیا تو وہ تڑپ کر پیچھے ہوگئی ۔اُس نے خفگی اور حقارت سے منہ موڑ لیا تھا،مگر وہ غرور سے مسکراتا ہوا اُس کے سامنے آگیا۔عادی ہونے والی تکلیف پھر سے سر اُٹھانے لگی تھی ،بھرنے والے سارے زخم دوبارہ سے اُدھڑ رہے تھے ۔ اُس نے کتنے ہی دنوں بعد اِس کمرے کا رخ کیا تھا ۔وہ آج ایک مہینے بعد اُس سے ملنے آیا تھا۔

    چمن کا حُسن سمجھ کر سمیٹ لائے تھے

   کسے خبر تھی کہ ہر پھول خار نکلے گا

“دیکھو! میں تمھارے لیے پھول لایا ہوں۔ویسے تو حال پوچھتے وقت پھول مریضوں کو دیے جاتے ہیں ، لیکن قیدی اور مریض میں زیادہ فرق نہیں ہوتا۔دونوں ہی بے بس ، مجبور اور تکلیف میں ہوتے ہیں۔”

وہ تازہ پھولوں کا گلدستہ اُس کے سامنے رکھتے ہوئے فراست سے  بولا۔

صاحبہ نے اپنے وجود میں سینکڑوں کانٹے چبھتے ہوئے محسوس کیے۔یہ دوسری بار تھا جب وہ اُسے پھول دے رہا تھا اور پہلی بار کے پھول وہ اب تک کہاں بھولی تھی۔

وہ گاڑی کے اندر بیٹھی تو ڈھیر ساری خوشبوئیں اُس سے لپٹ سی گئیں۔

“او مائی گارڈ اتنے سارے پھول۔”

آگے پیچھے رکھے کئی مہکتے ہوئے پھولوں نے اُسے خوشگوار حیرت سے بے تحاشا چونکا دیا۔

یہ تم کو کیا دیں گے

یہ تم سے خوشبو لینے آئے ہیں

اتنے سارے پھولوں میں

سب سے پیارا پھول ہو تم

وہ متعجب آنکھوں میں دیکھ کر شاعرانہ انداز میں گنگنایا۔

“واہ واہ ۔۔۔اتنے سارے پھول مجھ سے ملنے آئے ہیں ؟ مجھے لگ رہا ہے میں اپنے گھر کی چھت سے کسی باغیچے میں گر گئی ہوں۔”

وہ اپنے ملٹی کلر کے سکارف کو تتلی کے پروں کی طرح لہرا تے ہوئے جوش سے چہکی۔

“میں نے سوچا تم آج کا دن صرف میرے ساتھ ہی نہیں ،اِن پھولوں کے ساتھ بھی گزارو، تاکہ تمھیں معلوم ہوسکے کہ تمھاری اگلی زندگی گلزار ہے۔ اِس خوشبو کی طرح تم تاعمر مہکو گی، تو اِن پتیوں کی ملائمت جیسے سدا بہار جوان رہو گی۔”

وہ آہستہ آہستہ ڈرائیو کرتے اُسے خوبصورت مستقبل کے سپنے دیکھا رہا تھا۔

” ہاہا ہا ! مطلب تم بوڑھے ہوجاؤ گے اور میں ینگ لیڈی کی طرح تمھیں جلایا کرونگی۔”

وہ اُس کی بات پر تالی بجا کر شرارت سے کھلکھلانے لگی۔

“ارے میڈم ! یہ محبت کے پھول ہیں اِنھیں سینت سینت کر اپنے پاس رکھا جائے تو گل سڑ جاتے ہیں۔اِن کی خوشبوئیں تب پھیلتی ہیں جب اِنھیں ایک دوسرے کو سونپا جاتا ہے۔۔۔جب بستر کے تکیوں کے نیچے رکھا جاتا ہے۔۔۔جب کسی کی راہ میں بچھایا جاتا ہے ۔۔۔جب کمرے کے گلدانوں میں سجایا جاتا ہے ۔ ۔۔اِنھیں خود پر اور مجھ پر نچھاور کرکے محبت کی خوشبو کو ہمیشہ زندہ رکھنا ۔۔۔ بلکل ایسے۔”

وہ پھول کی چند پتیاں اُس پر برساتے ہوئے مخمور لہجے میں بولا۔

“یہ جو عام سی باتیں تم شاعری کے پیرائے میں لپیٹ کر کرجاتے ہو یہ مجھ پر محبت کے نئے فلسفے کھولنے لگی ہیں۔میں نے تم جیسا انسان آج تک نہیں دیکھا ،اور اگر نہ دیکھتی تو شاید زندگی بے کار ،بے مقصد کٹ جاتی ۔”

وہ اُس کے جذباتی لہجے کی آنچ سے پگھل کر شکر گزار ہوئی ۔”

“کہاں کھو گئی ہو ملکہ ”

پھولوں پر حسرت سے جمی ہوئی آنکھوں میں چھپی سوچ کو کریدتے ہوئے وہ اشتیاق سے پوچھ رہا تھا۔وہ یکدم چونکی اُسے لگا جیسے خوشیوں سے بھری گاڑی غم کے سٹاپ پر رک گئی ہے اور اُسے ظالمانہ طریقے سے باہر پھینک دیا گیا ہے ۔صاحبہ نے ایک انجان نظر اُس پر ڈالی تھی۔وہ پھولوں کی باتیں کرنے والا کانٹوں کا بیوپاری ہی تو تھا ۔لوگ محبت میں خوش ذائقہ دھوکے دیتے ہیں خوش رنگ جھانسے دیتے ہیں ، بغیر کسی وجہ اور بغیر کسی سبب کے صرف اپنی انا کی تسکین اور اپنی سنپولی فطرت کی خاطر۔ وہ ایسے ہی لوگ ہوتے ہونگے، وہ بھی اُنھی لوگوں میں سے تھا۔اُس کا دل کیا وہ اِس شخص کو کمرے سے باہر نکال دے اور سارے پھول اُٹھا کر مٹی یا آگ پر پھنک دے، مگر وہ اِس ذہنی بیمار انسان سے تب تک کوئی بدلہ نہیں لے سکتی تھی ،جب تک تقدیر کوئی بڑا موقع نہ دیتی۔

*****     

چہرے پر سے جب خود پسندی کا نقاب اُترتا ہے تو صرف و صرف ندامت رہ جاتی ہے ۔اُسے اپنے آپ پر حد درجہ ناز تھا ۔ لوگوں اور آئینے نے ہمیشہ اُسے سراہا تھا ،وہ کبھی اپنے پیروں کو فرش سے ملنے نہیں دیتی تھی اور آج اُس کی حالت ایسی تھی کہ اگر وہ خود کو آئینے میں دیکھ لیتی تو صدمے سے کانپ جاتی ۔اُسے یقین تھا کہ اب وہ اِسی حال میں رہے گی اُس کی سزا معاف نہیں ہو سکتی ہے،لیکن معجزاتی طور پر ایک ماہ بعد نا صرف اُس کے پیروں کو بیڑیوں سے آزاد کر دیا گیا بلکہ کمرے میں ضروری سامان بھی پہنچا دیا گیا ،مگر باقی کسی معاملے میں کوئی رعایت نہیں دی گئی تھی۔

جن انسانوں کے لیے دل میں محبت مر جائے تو اُن انسانوں کے آس پاس ہونے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔وہ اب اکثر اُس سے ملنے چلا آتا ۔وہ اُس کی موجودگی میں بھی اُس کا سامنا کرنے سے کتراتی رہتی۔وہ جب بھی اُس کے کمرے میں آتا ،وہ سہم کر ایک کو نے میں بیٹھ جاتی ، خادمہ کی طرح چپ چاپ اُس کے احکامات سنتی،اُس سے نظریں چرا کر اپنی آنکھوں کو حد میں رکھتی، وہ جب تک موجود ر ہتا وہ سر کو جھکائے رکھتی۔اتنی تابعداری کی وجہ صرف اُس شخص کا رعب نہ تھا ، بلکہ وہ نفرت اور حقارت بھی تھی جو اِس محبت نے اُسے سونپی تھی۔آزادی کا خواب اتنی بری طرح سے ٹوٹا تھا کہ وہ اب کھڑکی کھولنے سے بھی ڈرتی تھی۔ باہر کی دنیا سے سارے رابطے ختم چکے تھے۔زندگی کی گاڑی اور موت کے سٹیشن کے بیچ اگر کوئی ٹھرنے کا مقام تھا تو وہ یہی ایک کمرہ تھا۔

   آج تو مل کے بھی جیسے نہ ملے ہوں تجھ سے

   چونک اُٹھتے تھے کبھی تیری ملاقات سے ہم

باہر بادلوں کے گرجنے کی آواز بند کھڑکی سے مستقل دستک دے رہی تھی ،روشدان سے جھانکنے والی تھوڑی بہت روشنی بھی ختم ہو چکی تھی ۔موسم کی ادا بتا رہی تھی کہ تیز بارش ہونے والی ہے ۔اُس کا دل کیا باہر نکلے اور خوبصورت موسم کی ایک جھلک دیکھے مگر یہ قید اُس کا راستہ روکے کھڑی تھی ۔

“حکم نے آپ کو یاد کیا ہے؟”

“کیا ۔۔۔مجھے ؟ کہاں؟”

وہ دل کو سمجھا ہی رہی تھی کہ چاچی شگو کے پیغام نے اُسے سخت حیرت میں مبتلا کر دیا ۔

“جی آپ کو ۔۔۔لان میں چلی جائیے ۔۔۔چائے پر آپ کا انتظار ہو رہا ہے ۔”

“تو تمھیں خیال آہی گیا کہ میں زندہ ہوں۔۔۔تو تمھیں خیال آہی گیا کہ مجھے بھی دھوپ ،بارش ہوا کی ضرورت ہے۔۔۔تو تمھیں خیال آہی گیا کہ ہمیں پھر سے ایک ساتھ بیٹھنا چاہیے ۔”

چاچی شگو کے جانے کے بعد وہ زیر لب بڑبڑائی ۔۔۔اُس نے جلدی سے اپنا حلیہ درست کیا اور لان کی جانب چل دی۔

کمرے سے باہر نکلتے ہی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اُس سے لپٹ گئے اُسے اپنے اندر ایک تازگی کے اترنے کا احساس ہوا تھا ۔اُس نے زور زور سے سانس لے کر اندر کی گھٹن کو قدرے کم کیا ۔وہ حویلی کے اندرونی حصے سے باہر نکلی تو وہ اُسے دور سے ہی نظر آگیا۔کاٹن کے سفید سوٹ میں ملبوس وہ بہت ہی جاذبِ نظر لگ رہا تھا۔اُسے دیکھ کر صاحبہ کے بجھے دل میں کوئی ہلچل نہ ہوئی ۔وہ ایک روبوٹ کی طرح آہستہ آہستہ چلتی ہوئی اُس کے سامنے آکر بیٹھ گئی تھی۔

“موسم بڑا خوشگوار ہے ۔میں نے سوچا تمھارے ساتھ چائے پی لی جائے اور تمھارا حال بھی پوچھ لیا جائے۔”

وہ کچھ دیر اُسے گھورنے کے بعد اپنی عطا کردہ عنایت پر ہنستے ہوئے کہنے لگا۔

“بتاو کیسے گزر رہے ہیں شب و روز ؟”

“کسی کو زندہ دفن کر نا ہو تو اُسے قید کر دیا جائے۔۔۔میں دن رات ایک قبر میں سانس لے رہی ہوں۔۔۔کاش تم مجھے مار ہی دیتے۔”

وہ اُس کے استہزائیہ انداز میں پوچھے گئے سوال پر دل ہی دل میں دکھ سے سوچ کر رہ گئی ،مگر کچھ بولی نہیں۔

“تمھیں یاد تو آتے ہونگے وہ پرانے دن۔جب ہم ساتھ گھومتے پھرتے تھے۔”

صاحبہ کی خاموشی کے باوجود اُس نے اپنی بات جاری رکھی۔

“نفرت ہے مجھے اُن لمحوں سے جو میں نے تمھارے ساتھ گزارے۔”

وہ اب بھی خاموش تھی ،لیکن اُس کی آنکھوں نے جواب دے دیا تھا۔

“ابھی تک میں نے تمھاری زبان نہیں کاٹی ، اِس اداکاری کی کیا وجہ ہے صاحبہ؟”

اُس نے بگڑتے ہوئے موڈ کے ساتھ چائے کی پیالی اُٹھا لی۔

“میں ٹھیک ہوں اور تمھاری شکر گزار ہوں کہ تم نے مجھے باہر کی زندگی دیکھنے کا پھر سے موقع دیا۔”

دل سے نا سہی ،مگر وہ اُس کا غصہ کم کرنے کی کوشش کرنے لگی۔

“اگر تم اچھے بچوں کی طرح میری فرمانبرداری کرو تو یہ موقعے بار بار مل سکتے ہیں۔”

وہ اُس کے جھکنے پر فوراً سے سابقہ موڈ میں لوٹ آیا تھا۔

“میں کوشش کر رہی ہوں۔”

صاحبہ بے دلی سے جواب دے کر چائے پینے لگی۔

“آج میں خوش ہوں تمھاری کوئی ایک خواہش پوری کر سکتا ہوں۔مانگو ! کیا مانگتی ہو؟”

اِس دریا دلی پر صاحبہ نے اُسے اچنبھے سے دیکھا۔وہ گہری سوچ میں ڈوب گئی کہ اُسے ایک آخری کوشش کرنی چاہیے یا نہیں۔

“چپ کیوں ہو ۔۔۔ڈرو مت۔۔۔کچھ بھی مانگ لو۔”

وہ اُس کی خاموشی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے کھیل کھیلنے لگا تھا۔

“جو میں چاہتی ہوں وہ تم نہیں دے سکتے۔”

صاحبہ نے ہچکچاتے ہوئے صاف انکار کیا۔

“آز ما کر تو دیکھو۔۔۔ایسا نادر موقع تمھیں پھر نہیں نصیب ہوگا۔”

اب اُسے بھی کُرید لگ گئی کہ وہ کیا مانگنا چاہتی ہے۔

“ہماری محبت کی شادی تھی ، مگر مجھے دکھ ہے کہ اِس رشتے میں اب محبت نہیں رہی۔میں تمھاری محبت سمجھ نہیں پائی اور تم میری محبت کی ویسے قدر نہیں کرتے۔میں سچ کہہ رہی ہو ں میرے دل میں اب تمھارے لیے ویسے جذبات نہیں رہے۔یہ زبردستی کا تعلق کسی بوجھ سے کم نہیں۔میں تھکنے لگی ہوں۔مجھے آزادی چاہیے ،مجھے طلاق چاہیے۔”

وہ ڈرتے ڈرتے ایک آخری کوشش کر گئی تھی۔

“ہا ہا ہا۔۔۔بس یہی دیکھنا چاہتا تھا میں ۔ایک مہینے کی سزا بھی تمھارے سر سے آزادی کا بھوت نہیں اُتار سکی ۔تم اب بھی ویسی ہی ہو ضدی ۔۔۔نافرمان۔”

وہ اپنی چال میں کامیاب ہونے پر طنزیہ ہنستا چلا گیا ۔

“اچھا مذاق تھا ۔۔۔”

صاحبہ نے افسوس بھرے لہجے میں کہا ۔

“مذاق نہیں ٹیسٹ ،ہمیشہ تم سے آسان ٹیسٹ لیتا ہوں،مگر تم ہمیشہ فیل ہو جاتی ہو۔”

وہ اپنی بڑائی بیان کرتے ہوئے اُسے نیچا دیکھانے لگا۔

“میں تمھارے لیے امتحانوں میں ناکام ہوئی ہوں اور تم محبت کے۔”

وہ بھی بغیر پاس داری کے کڑوا سچ بول گئی تھی۔

“کیا مطلب ہے اِس بات کا؟”

اُس نے وضاحت طلب نظروں سے صاحبہ کو گھورا۔”

تم نے کئی بار مجھ سے کہا تھا تمھیں مجھ سے محبت ہے ۔جن سے محبت ہوتی ہے اُنھیں تکلیف نہیں دی جاتی۔”

کتنے دنوں بعد آج وہ پھر اعتماد سے بولی تھی ۔

“محبت۔۔۔جن سے محبت ہوتی ہے اُنھیں ہی سنبھال کر رکھا جاتا ہے ۔یہ میری محبت ہے اور یہ ایسی ہی ہے۔اِسے پنجرہ سمجھو یا کھلا آسمان یہ تمھاری سوچ پر چھوڑ رکھا تھا میں نے،اگر یہ پنجرہ ہے تو مت پھڑپھڑاؤ میں تمھیں کبھی آزاد نہیں کرونگا۔”

صاحبہ کی بات کی تردید کرتے ہوئے اُس نے سنجیدگی سے آج کی ملاقات کو یہی ختم کردیا ۔وہ نم آنکھوں کے ساتھ اُسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی ، کیونکہ اُس کی آخری امید بھی دم توڑ چکی تھی۔

*****    

اکثر وہی لوگ مدد کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہیں جن سے اچھائی کی توقع تک نہ ہو ۔۔۔اکثر وہی لوگ اپنائیت ظاہر کرنے لگتے ہیں جن سے بس بیگانگی کا رشتہ ہو ۔۔۔اکثر اُنھی لوگوں کا ساتھ غنیمت معلوم ہوتا ہے جن سے کراہت محسوس ہوتی ہو۔وقت سب دیکھا دیتا ہے اور اُسے بھی وقت نے دیکھا دیا کہ معمولی صورت والوں کے دل میں بھی انسانیت کے خاص جذبے پنپتے ہیں۔ اچانک سے اُسے چاچی شگو کے برتاو میں ایک تبدیلی محسوس ہوئی ۔چند دنوں سے اُن کا رویہ بدلا بدلا سا تھا۔وہ یہ دیکھ کر حیران ہوئی کہ سخت گیر نظر آنے والی اِس عورت کے دل میں بھی ایک نرم گوشہ ہے۔ وہ جب بھی حویلی سے باہر ہوتا تو چاچی شگو اُسے چند پل کے لیے کھلی فضا میں آنے کا موقع دیتیں۔۔۔اُس کے کھانے میں اچھے پکوان شامل کرتیں۔۔۔خالی گلدانوں میں تازہ پھول سجا جاتیں۔ شاید اُنھیں اِس معصوم سی لڑکی پر ترس آگیا تھا۔

“آپ بہت خوبصورت ہیں، پڑھی لکھی ہیں ،پھر کیوں اپنے لیے یہ دوزخ چُن لی آپ نے ؟ ”

صاحبہ نے تعجب سے چاچی شگو کو دیکھا ،جنھوں نے پہلی بار اُس کے سامنے چند جملے ادا کیے تھے۔

“تو آپ مانتی ہیں یہ دوزخ ہے۔”

اُس نے مطلوبہ سوال کا جواب دیے بنا کھوئے کھوئے انداز میں پوچھا۔

“ہم نوکر غلط کو ٹھیک نہیں کر سکتے ،مگر غلط کو غلط مان تو سکتے ہیں۔”

چاچی شگو کے الفاظ ایسے تھے کہ وہ دوبارہ چونکی۔

“کیا اِس سنجیدہ نظر آنے والی عورت کے سینے میں بھی دل ہے؟ کیا یہ بھی درد کی گہرائی محسوس کر سکتی ہیں؟کیا اِنھیں بھی میرے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا ادراک ہے؟کیا یہ مانتی ہیں ،جانتی ہیں کہ وہ ظالم ہے اور میں مظلوم؟”

چاچی شگو کی شخصیت کے نئے پہلو نے صاحبہ کو اچھا خاصا اُلجھا دیا تھا۔

“اب تو بری طرح سے پھنس گئی ہیں آپ۔”

بیڈ کی چادر ٹھیک کرتے ہوئے اُنھوں نے پھر سے اظہارِ افسوس کیا ۔

“محبت کی کتاب کے پہلے صفحے پر کسی دوزخ کا ذکر نہیں ہوتا۔۔۔کسی سزا کی تنبیہ نہیں ہوتی۔۔۔بس خوش گمانیاں لکھی ہوتی ہیں۔۔۔جنت جیسی زندگی کا پتا درج ہوتا ہے۔۔۔میرا قصور یہی ہے کہ میں اُس پہلے صفحے کو پوری زندگی کا نچوڑ سمجھ بیٹھی۔”

حیرانی سمٹی تو وہ سانس خارج کرتے ہوئے ملال سے کہنے لگی۔

“تو کیا آپ اب بھی محبت کرتی ہیں حکم سے ؟ ”

چاچی شگو نے خلافِ توقع اُس کا ناپسندیدہ سوال پوچھ لیا تھا۔

“نہیں! بلکل بھی نہیں۔ایسے سفاک شخص سے کون مستقل محبت کر سکتا ہے۔”

صاحبہ کے چہرے پر ناگواری سی در آئی ۔

“پھر تو آپ کو محبت ہوئی ہی نہیں۔جو آپ کو ہوئی تھی محبت ویسی نہیں ہوتی۔”

اُنھوں نے کھڑکی کا پردہ ہٹاتے ہوئے دھوپ کی کرنوں کو راستہ دیتے ہوئے اطمینان سے کہا۔

“کیا مطلب ہے آپ کا؟”

صاحبہ اُ ن کے قریب آتے ہوئے آنکھیں سکیڑ کر بولی۔

“یہ محبت تو اُس جھولی جیسی ہے بی بی ، جس میں کبھی سختیاں، پابندیاں اور شرطیں ڈالی جاتی ہیں، تو کبھی قربانیاں ، ناانصافیاں اور دھوکے۔پیار کرنے والے پھر بھی کرتے ہیں۔۔۔نام جپھنے والے کبھی چپ نہیں ہوتے۔۔۔روگ پالنے والے کہا ں سمجھتے ہیں۔۔۔محبت کا آسیب قابو کرنے کے لیے لوگ صدیوں تک چلّہ کاٹتے ہیں۔۔۔آپ تو مہینوں میں ہی تھک گئیں۔”

نہ بولنے والی عورت بولنے پر آئی تو بولتی ہی چلی گئی۔

“یہ کیا بات ہوئی ایک انسان دھتکارے ، ظلم ڈھائے اور اگلا محبت محبت کرتا رہے۔انسان اتنا پاگل اور بیوقوف ہے کیا کہ اپنا نفع اور خسارہ ہی نہ سمجھے۔”

صاحبہ نے سختی سے اُن کی سوچ کی نفی کردی تھی ۔اُسے چاچی شگو کی باتیں ذرہ بھی ا چھی نہ لگیں۔

“محبت کا نہ ہونا اور ہو کر جلد دم توڑ دینا ایک برابر ہے بی بی۔ابھی ہوئی نہیں ہے، ہوگی تو آپ سمجھ جائیں گی کہ محبت کی طویل بے اختیاری، بے خودی کیا چیز ہے۔”

چاچی شگو کے لہجے میں اُن کا تجربہ بول رہا تھا،صاحبہ ہونقوں کی طرح اُنھیں دیکھنے لگی ۔آج وہ واقعی غلط ثابت ہو گئی تھی کہ عقل و دانش اُس جیسے پڑھے لکھے اور اپر کلاس لوگوں کی میراث ہے۔

“یہ چاچی شگو کیا کہہ ر ہی ہیں ؟ کیا یہ سچ کہتی ہیں ؟کیا مجھے واقعی محبت کی پرکھ نہیں ؟ کیا مجھے حقیقتاً محبت نہیں ہوئی۔”

وہ اکیلے میں کتنی ہی دیر چاچی شگو کی باتوں کے مفہوم کھوجتی رہی ۔

” تم نادان ہو ،محبت کو سمجھنے کے لیے ابھی چھوٹی ہو۔ایک غلط قدم زندگی کے کئی رستوں کو بند کر دیتا ہے۔ اِس خیالاتی دنیا سے نکل آؤ۔ تم بس اُس شخص سے متاثر ہو اور متاثر ہو کر زندگی نہیں گزاری جاتی۔”

دور کہیں سے ممتا بھری آواز ایک بار پھر سنائی دی تو اُس نے نئے سرے سے اپنے دل کو ٹٹولنا شروع کر دیا۔

*****     

   ہم کسی در پہ نہ ٹھٹکے نہ کہیں دستک دی

   سیکڑوں در تھے میری جاں تیرے در سے پہلے     

عشق کا جادو ا نا کو بس میں کرلے تو اکثر انسان اُسی در سے ٹھکرایا جاتا ہے جس در سے ٹھکرائے جانے کی امید تک نہ ہو۔وہ بھی خودداری پر چوٹ لگنے کے باوجود بار بار اُس کے کمرے کے چکر لگاتی رہی ۔کبھی کسی وقت وہ غائب ہوتا ، جو موجود ہوتا بھی تو پریشان ملتا یا مصروف نظر آتا۔

“میں بھی کیسی بچوں جیسی حرکتیں کر رہی ہوں۔شاید وہ واقعی اِتنا مصروف ہے کہ مجھے و قت نہیں دے پا رہا۔وہ میرا ہی تو ہے، پھر مجھے کیا ڈر ہے ؟ کیا خوف ہے ؟ مجھے یوں بار بار اُس کے کاموں میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے ، بلکہ اُس کی فرصت کا انتظار کرنا چاہیے۔وقت پاتے ہی وہ ضرور میری طرف دوڑے گا۔ ”

محبوب کے در پر روز حاضری دینا اور ناکام لوٹنا یہ حوصلہ جیون جیسی دیوانی ہی کر سکتی تھی۔

سیڑھیاں چڑھتے اُترے تین ہفتے گزر گئے ،مگر جازم کی مصروفیت اور سرد رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ شرط ،امید اور وعدے کے مطابق شادی میں ایک ہفتہ رہ گیا تھا، لیکن یہ کیسی شادی تھی جس میں نہ حویلی کو سجایا گیا نہ حویلی کی مالکن نے د ن اور تاریخ کا اعلان کیا۔۔۔نہ جازم نے کوئی شریر وعدے کیے نہ سکھیوں نے شادی کے گیت گائے ۔ہر گزرتے پل نے جیون کی فکر اور بے چینی بڑھا دی تھی ۔سوچ سوچ کر اُس کا دماغ ماؤف ہو چکا تھا۔ خطرے کی ایک گھنٹی مسلسل دل میں بج رہی تھی۔وہ چاہ کر بھی اور انتظار نہیں کر سکتی تھی۔

“کچھ تو گڑ بڑ ہے ۔۔۔کچھ تو ایسا ہے جو مجھے معلوم نہیں۔۔۔کچھ تو انہونی ہو نے والی ہے ۔۔۔مجھے آج ہی جازم سے بات کرنی ہو گی ۔۔۔آج نہیں بلکہ ابھی۔۔۔”

وہ دل ہی دل میں فیصلہ کرتی ہوئی اپنے کمرے سے نکلی ۔اُسے جلد از جلد جازم سے ملنا تھا ۔راہداری عبور کر کے وہ سیڑھیوں کی طرف بڑ ھ ہی رہی تھی کہ دو مانوس آوازوں نے اُس کے قدم وہی روک دیے ۔یہ آوازیں سیڑھیوں کے بائیں طرف واقع ذکیہ بیگم کے کمرے سے آرہی تھیں ۔وہ دبے قدموں آگے بڑھی اور پوری تو جہ سے ذکیہ بیگم او ر جازم کی گفتگو سننے لگی۔

“جیون پیاری بچی ہے ۔سب سے بڑھ کر وہ اِس حویلی کے رسم و رواج سے بخوبی واقف ہے ۔کوئی بھی باہر کی لڑکی حویلی کی شان کو ویسے برقرار نہیں رکھ سکتی جیسے جیون رکھے گی۔مجھے خوشی ہے ہم دونوں کی خواہش اور پسند ایک ہے۔”

ذکیہ بیگم نے اطمینان سے سانس لیتے ہوئے کھل کر انبساط کا اظہار کیا تھا۔

“بالکل امّی جان! صرف جیون ہی حویلی کی ملکہ بننے کے قابل ہے ۔میں اُسے آپ کی نظروں سے کبھی دور نہیں ہونے دونگا۔حویلی کا قیمتی ہیرا حویلی میں ہی رہے گا ۔”

جازم کے منہ سے اپنے لیے یہ الفاظ سن کر دروازے کی اوٹ میں کھڑی جیون کے گال سُرخ ہوگئے ۔

“میں آج ہی تم دونوں کے رشتے کی مٹھائی بانٹتی ہوں۔خوشی کا موقع ہے ہر کسی کو اِس خبر کا علم ہونا چاہیے۔”

ذکیہ بیگم اُس کے سر پر دستِ شفقت پھیرتے ہوئے گرم جوشی سے بولیں۔

“رشتے کی خبر کے ساتھ یہ اعلان بھی کر دیجیے کہ یہ نکاح اِس جمعے کو ہو گا۔”

جازم نے مسکراتے ہوئے تقریبا ً دھماکہ کیا۔منہ پر ہاتھ رکھ کر کھڑی جیون کا دل اچھل کر قدموں میں آگیا تھا ۔

یہ کیا کہہ رہے ہو جازم؟ اتنی جلدی یہ ممکن نہیں۔”

ذکیہ بیگم کی خوشی کچھ پل کے لیے فکرمندی میں بدل گئی۔

“اِس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں امّی جان۔بہت سار ی چیزیں جو ممکن نہیں ہیں میں اُنھیں ممکن بنا دوں گا۔”

جازم نے اُن کا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں لے کر پختہ یقین سے کہا۔

“تم میرے اکلوتے بیٹے ہو۔اِس حویلی کے اکلوتے وارث ۔تمھاری شادی دھوم دھام سے کی جائے گی۔حویلی کو دلہن کی طرح سجایا جائے گا۔سب رشتے داروں کو پیغام بھیجا جائے گا۔جیون کے لیے خوبصورت لباس تیار کروائے جائیں گے۔بہت سارے انتظامات ہیں اور یہ سارے انتظامات کچھ وقت مانگتے ہیں۔”

ذکیہ بیگم پریشان کن انداز میں اُسے سمجھانے لگیں۔

“کل تک یہ حویلی سج جائے گی۔۔۔ہر طرف پیغام پہنچا دئیے جائیں گے۔۔۔اور جیون کے لیے خاص جوڑا میں خود خرید کر لاؤنگا۔”

جازم نے چٹکیوں میں ہر مسئلے کا حل بیان کیا تھا۔

“لیکن میرے بچے ! اِتنی جلد بازی ٹھیک نہیں ہے ۔تم یہ سارے معاملات اکیلے نہیں سنبھال سکتے۔”

ذکیہ بیگم کے چہرے پر فکر ہنوز برقرار تھی۔

“نیک کاموں میں دیر کی گنجائش نہیں رکھنی چاہیے امّی جان ۔آپ مجھ پر بھروسہ کرتے ہوئے سارے معاملات سے بے فکر ہوجائیں۔”

وہ اپنی ضد سے کسی طو ر پیچھے ہٹنے کو تیار نہ ہوا۔

“لیکن جیون !کیا جیون اتنی جلدی شادی کے لیے مان جائے گی ۔لڑکیوں کے شادی کو لیکر بہت ارمان ہوتے ہیں۔”

ذکیہ بیگم نے اپنی پریشانی کی اب سب سے بڑی وجہ بیان کی۔

“ہر لڑکی چاہتی ہے کہ اُس کا خواب جلدی پورا ہو۔یہ خواب اور یہ موسم اُس کی پسند کا ہے اُسے کوئی بھی اعتراض نہیں ہوگا۔”

جازم کے اِن لفظوں پر جیون نے اُسے تشکر بھری نگاہ سے دیکھا ۔

“ٹھیک ہے میری جان جیسے تمھاری خوشی ۔میں آج ہی تیاریاں شروع کر دیتی ہوں۔”

جازم نے ذکیہ بیگم کی ہر الجھن کا جواب محبت اور سمجھداری سے دیا تووہ قائل ہوئے بنا نہ رہ سکیں۔

چھپ کر ہر بات سنتی جیون مراد پا جانے کی خوشی میں جیسے سُن ہی ہوگئی تھی۔اُس کا دل کیا وہ بھاگ کر اپنے کمرے میں جائے اور جھوم کر گا کر اپنی خوشی کا اظہار کرے ۔وہ خود میں سمٹتے ہوئے آہستہ آہستہ پیچھے کی طرف قدم بڑھا رہی تھی کہ کچھ فاصلے پر رکھے بڑے گلدان کے ساتھ ٹکرا گئی ۔یکدم بلند آواز سے ذکیہ بیگم اور جازم دروازے کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔جیون ہڑ بڑا کر اُٹھی اور فورا ً وہاں سے بھاگ گئی ۔ذکیہ بیگم اور جازم نے اُسے بھاگتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ا ب وہ دونوں مطمئن ہو چکے تھے کہ جیون سے کچھ بھی پوچھنے یا اُسے بتانے کی ضرورت نہیں۔

*****          

“جازم لالہ نے شادی کے لیے حامی بھر لی۔۔۔کیسے ۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔وہ سفاک شیطا ن اتنی جلد روپ کیسے بدل سکتا ہے۔۔۔کیا اِس کے پیچھے کوئی چال ہے۔۔۔کیا وہ ایک بار پھر چالاکی سے جیون کا استعمال کر رہا ہے ۔۔۔کہیں یہ اُس کا نیا کھیل تو نہیں۔۔۔کہیں وہ مجھے غلط ثابت کرنے کے لیے جیون کو جھوٹی آس دے کر بہلا تو نہیں رہا۔۔۔میں اُس کے وہ الفاظ کیسے بھول سکتا ہوں جو اُس نے جیون کو برباد کرنے کے لیے کہے تھے ۔۔۔۔جو جیون نے کہا وہ سچ ہے یا وہ ، جو میرے رستے ہوئے زخم کہتے ہیں۔۔۔کونسا اصلی چہرہ ہے اُس کا یہ جو وہ دیکھا رہا ہے یا وہ جو میں نے دیکھا۔۔۔”

اُن دونوں کی شادی کی خبر جیون کے منہ سے سن کر بھی اُسے قرار نہیں مل رہا تھا ۔دن رات وہ اپنے آپ میں اُلجھا رہتا ، سچ جھوٹ کو دل کی کسوٹی پر اُتارتا، یقین اور بے یقینی کے راستوں پر سفر کرتا اور پھر اُس نے وہ خبر سنی جس سے اُس کو اُس کے سوالوں کے جواب مل گئے ، سارے ڈر مٹ گئے ، تمام خدشے دور ہوگئے ۔حویلی کے ہر نوکر اور ہر فرد کی زبان پر جازم اور جیون کے رشتے کی باتیں تھی تو ہر طرف اُن کے نکاح کے چرچے ۔اِس خبر نے اُسے روح تک پرسکون کردیا تھا۔آخر اُس کی دعائیں قبول ہو گئی تھیں،آخر اُس کا مقصد کامیاب ہوچکا تھا۔

“تمھاری خوشیوں کا سن کر ہی میں بہت خوش ہوں۔۔۔نجانے دیکھ کر کتنا خوش ہونگا۔۔۔تم سے اُن باتوں کی معافی مانگنا چاہتا ہوں جس کے لیے میں نے تمھیں پریشان کیا۔۔۔اُن گستاخیوں کی سزا پا چکا ہوں جو میں نے تمھاری محبت کی شا ن میں کیں۔۔۔شاید میں جازم لالہ کو سمجھ نہیں پایا۔۔۔شاید میں تمھیں خوش دیکھنے کے لیے جلد باز ثابت ہوا تھا۔۔۔لیکن میری سزاؤں اور تکلیفوں کا مجھے اچھا صلہ ملا ہے۔۔۔وہ صلہ جو میں چاہتا تھا۔۔۔میرا وجود ہر آنکھ کو کھٹکتا ہے ۔۔۔۔تمھیں تمھاری منزل ملتے ہی میں بھی اِس حویلی سے چلا جاؤنگا ۔۔۔ایک نیا سفر میرے سامنے ہے ۔۔۔ایک نئی زندگی تمھاری منتظر ہے۔۔۔۔اِس حویلی کا تاج جو تمھارے نام تھا تمھارے ماتھے پر سجنے والا ہے۔۔۔میرا بھی دل کرتا ہے خوشیوں کی آمد پر تمھیں کوئی تحفہ دوں۔۔۔مگر میں ایک نوکر ہوں۔۔۔ایک مفلس ،لاچار ،بے بس نوکر۔۔۔چاہ کر بھی کچھ قیمتی  نہیں خرید سکتا۔۔۔پر ہاں میرے لیے جو قیمتی ہے وہ دے سکتا ہوں تمھیں۔۔۔میں تمھیں اپنے دل کی سچائی اور روح کی پاکی کے ساتھ سدا سہاگن رہنے کی دعا دیتا ہوں۔۔۔

تمھارا مخلص دوست !

سیف۔۔۔۔”

اُس نے جیون کے نام ایک خط لکھا اور اُسے لپیٹ کر الماری میں رکھ دیا۔وہ یہ خط اُس کے نکاح کے بعد اور اپنے جانے سے پہلے اُسے دینا چاہتا تھا ،تاکہ کچھ کہنے اور سننے کی گنجائش نہ رہے۔

*****               

جازم نے جو کہا تھا کر بھی دیکھایا ۔۔۔دو دن کے اندر پوری حویلی روشنیوں سے جگمگا اُٹھی ۔۔۔ سارے داخلی راستے پھولوں سے سجا دیے گئے۔۔۔خاص خاص مہمانوں کو دعوت نامے پہنچ چکے تھے ۔۔۔ وہ تمام انتظامات کو باریک بینی اور دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اُس نے تمام ملازمین میں مختلف کام یکساں بانٹ دئیے تاکہ اِس شاندار تقریب میں کوئی بھی کمی پیشی نہ رہ جائے۔۔۔اپنے بیٹے کو اتنی ذمہ داری کا ثبوت دیتا دیکھ کر ذکیہ بیگم خوش ہونے کے ساتھ ساتھ حیران بھی تھیں۔۔۔وہ دل ہی دل میں جیون کی خوبیوں کی معترف ہوئیں کہ جس کی چاہت نے لاپراہ جازم کو اتنا سمجھدار بنا دیا تھا۔

اگلے دو دن کے لیے وہ شہر روانہ ہو چکا تھا۔اُس کی واپسی پر جیون کا کمرہ ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت چیز سے سج گیا۔ہر شئے پر پانی کی طرح پیسہ بہایا گیا تھا ۔تمام خریداری جیون کی پسند اور خواہش کے مطابق کی گئی تھی۔ایک ایک چیز پر محبت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے اُس کا دل کیا بھاگ کر جائے اور اتنی شاندار چوائس پر جازم کو داد دے،لیکن وہ چاہ کر بھی ایسا نہ کر پائی ۔جب سے رشتے کی بات کھلی تھی وہ دونوں سب کی نگاہ کا مرکز بن چکے تھے اور ا ب اِس ہمیشہ کے ساتھ کے لیے اُسے کچھ دن کی جدائی تو برداشت کرنا تھی۔اگلی صبح سے شام تک وہ اُسے دیکھنے کے بہانے ڈھونڈتی رہی اور بالآخر تھک ہار کر آنگن میں لگے سفید پھولوں کے پاس آکر بیٹھ گئی جہاں سے جازم کے کمرے کی کھڑی صاف دیکھائی دیتی تھی۔پھولوں سے کھیلتی نازک تتلی کی نگاہ اوپر اٹھی تو آوارہ بھورے کی نظر سے جا ملی ،جازم کھڑی میں کھڑا اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔

“بہت ہی خوبصورت جوڑا خریدا ہے تم نے ۔۔۔

وہ لال چوڑیاں دل چاہتا ہے ابھی سے پہن لوں۔۔۔

کل تمھاری لائی سُرخ مہندی سے میں تمھارا نام اپنی ہتھیلی پر سجاؤنگی۔۔۔

تم بہت اچھے ہو جازم ۔۔۔میں نے جو چاہا۔۔۔جو مانگا۔۔۔تم نے دیا۔۔۔

کاش میں اُڑ کر تمھارے پاس آسکتی۔۔۔

تمھاری محبت میرے لیے اِس دنیا کا سب سے بڑا انعام ہے۔۔۔

میں بہت خوش ہوں۔۔۔بہت خوش ہوں۔۔۔

اِس محبت ،اِس مان ،ہر عنایت کے لیے بہت شکریہ جازم۔۔۔”

جیون نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اُسے دل کی ساری باتیں کہہ ڈالیں۔

“وہ جوڑا تم سے زیادہ خوبصورت نہیں ہے جیون۔۔۔

یہ لال چوڑیاں اب تاعمر تمھارا مقدر ہیں۔۔۔

اِس ہتھیلی پر لکھا نام دھل بھی جائے تو تمھارے دل پر لکھا اپنا نام مٹنے نہیں دونگا۔۔۔

تم مجھ سے زیادہ اچھی ہو۔۔۔چاہے جانے ۔۔۔اور مانگنے کے قال!

کچھ وقت کی دوری ہے پھر تم ہمیشہ کے لیے میرے پاس آجاؤگی۔۔۔

تمھاری محبت بھی میرے لیے کسی انمو ل تحفے سے کم نہیں۔۔۔

میں خوش قسمت ہوں ۔۔۔بہت ہی خوش قسمت۔۔۔

تمھارے اعتبار۔۔۔وفا اور حسین ساتھ کے لیے بہت شکریہ جیون۔۔۔”

جازم نے بھی اُسے آنکھوں کی زبان میں جواب دیا تھا۔اُن دونوں کی آنکھوں میں بے پناہ محبت تھی، دیوانگی تھی، آنے والے کل کے لیے ڈھیروں سپنے تھے۔جیون کی آنکھوں سے انبساط کی لو پھوٹ رہی تھی تو جازم کی آنکھوں سے جذبات کی۔کسی کی خاموش اداس آنکھوں نے ایک بار پھر اُن کے لیے دل سے دعائیں کی تھیں۔

*****         

آخر وہ دن آ ہی گیا جو جیون کی زندگی کا سب سے یادگار دن بننے والا تھا۔نکاح کی تقریب کا انتظام حویلی کے بڑے آنگن میں کیا گیا تھا۔حویلی کے باہر حویلی کی رونق چاروں طرف پھیل چکی تھی تو حویلی کے اندر ہر طرف ملن کے گیت گونج رہے تھے۔خادمائیں اُس کی نظر اُتارنے میں لگی ہوئی تھیں تو سکھی سہیلیاں جازم کا نام لے لے کر چھیڑنے میں۔اُس نے گھڑی کی سوئیوں کے سنگ گرتے ہر لمحے کو ہزار بار گنا اور اُن لمحوں میں ملن کے سینکڑوں خواب آنکھوں میں سجا بیٹھی۔ایک ہلچل سے بھرپور دن اُس کے لیے سرک سرک کر گزر رہا تھا۔شام ہوتے ہی اُس کی سہیلیوں نے اُسے تیار کرنا شروع کردیا۔قہقہوں، گیتوں اور شوخ جملوں کے بیچ گھری وہ اُس گھڑی کے بارے میں سوچنے لگی جب اُس کا نام جازم کے نام کے ساتھ ہمیشہ کے لیے جڑ جائے گا۔

“ارے ہماری دلہن تو ابھی سے سپنوں میں کھو گئی۔”

اُس کی بڑی بڑی آنکھوں کو اپنے ماہرانہ ہاتھوں سے سجاتی غزالہ نے آنکھ مار کر کہا۔

“یہ شرمیلی مسکراہٹ بتا رہی ہے کہ تخیل کے پردے پر دلہا میاں نظر آرہے ہیں۔”

جھرنا اُس کے گلابی ہونٹوں پر سرخ لپ سٹک بکھیرتے ہوئے کھلکھلا کر بولی۔

“تم دونوں تو پاگل ہو بالکل ۔۔۔ داستان شروع نہیں ہوئی ختم ہونے والی ہے رانی صاحبہ تو راجا کا ہاتھ پکڑ کر کسی اور ہی جہاں پہنچ چکی ہیں۔”

اُس کے لمبے سیاہ بالوں کا سٹائلش جوڑا بناتے ہوئے ستارا نے بلند آواز میں اعلان کیا تھا ۔

“بس کردو تم تینوں۔۔۔ تم لوگوں کا دماغ اور زبان کتنی چلتی ہے توبہ۔”

جیون نے آنکھیں کھولے بغیر محبت بھرے انداز میں اُنھیں جھڑکا۔

“دلہن تم چپ رہو آج ہمیں موقع ملا ہے ہم تو چھیڑیں گے۔اور جب تک میں نہ کہوں آنکھیں نہ کھولنا ورنہ کوئی روپ چرا لے گا۔”

غزالہ نے اُس کے چہرے کا میک اپ مکمل کرکے اُسے آئینے کے سامنے بیٹھاتے ہوئے شرارت سے کہا تھا۔

کچھ دیر بعد اُن تینوں کے حکم پر اُس نے آنکھیں کھولیں تو خود کو پہچان نہ سکی۔ سرخ بھاری کامدار لباس میں اُس کا نازک وجود پھول میں خوشبو کی طرح قید تھا۔اُس کی چوڑی پیشانی کو روایتی جھومر ٹیکے نے ڈھانپ رکھا تھا تو گردن کو خاندانی کٹھ مالا نے ۔اُس کے دو نوں ہاتھوں میں کانچ کی لال چوڑیوں کے ساتھ سونے کے وہ موٹے موٹے کنگن بھی تھے جو ذکیہ بیگم کو اپنی شادی پر پہنائے گئے تھے ۔اُس کا سنگھار بڑی نفاست سے کیا گیا تھا۔وہ رشک سے اپنا مہارانیوں جیسا روپ آئینے میں دیکھ رہی تھی۔ اُن تینوں کی محنت نے اُس کے حُسن کو چار چاند لگا دیے تھے۔اپنے نین نقش کی خوبصورت اور منفرد ساخت دیکھ کر وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں اپنی سکھیوں کو سراہنے لگی۔

“اب اپنے آپ کو خود نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا؟ کسی اور کو یہ موقع دے دو۔”

غزالہ اُسے کندھا مارتے ہوئے آئینے کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔

“تم نظر کی بات کرتی ہو کچھ لوگوں پر تو بجلی گرنے والی ہے۔”

غزالہ کا ساتھ دینے کے لیے جھرنا نے بھی آنکھوں سے اشارے کیے۔

“ہٹو پرے تم دونوں ! دلہن کو مت ستاؤ۔جیون تم بہت سندر لگ رہی ہو،بس اب اِس موقعے پر ایک شئے کی کمی ہے۔”

ستارا اُن دونوں کو پیچھے کرتے ہوئے آئینے میں دیکھ کر بولی۔

“وہ کیا؟”

غزالہ اور جھرنا کے ساتھ جیون نے بھی استعجاب سے پوچھا۔

“اِس حویلی میں تمھاری سریلی آواز ہمیشہ گونجتی رہتی ہے ۔دوسروں کی شادیوں پر تم رنگ جما دیتی ہو۔آج اِس عشق کے لیے کچھ نہیں گاؤ گی۔”

ستارہ نے اُسے نظر کا ٹیکہ لگاتے ہوئے پرزور فرمائش کی تھی۔

“عشق کے لیے۔۔۔”

جیون اُس کے الفاظ دہراتے ہوئے شرما سی گئی۔

“ہاں عشق اور عشق والے کے لیے ۔۔۔۔”

اب کی بار اُن تینوں نے ہم آواز ہوکر کہا تھا۔

“نہیں مجھے شرم آتی ہے۔”

جیون نے آنکھیں جھکاتے ہوئے انکار کیا۔

“پلیز جیون۔۔۔پلیز جیون ۔۔۔ہمارے لیے نا سہی ۔۔۔کسی کی خاطر ہی سہی۔”

وہ تینوں بچوں کی طرح ضد کرنے لگی تھی۔

“اچھا بابا۔۔۔اچھا۔۔۔”

جیون نے ہنستے ہوئے ہتھیار پھینکے۔

“ذکیہ بیگم کا حکم ہے کہ دلہن کو باہر لایا جائے۔”

اچانک سے خادمہ نے بلند آواز میں آکر کہا تو وہ سب چونک گئیں۔ جیون کا د ل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا۔

“کیا وہ مجھ سے پہلے موجود ہوگا یا میرے بعد وہاں آئے گا؟”

ملازمہ کے جانے کے بعد وہ گھبرائے ہوئے انداز میں بولی تھی۔

“تمھاری آواز سن کر تو وہ تم سے پہلے وہاں آئے گا۔”

شوخ سی جھرنا نے فٹ سے جواب دیا تھا۔

“آج ایسے گاؤ جیون جیسے تمھیں صرف وہی سن رہا ہو۔”

ستارہ نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اٹھاتے ہوئے اُس کا اعتماد بحال کیا۔

“بالکل آج بس اُسی کے لیے گاؤ۔”

غزالہ اُس کا زمین سے ٹکراتا بھاری لہنگا اٹھا کر چلتے ہوئے محبت سے کہنے لگی۔

تیرے عشق میں۔۔۔ ہائے۔۔۔ تیرے عشق میں

راکھ سے روکھی ۔۔۔کوئل سے کالی ۔۔۔

رات کٹے نہ ۔۔۔ ہجراں والی ۔۔۔

تیرے عشق میں ۔۔۔ہائے ۔۔۔ تیرے عشق میں

اپنے کمرے کی دہلیز پار کرتے ہی اُس نے اپنی آواز اور جذبات کو آزاد چھوڑ دیا۔

تیری جستجو کرتے رہے

مرتے رہے ۔۔۔ تیرے عشق میں

تیرے روبرو بیٹھے ہوئے

مرتے رہے ۔۔۔ تیرے عشق میں

تیرے روبرو۔۔۔تیری جستجو ۔۔۔

تیرے عشق میں۔۔۔ ہائے ۔۔۔تیرے عشق میں

بادل دُھنے۔۔۔موسم بُنے

صدیاں گنی۔۔۔لمحے چُنے

لمحے چُنے ۔۔۔موسم بُنے

کچھ گرم تھے۔۔۔کچھ گُنگُنے

تیرے عشق میں۔۔۔ بادل دُھنے۔۔۔موسم بُنے۔۔۔

تیرے عشق میں۔۔۔ ہائے ۔۔۔تیرے عشق میں

وہ سہج سہج کر قدم اُٹھاتی اپنی ہی دھن میں گاتی جاری تھی کہ اُس کی آواز سیف کی سماعتوں کو چھو گئی ۔وہ جانتا تھا جیون کس کے لیے گا رہی ہے ،مگر یہی الفاظ اُس کا دل بس جیون کے لیے گاتا تھا ۔وہ کئی بار خیالوں میں جیون کے روبرو بیٹھا تھا ۔۔۔وہ کئی بار خواب اور حقیقت میں اُس کے لیے مرا تھا۔۔۔اُس نے بادلوں سے اُس مورنی کے لیے بارشیں مانگی تھیں۔۔۔اُس نے کئی موسموں سے بس اُسی کے لیے ہی دوستی کی تھی ۔۔۔وہ کئی بار جیون کے پیچھے دوڑتے ہوئے لمحوں سے صدیوں میں داخل ہوا تھا۔ وہ بے قرار ہو کر اُٹھا اور اپنی زندگی کی آواز سے دور دوڑ پڑا ۔

تیرے عشق میں۔۔۔ تنہائیاں۔۔۔۔تنہائیاں ۔۔۔تیرے عشق میں

ہم نے بہت بہلائیاں۔۔۔تنہائیاں۔۔۔تیرے عشق میں۔۔۔

روح سے کبھی منوائیاں۔۔۔تنہائیاں۔۔۔تیرے عشق میں۔۔۔

مجھے ٹہو کر کوئی دن گیا

مجھے چھیڑ کر کوئی شب گئی

میں نے رکھ لی ساری آہٹیں

کب آئی تھی شب کب گئی

تیرے عشق میں۔۔۔کب دن گیا۔۔۔ شب کب گئی۔۔۔ تیرے عشق میں

تیرے عشق میں۔۔۔ ہائے ۔۔۔تیرے عشق میں

تیرے عشق میں۔۔۔

تیرے عشق میں۔۔۔

اُس نے گاتے ہوئے حویلی کے اندرونی حصے سے باہر قدم رکھا تو اُس کی آواز ذکیہ بیگم رقیہ ناز سمیت دیگر مہمانوں کے کانوں سے جا ٹکرائی۔ذکیہ بیگم نے بغیر کچھ کہے رقیہ ناز کی طرف دیکھا جن کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔

“دیکھا ذکیہ ! آخر اِس حویلی میں کسی کی محبت جیت گئی۔۔۔دیکھا ! تم نے جس بیٹے کو نفرت سیکھائی تھی اُس نے ایک کامیاب محبت کی بنیاد رکھ دی۔تمھارا بیٹا تمھاری طرح نہیں ہے اُس نے جیون کا دل نہیں توڑا۔تمھارے بیٹے نے اپنے عشق کا سر نہیں جھکنے دیا وہی عشق جو جیون کے سُروں میں غرور سے جھوم رہا ہے۔”

رقیہ ناز نے بن بولے اپنے تاثرات سے بہت کچھ کہہ دیا تھا۔ذکیہ بیگم نے دوسری طرف منہ پھیر لیا جیسے وہ رقیہ ناز کی ساری باتیں سمجھ گئی ہوں۔

راکھ سے روکھی ۔۔۔کوئل سے کالی

رات کٹے نہ ۔۔۔ ہجراں والی

دل صوفی یہ تھا

ہم چل دیے جہاں لے چلا

تیرے عشق میں ہم چل دیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیرے عشق میں۔۔۔۔ہائے ۔۔۔تیرے عشق میں

وہ سٹیج تک پہنچ چکی تھی مگر اُس کا استقبال کرنے کے لیے جازم وہاں نہیں تھا ۔اگر جازم وہاں نہیں تھا تو وہ کہاں تھا۔

“گھٹیا آدمی تو یہاں چھپ کر سوگ منا رہا ہے ۔آج تیرے چھپنے کا دن نہیں ہے آج تیری زندگی کا سب سے بڑا دن ہے ۔”

اُس نے نفرت سے غرّا کر سیف کا گریبان پکڑا۔پوری حویلی میں ڈھونڈنے کے بعد وہ اُسے باغ کے ایک تاریک کونے میں بیٹھا ہوا نظر آگیا تھا۔

“اُٹھ ۔۔۔اور چل کر دیکھ۔۔۔وہ آگ جو تو نے لگائی ہے ۔۔۔اُس سنہری آگ کا نظارہ کتنا دلکش ہے۔”

وہ اُسے گریبان سے پکڑ کر وہاں لے جا رہا تھا جہاں سب اُس کے منتظر تھے۔

“چھوڑ دو مجھے ۔۔۔چھوڑ دو۔۔۔میں نہیں دیکھ سکتا۔۔۔نہیں دیکھ سکتا۔”

سیف نے تڑپتے ہوئے بار بار التجا کی ،مگر جازم پر کوئی اثر نہ ہوا۔

وہ بے رحمی سے سیف کو گھسیٹتا ہوا باغ سے حویلی کے پچھلے حصے کا راستہ طے کرنے کے بعد روشنیوں اور پھولوں سے سجے حویلی کے بڑے صحن میں داخل ہوگیا ۔اب اُس کے پاؤں کے نیچے زمین کی جگہ قالین نے لے لی تھی۔ اُس کی عجیب حرکت دیکھ کر نا صرف مہمان بلکہ جیون بھی حیران و پریشان ہوگئی ۔ سب کو نظر انداز کرتا۔۔۔کرسیوں کو پیچھے دھکیلتا ۔۔۔مخملی قالین پر رعونت سے چلتے ہوئے وہ سٹیج کے قریب پہنچ گیا ۔

“بند کرو یہ گیت گانے۔”

وہ بارعب آواز میں چّلا یا تو ہر طرف خاموشی چھا گئی۔

اُس نے اپنی نگاہیں جیون کے چہرے پر گاڑ دیں۔جیون کی آنکھوں میں سوال تھے ،بے چینی تھی تو اُس کی آنکھوں میں بیگانگی اور جنون۔

“جبّار ۔۔۔جبّار۔۔۔ ”

اُس نے اپنے خاص خادم کو بلند آواز میں چیخ کر پکارا۔

“جی ۔۔۔چھوٹے صاحب!”

خادم فوراً حاضر ہو گیا تھا۔

“قاضی صاحب کو بلاؤ۔سیف اور جیون کے نکاح میں اب اور دیر نہیں کی جاسکتی۔”

اُس کے الفاظ ایسے تھے جیسے کوئی آتش فشاں پھٹتا ہے ۔۔۔۔پوری محفل میں ہلچل مچ گئی۔۔۔رقیہ ناز اور ذکیہ بیگم سناٹے میں آگئی تھیں تو سیف اور جیون کے چہرے دھواں دھواں ہو چکے تھے۔۔۔۔

جاری ہے