خود آگاہی______عظمی طور

ہمیں اکثر و بیشتر یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ
“مَیں کیا کروں؟؟”
“میں نے یہ بھی کر لیا وہ بھی کر لیا لیکن سمجھ کسی بھی طرح تشفی نہیں ہو رہی”
“مجھے سمجھ نہیں آتا آخر میں کیا چاہتا (چاہتی) ہوں ۔”
“مجھے کچھ چاہیے لیکن معلوم نہیں کیا؟؟ “
اس الجھن سے جڑے چھوٹے چھوٹے سوال بعض اوقات آپکے اندر چپکے چپکے سر اٹھاتے ہیں اور آپ انھیں تھپکتے رہتے ہیں، کبھی کسی دوست سے ڈسکس کر لیتے ہیں وغیرہ وغیرہ
بیشک اللہ کی حمد میں نجات ہے ۔ اسکی عبادت میں سکونِ قلب ہے۔ بیشک اسکے نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زکر میں اطمینان ہے ۔ اور یہاں نہ تو کسی لیکن کی گنجائش ہے نہ کسی اگر مگر کی ___
_____ ہم جس معاشرے ، جس ماحول، جن رویوں میں پروان چڑھتے ہیں کچھ چیزیں بلکہ زیادہ چیزیں انہی سے حاصل کرتے ہیں ۔ بعض چیزیں جنیٹک ہوتی ہیں ۔ بعض ہماری عادات میں شامل ہو کر ہمارے وجود کا حِصّہ بن جاتی ہیں ۔ اور بعض کیلئے ہمیں تگ و دو کرنا پڑتی ہے ۔
ہر انسان خود کی پہچان نہیں رکھتا ۔ ہر انسان خود کو نہیں جانتا ۔ اپنی عادات سے ناواقفیت یا تو دوسروں کیلئے باعثِ زحمت ہوتی ہیں یا آپ خود کہیں نہ کہیں نقصان اٹھا رہے ہوتے ہیں ۔
خود کی پہچان حاصل کرنا یعنی اپنی عادات سے آگاہی رکھنا اور خود پر کام کرنا ایک مشکل ترین عمل ہے ۔
اس عمل کو بروئے کار لانے کیلئے خود کو جھٹلانا پڑتا ہے ۔ خود کی نفی کرنا ہوتی ہے۔ لیکن ایسا کرنا بہت کم لوگ چاہتے ہیں اور بہت کم لوگ ایسا کر پاتے ہیں ۔
جیسے ایک چھوٹی سی مثال ” غصہ کی حالت میں خود کو کنٹرول کرنے کا عمل ہے ۔ “
ہم دراصل خود کو نہیں بلکہ سامنے والے کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے معیار پر پورا اترے ۔
کیا آپ خود اپنے معیار پر پورا اترتے ہیں؟؟؟(اگر آپ کا معیار خود اپنا تیار کردہ نہیں ہے اور اگر ایسا ہے بھی تو آپ ہڈ دھرمی سے کام لے رہے ہیں ، کیونکہ اللہ نے آپکے اندر ایک آلہ لگا رکھا ہے جسکا آلارم کہیں نہ کہیں بجتا ہی ہے) یہ سوال صرف چند سیکنڈ مانگتا ہے اور چند سیکنڈز ہی نظر چرانے میں لگتے ہیں __
خود پر کام کرنا ایک اچھا عمل ہے ۔ ایک خوشگوار اور ہلکا پھلکا کر دینے والا عمل۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ خود کو سرزش کرنے لگیں بلکہ آپ خود کو واچ کریں ۔
دوسری صورتِ حال کو اگر دیکھا جائے جس میں آپ خود کو خود ہی نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں ۔یعنی آپ خود کو نہ پہچان کر دوسرے کو موقع دے رہے ہوتے ہیں ۔
ایسی حالت کو بھی سدھارا جا سکتا ہے اس میں بھی آپکو خود کو واچ کرنا ہو گا ۔
جہاں ضرورت نہ ہو نہ بولیں (کیونکہ ہر کوئی آپکی معصومیت سے واقف نہیں ۔
لوگوں سے ڈرنے مرعوب ہونے اور رشک کرنے کے بجائے خود پر کام کریں ، اپنی سب سے اچھی عادت کو اور نکھاریں ۔
اپنے آپ میں رہنا یعنی ذات کی تلاش ،خود کی پہچان (اسے خودغرضی یا خود پسندی کی حد تک لے جانے کی ضرورت نہیں وہ الگ معاملہ ہے) آپ اپنے احساسات کی خود قدر کریں ، خود کو خود دیکھیں اور تنگ جگہوں پر رہ کر ایسی چیزیں تلاش کریں جو آپ کے لیے راحت کا باعث بنیں تاکہ آپ کم از کم اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہوں ،
جیسے کہ
“سب سے دلچسپ (جو آپ کے لیے ہو) کام،چیز،مقام،انسان ہے اس پہ دھیان دیں اور کوئی ایسا کام،چیز،مقام یا انسان جو آپ کو پسند نہیں اسکو الگ کر لیں .”
یہ پہچان کر لینے کے بعد آپ کو صرف وقت کی رفتار سے کٹ کر کچھ پل ان چیزوں کو دینا پڑے گی ۔ آپ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کریں گے ۔ اور یہ چھوٹے چھوٹے سوال جواب بن کر آپ کی آنکھوں میں چمک کی صورت ٹمٹمانے لگیں گے ۔
(اس تحریر میں چند چیزیں ایک تسلسل کی بنا پر شامل ہوئی ہیں لیکن کہیں نہ کہیں مددگار ثابت ہونگی)________________

تحریر:عظمی طور

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements