وہ دو شادیاں کرچکا ہے_______ازعزیز قاسمانی( سدرتہ المنتہیٰ )

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

—–

میں نے جب بھی خود کو گاتے ہوئے محسوس کیا ہے
تب چاند رات کے صحن میں تار پر پڑا سفید دهاری دار اوڑهنی لگا ہے
اس نے صبح سویرے مجھے جگاتے ہوئے کہا ہے کہ
“آپ رات میں پهر گنگنائے تھے”
“کون سا گیت؟”
“یاد نہیں..پر تھا کوئی.”.
میں جنت میں نہیں جا سکتا..
اس لئے کہ
میں اب تک زندہ ہوں
زندگی میرے لیے قہر بن گئی ہے..
کیا بتاوں..
میں بس بڑبڑاتا ہی ہوں
ملازمت ایک شہر میں تو گھر والی دوسرے شہر میں رہتی ہے
اور دل تیسرے شہر میں پھنس گیا ہے
مگر دل کا کہا مانا کب ہے..
دل تو صدا پیروں کی جوتی رہی ہے
سارے دن کی تڑپ اور بے قراری بس اس لئے کہ اس کا سیل فون بند تھا
ٹیکسٹ کردیتا
پانی کے ٹب میں گرگیا تھا
تبھی بند تھا
اب دوسرا لےلیا
(تمہاری خاطر) کہنا رہ گیا تھا بس
“آپ کیسے ہیں؟”
“میرا رابطہ تو بس آپ سے فون کے زریعے ہی رہتا ہے”
“فون کو رشتوں کی طرح سنبھال کر رکها کرو!”
“رکھتی ہوں..تب ہی تو رشتوں کی طرح بے وفا بن گیا ہے”
“میں بهی مانتا ہوں بے وفائی کے گهر میں رہتا ہوں
باوجود اس کے بھی تم سے کسی قسم کی کوئی غرض نہ رکھ پایا
بس بے وفائی اپنی جگہ خود ہی بنالیتی ہے
شاید یہ سب سے زیادہ وفادار رہنا جانتی ہے
تمہاری طرح دکھتی ہے..
اسی لیئے تو ساتھ رہتی ہے”
*******

کلام:عزیز قاسمانی

ترجمعہ:سدرتہ المنتہیٰ

کور ڈیزائن: