سپر منی کی ڈائری_________بریرہ صدیقی

۷ جنوری :

واپسی کے سفرمیں ماما کی وجہ سے اس قدر شرمندگی ہوئی۔ ایسا اس لیے کہ رہی ہوں کہ یہی ان کو اپنے بارے میں اپنی سہیلیوں کو کہتے سنا ہے تو ظاہر ہے میں بھی وہی بولوں گی جو سنوں گی۔ سارا راستہ میں خوب روتی رہی وہ بھی خوب اونچا۔اور مجال ہے جو اماں کو چپ کروانا

آجائے، کسی کو میں کیا کہتی یہ ہیں میری اماں؟جن کو بچہ چپ نہیں کروانا آتا۔ور کیا بتاوں واپسی پے کتنی ساری بیماریاں ساتھ لیتی آئی ہوں۔ ویسے

یہاں جو برف باری دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی ہے وہ الگ ہے۔ ایسے نرم نرم گالے۔میرے پاس آسمان سے ننھے تارے گرتے جاتے ہیں اور میرا ارد گرد سفید سے سفید ترہوتا جارہا ہے۔

۱۵ جنوری:

میں نے دکھی ہونا بھی سیکھ لیا ہے۔ اماں کو خوب بولنے اور ہر بات مجھ سے شیئر کرنے کی عادت ہو چلی ہے۔ آج صبح بتایا کہ ہم ایک نئے ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لیے جائیں گے۔ انکل بہبہانی ، ایران کے ڈاکٹر۔ وہی ایران جو ہمارے پاکستان کا ہمسایہ ہے۔ نام سن کر میں

بے تحاشہ ہنستی رہی اور ماما بار بار نام کہتی رہیں۔ پھر آگے کی سنیں۔ جب ان ڈاکٹر انکل کے پاس پہنچے تو انھوں نے خوب اچھی طرح معائنہ کیا۔ ان کے سخت ہاتھوں کو سہتے ہوئے میں نے سوچا ان انکل کے نام پے تو رونا چاہیے تھا۔ تب سخت ناراضی میں اماں پے خوب گرم ہوتے ہوئے

بولے۔

“das ist sehr kommisch aber ”

یعنی یہ کتنا عجیب ہے۔۔ اتنے گہرے انفیکشنز۔؟؟ جب وہ خوب بول چکے تو اماں نے مجرمانہ خاموشی توڑ کر اعتراف جرم کرتے ہوئے ایک ہی جملہ کہا۔ ” میں اسے پاکستان لے گئی تھی”۔ ہلکی اور معنی خیز مسکراہٹ سے بولے ،” ظاہر ہے ڈسٹ کے یہ

جراثیم جرمنی کے تو نہیں ہوسکتے” پھرتیز اوزاروں سے کانوں کے پیچھے گہرے کٹ لگا کر دونوں کانوں کی خوب صفائی کی۔ گھٹیا قسم کے ڈائپرز سے ہونے والے ریشز کے لیے ٹیوب اور سینےکی جکڑن کے لیے سیرپ۔ اماں ساتھ کھڑی آنسو بہاتی رہیں۔

یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ کتنی ہی بار پاکستان کا نام ایسے ہی موقع پر سننے کو ملتا ہے تو بالکل اچھا نہیں لگتا ۔ دکھ اور درد سے آج رات بھی ایک لمحہ کو سو نہیں سکی۔ صبح کے قریب آنکھ لگی تو سوتے میں بزبان خاموشی سمجھانے کی کوشش کی کہ یار اماں سپر ممی ایسے ہی نہیں بن

جاتے، ڈرپوک بننا اور بزدلی چھوڑ دیں اب۔ میرے ذمہ سب سے اہم کام اللہ تعالے نے یہی لگا کر بھیجا ہے کہ ذرا حوصلہ پیدا کریں آنے والے وقت میں بڑی بڑی قربانیوں کے لیے خود کو تیار کردیں اگر سپر ممی کا ٹائٹل لینا ہے۔ ویسے تو ہر ماں ہی سپر ہے لیکن مجھے لیے لیے اکیلے

جینا پڑ گیا اور آپ نے کم ہمتی ثابت نہ کی تو میرا وعدہ رہا جنت میں آپ سے دو قدم آگے ہو کر اپنے ساتھ کھینچ لاوں گی انشاءاللہ۔ تب اگلے دن کے چیک اپ سے واپس آتے، تالاب کی بطخوں کو بسکٹ کھلاتے میں نے امی کے اعتماد کو نوٹ کرتے ہوئے شکر کیا کہ بات سمجھ گئی ہیں ۔

فروری:

آپ کو بتایا تھا نا اماں کو میرے ساتھ بولنے کا چسکہ لگ گیا ہے ۔ اب ایک دم سے اتنی باتیں سکھانا شروع کردیں تو گڑبڑ تو ہونی ہی تھی۔ کچھ عرصہ میں دونوں کو ماما کہتی رہی اور پھر دونوں پاپا بن گئے۔ اسی طرح کلمہ بھی سکھا دیا ساتھ میں ہاتھ ملا کر السلام علیکم

کہنا بھی۔تو میں ہاتھ ملا کر کہتی ہوں لاالہ۔۔ اس پر جب کوئی ہنستا ہے تو میں ان سے زیادہ اونچے قہقہے لگاتی ہوں ان کی نادانی پر بھئی کس نے کہا تھا اتنا کچھ سکھانے کو۔

مارچ:

نو ماہ کی ہو کر میں نے آرام سے کھڑا ہونا اور دو قدم اٹھا کر سہولت سے گرنا سیکھ لیا ہے۔ مجھے اس ترقی پر ایک واکر بھی مل گیا ہے جس میں اماں کو لگتا ہے میں اڑتی پھرتی ہوں۔ ہر گول چیز سے مجھے بے حد انسیت ہے۔ اس لیے ایک کتاب جس کے ہر صفحے پر بے شمار گیندیں

ہیں میں شوق سے پڑھتی ہوں۔

اپریل:

شام میں جب پاپا آتے ہی ٹی وی آن کر لیتے ہیں تو مجھے سارے دن کے انتظار کے بعد بےحد مایوسی ہوتی ہے ۔تب مجھے ایک ہی حل سمجھ آتا ہے یا تو بار بار ٹک کر کے ٹی وی کا بٹن آف کردوں یا دونوں ہاتھ کھول کر اسکرین کے آگے تن کر اور جم کر کھڑے ہوجاوں اوراپنے ڈرامے

دکھاوں۔ کل ایسے ہی ہواجب ماما اور پاپا ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھے اور میں بور ہو رہی تھی تو میری نظرڈرائنگ روم کی بڑی سی کھڑکی سے اس پار گول مٹول چمکدار چاند پر پڑی اور میں نے زوردار فرمائش شروع کر دی۔ مووون۔۔ کچھ دیر مجھے پاپا گود میں اٹھا کر دکھاتے رہے پھر

ہاتھ ہلاکر بائے کہا اور پردے برابر کردیے۔ اتنی سی چیز نہیں دلاسکتےیہ۔ پھر میں سارا غصہ خالہ والی گڑیا کے بال نوچ کر نکالتی ہوں۔

مئی:

اس گول گیند نے شرمندہ ہی کروادیا ہے۔ ہوا یوں کہ صبح کے وقت میں واکر میں ادھر ادھر کام کاج کرتی پھر رہی تھی اور ماما بھی مصروف نظر آنے کی کوشش کر رہی تھیں، ساتھ ساتھ مجھ سے باتیں بھی جاری تھیں۔ میں ہوں ہاں میں جس بات کا ضروری سمجھتی، جواب دیتی رہی۔ تبھی

مجھے اپنے ناشتے کی ٹیبل پر گول اورنج سی بال نظر آئی۔اب میری ویسے بھی خواہش ہوتی ہے میرے ساتھ زبردستی کی ٹھونسا ٹھانسی نہ کی جائے ، میں جو چاہوں خود کھاوں۔میں نے لپک کراس بال کو اٹھایا اور کھیلنا چاہا تو اس کے چھلکے ادھر ادھر بکھر گئے۔ شاید نقلی تھی۔ میں نے

دونوں ہاتھوں کو سمیٹ کر جلدی جلدی چھلکے کھانے کی کوشش کی ایک تو بے حد بے ذائقہ اور ساتھ ہی نوکیلے۔ گلے میں اس قدر بری طرح پھنسے کہ اماں کو آواز بھی نہ دے سکی۔ خود ہی تھوڑی دیر میں آکر دیکھا تو میں نیلی ہو رہی تھی۔ مجھے لیے دوڑتی ہوئی سامنے اسی سری لنکن آنٹی

کے گھر کی بیل پر اس وقت تک ہاتھ رکھا جب تک وہ باہر نہ نکل آئیں۔ انہوں نے مجھے فوری اچک کر حلق میں انگلی ڈالی اور الٹا کر دیا۔ ایک بڑی سی قے کے ساتھ ہر چیز باہر نکل آئی اور میرا رکا سانس چلنے لگا۔ غلطی تو اپنی ہی تھی پر میں اماں سے کافی دیر ناراض رہی۔ اگلے

دن جب پارک میں جھولا جھول رہی تھی تو ایک اور آنٹی آکر پوچھنے لگیں۔ تو آپ کی بیٹی نے کل eggshells چبا لیے تھے؟ بس میں نے جھولے سے نظریں سیدھی گھاس پر جما لیں۔ اور اماں کھسیانی ہو کر بولیں، ” بس یہ اپنے پاپا کہ طرح ریسرچ کرتی ہے ہر چیز پر” ۔چلو جی۔جس کا جواب

نہ بن پڑے وہ پاپا کے کھاتے میں ڈالتے جائیں۔ انھیں کون سمجھائے کہ معاملہ بھوک کا نہیں ، محبت کا تھا۔

۱۸ مئی:

میرے کام کاج اور مصروفیت بڑھ گئی ہے لیکن اماں ابا تنگ نظر سے ہیں انھیں لگتا ہے یہ شرارتیں ہیں۔ ماما کے بیگ سے لپ اسٹک ہاتھ لگی میں نے کلر چیک کرنا چاہا تو ایسا شور ڈالا انھوں نے اور مجھے اٹھا کر آئینہ دکھایا تو ایک چھوٹا سا جامنی رنگ کا بھوت نظر آیا

جسے دیکھ کے میں خود بھی ڈر گئی۔ یہاں ڈرائنگ روم میں اتنی ڈھیر ساری کتابوں میں جو سب سے اوپر جگہ ہے وہاں سے کتاب اٹھا کر اماں کوخوب ہل ہل کر اونچی آواز میں پڑھتا دیکھ کر مجھے بھی شوق ہونے لگا، پاپا کی شرٹ سر پے لیے نیچے کے دراز کی سب کتابیں چیک کر کے جو سب

سے بڑی لگی وہ کھول کر ایسے ہی ہل ہل کر اونچی آواز میں پڑھنا شروع کر دیا۔ اور اب یہ تو میری لازمی روٹین ہے ماما کے ساتھ بیٹھ کر ڈوپٹہ لپیٹے تلاوت کرنا۔ اماں کن اکھیوں سے دیکھ کر مسکراتی رہتی ہیں۔

ایک دن نیچے کے اپارٹمنٹ والے انکل نے ہمیں روک کر بلایا اور پاپا سے شکایت کرنے لگے بھئی یہ دونوں ماں بیٹی بالکل میرے کتے کے پاس نہیں آتیں ۔ یہ بے چارہ دیکھتا رہ جاتا ہے اس کی تو ویسے ہی عادتیں کیوٹ ہیں۔ تب پاپا نے مجھے گود میں لے کر ڈر اتارنے کی کوشش میں اس

کو خوب پیار کروایا۔ تبھی کہتے ہیں شاید کہ “love me and my dog” .بعد میں ماما گھر جا کر دیر تک مجھے اور میری چھوٹی گاڑی کو مانجھتی رہیں ۔

۱۵ جون:

آج تو میں میرون فراک اس پر سلور گوٹے کناری کے کام والے چوڑی دار میں خوب سج کر فوٹو بنوا رہی ہوں اور وہ میری ہمسائی اماں جان میرے ساتھ ساتھ ہیں۔ باقی ہمسائیاں آتے جاتے پوچھتی ہیں کہاں کی تیاری ہے چھوٹی دلھن؟؟ کہاں سے لیا ایسا شاندار ڈریس؟ تب میں اور

اٹھلا اٹھلا کر چلتی ہوں اور اماں فخر سے جواب دیتی ہیں۔” یہ پاکستان کا بنا لباس ہے” ۔ کہا تھا نا مجھے اپنے دیس کا نام روشن کرنا ہے انشاءاللہ ، تو ابھی اتنا ہی کر سکتی ہوں۔ اب کہیئے نا آپ بھی مجھے۔ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو

____________________

تحریر:بریرہ صدیقی

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.