تہذیب کا پہلا پتھر_______ازعزیز قاسمانی( مترجم سدرت المنتہی)

—–
بادشاہ نے شہزادی کو آج کا پیغام بھیجا ہے
رات بہار کی ہے
خنک شب کی ساعتوں میں تم نے میرا انتظار کیا تھا___
اب تیری گہری نیند کا
یقین ہوچلا ہے!
میں کہیں بہار کی آمد کے جشن میں کھو گیا تھا
دیر سویر تو آنے میں ہو ہی جاتی ہے!
اپنے گناہوں کے بوجھ تلے دبا ہوا تم پر باوجود اس کے فخر کرنے کی سند ساتھ لئے پھرتا ہوں
تمہاری بہادری کے پاؤں چومنے لائق ہیں___
میرے سر کے تاج کا بھرم سدا تمہیں نے قائم رکھا ہے
تم سے بہر صورت معافی کا طلب گار ہوں!!
انصاف کی پہلی اینٹ ابھی تک کچی پڑی ہے
جیسے ہی صبح کی پہلی کرن پھوٹے گی
تم دیکهنا..
مور محل کی چھت پر کوؤں کا بسیرا ہے
کوے سارے سورج کو پھٹکارتے
انہیں کیا پتہ کہ سارا جگ میہار کے گھر کی لوٹی ہے
سورج اس کا سودائی ہے
دهرتی کے بیج پر پہلا چھڑکاؤ سورج نے ہی کیا تھا
کوے سارے احسان فراموش نکلے ہیں
مگر تم دیکھنا..
یہ جو صرف دانہ چگنا جانتے ہیں
سورج کو برہمی سے تکتے تھے
میں بس اتنا ہی سن سکا تھا
میری رانی
دن کے اجالے میں پکڑے جانے کا خوف بھی سانس لیتا ہے
پر تم نہ رونا
رات کے کسی پہر بھی
تہذیب کو اپنے ساتھ باندھ کر
میں تمہارے گھر کی دہلیز پر سر اٹھاکر دستک دینے آؤں گا

رات کے کسی پہر میں تہذیب کو اپنے پیچھے باندھ کر تمہارے پاس لوٹ آؤں گا!
دن میں کیسے چھپ سکتے ہیں!

***

(سندھی ادب)

______________

تحریر:عزیز قاسمانی
مترجم:سدرتہ المنتہیٰ

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements

1 Comment

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.