غزل__________رابعہ بصری

ہوا کو تھام لیں خوشبو کا اہتمام کریں
سنور لیا ہو تو ہم چاند سے کلام کریں؟

ہم اپنے سوگ بُھلا کے اِنہیں سلامی دیں
چلو کہ ہجر کے ماروں کا احترام کریں

گلاب رُت میں کسی چھت پہ رنگ لے کے چلیں
جنوں میں بھیگنے والوں کا انتظام کریں

پرانے بیلیوں سے مِلتے آئیں گاوُں میں
گلی میں بیٹھے فقیروں کو بھی سلام کریں

وہ شخص دوست تھا اب وہ عدو ہوا تو کیا
وہ آرہا ہے جو ملنے تو اہتمام کریں

تمھیں یہ چاہ کہ اب لونگ ڈرائیو پہ نکلیں
ہمیں یہ فکر کہ دفتر کا تھوڑا کام کریں

ہم اپنی راہ سے بھٹکے ہوئے مسافر ہیں
کِنھیں پڑی کہ کوئی شام اپنے نام کریں

بہت برس ہوئےہیں پرورش کئے دکھ کی
چلو کہ درد کی شدت کا اختتام کریں

___________________

کلام:رابعہ بصری

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements