“پاگل مَیں یا یہ معاشرہ”—————عظمی طور

اس معاشرے کے بیمار ذہنوں نے کئی معصوم، لاغرض کئی بے قصور بیٹیوں کا خون کیا ہے ___ پھر یہ معاشرہ ایک اچھی ماں ایک اچھی بہو ایک اچھی بیوی مانگتا ہے __ تف ہے ایسی روایات پر ایسے رشتوں پر ایسے تعلقات پر جہاں بیٹی پس رہی ہو اور سمدھی کو گوشت بھون کر کھلائے جائیں _ جہاں داماد بیٹی کو ہر رات مارتا ہو اور اس کی آمد پر جھک جھک کر سلام کیا جائے ۔ جہاں گھر میں بہو ایک invisible مخلوق ہو اور کوئی آئے جائے تو اس سے خدمات لی جائیں _ جہاں مرد باہر کی دنیامیں خوش اخلاقی کی مثال ہو اور گھر میں گالیاں بکتا ہو __ جہاں عورت صرف کٹھ پتلی ہو محض کھلونا اور اس کے لیے کوئی راستہ نہ چھوڑا جائے _ تف ہے ایسے بیمار ذہنوں پر __
وہ بھی اسی بیمارمعاشرے کا victim ہے _
وہ ایک معصوم سی بچی تھی اپنے ماں باپ کی لاڈلی اور کچھ ناسمجھ _ کئی معصومانہ سوال اس کے ذہن میں کلبلاتے رہتے_ ماں نے لاڈ لڈائے باپ نے نخرے اٹھائے ۔ باحیا باکردار باتمیز __ سگے چچا نے اپنے بیٹے کے لیے چن لیا اور چھوٹی سی عمرمیں بیاہی گئی _ شوہر کو لگی ہر بری لت کا مقابلہ کیا ___ مگر ___
چار اوپر تلے کے بچے ہیں مگر اسے یاد نہیں __ ذہنی توازن کھو بیٹھی ہے __ شوہر نے دوسری شادی کر لی__ بچے دادی کے لاڈلے ہیں __ چچا نے گھر سے نکال دیا ساتھ پیغام بھی دیا “ٹھیک ہو جائے تب بھیجنا ورنہ پاس رکھو ۔ہم پاگل کا کیا کریں گے “
بہکی بہکی باتیں کرتی ہے __ بے وجہ ہستی رہتی ہے __ کچھ کھاتی پیتی نہیں __ آنکھیں اندر کو گڑھ گئ ہیں __ کچھ بولتی نہیں بالکل خاموش رہتی ہے __ماں کے سرہانے بھیانک خوابوں کے ڈھیر لگے ہیں __ باپ علاج کے طریقے ڈھونڈتا پھرتا ہے ___ لوگ اب چہ چہ کرنے بھی نہیں آتے ___
اس نے خواب دیکھا تھا
اس کے گھر کے آنگن میں
سرخ جوڑے میں
ایک لاش رکھی تھی
بے حس و حرکت
لیکن اس کے جسم سے
اٹھتی مہک کہتی تھی
ابھی کچھ پل قبل
اس سرخ جوڑے میں
ایک مسکراتا چہرہ
دنیا لوٹ لیتا تھا
اس کی کھلی آنکھوں میں
تیرتی نمی بتاتی ہے
کبھی اس کی آنکھیں بھی
جگمگاتی ہونگی
ان کے بھی کچھ خواب ہونگے
جن میں سرخ جوڑے کی
سنہری تاروں سے
خواہشیں بندھی ہونگی
اس کے نرم ہاتھوں کو چومتی ہے
اور
حوصلے کی ساری
رسیوں سے جکڑ کر
اس کے جسم کی گٹھڑی
گچھ مچھ کر کے
کسی غیر کے آنگن میں
اس نے رکھ چھوڑی ہے __!
_______________________
تحریر:عظمیٰ طور
انگریزی زبان کا استعمال بوجہ کیا گیا ہے)
کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف
ماڈل : عائشہ
Advertisements