کھوٹے سکے_________صوفیہ کاشف

میں نے صدیقی صاحب سے بات کر لی ہے.”

انہوں نے کہا ہے سی وی جمع کروا دو وہ تمھیں

.”ایڈجسٹ کر دییں گے

سلمان نے کھانا کھاتے ہوے بتایا.اور سحرکے ہاتھ کھانا کھاتے ہوئے ڈھیلے سے ہو گئے.

” تم ایسا کرو کہ کل کا دن لگا کراپنی

اچھی سی سی وی بنا کر پرسوں صبح مجھے دینا

میں جمع کروا دوں گا.پھر انٹرویو کے لیے جس دن

“.بلائیں گے تم کو لے چلوں گا

سلمان نے پورا شیڈول بنا کر بتا دیا

“!اچھا”

سحر کا چلتا منہ  ڈھیلا سا ہو گیا مگر سلمان کو اسکی کسی تیزی یا سستی سے غرض نہ تھی۔”

اچھے خاصے ہوتے ہیں تیس ہزار اور وہ بھی”

آدھے دن کے.دفتر اچھا ہے ،ماحول اچھا ہے اور کام

آسان ہے. تمھارے لیے بہت اچھا چانس ہے! سکول

سے تو مشکل سے پندرہ بیس ہزار ملیں گے وہ بھی سارے

“!دن کی خواری کے بعد

سلماں اپنا تبصرہ پورا کرکے ہاتھ دھونے اٹھ کھڑا ہوا.سحر پلیٹ میں لقمہ گھماتی رہ گئی۔.

کچھ کہنے کا کوی فایدہ نہ تھا.وہ اپنا وعدہ پورا کر چکا تھا۔ پچھلے سوا سال سے اس نے سحر کو اس کی مرضی پر چھوڑ تھا اب سوا سال بعد بھی اسکی کامیابی زیرو تھی. وہ کس منہ سے سلمان سے کہتی کہ مجھے کچھ اور وقت دو. میں اپنے لیے کوئی نہ کوئی بہتر روزگار ڈھونڈ لوں گی.اپنے بیٹوں کی خاطر پچھلے پانچ سال سے سحرسب کچھ چھوڑ کر گھر بیٹھی تھی.اچھی خاصی سکول کی نوکری چھوڑی تھی حالانکہ سکول اور ٹیوشن کے پیسے ملا کر اس کی ٹھیک آمدن ہو جاتی تھی مگر صرف بچوں کی خاطر اس نے ہرچیز کو ٹھوکر مار دی تھی۔ اپنی اولاد کو وہ ماں یا ساس کی زمہ داری نہیں بنانا چاہتی تھی.وہ اپنے بچوں کو پوری توجہ دینا چاہتی تھی جیسا انکا حق تھا.پانچ سال تک ایک مکمل گھریلو عورت اور دیسی ماں بنکر اس نے گھر ،میاں اور بچوں کو سنبھالا ،سسرال کی ذمہ داریاں نبھا ی تھیں.اب دونوں بیٹے سکول جانے لگے تھے تو وہ اپنی مرضی کا کیریئر بنانا چاہتی تھی.وہ اپنے عشق کو آزمانا چاہتی تھی جو وہ بابل کے گھر ہی چھوڑ آی تھی۔ .

وہ لکھنا چاہتی تھی.شادی سے پہلے اسکی ڈائریاں اور کاپیاں کہانیوں، افسانوں اورنظموں سے بھری رہتی تھیں..شادی کے بعد کی گھریلو زندگی ،سسرال اور بچوں کی ذمہ داریوں نے اسے سر کھجانےتک کی فرصت نہ دی تھی. اب دونوں بچے آگے پیچھے سکول جانے لگے تو کچھ فرصت کے لمحات ملنے لگے.اور اسے اپنے وہ الفاظ و خیالات جو وہ ہانڈی میں ڈال کر بھون دیتی  یا ڈائپر کے ساتھ پھینکتی رہی  ،کاغذ پر اتارنے کا وقت ملنے لگا.تھوڑا تھوڑا کرکے اس نے کچھ چھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھی تھیں اور انکو کچھ مشہور ڈایجسٹوں میں بھجوایاتھا . کالج کے سب دوست اور اساتذہ اس کی تحریروں کو سراہتے تھے.اردو ادب میں  وہ ٹاپ پر تھی. کالج اور یونیورسٹی میں  رسالوں کے لیے خاص طور پر اس سے فرمائیش کی جاتی۔  فنگشنز کی میزبانی کے لیے سکرپٹ اس سے لکھوایا جاتا تھا.سو دل میں یقین تھا کہ اس قابل ہوں گی اس کی لکھی  کہانیاں کہ ڈایجسٹ میں ہی چھپ سکیں کم سے کم! شروعات کے لیے تو ڈائجسٹ ایک بہترین میڈیم تھا۔ . “اب تو ڈایجسٹ رائٹرز ڈرامہ بھی لکھ رہی ہیں. سو اس فیلڈ میں مستقبل تو روشن دکھائی دیتا ہے. فی الحال پیسہ نہ بھی دیں تو کوئ بات نہیں.آہستہ آہیسآ بنے گا ناں کمائی کا زریعہ!”.اس نے سہانے مستقبل کے خوبصورت خواب دیکھے تھے.

. کوی تحریر مکمل ہو جاتی تو اس کے اندر دور دور تک سکون ہی سکون پھیل جاتا.یوں لگتا کہ سحر کی تازگی سی اتر گیی ہو روح میں.جیسے دیوار میں چنی انارکلی کی کچھ اینٹیں گر رہی ہوں اور زندگی کے رنگ دکھنے لگے ہوں..لکھنا اسکا خواب تھا،عشق اور جنون تھا.وہ لکھتی تو جی اٹھتی تھی.پانچ سال اس نے ایک مکمل گھریلو عورت بنکر کر جیا تھا. اپنے اندر اٹھلاتی، بل کھاتی لکھاری کا گلہ گھونٹتی رہی تھی مگر اب زندگی کی بنیادی شرائط پوری کرنے کے بعد وہ اپنے من مندر کی کونپلوں کو پانی دینا چاہتی تھی.خود کو کچھ وقت کچھ زندگی دینا چاہتی تھی.اسکے لیے اپنے لفظوں میں جیناہی حیات تھا۔.

” آپ مجھے صرف”

ایک سال دے دییں! جہاں میں نے اتنے سال گھر

بیٹھ کر گزارے ہیں وہاں ایک اور سال اب میرے

لیے”

سحر نے سلمان سے کہا تھا.سلمان چاہتا تھا کہ اب فارغ ہو کر وہ کوی جاب ڈھونڈے.اسکی ڈگری بھی کام آئے اور گھر میں کچھ پیسے بھی اور آییں.مہنگای روز بروز بڑھ رہی تھی گھر کا کرایہ پٹرول کی قیمتیں اور بچوں کی فیسیں ہر سال بڑھتی تھیں اور تنخواہوں میں اضافہ صفر تھا.

” مجھے یقین ہے میں ایک سال میں اپنا

آپ منوا لوں گی.”

یہ سحر نےہی کہا تھا یہی کوی سولہ ماہ پہلے. جو اب خاموشی سےپلیٹ کو گھور رہی تھی اک بےبسی کے ساتھ.

“اس سے کیا ہو گا؟”

یہ سوال سلمان نے کیا تھا.

“اگر میں اچھا لکھوں گی تو میرا ایک نام

بن جاے گا ،مجھے معاوضہ ملے گا. چلیں شروع

میں تھوڑا سہی مگر اگر ڈرامہ لکھنے لگی تو بہت

اچھے پیسے ملنے لگ جائیں گے!”

“اچھا! “

سلمان شاید تھوڑا ہنسا تھا.

“اتنے آرام سے مل جاتے ہیں ڈرامے کیا؟”

سلمان نےمزاق کیا تھا

“میں اتنا برا تو نہیں لکھتی!”

سلمان جانتا تھا وہ اچھا لکھتی ہے.اندر ہی اندر تو وہ سحر سےمتاثر تھا.اسکے لکھے چھوٹے بڑے کچھ صفحات کبھی کبھی اسکے ہاتھ لگ جاتے تھے. وہ خوبصورت الفاظی کے ساتھ بہت اچھی کہانیاں لکھتی تھی جو دو جمع دو کرنے والا اسکا دماغ سوچ بھی نہیں پاتا تھا.

“یہ میرا شوق ہے.مجھے

ایک بار اپنے خوابوں کا تعاقب کر لینے دییں.شاید کہ میں

خود کو ثابت کر سکوں!

سحر کی آواز میں منت اتر آی تھی.

“ٹھیک ہے! ……”

وہ ایک برا شوہر نہیں تھا اس نے سحر کی بات مانی تھی.بلکہ اکثر اوقات اسے ” میری رشک حنا ” کہ کرپکارتا رہا تھا .

“لیکن یہ دیکھ لو تم پر لگانے کے لیے نہ میری

جیب میں پیسہ ہے نہ دکھانے کے لیے تعلقات!”

سلمان اتناکہ کر اٹھ گیا تھا.

سحر کو خود پر یقین تھا . اسے ریفرنس کی ضرورت نہیں تھی.سحر نے راتوں کو جاگ جاگ کر کچھ افسانے لکھے اور انہیں اپنے پسندیدہ ڈایجسٹ میں بھجوایا تھا.ہفتہ دس دن میں وہ ایک افسانہ لکھ لیتی.اور اپنے پسندیدہ ڈایجسٹ میں بھجوا دیتی.اور پھر ہر مہینہ ڈایجسٹ پہلے صفحے سے آخری صفحے تک پلٹتی.خالی لسٹ دیکھ لینے سے کہاں اطمینان ہوتا. اگلے کئی ماہ کئی طرح کے ڈایجسٹ کے صفحوں پر اپنا نام ڈھونڈتی رہی جو دیکھنا نصیب نہ ہو سکا تھا.پھر وہ ڈایجسٹ الٹ پلٹ کرتی تھکنے لگی. مگر کہیں جگہ نہ ملنی تھی نہ ملی.ڈایجسٹ کے آفس سے فون ریسیو نہ ہوتا، ہوتا تو انکو علم ہی نہ ہوتا کونسی کہانی.کبھی کہانیاں گم ہو جاتی کبھی چوری ہو جاتییں.کالج یونیورسٹی میں اسکے کہانیاں سارا کیمپس پھرتی تھیں ایک سے دوسرے ہاتھ ، لڑکیاں مانگ مانگ پڑھتی تھیں. اور اب وہ لکھ لکھ کر تھک گیی تھی مگر کسی رسالے نے چھاپنے کی زحمت گوارا نہ کی تھی..

“کیا میں اتنا بیکار لکھتی ہوں؟”

اسکا دل دکھنے لگتا.کبھی کبھی تو ڈایجسٹ بالکل بیکار تحریروں سے بھرا ہوتا پر پچھلے سولہ ماہ میں اسکو کسی بیکار تحریر کی طرح بھی کہیں جگہ نصیب نہ ہو سکی تھی.تو اب وہ سلمان کو کس منہ سےانکار کرتی.اب اسے دفتر کی نوکری کرناپڑے گی. خود کو فایلوں اور کاغذوں کے ڈھیر میں دفن کرنا پڑے گا.سحرجانتی تھی وہ دوجمع دو نہیں کر سکتی.جمع، تفریق ،ڈاکومنٹس اور فایلیں اسکی ضد تھیں.وہ تو کچن اپلاینس کی گارنٹیاں رکھ کر بھول جاتی تھی کہ کہاں رکھی ہیں.شناختی کارڈ کی کاپیاں، انشورنس پالیسیاں، بچوں کے ویکیسین کارڈز ،ہر چیز کا ریکارڈ سلمان کوخودسنبھالنا پڑتا.کبھی سنبھالنا پڑا اتو گما بیٹھتی .کچھ پتا نہ چلتاکونسے کاغذات تھے کیسے تھے.وہ تو دکان میں کھڑی ہو کر 23 میں 45 جمع نہ کر پاتی تو آفس کے حساب کتاب کیسے دیکھےگی.عجیب سی پریشانی لاحق ہو گیی تھی.رات میں لاونج میں بیٹھے وہ اپنی رایٹنگ کاپی کو کھولے اسکے صفحے تکتی رہی.

“اتنی بری تحریریں تونہں تھیں کہ کوئی

پسند ہی نہ کرے.”

ایک ہی سوال اسکے اندرباہرگونجتا.وہ دیرتک لاینوں پر انگلیاں پھیرتی رہی.

“میں سی وی نہیں بناوں گی!سلمان سے

کہ دوں گی بھول گیی.اس دوران کچھ دوسرے

رسالوں میں بھی کوشش کرتی ہوں شاید ان میں

ہی چھپ جاییں.!”

لکھاری بھی پبلشر کے سامنے کتنا مجبور ہوتا ہے..اپنے الفاظ اپنا ہنر لے کر بیٹھا ہے اور خریدار کوی نہیں.سحر کیا کرتی.جب تک کوئی اسکے الفاظ قبول نہ کرتا وہ زیرو تھی.اس دنیا کا عجیب نظام ہے ہر دماغ کے آگے ایک بددماغ کھڑا یے.ہر زہین کے سامنے ایک کاروباری کھڑا ہے.اور ہر لکھاری کے سامنے ایک پبلشر.کوی چاہے جتنا بھی اعلی لکھ لے چاہے جیسے ہی ہیرے موتی پرو دے لفظوں میں مگر یہ اختیار پبلشر کا ہے کہ وہ اسے آسمان میں سجا دے یا مٹی میں رول دے.وہ بے بسی کی انتہا پر تھی مگر ابھی بھی کوئی کوشش چھوڑنے پر رضامند نہ.تھی. یہ اسکے وجود کی بقا کی جنگ تھی.اسکے اصل کی جنگ تھی.جو وہ آخری دم تک لڑنا چاہتی تھی.قلم اسکا عشق تھا اور اس عشق کو اس نےجیتنا تھا.ہر حال میں چاہے جتنا بھی وقت لگے.

“ہاں میں کسی نہ کسی طرح

سلمان کو ٹالے رکھوں گی.جب تک کوئی نہ کوئی کہانی

کہیں چھپ نہیں جاتی.دکھانے کےلیے کوی چھوٹی سی ،. کامیابی مل نہیں جاتی.”

اس نےارادہ باندھا تھا. پھر اس نے ایسا ہی کیا تھا.کئی دن تک وہ سلمان کو ٹالتی رہی تھی.کبھی سر دکھ رہا تھا، کبھی زین تنگ کر رہا تھا ،کبھی طلحہ کے ٹسٹ تھے.کئی طرح کے بہانے اس نے کئی دن تک بناے تھےاور اس دوران مزید بہت سے، چھوٹے سےچھوٹے گمنام سے گمنام رسالوں میں بھی اپنی کہانیاں بھجوائی تھیں.” کہیں تو…. کوئ تو… .”” اب کے اس نےتقریبا ہر در کھٹکایا تھا.

” سحر ہمارے پاس گھر میں کتنے

پیسے پڑے ہیں؟”

. پھر ایک دن سلمان کا آفس سے فون آیا تھا پریشان آواز کے ساتھ

” یہی کوی آٹھ ہزار! کیوں خیریت ہے؟

“بچوں کے سکول کی فیس تقریبا ڈبل ہو

گیی ہے اب مجھے 45 ہزار ایکسٹرا چاہیں اس

ماہ کی فیس جمع کروانےکے لیے.”

“45 ہزار؟ اتنےپیسے فورا کہاں سے آییں گے.؟”

سارےخرچے نکال کرمشکل سےتین چار ہزار ماہانہ بچتےتھے انکے پاس .یہ بات سحراچھی طرح جانتی تھی.اکٹھے45 ہزارکا اضافہ کیسے ہوگا.

“اب..؟”

“دیکھو اب…..یا تومانگ تانگ کراکٹھے کرنے

پڑیں گے یا پھربچوں کوکسی چھوٹے سکول میں

داخل کروانا ہوگا. “

سلمان نے فکرمند لہجے میں آخری حل بتایا تھا.شام.تک سحر کا دماغ شل ہو گیا تھا سوچ سوچ کر .اب کیا ہو گا! ایک ننگی تلوار ان دونوں کے سروں پرلٹک گیی تھی.بچوں کے لیے بہترین تعلیم ان دونوں کامشترکہ خواب تھا.

زین اور طلحہ کو انہوں نے ایک بڑے پرایویٹ سکول میں داخل کروایا تھا.وہ چھوٹے سے گھر میں رہتےتھےمگر دونوں بیٹوں کی بڑی بڑی فیسیں دیتے تھے تاکہ آنے والے کل میں انکےبچوں کے سامنے وہ مسلئے نہ آئیں جو خود ان دونوں نے قدم قدم پر دیکھے تھے.سحر اور سلمان نے سستے سرکاری سکولوں اور کالجوں کے نام کے دھکے کھاےتھے. بڑے بڑے مہنگے تعلیمی اداروں کے پڑھے لوگ پیچھے سے آتے تھے اور دنوں میں انکو پیچھے چھوڑ کر کہیں سےکہیں نکل جاتے تھے.جبکہ وہ ایک ہی جگہ پھنسے کھڑے تھے کسی ترقی کسی اضافے کے بغیر.سحر کی اٹکتی ہوی انگلش فر فر بولنے والوں کے مقابلے میں بیکار تھی اور سلمان کی سستے سرکاری کالج کی ڈگری مہنگی یونیورسٹیوں کی برانڈڈ ڈگریوں کے سامنے صفر تھی. انکی ڈگریاں انکی راہ کے پتھر تھے.انکی قابلیت اور اہلیت سے کسی کو غرض نہ تھی.انکی ڈگری کونسے ادارے کی ہے یہی سب کا سوال تھا.

“اگلی قطار سے شروع کرنے

والوں کے لیے آگے رہنا بہت آسان ہوتا ہے”

.یہ سلمان کا خیال تھا.

“ہم اپنے بچوں کو وہ ٹھوکریں

نہیں دیں گے جو ہمیں ملیں”

.یہ سحر کاخواب تھا.اسی لیے انہوں نے اب تک اپنےبچوں کی تعلیم پر کسی طرح کا سمجھوتا نہ کیا تھا.بڑے ادارے سے تعلیم،! گاڑی چھوٹی اور چاہے جتنی ہی پرانی سہی،گھر دو کمروں کا ہی بہت ہے علاقہ پرانا اور پسماندہ ہو کوی فکر نہیں.مگر تعلیم مہنگے اور بہترین سکولوں سے!….. لیکن اب یہ اکٹھے پینتالیس ہزار کا اضافہ کیسے پورا ہو گا. اب تو قربان کرنے کے لیے بھی کچھ نہیں.

سلمان بھی آج پہلے سے زیادہ تھکا اور پژمردہ آیا.، ایک دم سب کچھ الٹ پلٹ ہو گیا تھا.اس سے سستا گھر ممکن نہ تھا.اس سے سستی صرف سایکل تھی جو بچوں کو سکول بھی نہ پہنچا پاتی.. ایک ہی صورت بچی تھی اب ،سکول بدلی! اور یہی شرط کڑی تھی.

رات میں سلمان کو نیند کی گولی کے بغیر نیند نہ آئی تھی.سحر لاونج میں بیٹھی اپنی بند کاپیوں کوگھورتی رہی تھی.وہ کچھ نہ کر سکی تھی اپنے گھر اپنے بچوں کے لیے.اس نے یہ پورا سال اپنے بیکار خوابوں کے تعاقب میں ضایع کر دیا تھاجو اسکے کسی کام نہ آ سکے تھے. سلمان کے کہنے پر اس نے نوکری کی ہوتی تو آج یہ سب انکے لیے مشکل نہ ہوتا.اسے اپنے ادھورے خوابوں کی تعبیر دیکھنے کی فکر رہی تھی. کاپی کی جلد پرہاتھ پھیرتے پھیرتے انہیں چھوڑ کر سحر کمپیوٹر پر آ بیٹھی تھی.کاپی صوفے پر ٹیڑھی میڑھی پڑی رہ گیی تھی. سحر نے ایم ایس ورڈ کھول کر اپنی سی وی کھولی تھی.اسکی زندگی کو بنجر خوابوں کی اور ضرورت نہ تھی.اسکی مٹھی کے سارے سکے کھوٹے تھے جنکی کاروبار زندگی میں قیمت صفر تھی.سحر نے سی وی کو مکمل کرنا شروع کر دیا . کل اسے ہر حال میں یہ سلمان کو دینا تھی.!

………… ……………..

تحریر: صوفیہ کاشف

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements