رانی____________ڈاکٹر ریحانہ نظیر (مترجم:سدرتہ المنتہیٰ جیلانی)

——-

رانی نے مایوسی اور نراسائی سے اپنے چند سالہ بیمار بیٹے پر اک نظر ڈالی اور تهکی ہوئی سانس بهرکر اسے خود سے قریب کرتے ہوئے تسلی دینے لگی کہ جلدی لوٹ آئوں گی

لیکن بچے کی وہی ضد تهی کہ کل چلی جانا ماں.

پر آج نہ جا..دیکهہ اماں..آج کتنا بخار ہے مجهے..تپ رہا ہوں..

اگر الٹی آگئی تو کون مجهے پانی دے گا

کون پوچهے گا

ماں کا دل پگهل گیا.بچے کو سینے سے بهینچ کر اپنی آنکهوں کی نمی چهپالی تهی

بخار میں بچہ تڑپ رہا تها

وہ کیسے چهوڑکر جاتی..ماں تهی

یہ سوچ ہی ماں کا دل پگهلانے کے لئیے کافی تهی کہ وہ ایک ماں ہے

اور کچهہ دیر کے لئے بچے کی دلجوئی کرتے ہوئے یہ بهلا بیٹهی کہ ماں ہونے کے علاوہ وہ کسی گهر کی ملازمہ بهی ہے

وقت کی تیزی سے رینگتی ہوئی سوئیوں پر نظر پڑی تو کل کا طے شدہ وقت اس کہ سر پر تلوار بن کر لٹکنے لگا

بیگم صاحبہ کی سخت تنبیہہ یاد آئی جب اس نے رانی کے سامنے چند مہمانوں کو فون کرکے مدعو کیا تها اور پهر اسے سخت تاکید کی کہ کل بہت کچهہ پکنا ہے اس لئیے وقت پر پہنچ جانا

ورنہ پهر خود ہی سوچنا..بقئیہ تنخواہ سے کٹوتی ہوگی

اور پیسے کٹنے کے خیال نے ہی اسے پریشان کردیا تها کہ آدهی تنخواہ تو ویسے ہی اس کی کٹتی تهی اک قرضے میں جو بیٹی کی شادی کے لئے اس نے بیگم صاحبہ کی منتیں کرکے پیسے ادهار لئیے تهے

اب وہ ماہانہ اس کی تنخواہ میں سے کاٹے جاتے تهے

مزید کٹنے کی گنجائش نہ تهی

کجا کہ اب پیسے کٹتے تو وہ بچے کے لئیے کهانے اور دوا کا انتظام کیسے کرپاتی

اس خیال نے ہی اسے چوکنا کردیا

بچے کا آرام سے تکئیے پر سر رکهہ کر اسے نیچے لیٹایا تو وہ بے قراری سے آنکهیں کهول کر دیکهنے لگا

کیا ہوا اماں..

بچے کے لہجے میں خدشہ تها

میرے پیارے بیٹے..میرے شہزادے..دیکهو..آج بیگم صاحبہ کے گهر دعوت ہے میں نہ گئی تو کون انتظام کرے گا بچے..بیگم.صاحبہ کتنی خفا ہونگی..

مگر بچہ ماں کی ایک سننے کو تیار نہ تها

بڑی مشکل سے اچهے اچهے کهانے لانے کا لالچ دے کر وہ گهر سے نکلی تهی

چل اماں..تو جا..پر میرے لئیے کهانا لانا..

مچهلی بهی لانا سالن والی..

ہاں..چاول بهی .

دیکهہ اماں تجهے تو پتہ ہے میں نے صبح سے کچهہ نہیں کهایا..

تجهے پتہ ہے نا اماں.

ہاں میرے بچے تیرے لئیے ہی تو جارہی ہوں..تیرے لئیے کهانا لائوں گی..

ماں نے نم آنکهوں کے گوشے صاف کرتے ہوئے بچے کو پیار دیا دوا پلاکر لیٹایا

اور چادر اوڑهہ کر باہر نکل آئی

کچهہ بچے اسکولوں سے لوٹ رہے تهے تو کچهہ کهیل رہے تهے گلی میں..

وہ اک نظر بچوں پر ڈالتی.

گلی کے کچرے کو پار کرتی..ناک ڈهاپنتی ہوئی..

سانس روکے سڑک تک آئی..

گهڑی کی سوئیاں اسے پتہ تها تیزی سے سرک رہی ہونگی

ساتهہ ہی اسے دهڑکا لگا ہوا تها

کیونکہ سڑک پر اکا دکا گاڑی تیزی سے گزرجاتی تهی

اور دیر سے پہنچنے پر ڈانٹ کهانے کے خوف نے ہی اس کی آدهی توانائی ختم کرلی تهی تو آدهی دهوپ کے جلتے الائو جب کرنیں پهینکتے تو وہ نڈهال سی ہوجاتی تهی

چکر آنے پر کون سہارا دیتا یہ سوچ کر ہی خود کو حوصلہ دیتے ہوئے کتنی دیر کهڑی رہی اور اس کے بعد دور سے نظر آتی بس نے جیسے اس کے اندر جان ڈال دی

جس کا کنڈیکٹر دروازے سے لگا وہیں سے ڈبل ہی ڈبل کی آوازیں لگاتا ہوا مزید فکر میں مبتلا کرتا تها جیبوں کو..

پہلے بهی ایک بس گزرگئی تهی اور دوبارہ سواری کهونے کے ڈر سے اس نے پہلے ہی اشارہ کردیا تها

وہ آج ڈبل ادا کرکے بس میں سوار ہوئی تهی

گاڑی جیسے جیسے آگے بڑهتی تهی وہ تسلی کے سانس لیتی کہ بس نہیں لگ رہا تها اڑکر بیگم صاحبہ کے گهر پہنچ جائے

..

گهر پہنچنے پر ڈانٹ تو لازم و ملزوم تهی

جو اس کا مقدر بهی بن گئی تهی اور یہ دهمکی کہ قرضہ ادا ہونے کے بعد وہ اسے نکال دے گی یہ طعنہ بهی زندگی کا حصہ ہی بن گیا تها

یہ لٹکی ہوئی زندگی وہ کب سے گزار رہی تهی اسے یاد بهی نہ تها

شاید تب سے جب سے اس کے باپ نے اسے جوے میں ہارا تها

اور اس کا نصیب خود سے کئی سال بڑے عمر رسیدہ نشئی کے ساتهہ جڑ گیا

جو تین بچوں کا تحفہ دیکر خود تو کهانس کر بیماری بهگت کر اس دنیا سے فرار ہوگیا

اس پر دوہری ذمہ داری کا بار ڈال گیا.

بیٹی کی چهوٹی عمر میں ہی اس لئیے شادی کرادی کہ دوسرے گهر جاکر وہ کہیں سکهہ کا سانس لے

اور ادهر اس پر سال ہونے کو آیا تها مگر قرضہ اترنے کا نام نہیں لے رہا تها

اس رات اسے یاد تها وہ بہت روئی تهی جب

بڑے بیٹے کو سیٹهہ کے بنگلے پر چهوڑدیا کہ وہ چار پیسے کمابهی لے گا اور ایک وقت کی روٹی تو اچهی کها ہی لے گا

مگر رات تمام کروٹیں بدلتی رہ جاتی کہ جانے پنهوں کے ساتهہ کیسا سلوک ہوتا ہوگا

کس قسم کے کام.کرواتے ہونگے اس سے اللہ جانے وہ کیا سوچتا ہوگا

رات کو جب پنهوں کی ٹوٹی ہوئی چارپائی خالی دیکهتی تو کلیجہ تهام لیتی

آہستہ آہستہ اس نے دل پکا کرلئیا

پنهوں نے بهی زندگی سے سمجهوتہ کرلیا تها

اور اب کم کم ماں کو یاد کرنے لگا تها

اس کی نظر کے سامنے بس ایک راجو تها جسے اس نے خود سے لگاکر رکها ہوا تها

وہ اس کے لئیے جی رہی تهی

اور خود اسی دهن میں کام کرتی گئی کہ زندگی کی گاڑی کو کسی طور گهسیٹنا تو ہے

پهر جب قرض اترجائے گا تو وہ اپنے چهوٹے بیٹے کو اسکول میں داخل کرائے گی اور پنهوں کو بهی گهر لے آئے گی

اور اس کا خواب ضرور ایک روز پورا ہوگا کہ اس کے بیٹے پڑهہ لکهہ کر بڑے افسر نہ سہی مگر برسر روزگار تو بن ہی جائیں

روز کی طرح تمام سوچیں سوچتی وہ بیگم صاحبہ کی ڈانٹ روزانہ کی خوراک کی طرح ہضم کرگئی اور جب

بیگم صاحبہ نے مخصوص ڈانٹ ڈپٹ پهٹکار کے بعد اسے سخت لہجے میں آرڈر دیا تو وہ سر جهکائے کچن کی طرف آئی

چادر اتارکر رکهی اور سب سے پہلے سبزیان نکال کر صاف کرنے لگی

پهر چاول صاف کئیے آٹا گوندها

کڑهائی چڑهائی

مچهلی کو مسالہ ڈال کر دہی میں بهگوکر رکها

پیچهے مہمان آچکے تهے

بیگم صاحبہ کی کرخت پکار پر وہ دوڑی کولڈ ڈرنک لے گئی

اور پهر خالی گلاس لکر کچن میں آئی اور کهانا پکانے لگی

تب تک بیگم صاحبہ کے بچے بهی اسکول سے آگئے تهے

ان کو منہ دهلوایا

کپڑے چینج کروائے

اور ان کا کهانا ان کے کمرے میں دیکر مہمانوں کے لئیے کهانا رکهنے لگی

تب تک اس کے گهر میں گهڑی کی سوئیوں کے ساتهہ بھوک کے مارے اس کے بچے کی بے بسی لمحہ بہ لمحہ بڑهتی گئی تهی

دوسری طرف وہ بے بس بنی انتظار کی سولی پر لٹکی ہوئی تهی کہ کب وہ گهر جائے گی

اور کب اپنے چاند کو روٹی کهلائے گی

اس کی بھوک کا احساس ہی اسے بے چین کرنے کے لئیے کافی تها

بیگمات کے درمیان ماسیوں کی مکاری اور چالاکی کا موضوع زیر بحث تها

وہ کهانا لگاکہ انہیں بلانے آئی تو کچهہ لمحے یہ روداد سنتی رہی پهر کهنکار کر گستاخی کی تو بیگم صاحبہ کی گهوری نے سوالئیہ نظروں سے دیکها

اور اس نے کهانا لگ جانے کا بتایا

سہیلیاں چہکتی ہوئیں ڈائننگ میز کی طرف آئیں

وہ باورچی خانے میں بیٹهہ کر انتظار کرنے لگی تب تک بقیہ کام سمیٹے

اندر سے ایک خاتون کی آواز آئی کہ

واہ نیلو’ تمہاری ماسی تو یار بہت اچها پکاتی ہے

کیا ہی مچهلی فرائی کی ہے

میں تو کہتی ہوں جب اسے فارغ کرو تو میرے پاس بهیج دینا

میں تو اچها کهانے کے لئیے ترس گئی ہوں

کیا کروں ماسی اتنی نا اہل ہے

دوسری نے بهی نیلو بیگم کی خوش بختی کی تائید کی کہ اسے ایک اچهی ماسی ملی ہے

کام کرنے والی جو پورا گهر سمیٹتی ہے

بچوں کا دهیان رکهتی ہے اور کهانا بهی اچها پکالیتی ہے

رانی ساری باتوں سے بیزار بس اسی انتظار میں کہ کب بچا کهچا کهانا وہ گهر لے جائے گی

بھوک سے الگ برا حال تها

درد اور تهکن سے نڈهال ہوئی جاتی تهی

بچوں کے برتن لے آئی

صاحب شام میں گهر لوٹتا تها

اس گهر میں ایک صاحب ہی تهے جو کبهی اس کا احساس کرلیا کرتے تهے اور بے وجہ اسے آواز نہ دیتے تهے

اسے یاد تها ایک روز بچوں نے اپنے باپ سے سوال کیا کہ بابا رانیاں تو بڑے بڑے محلوں میں رہتی ہیں

اور اچهے اچهے کپڑے پہنتی ہیں مگر ہماری رانی ایسی کیوں ہے کہ کپڑے بهی اتنے برے ہیں اس کے اور دکهتی بهی اتنی بری ہے

تب صاحب نے اس کے سامنے بچوں کو کچهہ نہیں کہا تها

مگر رانی کے کهسکتے ہی اس نے افسوس سے کہا تها یہ بهی رانی ہی ہے بیٹا مگر یہ غریبوں کی رانی ہے.

اس کا بیٹا تعجب میں پڑگیا کہ غریبوں کی رانی کا تو ہم نے کبهی نہیں پڑها اسٹوری بک میں

آخر وہ کہاں رہتی ہے

بیٹی بهی چپ ہوگئی

انہوں نے بچوں کو بتایا کہ غریبوں کی رانی غریب محلے میں رہتی ہے

جہاں کی گلیاں..کونے گهر..بچے.. کهانے ہوٹلیں سب غریب ہوتے ہیں بیٹا..

بس عام سے..

بس سادہ سے

بیٹا افسردہ ہوگیا بیٹی سوچ میں پڑگئی

غریبوں کے گهر،دوکانیں،ہوٹلیں،بچے…وہ اور بهی نام یاد کرنے لگی جب باپ نے توجہ بانٹنے کے لئے موضوع بدل دیا تها

اور کچهہ دیر میں بچے چہکتے مہکتے باتیں کرتے سوگئے

اور رانی کام کاج ختم.کرکے اداس دل کے ساتهہ گهر کی طرف ہولی جہاں پر غریبوں کے گهر ،ہوٹلیں.،دوکانیں،دواخانے..

دوا پر اسے یاد آیا کہ راجو کے لئیے دوائی بهی تو لینی ہے

اس کے بخار کا سیرپ ختم ہوگیا ہے

اور تب ہی بلاوہ آیا اور رانی برتن سمیٹنے لگی نیلو میڈم.کی پکار پر

اور برتن سمیٹنے میں ہی کتنے چکر اس کے کچن سے ٹیبل ،ٹیبل سے کچن تک کہ لگے تهے

اور جب سارے برتنوں سے بچا کهچا کهانا سمیٹ کر ایک برتن میں ڈالا اور کهانے لگی ابهی دوسرا نوالہ لیا تها کہ بیٹے کا خیال آگیا اور نوالہ اٹکنے لگا تها

سارا بچا کهچا مکس پلیٹ کهانا اس نے تهیلی میں ڈالا اور بند کرکے رکهہ دی

جب تک برتن دهونے لگی

برتن دهوکر اجازت لینے آئی تو ہچکچا کر عرضی ڈال ہی دی کہ میڈم بچہ بیمار ہے اگر کچهہ پیسے مل جاتے تو..دوا لے لیتی.

میڈم نے نخوت سے انکار کردیا یہ کہہ کر کہ ابهی میرے پاس کهلے پیسے نہیں ہیں

ویسے بهی تمہارا بیٹا کبهی ٹهیک بهی ہوتا ہے؟

حد ہوگئی پہلے قرضے اترگئے جو مزید پیسے چاہئیں

نیلو نے مہمانوں کے سامنے رانی کے قرضے اور اپنی سخاوت کے چرچے بلند کئیے جو ایک رٹو طوطے کی طرح ہی اسے یاد تهے

رانی نم.آنکهوں سے دروازے سے نکلنے لگی تو ایک خاتون کو رحم آگیا اس کی حالت دیکهہ کر اور اس نے ایک پچاس کا نوٹ نکال کر رانی کی طرف بڑهایا ہی تها کہ نیلو بیگم نے یہ کہہ کر روک دیا کہ ان غریبوں کو تو ڈرامے چاهئیں..روز کوئی ایک بہانہ لگاکر یہ ہمدردیاں بٹورتے رہتے ہیں

کوئی نئی بات نہیں ہے یہ

اور رانی کا پیسوں کی طرف بڑهتا ہوا ہاتهہ فوری طور پر رک گیا

اور بچا کهچا کهانا لیکر آنسو پونچهتی وہ گهر سے سڑک تک آئی

اور بس کا انتظار کرنے لگی یہی کوئی عصر کا وقت تها

راجو کی فکر نے اسے دوہرا کردیا تها

دوا نہ سہی ہوسکتا ہے کهانا دیکهہ کر ہی وہ بحال ہوجاتا..

یہ آس لیکر وہ کتنی دیر تک کهڑی رہی

مغرب ہونے کو آئی تهی جب وہ گهر کی نزدیکی سڑک تک پہنچی تهی

تیز تیز قدم اٹهاتی ہوئی سڑک پار کرتی گهر کی دہلیز تک آئی تو بیٹے کی آواز نے اس کی جان میں جان ڈال دی تهی جو کهانے کے لئے کب سے انتظار میں بخار میں دہک بهی رہا تها پر اسے دیکهہ کر لپٹ گیا تها

اماں کهانا..میرا کهانا..

میرا بچہ..لائی ہوں کهانا میری جان..اس نے تهیلی ایک پلیٹ میں الٹ دی

بچہ بے تابی سے نوالے ایسے لینے لگا جیسے ابهی اس سے نوالہ چهین لئیا جائے گا

یا پهر پلیٹ سے کهانا غائب ہوجائے گا

اس نے نم آنکهوں سے تسلی سے بچے کو دیکها اور پانی لینے کے لئیے باہر صحن میں کٹورا لیکر گئئ دو گلاس پانی کے چڑهاکر بچے کے لئیے کٹورا بهر کر آئی

وہ دوسروں کا بچا ہوا کهانا کس بے قراری سے کهائے جارہا تها.یہ سوچ کر اس کی آنکهیں بهر آئیں

اور اپنے آنسو اپنے بیٹے سے چهپانے کے لئیے جب وہ کوٹهڑی سے نکل کر باہر صحن میں آئی اور دروازے سے لگ کر کهڑی ہوئی تو بیگم صاحبہ کی باتیں ضمیر پر ہتهوڑے برسانے لگیں.

یہ ماسیاں..ان کو تو بس ہر آئے روز ایک نیا ڈرامہ.

وہ اٹک گئی..رک گئی..

بچا ہوا کهانا..

بچے کی بھوک..بخار کی شدت..

دل پهٹنے کو آرہا تها.

کہ اچانک پڑوس والی فرزانہ جو عموماً نظر داری کے لئے اور بچے کو دیکهنے اس کے گهر آجایا کرتی تهی

دونوں کے کچے کوٹهوں کی چهوٹی سی چند قطاروں کی دیوار تک ملی ہوئی تهی

اچانک اس کی چیخوں کی آواز نے اسے ہلادیا

وہ صحن سے ہانپتی ہوئی اس طرف آئی تو فرزانہ منہ پر ہاتهہ رکهے دم بخود کهڑی تهی اس کی کوٹهری کے دروازے کے بیچوں بیچ

اور پانی کا کٹورہ گرکر بہہ گیا تها

کهانے کے نوالے بکهرے تهے ..منتشر چاول کچے فرش پر بکهر گئے

اور راجو کی لٹکی ہوئی گردن کو تیزی سے اوپر اٹهایا تو چهوٹے چهوٹے نوالوں کی دیوار منہ میں ہی رہ گئی تهی

آنکهیں کهلی تهیں اور جسم جو کچهہ دیر پہلے تپ رہا تها اب ٹهنڈا پڑچکا تها وہ بے ساختہ بچے کو اٹهاکر روڈ تک گئی ہسپتال کے لئے فرزانہ اس کے پیچهے پیچهے

اور وہ بے دوم بچے کے جسم میں روح پهونکنے کے جتن کرتی بچے کو آوازیں دیتی بولتئ روتی دوڑتی ہوئی پکی سڑک تک بهی پہنچی.

پیچهے ایک مجمعہ تها

آدمی آگے بڑهے

رانی رونے لگی تهی بچے کو جهنجهوڑنے لگی تهی بیچ سڑک تماشا تها

رانی کا چاند چپ تها

آسمان پر چاند پورا تها اس رات

رانی کی گود میں مگر ڈهلکا ہوا

رانی کی چیخوں نے آسمان ہلادیا

عورتوں نے اسے سنبهالا مرد بچے کی لاش کو کندهے پر اٹهائے اسی گهر کے کچے صحن میں لائے

بچے کی لاش کو چارپائی کے حوالے کیا

اور رانی کا سر گهٹنوں میں..سسکیاں تهکی ہوئیں.

بے دم سی.

کون کہتا کہ اب رانی زندہ رہ پائے گئ..

کس نے سوچا تها

رانی تو اپنے چاند راجو کے ساتهہ ہی مرگئی تهی

اور یہ سچ بهی تها

اس نے سوچا اب کون مجهہ سے کهانا مانگے گا..

اب کون میرے لوٹنے کا انتظار کرے گا..

کس کو اسکول پڑهانے کے خواب دیکهوں گی..

پنهوں آیا اور لوٹ گیا

بچی آئی اور گهر واپس چلی گئی

پڑوسیوں کا ہجوم چهٹا..

گهر تنہا اکیلا ویران صحن بهائیں بهائیں کرتا ہوا..

پاس کچهہ نہ تها

نہ کوئی آسرا مگر بس ایک فکر زندہ تهی

زندگی کی سنگ دلی میں بس ایک فکر زندہ تهی اور وہ یہ کہ بیگم صاحبہ کا قرض ابهی بهی رہتا تها

کچهہ دن بعد سڑک پر ویران چہرہ لئے ناامیدی آنکهوں میں سموئے ہوئے بس کا انتظار کرتی ہوئی غریبوں کی رانی اسی جگہ کهڑی نظر آئی

جہاں سے اس کا مقدر چلا تها۔

_____________

تحریر:ڈاکٹر ریحانہ نظیر

مترجم: سدرتہ المنتہیٰ

Advertisements