سپر منی کی ڈائری____________بریرہ صدیقی

۱۰ اکتوبر: ایک کنھدے پے بھاری بھرکم بےبی بیگ، ساتھ میں میں اور پھر میری وہی جیکٹ جو مجھے بہت ناپسند ہے۔ سوچا تھا اس سے تو جان چھوٹ جائے گی لیکن وہی پہنا کر مجھے تیار کیا گیا۔ صبح سویرے سفر پے نکلنے سے پہلے

اماں مجھے جائے نماز پے قریب لٹا کر اونچی آواز سے کچھ پڑھتی رہیں، مجھے لگا مجھ سے گفتگو ہو رہی ہے۔ میں نے خوب جواب دیے۔ بعد میں پتہ لگا یہ گفتگو اللہ تعالے سے کی جارہی تھی۔ یہاں ایئر پورٹ پہنچ کر قطار میں لگ کر انتظار کرتے رہے۔ دنیا اتنی بڑی سی ہے اور اتنی رنگا

رنگ۔ میری آنکھیں پھیلتی جا رہی ہیں۔ سفر شروع ہوا۔ امی دم درود پڑھتی رہیں۔ جب مجھے ایسا لگا کہ سفر میں کافی عرصہ بیت گیا اور یوں گود میں رہ کر تھکنے لگی تو مما نے پاس سے گزرتی ائیر ہوسٹس آنٹی کو بلایا اور ان سےچھوٹا بیڈ طلب کیا۔ وہ مجھے کچھ دیر غور سے دیکھنے

کے بعد بولیں، ” بیڈز تو صرف چار ماہ تک کے بچوں کے لیے ہیں” مگر یہ ابھی چار ماہ کی پوری نہیں ہوئی اماں بولیں۔ عمر کے اضافے کی گستاخی کرنے پر میں نے ذرا بھنویں سکیڑ کر آنٹی صاحبہ کو کہا بھئی میری اماں بننے کی کوشش نہ کریں۔ ذرا جلدی سی بیڈ لائیں تاکہ میں ٹانگیں

سیدھی کر سکوں۔ اتنے میں ایک اور ایئر ہوسٹس بھی آ پہنچی اور میری باتوں کو سن کر کہنے لگی۔ لائیں آپ دونوں کافی تھک چکی ہیں اسےکچھ دیر مجھے دے دیں۔ تھوڑی دیر ادھر ادھر لے کر چلتی پھرتی رہیں اور پھر اماں کو واپس تھمایا اور جلد ہی ایک ننھے سے بیڈ کے ساتھ حاضر ہوئیں۔

سیٹ کے پیچھے لگے بیڈ پے سکون سے پھیل کر ٹانگ پے ٹانگ رکھے آتے جاتے پہلے والی آنٹی کو فاتحانہ vدکھاتی رہی۔

یہ جو دھواں دھواں ، مٹی مٹی فضا اور یہ جو ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ہیں، سب کچھ اپنا اپنا سا، ارے یہی تو ہے نا میرا اپنا پیاراگھر۔ اور یہاں جو دادا اور دادی اور نانا اور نانی اور ان سے جڑے بے شمار رشتے ہیں ان ناموں کو تو میں ابھی ٹھیک سے یاد بھی نہیں کرسکی۔ اور وہ

جوائیر پورٹ پر میرے ننھے سے کزنز بھی گلدستے تھامےنانا ابو کی نمائندگی کرتے موجود تھے۔ یہاں آکر معلوم ہوا ہے کہ میری ناک کسی پر ہے اور آنکھیں کسی پر۔ یوں ہی بائی پارٹس میری ہر چیز کسی نہ کسی پر گئی ہے۔ اور سر۔ وہ تو بنایا ہی نہیں۔ یہ سر ایسی کیا چیز تھی جسے

بنانا تھا اور بنایا نہیں گیا اور کیا میں کچھ اپنا بھی لے کر آئی ہوں یا سب کسی نہ کسی کا ہے۔ لوگوں کی پہچان کے میں نے اپنے پیمانے رکھ لیے ہیں۔ داڑھی والا چہرہ، عینک والے انکل، چھوٹی سی گود جس میں میں آدھی لٹکی رہتی ہوں، خوب اوپر اچھالنے والے انکل اور بڑی سی

نرم گود والی آنٹی جن کے پاس جاتے ہی میں لازمی سو جاتی ہوں۔

کچھ دنوں کی ہلکی ہلکی سی پیٹ درد کی تکلیف میں شدت آنے لگی ہے اور دانت نکنے کی تکلیف ہے۔ پھر بھی اتنے سارے لوگوں کی وجہ سے کوشش کرتی ہوں زیادہ شور شرابہ نہ ہو۔ دانتوں کے لیے تو دادی اماں نے ناریل کی گری کی ایک قاش دینے کو کہا۔ اور کبھی کجھور کا ٹکڑا پکڑا دیتی

ہیں۔میں مما کی شکایت لگانا چاہتی تھی کہ مجھے وہاں کیا ملتا تھا۔ اس سے کم ازکم یہ ہوا کہ مجھے کسی پلاسٹک کو چبانا نہیں پڑتا۔ بس ذرا رالیں بہتی رہتی ہیں۔ یہاں رمضان شروع ہوا تو پتہ چلا ہے کیسے مل کر افطاری کی جاتی ہے اور کس قدر رونق اور مل بیٹھنے کے مواقع مل

جاتے ہیں۔ دادا ابو کو میرے ڈائپرز پے کئی تحفظات ہیں۔ اماں سے کہ رہے تھے آزاد کر دو بھئی بچے کو، لگتا ہے میں صبح سے واش روم ہی نہیں گیا۔ دادی اماں کے کہنے پر دھوپ نکلتی ہے تو مجھے تیل میں خوب نہلایا جاتا ہے، پانی میں نہانے سے پہلے۔ میں سب کام مزے سے کرواتی

ہوں۔

دسمبر: اوریہاں ننھیال میں ماموں نے جو میرے جھولے کا شوق پورا کیا۔ خوشی سے اس قدر رال ٹپکنے لگتی ہے کہ کیا بتاوں۔ اور خالہ نے بڑی سی گڑیا دلا دی ہے جس کے بال نوچ نوچ کے خوب مزاآتا ہے۔ میں یہاں آکر اتنے لاڈ اٹھوا کے ہوشیار ہوگئی ہوں۔ بیٹھنا بھی سیکھ چکی ہوں اور

لیٹ کے خوشی سے ہاتھ پاوں چلاوں تو اماں کہتی ہیں میں پھڑپھڑاتی ہوں۔ خیر اماں سے تو اب ملاقات ہی صرف اس وقت ہوتی ہے جب کوئی کام ہو ورنہ میں باقی سب کے ساتھ زیادہ خوش رہتی ہوں۔

جنوری:

اتنا سارا وقت بیت گیا اور میری واپسی قریب ہے۔ میری طبیعت اچھی نہیں رہتی لیکن موڈ تب بھی خوشگوار رہتا ہے۔ آس پاس اتنے سارے خیال رکھنے والے ہوں تو بیمار رہنے کا دل بھی نہیں کرتا۔ ہر کسی کی چھیڑ چھاڑ کا جواب دیتے دیتے اب خود بھی جس کے پاس جانے کا من ہو اسے اشارے

سے بلا کے بازو خوب پھیلا لیتی ہوں۔

اچانک بڑھ جانے والی سردی کی وجہ سے سینہ کھڑ کھڑ کرنے لگا ہے۔ جانے سفر کیسے ہوگا واپسی کا!

_________________4

تحریر:بریرہ صدیقی

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements