آخری خط________سدرتہ المنتہیٰ

تم نے لکھا ہے

آج شب کے سینے پر میں نے آنکھیں اگادی ہیں

اب تم اندھیرے میں اپنے نقش کھوجنا

میرے گھر سے تمہیں محبت کے کئی راز ملیں گے!

تمہارے سارے خط میرے پاس محفوظ ہیں

تم نے لکھا ہے

تم میرے نصیب کی کالی رات ہو

جسے میں روشنی کا سبق بتائوں گی!

میں تمہیں بتائوں گی کہ اندھیرا کیسے جیا کرتا ہے

میں تمہیں بتائوں گی روشنی اندھیروں سے کیسے پھوٹتی ہے!

میں تمہیں بتائوں گی کہ رات سے کھیلنے کی سزا موت ہے!

میں تمہیں بتائوں گی

تم میرے نصیب کی کالی رات ہو!

میں تمہارے اس جملے پر پھوٹ پھوٹ کر رویا ہوں

تم نے لکھا ہے!

میں نے اندھیرے کے چہرے سے ہمدردی لوٹی ہے

میں نے اندھیرے کی دستک کا جواب دیا ہے

میں نے اندھیرے کی آنکھ سے روشنی کا قطرہ تحفے کے طور پر لیا ہے

میں تمہیں بتائوں گی روشنی کیا ہوتی ہے

تم نے لکھا ہے کہ۔۔

آج کے بعد

کھیلنے کی باری میری ہے!

میں نے سب پڑھا ہے

میں ساری رات سو نہیں سکا

میں ساری رات رویا ہوں۔۔

مجھے تمہارا حرف حرف یاد ہے

مگر کاش اے کاش

تم بس ایک جملہ نہ لکھتیں۔۔

تم یہ سب کچھ کہہ دو

بس اتنا سا واپس لے لو

بس ایک جملہ عبارت سے مجھے ضایع کرنے دو

تم نے کہا ہے

تم محبت کے بہروپ ہو

مجھے یہ قبول ہے

تم نے لکھا ہے

میں تمہارے مقدر کی کالی رات ہوں

مجھے یہ قبول ہے

تم نے بتایا ہے کہ سورج تم سے ملنے آیا ہے

تم نے بتایا ہے کہ دھرتی نے تمہارے گہنے سنبھال رکھے ہیں

تم نے بتایا ہے کہ تم موت کی بازی سے کھیلی ہو

تم نے بتایا ہے کہ زندگی کڑوی ہے

ساری حقیقتیں اپنی جگہ پر زندہ ہیں

کاش مگر تم یہ نہ لکھتیں کہ ۔۔

میں تم سے جنت میں گزاری گئی آخری رات کا حساب لوں گی!

********

شاعرہ:سدرتہ المنتہیٰ

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف