“کیموفلاژ گودر “___________ از ثروت نجیب ( افغانستان)

گودر پہ وہ اسے دیکھتے ہی ٹھٹھک گئی ـ

اور بڑبڑائی

“ایک خارجی اجبنی یہاں کیسے؟

لگتا ہے موت کھینچ لائی ہے ”

افسوس ـــ ـ ـ ـ ـ

اس نے خود ایک افسوس ناک لمحے میں آنکھ کھولی ـ جب سے پیدا ہوئی قتل و غارت کے مہلک سائے چھٹنے کے بجائے گہرے ہوتے گئے ـ

وہ اکثر سوسن کی کلیوں کو دیکھ کر سوچتی زندگی کانچ سے ذیادہ نازک اور گلوں سے بڑھ کر نفیس ہوتی ہے ـ اِسے آہن و بارود کی بھینٹ چڑھانے والے جنگی دیوتاؤں کے پجاری نجانے کب مفاد پرستی کے آلاو بجھا کر توبہ تائب ہوں ـ

ظالمو کو کیا نہیں خبر؟

ان کی ندامت کے چند اشکوں سے شور زمینیں پھر سے آباد ہو جائیں گی ـ

جھلسے درختوں پہ بہار آئے گی ـ ٹیلے اپنے ریزے سمیٹ کر کہسار بنیں گے ـ

اُس خارجی اجنبی نے اس کے دماغ میں اتھل پتھل مچا دی تھی ـ

جو خود اب موت سے سہما بیٹھا تھا ـ

زرلختہ نے پانی کے گھڑے کو لب دریا اتارا ـ لبالب بھرتے ہی جھٹکے سے گھڑا اٹھاہا اورکولہے پہ رکھ کے جس سمت سے آئی اسی طرف لوٹ گئی ـ

وہ لگ بھگ پندرہ سال کی تھی ـ ماتھے کے عین وسط میں تازہ کھدے تین خال جیومیڑی کا حسن بیان کر رہے تھے ـ مہین ہونٹوں پہ بلا کی سرخی شربتی آنکھوں کے کناروں سے باہر نکلا ہوا چمکتا کاجل ‘ ـ پنڈلیوں تک گھیرے دار فراک جس کی پیٹی پہ سیپیاں اور سکے جڑے تھے ـ کتان کا کاسنی دوپٹہ جس کے کنگروں پہ موتی لٹک رہے تھے ـ مہندی سے رنگے پیروں میں چمڑے کے چپل جو گِھس گِھس کے اب قدرے بوسیدہ ہو چکے تھے ـ وہ اسے دیکھ کر بغیر کسی تاثر کے پلو سے منہ چھپائے پلٹ گئی ـ

وہ دو دنوں سے دریا کے کنارے ایک سرمئی پتھر کے پیچھے چھپا ہوا تھا ـ بارودی سرنگ کے پھٹنے سے تباہ حال جیپ کا خوفناک منظر اس کے اعصاب پہ ابھی تک سوار تھا ـ اگر وہ دنبوں کے ریوڑ کو ہانکنے کے لیے جیپ سے نہ نکلتا تو وہ بھی فنا ہو جاتا ـ بھاری جثہ ‘ سرخی مائل رنگت ‘ گھنے بال جسے ربر سے باندھ کے جوڑا بنایا ہوا تھا چوڑے کندھے جبکہ بایاں کندھا ڈی ایس ایل آر کیمرے کا بوجھ ڈھوتے ڈھوتے اب مستقل طور پہ ایک جانب جھک چکا تھا ـ اس کا مزاج حلیم وہ گم گو اور متین تھا ـ اسے شروع سے جنگی عکس بندی کا شوقین تھا ـ نیوز چیینل کے ہیڈ کواٹر میں بیٹھ کر افواہوں کو ہوا دینے والوں سے قدرے مختلف ‘خود ہی سچ تلاشتے گھمسان کے رن میں کود پڑا ـ

جب اس نے افغانستان آنے کا فیصلہ کیا تو سبھی چونک گئے ـ بیوی کے چہرے صاف لکھا تھا یعنی موت کے کنویں چلہ معکوس کاٹنے جا رہے ہو ؟

دوستوں کا خیال تھا

‘ شیر کے پنجرے میں نہتا ؟

پر تب تک وہ فیصلہ بھی کر چکا تھا اور تیاری بھی ـ

کئی بار خود کو کوسا کہ یہاں آ کر مرگ کو مہمان نوازی کی دعوت دے بیٹھاـ بارھا خود کو سراہا یہاں آ کر جیون کی قدر ہوئی ـ افغانستان تو امیزون کے گھنے جنگل سے ذیادہ گمراہ کن نکلا ـ ہیبت ناک دوروں سے نکلتی کئی سرنگوں نے سورج کی شکل تک نہیں دیکھی تھی ـ جہاں خورشید کی نگاہیں زمین بوسی کو جھکتیں وہاں لہلہاتے کھیت اپنے بانکپن پہ اتراتے پرندوں سے کتراتے جھومتے تھے ـ دریا منبع سے نکل کر سر پٹخ پٹخ کے عالم جنوں میں رقصاں ‘سمندروں کے سفر پہ گامزن تھے ـ وہ سوچ بچار میں گم یہاں سے نکلتا تو گاؤں والوں کے ہتھے چڑھ جاتا ـ وہ فوجی سمجھ کر شاید مار دیتے یا اغواء کر لیتے ـ کیونکہ جیپ کے ملبے پہ چڑھ کر نوجوانوں کو اس نے جب دائرے میں خوشی سے رقص کرتے دیکھا تو پانی پینا بھول گیا ـ وہیں پتھر کے پیچھے چھپ گیا ـ تبھی اسے احساس ہوا وہ شاید طالبان کے مقبوضہ علاقے میں آ نکلا ہے ـ امن کے نام پہ جاری جنگ ان کے سینکڑوں سپوتوں کو ایندھن بنا چکی تھی ـ ان کو بھی جن کی تین انچ جیب میں چنے اور ہاتھ میں پتنگ ہوتی ہے ـ ان کو بھی جو کمیوفلاژ جیکٹیں پہن کر شب و روز باری باری گاؤں کا پہرہ دیتےـ وہ جو ہوائی حملوں میں نیست و نابود ہوگئے ـ ان کو بھی جو نام نہاد جنگ کے خلاف ایک نئی جنگ میں کود پڑے ـ لیکن امن آتشِ جنگ و جدل پہ مسلادھار پانی کے بجائے خود سوالیہ نشان بنا چَکی کے دوپاٹوں میں مظوم افغانوں کی طرح پس رہا تھا ـ وہ ان سب ایکس فائل المیوں کا ڈیٹا جمع کر رہا تھا ـ ایک طرف تو وہ نیٹو فوج کی ٹیڑھی آنکھوں میں کھٹکتا دوسری جانب خارجی ہونے کا لیبل کسی تصدیق کے بنا اسے دشمنوں کی قطار میں کھڑا کر دیتا ـ

اب حالات کے گردباد میں پھنسا ہر آشنا چہرہ ہر بیتی بات یاد کر کر کے افسردہ ہو رہا تھا ـ

اس کے دل میں اچانک پھر سے ہول اٹھنے لگے ـ

“ہو نہ ہو یہ لڑکی مخبری کرنے گئی ہوگی ـ اور اب لوگوں کا تانتا بندھ جائے گا ـ

نجانے وہ ایک خارجی قیدی کے ساتھ کیا سلوک کریں ـ بادشاھوں والا یا درویشوں والا ؟ ـ

اس نے جیب سے گارتھا کی مسکراتی تصویر نکالی جو اس کے نومولود بیٹے کے ھمراہ اس نے تب کھینچی تھی جس دن وہ پیدا ہوا تھا ـ

کیا الوداع کرنے کا وقت آن پہنچا ہے؟

نہیں مایوسی کی آخری نہج پہ ایک لفظ سارے خوف پہ حاوی ہوجاتا ہے وہ ہے

” امید ـــــــ“

اس نے ماتھے سے سینے اور دائیں بائیں کندھوں کو چھو کے کراس کا نشان بنایا ـ تصویر کو چوما اور آنکھیں موندے پتھر سے ٹیک لگا لی ـ

دماغ میں شاں شاں کرتی آندھی کے جھکڑ تھے ـ آنکھیں سرخی کی شدت سے کھل گئیں ـ

سامنے وہ طمانت سے کھڑی تھی ـ

اس نے گھڑے میں ہاتھ ڈالا اور کچے سیب اس کی طرف اچھالے ‘ نسواری شلوار قمیض ‘ کیمو فلاژ جیکٹ ‘پکول اور کندھے پہ رکھنے والا رومال نکال کر پتھر پہ رکھتے ہی روتی ہوئی الٹے قدموں واپس دوڑتی چلی گئی ـ

یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ وہ سمجھ نہ پایا ـ کیا قدرت اسے ایک بار پھر جینے کا موقع دے رہی تھی ؟

ہاں ہاں ـــ اور نہیں تو کیا ـــ

اس نے جلدی سے پینٹ شرٹ کے اوپر شلوار قمیض پہنی ـ رومال سے منہ لپیٹا اور اندھیرا ہوتے ہی گاؤں سے نکل گیا ـ ہاں جاتے ہوئے اسی پتھر پہ نقرئی لاکٹ چھوڑ دیا جس پہ اس کا نام کندہ تھا

” ڈیوڈ”ـــ

مرکزی راستے پہ آنے کے بعد ڈیوڈ راستے سے مانوس ہو گیا اور میلوں پیدل چلنے کے بعد ایک ٹرک کی پشت سے لٹکے لٹکے شہر پہنچ گیا ـ وہاں سے ٹیکسی پکڑی اور سیدھا یواین کے کیمپ کی راہ لی ـ

پھر اس کے بعد اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ مذید کسی اندھی گھاٹی میں اترتا ـ

عرصہ بیتا افغانستان تصویروں میں مقید اس کی البم میں محفوظ ہو چکا تھا ـ

جب کبھی اسے وہ دن یاد آتے تو وہ دوبارہ وہی کیمو فلاژ جیکٹ پہن کے ریاست کے اکلوتے افغان کیفے میں قہوہ پینے چلا جاتا ـ اور اس وقت کو یاد کرتا جب زندگی اور موت کے درمیاں پینڈولم کی طرح جھولتا قدرت کے قریب جا پہنچا تھا ـ اس کی صحافتی روداد پہ کتاب مکمل ہونے والی ہے ـ اس کے بعد عراق اور سوریا بھی گیا لاکھوں لڑکیوں کا عکس اس کے قرنیے سے چپکا مگر وہ لڑکی ـــ

آہ ‘ ناقابلِ فراموش ـــ

اس نے ڈیوڈ کی زندگی بدل دی ـ

ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ــ ـ ـ ـ ـ

سبز پھریرے والی قبر پہ زرلختہ سسک سسک کر رو رہی تھی ـــ ” مجھے معاف کر دو ” ایک زمانہ بیت گیا اس واقعے کے بعد پھر سے خواب میں نہیں آئے ـ ”

ہچکیاں بلند ہوئیں اس نے پلو سے ناک پونچھی

دعا کے لیے ہاتھ پھیلائے مگر ہاتھوں کی طشتری میں مناجات کی جگہ ملتجی درخواستیں تھیں ـ وہ باتیں جو حلق کے نیچے سینے کے اندر غبار بن کے گردش کرتیں تو دل دکھ سے اٹ جاتا ـ

” وہ بالکل تمھاری طرح لگتا تھا ـ چوڑے کندھے ‘ گھنگھریالے بال ‘ سرخ و سفید ـ اسے دیکھ کر مجھے ایسے لگا جیسے آپ پھر سے زندہ ہو گئے ہیں ـ ـ ـ ـ

میں جانتی ہوں آپ کو خارجیوں سے کتنی نفرت تھی ـ طالبان کی آڑ میں انھوں نے ناصرف ہمارے کھیت بنجر کئیے بلکہ ان سینکڑوں بے گناھوں کو بھی مار ڈالا جو طالبان تھے نا ان کے حامی ـ

اور تم!

آہ میرے بھائی تم بھی اُس دکان کے ساتھ جل کر خاکستر ہو گئے جہاں جہازوں نے باردو کے قالین بچھا دیے تھے ـ

لالہ تمھاری پیاری نشانی میں نے اس اجنبی کو دے دی ـ کیا پتہ اس کی بھی کوئی بہن ہو ـ کیا پتہ اس کی ماں بھی اس کے مرنے کے بعد اعصابی توازن کھو دیتی ـ

لالہ میں بھی اب ایک ماں ہوں ـ

امید زندگی کو جنم دیتی ہے ـ زندگی سے امید چھین لو تو باقی بچتی ہے نا امیدی ـ

ناامیدی تو کفر ہے نا!

میں کفر کا ساتھ نہ دے سکی ـ

بس یہی سوچ کر میں نے اس کی مدد کی ـ

لالہ اب تو معاف کردو ـ

لالہ ـــ

پھریرا تیزی سے پھڑپھڑانے لگا ـــ

صنوبر کی خوشبو ہوا سے عشق کرنے میں مصروف تھی ـ

زرلختہ نے بھائی کی قبر کے کتبے پہ محبت سے ہاتھ پھیرا جس پہ لکھا تھا

” شہید ” داود گل ـ “

عمر ـ اکیس سال

نور کلے

افغانستان

زرلختے نے بیٹے کا ہاتھ پکڑا جس کے گلے میں وہی نقرئی داؤدی لاکٹ تھا جو اسے اگلے دن اسی ٹیلے سے ملا جس کے پیچھے خارجی چھپا تھا ـ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی قبرستان سے نکل گئی ـ

(گودر ـــ پشتو کا لفظ ہے جہاں لڑکیاں پانی بھرنے جاتی ہیں ـ )

_________________

تحریر: ثروت نجیب

کور ڈیزائن:ردا فاطمہ۔صوفیہ کاشف

1 Comment

Comments are closed.