دسمبر__________عظمی طور

دسمبر کی پہلی تاریخ کیلنڈر سے جھانکتی ہے
میں اپنے گرم کمرے میں
ٹھٹھرتے موسم کا تصور کیے ہوئے ہوں
میرے موزوں میں جکڑے پیر
برف ہیں
ناخن نیلے ہیں
گرم ہاتھوں کی تپتی ہتھیلوں سے جڑی میری انگلیوں کی پوریں
سرد ہوا سے جمنے لگی ہیں
میری رگوں میں خون کی گرمائش کپکپکی میں ڈھلنے لگی ہے
میرے سوئٹر کے سبھی دھاگے ادھڑنے لگے ہیں
میری گرم ٹوپی میرے پہلو میں رکھی
گرم چائے کی پیالی سے لپٹی ہے
گرم کمرے کی حدت سے مل کر ہم سب
ٹھٹھرتے موسموں کی سختیوں کو
جھیلتے ہیں
میں کیلنڈر سے جھانکتی دسمبر کی آمد سے گھبرا رہی ہوں
کئی ٹھنڈی پوریں
ٹھٹھرتے جسم
ننگے نیلے پیر
یخ سانسیں
چٹختی پسلیوں سے ٹکراتی سنسناتی ہوا
پورے کمرے میں
گرم کمرے میں
سرسراتی ہیں
کئی ہیولے میرے لحاف کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہیں
میری گرم اونی ٹوپی
چائے کی پیالی
ٹھٹھرنے لگی ہے
میں اندر سے کانپنے لگی ہوں ___!!!________________

شاعرہ:عظمیٰ طور
Advertisements