“آدمی کو آدمی کی ضرورت ہے”

رب سے لپٹ کے روئیں کیا؟؟
اس کے کاندھے پہ سر رکھ کر
اپنے آنسو سے اس کے آستین بھگوئیں کیا؟؟
کیا کہیں رب سے
آپ دلاسے کے دو بول بول دیجئے
آپ کہیئے کہ چھوڑو دنیا کو
تم ذرا دیر کو یہاں بیٹھو
آؤ کچھ دیر گپ شپ کر لیں
رب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور
دھوکہ دہی کے سب قصے کہہ دیں ؟؟؟
کہہ دیں کہ آج فلاں نے بہت ڈانٹا تھا
آج کسی اپنے نے لفظ مارے تھے
آج دنیا نے نظریں بدلی ہیں
اور غیروں کے بھیس میں اپنے
جھوٹ موٹ کا پیار جتانے کو آئے ہیں
رب کو بچھڑی ہوئی ماں سمجھیں ؟؟
رب سے باپ کی سی تھپکی طلب کریں ؟؟
محبوب سمجھ کر اپنے اشک اس کی پلکوں میں چن دیں ؟؟
کوئی اپنا بہت اپنا بنا کر اسے
لپٹ جائیں ؟؟؟
وہ اپنا ہے بہت اپنا ہے
چاہتا ہے چاہ رکھتا ہے
ہاں مگر
کیا
اس سے کہہ دیں کہ آؤ دوست
تمھاری موجودگی کی حاجت ہے
کوئی چہرہ جو سچا چہرہ ہو
کوئی آنکھیں جو ٹھنڈی آنکھیں ہوں
کوئی ہاتھوں کا لمس ہی دے دے
کوئی کہہ دے کہ “اب جانے دو”
کوئی کہہ دے کہ “چھوڑو سب”
کوئی ہاتھوں کو ہاتھ میں لے کر
ہمارے شکوے گلے مٹا سب
آدمی کو آدمی کی ضرورت ہے ___!_________________

شاعرہ۔عظمیٰ طورکور ڈیزائن:ثروت نجیب

Advertisements