رقاصہ_________ذویا ممتاذ

ہم concentric circles نہیں رہے، پہلے دوریوں اور اب مجبوریوں کے حلقوں میں داخل ہو چکے ہیں

کیا وہ نہیں دیکھتا؟ میرے گھنگھرو باندھے پیر جس جگہ پر ناچتے ہیں اُس جگہ سے اس شخص تک کا فاصلہ اتنا طویل ہے جسے زمین بھی ساڑھے چار ارب سالوں میں نہیں پاٹ سکی

جہاں شام کے بام پر اترتے ہی میں اپنی روح کو وینٹی لیٹر پر رکھ کر رقص کرتی ہوں، وہاں اس کی مسیحائی صرف زخموں میں ہی اضافے کا باعث ہے

(سُرتال کا یہ تعلق تو میری پیدائش سے بھی پہلے کا ہے جسے سماعت میں اتارتے ہی بدن اشاروں پر چلنے لگتا ہے اور ڈھول کی تھاپ میں کچھ ایسا ہے جو میرے پیروں کو رکنے نہیں دیتا

در اصل مجھے گھٹی میں گول گول گھومنے کی مشق کرائی گئی تھی)

کیا وہ نہیں جانتا ؟ کہ وہ شریف زادہ ہے!

اور ہمارے درمیان جو لکیر کھینچ دی گئی ہے وہ زمین کے کھنچاؤ پر بھی کم نہیں ہو گی بلکہ مزید گہری ہوجائے گی

اسے نظر نہیں آتا ؟ ناچتے ہوئے میرے پیروں سے جو دائرے بنتے ہیں وہ مجبوریوں کے ہیں..

کیا اسے یہ بتانے کی ضرورت ہے؟ کہ اگر محور سے ہٹ جانے پر میرے تھرکتے قدم رک جائیں

تو ان پیروں سے نکلے لہو سے بننے والے دائرے اس فرش کو نگل کر امیر زادوں کو اُس مدار سے ہٹا دیں گے۔۔

(جو صدیوں سے ان کی وحشت سہنے کو ہمیں وراثت میں ملا ہے)

اور میں اس کے بعد شہر میں اترتے doomsday کی دل دہلانے والی ٹک ٹک سید زادیوں کی آنکھوں میں دیکھ سکتی ہوں!

_____________

تحریر:زویا ممتاز

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements