سپر منی کی ڈائری______________بریرہ صدیقی

یہ میں ہوں، سپر منی۔ یہ رہی میری نئی نکور ٹند اور یہ ہے میری کہانی۔ بس ایک ہفتہ ہی تو گزرا ہے آپ کی دنیا میں آئے۔اسپتال میں تو خوب رونق رہی اور ہم ایک کے بعد ایک نئے بےبی کو نرسری میں خوش آمدید کہتے رہے لیکن گھر آکر ایک دم سے سناٹا ہو گیا۔ ابھی یہ جو ماما
کے بعد ایک دوسری جانی پہچانی سی آواز ہے لگتا ہے یہی تو پاپا ہیں۔ میرے رونے سے نامانوس۔ حالانکہ مجھے باتیں کرنے کا یہی ایک طریقہ تو معلوم ہے۔ جب مجھے گھر آئے تیسرا دن تھا، اماں اچانک میرے پاس سے اٹھ کر چلی گئیں اور میں نے انھیں بلانے کو رونا شروع کیا تو پاپا
نے جھٹ سے چاکلیٹ کھول کر چٹانا شروع کردی۔ ایسی شاندار پیشکش پر مجھے بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ویسے بھی شہد کے پہلی میٹھی چیز کھانے کو ملی تھی لیکن امی کی بے وقت مداخلت نے سارامزہ خراب کردیا۔ مجھے لگتا ہے ان دونوں کے ساتھ انڈرسٹیڈنگ میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔

5 جولائی: آج میں پورے ۲۰ دن کی ہوگئی ہوں اور کافی سمجھدار بھی۔ جبھی تو آج نئے ہاتھوں کو فورا پہچان لیا۔ یہ ماہر ہاتھ تو کسی بڑی بی کے لگتے ہیں۔ خوب مزے سے آج ان سے مالش کروائی اور انھوں نے مما کو کرنا بھی سکھائی۔ پیٹ درد کی صورت میں مالش کی ویسلین اور ہاضمے
کے لیے مختلف قہوہ جات دیے۔ بعد میں کپڑے کا ترازو بنا کر مجھے جھلاتی بھی رہیں وہ تو جب بعد میں وزن اپنے پاس نوٹ کیا تب پتہ چلا کہ یہ جھولا نہیں بلکہ مجھے تول رہی تھیں۔ جب مجھے اس میں سے نکال کر باہر نکالا تو میرا باہر نکلنے کا کوئی موڈ نہیں تھا اسی لیے انہیں
کہا ذرا اور تو جھلائیں۔ تب فوری اماں کو کہنے لگیں۔ بس بس اب اٹھانا نہیں، تھوڑی دیر رو کر خود ہی سو جائے گی۔ بھئی میں رو تھوڑا رہی تھی۔ ایک تو بات نہیں سمجھ سکیں الٹااماں کو بھی غلط پٹی پڑھا دی۔ یہ تو لگتا ہے اماں کی عادتیں خراب کر کے جائیں گی۔ امان بعد میں
بتانے لگیں تم پاکستان جاو گی تو دیکھنا کیسے کیسے مزے کے جھولے نظر آئیں۔ یہ پاکستان کیا ہے اور یہاں جانا کب ہوگا یہ نہیں پتہ چلا۔ شام میں پاپا سے ملاقات ہوئی اور انھیں دن بھر کی کاروائی بتانا چاہی تو امی کو مخاطب ہو کر کہنے لگے دیکھو کیسے غوں غوں کر رہی ہے۔
سمجھا لیں یہاں باتیں۔

۱۴ اگست: دو ماہ گزر گئے اور پتہ بھی نہیں چلا۔ میرے آس پاس آج کل خوب گہما گہمی رہتی ہے ۔ ماما اکثر میزوں کرسیوں پر چڑھی کھڑکیوں کے شیشے چمکاتی نظر آتی ہیں اور پاپا بڑے بڑے کارٹن پیک کرتے۔ سنا ہے ہم یہاں سے کسی بڑے مکان میں منتقل ہوجائیں گے۔ دل تو چاہتا ہے کہ
اٹھ کے ان کے سب کام سنبھال لوں لیکن ابھی بس اپنی گردن ہی اچھی طرح سنبھال سکی ہوں اسی پے اماں نہال ہیں۔ اور ایک دن جو میں نے بھرپور قہقہہ لگایا پھر تو ان کی خوشی دیدنی تھی۔ بعد کے کئی مصنوعی قہقہے بس ان کو خوش کرنے کو لگاتی رہی۔

رنگوں کی پہچان تو ابھی نہیں ہے لیکن آج جو رنگ کافی دکھائی دے رہا ہے وہ ہرا ہے۔ سنا ہے آج اسی پاکستان کا یوم پیدائش ہے جہاں مجھے خوب جھولے ملیں گے، جہاں مجھے اذان کی آواز بھی آئے گی جو میں صرف ایک ہی بار سن سکی ہوں اور جہاں اماں کہتی ہیں اور بھی ڈھیر سارے چہرے
ہونگے۔ ورنہ میں تو صرف دو چہروں کو دیکھ دیکھ بور ہوجاتی ہوں۔پھر غور سے سنا تو اماں کچھ گنگنانے کی کوشش بھی کر رہی تھیں۔ کچھ دیر تو میں برداشت کرتی رہی لیکن بعد میں بےبسی سے رونا شروع کر دیا تو شکر خاموشی ہوگئی۔ لوری کی حد تک تو معاملہ قابل برداشت تھا اب اس
سے آگے تو بس کی بات نہیں رہی، سمجھ رہے ہیں نا آپ میرا مطلب۔

۲۸ اگست: آج ایک ڈاکٹر انکل کے پاس میرا معائنہ تھا۔ انھوں نے بھی معائنے کی کسر نکالی ، میں نے منمناتے ہوئے کہنے کی کوشش کی کہ جی اللہ کا فضل ہے کوئی تکلیف نہیں ، زیادہ چھیڑ چھاڑ سے پرہیز کریں۔ لیکن میری سنتا کون ہے۔ انھوں نے سر کی پیمائش سے جو سلسلہ شروع کیا
وہ کہیں تھمتا نظر نہ آتا تھا۔ ہر ہر چیز کی پیمائش ڈائری میں نوٹ کرتے جاتے۔ امی نے ان سے بعد میں پوچھا کہیں اس کا وزن زیادہ تو نہیں؟ یعنی میں موٹی تو نہیں ہو جاوں گی۔ میں تو ڈر ہی گئی کہیں ڈائنگ کا مشورہ مل گیا میں تو بھوکی رہ جاوں گی۔ انکل صرف مسکرائے اور
کہا ایسا کوئی مسئلہ نہیں اور میں نے بھی سکون کا سانس لیا۔

۲۰ ستمبر: آج کئی دنوں کے بعد ڈائری لکھنے کا ٹائم ملا۔ کچھ گھر شفٹنگ کی مصروفیت اور یہاں کی سیٹنگ۔ میں نے تو آتے جاتے یہاں ایک بوڑھی سی جرمن آنٹی سے دوستی گانٹھ لی ہے۔ ان کے گورے چٹے ہاتھوں پے لگی سرخ نیل پالش دیک کے میں تو انگلیاں چباتی رہ جاتی ہوں۔ برابر کے
گھر میں ایک سری لنکن آنٹی ہیں، انھوں نے پہلی ملاقات میں جو قریب آکر پیار کرنا چاہا تو میں نے سہم کر چیخ ہی مار دی۔ یہ گورے رنگ سے پیار اپنے بس میں کب ہے۔ اماں کہتی ہیں تمہاری یہ عادت ابا پر گئی ہے اپنے۔ خیر ۔

اور یہ باہر جانے کا مرحلہ کتنا مشکل ہوتا ہے یہ تو بتانا بھول ہی گئی۔ ایک کے بعد ایک لباس اوپر سے بوتل نما جیکٹ، دو دو دستانے اور ٹوپیاں اوپر سے کمبل اور پھر پرام میں لٹا کر زپ بند۔ نہ میں کھل کر ہاتھ پاوں چلا سکتی ہوں جو میری سب سے پسندیدہ عادت ہے اور نہ باہر
کے اتنے سارے منظر دیکھ سکوں۔ سبز سبز درخت، چلتی گاڑیاں اور سب سے بڑھ کر میری اماں۔ ایک دو بار تو مجھے سمجھ ہی نہیں آیا کہ یہ کیسی افتاد ہے جس دن سمجھ آیا اس دن سارا رستہ خوب احتجاج کیا۔ سر ایسے زور زور سے ہلایا کہ ٹوپی خود ہی کھسک گئی۔ اور تب تک چپ نہ ہوئی
جب تک مجھے باہر نہ نکال لیا۔ پر اگلی بار یہ حربہ بھی ناکام ہوگیا، جیسے ہی پہلے کی طرح احتجاج کو منہ کھولا تو schnully کے نام پے اللہ جانے کیا چیز کیا میرے منہ میں ٹھونس دی جس سے دیر تک ابکائیاں آتی رہیں اور جی متلا گیا۔ بس جی پھر تو میں نے غصے میں آکر اس قدر
شور کیا کہ آئندہ کے لیے اماں ابا کو خوب اچھی طرح بتادیا،سمجھوتہ نامنظور ۔

۲۵ ستمبر: آج تو مجھے ٹھیک ٹھاک ڈانٹ کے ساتھ دبکایا گیا ہے۔ اماں ایک تو اس گھر میں آکر نظروں سے دور ہوجاتی ہیں اور میں ڈھونڈتی رہ جاتی ہوں۔ آج بھی ایسے ہی ہوا۔ میرا خوب کھیلنے اور باتیں کرنے کا موڈ تھا اور امی کو کام نمٹانے کی جلدی تھی۔ مجھے خوب تیار کر کے اور
اپنی طرف سے سلا کر چلی گئیں میں نے کچھ دیر بعد بلایا تو اوپس آکر پھر سے اٹھا کر جھلاتی رہیں اور اپنی طرف سے سلا کر چلی گئیں۔ جب تیسری بار بھی ایسے ہی ہوا تو ایسے غصے سے واپس آکر مجھے اپنی گود میں پٹخا کہ میں ہل کے رہ گئی۔ اور ڈر کے خوب رونا شروع کر دیا۔ اماں
نے عادی بھی تو خود ہی کیا ہے ۔ میں اکیلی تو بالکل بور ہو جاتی ہوں۔ بس پھر یوں ہی روتی دھوتی سو تو گئی اور سوتے میں بھی سسکیاں لیتی رہی تب پتہ چل رہا تھا کوئی سوتے میں بھی پیار کر رہا ہے۔ جاگ کر سوچ رہی ہوں آئندہ ایسے غیر محتاط رویے سے پرہیز کیا جائے ورنہ مجھے
تو پٹائی کے امکان بھی نظر آرہے ہیں۔

۳ اکتوبر: لیجیئے۔ ایک بار پھر سے سامان پیک ہوتا نظر آرہا ہے اور سنا ہے میں پاکستان جا رہی ہوں۔ میں وہاں جانے کے لیے کتنی پر جوش ہوں بتا نہیں سکتی۔ اسی خوشی میں ٹھیک سے نیند بھی نہیں آرہی۔ اللہ کرے ہم خیریت سے پہنچ جائیں
______________

تحریر:بریرہ صدیقی

کورڈیزائن:صوفیہ کاشف