ٹوٹے ہوئے کھلونے_________صوفیہ کاشف

وہ میرے سامنے کھڑا چِلّا رہا تھا ۔ چِلّا چِلّا کر تشفی نہ ہوئی تو اس نے مجھے چٹاخ سے دو جھانپڑ بھی دے مارے تھے۔میرا اکڑا ہوا چہرہ جس پر کبھی کوئی شکن تک نہ اتری تھی، جو صدیوں سے اک بے نام سختی اور موت کا شکار تھا جیسے ایک دم سے جھریوں کی پناہ گاہ بن گیا۔ کرچی کرچی ہو گیا۔ چہرے پر اچانک اتنی جھریوں نے میرے چہرے کی جلد کو ایک عجیب سی اذیت میں مبتلا کر دیا تھا۔
میں نے اپنے پنجوں سے اپنے چہرے کو تھپکی دے کر اسکی جھریوں کی تکلیف کو کم کرنے کی کوشش کی۔ مگر میرا پنجہ جس میں صرف انگشت شہادت لمبی اور الگ تھی، باقی سب انگلیاں مرغی کے پنجے کی طرح اکٹر کر آپس میں جڑ چکی تھیں اس کوشش میں میرے کسی کام نہ آ سکیں۔ لگ بھگ بیس تیس سال پہلے لگے، محض کچھ سالوں کے سمارٹ فونز کے چسکے نے ہم سے ہمارے ہاتھ تک چھین کر انکو مرغیوں کے پنجے جیسے چھجے میں بدل دیا تھا ۔عجب بات تھی کہ سو سال میں چرند،پرند اور درند کی شکلوں میں وہ تبدیلیاں نہ آئی تھیں جن سے بابائے انساں گزر گیا تھا۔ ہم وقت میں سے روشنی کی رفتار سے گزرے تھے اور کائنات کی چوڑایوں جیسے دکھ اور جہنم کی گہرائیوں جیسے الم مقدر سے آ لپٹے تھے۔ پی ایم 2112 کا سٹیل کا مضبوط تکلیف دہ ہاتھ میرے چہرے کے کئی حصوں سے وہ خون بہا گیا تھا جو کچھ عرصہ پہلے سفید تھا مگر پھر زندگی کی اذیت نے اسے کالا کر ڈالا۔ تکلیف کی انتہا کم نہ ہوتی تھی۔ مجھے وہ وقت یاد آیا جب ہم آنسوؤں کے ساتھ روتے تھے بہت زیادہ نہیں یہی کوئی سو سال ہی تو پرانی بات تھی ۔بہتے ہوئے آنسو کتنی تکلیفیں بہا کر لے جاتے تھے مگر ہم نے ان معجزوں کی ہوس میں اور اختیار کے عشق میں کیا کچھ سراب کر دیا تھا۔ اب سوکھی زرد آنکھوں میں ہزار سال تک زندگی رہتی تھی مگر نمی نہیں، کہ نمی تو بہت سال پہلے سمارٹ فونز،ٹیبلٹس اور آئ پیڈز کی نیلگوں روشنی نے چوس لی تھی۔ اس سے پہلے کہ میرے دل میں کوئی اور خیال اترتا ایم پی 2112 گالیاں بکتا،اپنے سٹیل کی مضبوط ٹھوکر میرے پیٹ میں مار کر آگے بڑھ گیا۔میں ایک بار پھر اپنا کر چی کرچی چہرہ لیے زمیں پر گر گیا۔جسم ٹوٹتا نہ تھا گرچہ روح ریزہ ریزہ ہو جاتی تھی۔آج کی اس دنیا میں میں کس قدر تنہا تھا اور ان بے حسی ظالموں کے ہاتھوں اک کھلونا تھا۔ایم پی جتنا چلاتا اسکا غصہ بڑھتا جاتا،اسکا دل چاہتا کہ میں اس سے لڑوں جھگڑوں اسے جواب دوں یہ جاننے کے باوجود کہ میرے ہونٹوں کی جگہ پر محض اک پاؤٹ نما ابھار باقی تھا۔استعمال کی کمی سے زبان کب سے سکڑ کر تالو کے ساتھ جڑ چکی تھی اور ہلنے اور آواز نکالنے والے ہونٹ کب سے جڑ کر اپنا وجود اور شکل گنوا بیٹھے تھے۔وہ مجھے روز توڑتا اور مسلتا،یہ سمجھتے ہوے کہ شاید میں بھی اک بے درد مشین ہوں۔اس کے دماغ کا کمپیوٹر میری تکلیف کا،اور اذیت کا،میرے گھاٹوں اور پیشمانیوں کا،میرے غرور اور اس کے پھر تہس نہس ہو جانے کا حساب لگانے سے قاصر تھا۔ ہم انسانوں نے اپنی ساری نعمتیں ان روبوٹس، ٹیکنالوجی اور کمپیوٹرز کی جھولی میں ڈال کر خود کو تہی دامن کر لیا تھا۔روبوٹس کی اس دنیا میں اب ہم سب انسان گمشدہ اور تنہا تھے اور اپنے ہی ہاتھوں بنائی اس تخلیق کا ظلم سہتے تھے۔اپنے علم اور عقل کے زعم میں یہ انسانی عجوبے جنکو تخلیق کرنے کے عزم اور خدا بننے کی محبت میں ہماری انگلیاں پنجے بن گئے تھے اور کائنات پر راج کرنے کی خواہش میں زبانیں جسم سے غائب ہو گئ تھیں ،آنکھوں کی پتلیاں زرد اور اکڑوں تھیں اور چہروں پر اک سکوت اور نحوست مقدر کی طرح لکھا گیا تھا،آج یہ روبوٹس ہمیں بیکار سمجھ کر روز ٹھڈے مارتے ،گالیاں نکالتے ،ادھر ادھر پٹختے ۔۔فطرت سے لڑتے رہے ہم اس گماں میں کہ ہم اس تخلیق کے ان داتا اور خدا ٹھہریں گے۔مگر قدرت سے کیا گیا مذاق ہماری زندگیوں کا المیہ بن گیا تھا۔ دنیا اور فطرت،طاقت اور عقل اب روبوٹس کا اثاثہ تھی اور ہم انکے بیچ ٹوٹے ہوےکھلونے۔

اس سے پہلے کہ ہمیشہ کی طرح میرا دل ایک سے بڑھ کر ایک عذاب کا شمار کرنے میں لگا رہتا، دروازے سے نکلنے سے پہلے پی ایم روبوٹ 2112 کا بچا ہوا غصہ پھر امڈ آیا اور اس نے اس بار اپنی انگلی میری طرف اٹھا کر اک شعلہ بھرا فائر کیا تھا جو سیدھا میرے دل کو جلاتا اور پرخچے اڑاتا پیچھے میٹل کی دیوار سے جا کر اس میں جذب ہو گیا تھا۔ اپنی انگلیاں جھٹکتا،سر مارتا،”یہ انسان سالا” کہتا پی ایم ربورٹ کمرے سے نکل گیا تھا یہ دیکھے بغیر کہ میرا وجود اب ٹوٹے ہوئے شیشے کی مانند کمرے کے فرش پر درمیان میں پڑا تھا. میری پتھرائی آنکھیں چھت سے جا لگیں تھیں اور میرے پچھتاوے کے کالے خون کے چھینٹے ساری دیواروں پر بکھر گئے تھے.

_____________

تحریر:صوفیہ کاشف

کور ڈیزائن:دیا فاطمہ

Advertisements