خوددار بڑھاپا___________بریرہ صدیقی

والد صاحب کے ایک محترم دوست، جن کی عرصہ دراز سے روٹین ہم یہ دیکھتے آرہے ہیں کہ جیسے ہی رسالے،
اخبار میں ان کا کالم چھپتا، ابو کو فون پےپڑھنےکی لازمی تاکید کرتے۔ اگلافون اس پے مفصل تبصرہ سننے کے لیے کیا جاتا۔ اب جب کہ والدصاحب کی Dementia patient ہونے کی وجہ سے یادداشت میں خلل اور گفتگو اکثربےربط ہوجاتی ہےاور بینائی نہ ہونے کے برابر ہے، مہمانوں کا استقبال
اپنے موڈکے حساب سے ترجیح رکھ کرکرتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ کسی دوردراز سے آئے مہمان کو چندمنٹ کےبعد کہ دیں۔ ” چلیں جی مجھے اجازت دیں” اور اس کے بعد دروازے تک چھوڑکر تسلی کر آئیں کہ دوبارہ آنے کا امکان تو نہیں۔ اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ ساتھ والی مسجد کے موذن
کے آنے کا سن کراچانک استقبال کے لیے مکمل تیار ہوکر بیٹھ جائیں اورگھنٹوں ملاقات جاری رہے۔ کچھ دن قبل مذکورہ دوست جو مشہور صحافی اور کالم نگار ہیں ملاقات کے لیے تشریف لائے۔ نئے آنے والے مہمان کےلیے بعض اوقات ، ابو کی پشت پے جا کر اشارے کنایے سے کچھ ترجمانی کے
فرائض سرانجام دیے جاتے ہیں، کہ گفتگو میں براہ راست مداخلت انہیں بےحدناگوار گزرتی ہے، دوسرا مسئلہ ، کسی سے مدد نہ لینے والا ہے۔ ایک بار جب بیماری پوری طرح حملہ آور تھی اور کھڑے ہونے کی سکت نہ تھی تو دوڑ کر ایک طرف سے میں نے اور دوسری طرف سے باجی نے سہارا دینے
کی کوشش کی تو سختی سے ہٹا کربولے، بیٹیوں کا میں سہارا ہوں، بیٹیاں میرا سہارا نہیں۔ بہرحال ان محترم انکل سے ملاقات میں ، میں موجود رہی۔ یہ مجھ سے مخاطب تھے۔ ” آپ کو پتہ ہوگا کراچی سے جھنگ کا سفر آسان نہیں، لیکن میں یہاں کیوں آتا ہوں۔ اسلیے کہ یہ گھر میرے لیے
خانقاہ ہے، خانقاہ سے انسان جو لینے جاتا ہے، وہ مجھے یہاں ملتا ہے۔ گوہر صاحب سے مل کر جاتا ہوں تو ملاقات کا اثر میرے اندر دیر تک رہتا ہے، ان کے جملے چراغوں کی مانند میرا اندر روشن کر جاتے ہیں۔ آپ جب اور جتنا لکھیں صرف ان پر لکھیں تاکہ جنہیں نہیں معلوم انہیں
بھی آگاہی ملے۔” کچھ وقفے کے بعد بولے۔ اب دقت یہ ہے کہ ان سے رابطے کی کوئی صورت بن نہیں پاتی، دل بےچین رہتا ہے جب تک ان کی خیریت معلوم نہ کرلوں۔ میں نے بتایا کہ ptclتو عرصے سے متروک ہو چکا کہ اس سے انہیں دقت ہوتی تھی، آپ مجھ سے رابطہ کر کے جب چاہیں میں بات
کروادوں گی۔ اس تجویز پے نہایت مطمئن ہوگئے اور بولے، میرے بھی دو نمبر نوٹ کر لیں، پہلا لکھوانے کے بعد بولے کم ہی چانس ہے کے اسے کوئی ریسیو کرے، میں حیران تھی کی شاید کوئی trust کا چکر ہے غلط نمبر دیاجارہا ہے۔ پھر ایک اور نمبر لکھوایا اور کہا، ہوسکتا ہے جواب
یہاں سے بھی نہ ملے۔ میں ایسے فعال نمبر ملنے پے حیران تھی تب خود ہی تفصیل بتانے لگے۔” بات کچھ یوں ہے کچھ عرصہ قبل میری بیٹی ہم سے ملنےانگلینڈ سے آئی ہوئی تھی، میرے ایک دوست کی لگاتار کال آتی رہی، کافی دیر بعد بیٹی نے جاکر سنا تو آگے سے۔اس قدر ڈانٹا کہ میں پورے
دو ہفتے سے کوشش کر رہاہوں اور جواب نہیں ملتا، میری بیٹی بے نقط سننے کے بعد باقاعدہ روتی ہوئی آئی اور شکایت کی، میں نے جاکر ان صاحب کو سمجھایا کہ حضرت!! آپ کا نیازمند تو میں ہوں، مجھ سے جھگڑا کریں۔ میرے بچے مکلف نہیں کہ جس کا میں نیازمند تھا وہ بھی اس کے رہیں۔
بیٹی تو ویسے ہی مہمان تھی، چلی گئی۔ گھر پے بہو اور بیٹا ہوتے ہیں۔ میں اسی بات پے ان کا شکرگزار ہوں کہ میرے پوتے پوتیاں میری آنکھوں کے سامنے کھیلتے پھرتے ہیں۔ اس سے زیادہ کچھ ان سے چاہا نہ توقع کی کہ بعض اوقات توقعات پوری نہ ہونے پے انسان زیادہ ٹوٹتا ہے۔ فون
کا بھی یہی مسئلہ ہے، میں بھاگ کر سن سکتا ہوں نہ موبائل ہر وقت پاس موجود ہوتا ہے، اس لیے نمبر دیتے وقت یہ تاکید ساتھ کرتا ہوں کہ ہو سکتا ہے یہ فوری اٹینڈ نہ ہو”۔ تب ان کی والد صاحب کے ساتھ ایسی گہری شناسائی کا سبب معلوم ہوا۔ یہ سب ایک سے “خوددار بڑھاپے” والے
کیسز ہیں، اپنے مسئلے آخر تک خود حل کرنے والے اور سہارا چاہنےکی بجائے سہارا بننے والے، چاہے خود میں اتنی سکت ہی نہ ہو۔ آپ کے آس پاس جابجا ایسے کیسز موجود ہوں گے، جہاں یہ رحمت میسر ہے اسے زحمت سمجھے بغیر آپ ہی چھوٹے کاموں میں مددگار بن جائیں، جس کے لیے وہ زیادہ
محتاج ہوتے ہیں اور ہو سکتا ہے بول کر کبھی نہ کہتے ہوں۔ جیسے دن میں بیسیوں بار صرف ان کے کمرے کی لائٹ کو آن آف کرنا، جوتا سیدھا کرنا یا چادر اوڑھا دینا، سب کام چھوٹے بچے زیادہ خوشی اور اعزاز سمجھ کر کرتے ہیں بالعموم۔ ابو کا حال بتانے کو دو بار انہیں کال کر
چکی ہوں، مطلوبہ نمبر سے رابطہ ممکن نہیں۔

________________

تحریر ۔ بریرہ صدیقی

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements