عشق محشر کی ادا رکھتا ہے( پانچواں حصہ )________حمیرا فضا

کور ڈیزائن:ثروت نجیب

تین دن بعد حویلی کے نوکر کو حویلی کے باہر پھینک دیا گیا تھا۔اُس کا جسم اتنا کمزور ہو چکا تھا اور زخم اِتنے گہرے کہ وہ چاہ کر بھی اپنے قدموں پر کھڑا نہ ہو سکا۔اُس کے ماتھے اور منہ سے ابھی تک خون رس رہا تھا،مگر درد کہیں تھا تو دل کے اُ ن سیکڑوں ٹکڑوں میں تھا جو اُس کی بقیہ زندگی میں دوبارہ جڑنے والے نہیں تھے۔کچھ دیر بعد حویلی کے دیگر نوکر اور مالی بابا اُسے سہارا دے کر اندر لے گئے۔وہ حویلی اُس کی نہیں تھی ،لیکن اندر داخل ہوتے ہی تحفظ اور زندگی کے احساس نے اُسے گھیر لیا ۔ اپنوں کو دیکھ کر تکلیف کم ہونے لگی تھی۔ اُسے دوا کے ساتھ ہمدردی کی بھی ضرورت تھی۔نجانے وہ کیسے یہ خواہش کر بیٹھا کہ ممانی جان آگے بڑھ کر اُس کے سر پر ہاتھ رکھے گیں اور لمبی زندگی کی دعا دے گیں۔۔۔نجانے اُس نے کیسے سوچ لیا کہ جازم کے چہرے پر پشیمانی ہوگی اور وہ اُسے اِس حال میں دیکھ کر کچھ پل کے لیے مغرور گرد ن جھکا لے گا۔۔۔ نجانے اُسے کیوکر خیال آیا کہ جیون اُسے دیکھتے ہی کچھ قدم پیچھے ہٹ جائے گی اور ندامت سے آنکھیں چُرا لے گی،لیکن یہ صرف ایک بیمار اور لاچار وجود کی خوش فہمی تھی۔دماغ پر لگنے والی چوٹ اور صدمے نے اُسے اِس لمحے حد سے زیادہ حساس کردیا تھا۔وہ اُن سے بھلائی کی توقعات کر رہا تھا جو اُسے اِس حال تک پہنچانے کے ذمہ دار تھے۔ سامنے کھڑے ہوئے لوگوں سے اُس کا خون کا رشتہ تھا ،مگر کسی بھی چہرے پر نہ فکر تھی نہ اُس کا انتظار ۔

“کس قدر بزدل مرد ہو تم کہ دو چار غنڈوں سے بھی نہ نبٹ سکے۔تمھیں اپنے زندہ ہونے پر شرم آنی چاہیے ۔”

ذکیہ بیگم نے اُسے حقارت سے دیکھ کر ملامت کی۔

“مردانگی۔۔۔عزت ۔۔۔غیرت سے تو اِس کا دور دور تک واسطہ نہیں امّی جان۔یہ ایک بزدل انسان ہے۔”

ذکیہ بیگم کے برابر کھڑا جازم اُسے بے عزت کرنے میں کہاں پیچھے رہا تھا۔

“حویلی کی حفاظت کے لیے حویلی کے نگہانوں کو بہادر ہونا چاہیے۔سیف تم تو اِس قابل ہو کہ تم سے چّکی یا مصالحہ جات پیسوانے چاہیے۔”

آہ۔۔۔جیون کے طنز اور مذاق نے اُس کی رہی سہی ہمت بھی ختم کردی۔

کتنی ہی د یر اُس کے اپنے اُسے تضحیک کا نشانہ بناتے رہے۔ اُس کی زخمی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں تو ٹوٹا دل درد سے ،لیکن وہ کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے چپ چاپ کھڑا رہا۔اُن تینوں کی ناگوار نظریں اُسے بار بار جتا رہی تھیں کہ اُس کی زندگی اور موت کسی کے لیے معنی نہیں رکھتی ۔اُن کا بے رحم رویہ اُسے احساس دلا رہا تھا کہ یہ لفظوں کی کاٹ جسمانی زخموں سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہے۔ بے بسی ،غصے کی آگ تھوڑی تھوڑی بڑھتی پورے وجود میں پھیل چکی تھی۔اُس کا دل کیا ساری حقیقت کھول کر سامنے رکھ دے، ذکیہ بیگم کو ایک ایک بات سے آگاہ کردے ،مگر اُسے اب تک اُس لڑکی کی عزت پیاری تھی جس نے اُس کے وقار کی دھجیاں اُڑا دی تھیں۔وہ چپ رہا کیونکہ یہاں اُسے سننے اور سمجھنے والا کوئی نہیں تھا۔

“لے جاؤ اِس نکارہ شخص کو اِس کے کمرے میں۔”

جازم کے حکم پر دو نوکر اُسے اُس کے چھوٹے کمرے تک چھوڑ آئے ،لیکن اُس پر ہنستی آوازوں کی بازگشت اُس کے ہمراہ آئی تھی ۔اِس بے عزتی کے بعد وہ پورا دن اپنے کمرے میں بند رہا،مگر شام ڈھلے وہ اُس کے کمرے میں چلی آئی تھی ، زخموں کو اُدھیڑنے اور نمک چھڑکنے میں ابھی بہت سی کسریں جو باقی تھیں ۔

دیکھنے بھی جو وہ جاتے ہیں کسی گھائل کو

اک نمکداں میں نمک پیس کر بھر لیتے ہیں

“اچھا تو یہاں منہ چھپا کر بیٹھے ہو۔ویسے مزاج کیسے ہیں جناب کے؟ عقل تو ٹھکا نے آہی گئی ہو گی کہ دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کا کیا انجام ہوتا ہے۔کمی لوگ مالکوں سے الجھیں تو اُنھیں دھول ہی چاٹنی پڑتی ہے۔”

وہ زور سے دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوئی اور ایک کے بعد ایک طنز کے نشتر برسانے لگی۔

“میں تمھیں بچانا چاہتا ہوں جیون۔تم نے وہ خط جازم تک پہنچا کر بہت بڑی غلطی کی۔میں سچ کہہ رہا ہوں وہ تمھارے قابل نہیں ہے۔”

سیف نے اپنے زخموں پر مرہم لگاتے ہوئے آزردگی سے کہا۔

“خبردار !جو جازم کے بارے میں اب کوئی بکواس کی۔تم پہلے بھی میری محبت کی شان میں گستاخی کر چکے ہو ، مزید کچھ بولے تو کھال کھینچ لونگی تمھاری۔”

وہ ساری دوائیاں فرش پر گراتے ہوئے بھنّا کر بولی ۔

“میں تمھارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں جیون۔۔۔تم میری کھال کھینچ لو۔۔۔میرا منہ توڑ دو ۔۔۔یا مجھے جان سے مار دو ، مگر اُس شخص سے کہو کہ و ہ تم سے شادی کر لے۔”

اُس نے جیون کے قدموں میں بیٹھ کر کانپتی آواز میں التجا کی تھی۔

“ایک تم ہی تو خیر خواہ ہو میرے۔تم نے سیدھا راستہ نہ دکھایا تو ، میں تو گم جاؤںگی۔تمھارا یہ احسان ،یہ بھلائیاں کہاں بھول پاؤںگی میں سیف ۔”

وہ سپرٹ کی چھوٹی شیشی اُس کے کھلے زخموں پر انڈیل کر پاگلوں کی طرح ہنسنے لگی۔

“جانتا ہوں یہ ایک پاگل کا خواب ہے کہ وہ تمھیں یونہی ہنستا دیکھتا رہے،مگر وہ تمھاری ہنسی نوچ لے گا۔”

سیف نے درد اور چبھن سے کراہتے ہوئے جیون کو حسرت سے دیکھا۔

“اُس سے پہلے میں تمھاری آنکھیں نکال دونگی۔”

وہ اپنے لمبے ناخن اُس کے گالوں میں گاڑتے ہوئے غصّے سے غرّائی۔

“آنکھیں نکالنا آسان ہے۔۔۔چوٹ پہنچانا آسان ہے ۔۔۔بے عزت کرنا آسان ہے۔۔۔ہمت ہے تو جیون حیات کوئی وعدہ کرو۔۔۔کوئی شرط لگاؤ۔۔۔کوئی قسم اُٹھاؤ۔۔۔مجھے غلط ثابت کر دو بس۔”

سیف کی بے تاثر آنکھوں میں کچھ ایسا تھا کہ جیون دو پل کے لیے خاموش ہوگئی۔وہ اُسے کھلا چیلنج کر رہا تھا ۔اب کی بار اُس نے صحیح پاسہ پھینکا تھا۔

“تم اِس قابل نہیں ہو کہ تمھارے ساتھ سچ اور جھوٹ کا کھیل کھیلا جائے،تم سے شرطیں لگائی جائیں۔”

جیون نے تنّفر سے اُسے دیکھ کر دوائی کی شیشی کو ٹھوکر ماری۔

“تم ڈر رہی ہو۔۔۔ہاں تم ڈر رہی ہو۔۔۔شاید تمھیں بھی اب تک اُس پر ویسا اعتبار نہیں،ورنہ تمھارے اندر یہ چیلنج قبول کرنے کا حوصلہ ہوتا۔”

سیف نے بھڑکتی ہوئی آگ میں مزید تیل ڈالا۔

“بکو مت۔۔۔مجھے اُس پر اپنے آپ سے بھی زیادہ بھروسہ ہے ۔۔۔میں تمھیں چیلنج کرتی ہوں۔۔۔یہ جیون حیات کی زبان ہے ۔۔۔میری محبت کا وعدہ ہے ۔۔۔آج سے ٹھیک ایک ماہ بعد میری اور جازم کی شادی ہوگی۔”

اُس نے انگلی کے اشارے سے سیف کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا اور کمرے کی کئی چیزیں اپنے قہر سے فرش پر پٹختی باہر چلی گئی۔اُس کی جلتی خونخوار آنکھوں کے وعدے نے سیف کو اندر تک مطمئن کردیا تھا۔

*****

عجب یقین سا اُس شخص کے گمان میں تھا

وہ بات کرتے ہوئے بھی نئی اُڑان میں تھا

“نئے نئے پرندوں کو ابھی اِتنا نہیں اُڑنا چاہیے۔ پہلے اپنے پروں کی طاقت کو جانچنا چاہیے ۔پہلے آسما ن کی وسعتوں کو ماپنا چاہیے۔جلد بازی کی اُڑان اُنھیں زمین پر گر دیتی ہے۔”

وہ مغرور چال چلتی جازم کے کمرے کی طرف جارہی تھی کہ رقیہ ناز کی آواز نے اُسے رکنے پر مجبور کیا۔

شام کا وقت تھا ۔دالان کی مدھم روشنی میں رقیہ ناز کا دھندلا چہرہ دیکھ کر وہ یکدم چونکی۔ رقیہ ناز آہستہ آہستہ چلتی ہوئیں اُس کے قریب آگئی تھیں ۔جھریوں سے بھرے ہاتھوں میں چمکتی سونے کی چوڑیاں اور کمزور وجود پر پاؤں تک ڈھلکتی زرق برق روایتی پوشاک ۔ اِس عمر میں بھی اُن کے بناؤ سنگھار میں کوئی کمی نہ تھی۔شاید یہی وہ بہانے تھے جس سے وہ اپنا دل بہلاتی تھیں۔

“آپ یہاں؟”

رقیہ ناز کو اپنے سامنے دیکھ کر جیون کو اچھی خاصی حیرانی ہوئی۔اُس کا حیران ہونا جائز بھی تھا ۔کئی سالوں سے رقیہ ناز اپنے کمرے میں گوشہ نشیں ہو چکی تھیں۔ بہت کم ہوتا کہ وہ باہر نکلتیں اور آج یوں اُن کا اپنے کمرے سے آٹھ کمروں کا فاصلہ طے کرکے جیو ن کے پیچھے چلے آنا کسی معمے سے کم نہ تھا۔

“تم سب نے سیف کے ساتھ بہت زیادتی کی ہے۔وہ اِس حویلی کا خون ہے۔تم سب اُس کے زخموں کا مذاق اُڑا رہے تھے کیا تمھارا خون اِس قدر سفید ہو چکا ہے ؟”

رقیہ ناز کا سوال اور انداز اتنا سخت تھا کہ جیون کو پسینے آنے لگے۔

” انسان کو اتنی بے دردی سے دھتکارنا ، رسوا کرنا ، تکلیف پہنچانا انسانیت کی تذلیل ہے ۔ ذکیہ اندھی ہو سکتی ہے ،میں نہیں۔اِس حویلی کے لوگوں کو تو زخم لگانے کی عادت ہے اور میں زخم لگانے والوں کی آنکھیں پڑھ سکتی ہوں۔گناہ کرنے والے چاہے جتنے پردے گرا لیں میرے سالوں کے تجربے نے اُنھیں ڈھونڈ لیا ہے۔”

رقیہ ناز کی جہاندیدہ نگاہیں جیون کے آر پار اُترنے لگیں تو اُس پر گھبراہٹ سی طاری ہوگئی ۔

“کہنا کیا چاہتی ہیں آپ؟”

جیون نے گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے سہمی آواز میں پوچھا ۔وہ ہمیشہ اُن کی شخصیت سے ایک الجھن سی محسوس کرتی تھی۔اور آج تو اُن کا انداز چوری پکڑنے والا تھا۔

“میرے کمرے کا دروازہ چاہے بند ہو،مگر کھڑکیاں کھلی رہتی ہیں۔ جو سیف کے ساتھ ہوا میں نے دیکھا۔۔۔جو وعدے پردے کے پیچھے ہوئے میں سن چکی ہوں ۔۔۔ جو طوفان آنے والا ہے میں وہ محسوس کر سکتی ہوں۔میری آنکھوں اور کانوں سے کچھ بھی چھپا ہوا نہیں لڑکی ۔ “

اُن کے انکشافات ایسے تھے کہ جیون کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔

“تو کیا رقیہ ناز سب جاتی ہیں؟ ۔۔۔نہیں۔۔۔ایسا نہیں ہو سکتا۔”

اُس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اپنے بولتے دل کو جھوٹی تسلی دی تھی۔

“جیون تم نادان ہو ۔اِس حویلی کے مکینوں کو نا محبت کرنا آتی ہے نا نبھانی۔اِس حویلی کی بنیادیں کھوکھلی ہیں اِس پر محبت کا مینار کبھی نہیں بن سکتا۔”

جیون کا چہرہ دھواں دھواں ہو چکا تھا۔وہ عجیب سے انداز میں اپنے قدم پیچھے ہٹانے لگی۔یہ اُس عورت کی دہشت تھی کہ اُس کے بیان کردہ لفظوں کا خوف وہ سر تا پیر پسینہ پسینہ ہوچکی تھی۔

“قصور تمھارا اور جازم کا بھی نہیں ۔تم دونوں کی تربیت کرنے والی کا ہے۔تمھاری تربیت کرنے والی نے محبت او ر نفرت میں کوئی فرق ہی نہیں رکھا ۔اُس نے تمھیں محبت سے نفرت کرنا سیکھائی ہے۔”

ذکیہ بیگم کے خلاف اُن کا کڑوا بولنا جیون کو طیش دلانے لگا۔

“تائی امی بہت اچھی ہیں۔ماں بن کر پالا ہے اُنھوں نے مجھے ۔وہ میرے ساتھ کوئی نا انصافی نہیں ہونے دے گیں۔”

اُس نے سنبھلتے ہوئے ترش لہجے میں ذکیہ بیگم کی حمایت کی تھی ۔

“محبت کی سلیٹ پر نفرت کے حروف لکھنے والے۔۔۔نفرت کے آلے سے محبت کی پیمائش کرنے والے ۔۔۔انصاف کریں گے۔۔۔یہ تمھاری بھول ہے۔۔۔تم وہ دیکھتی ہو جو تمھیں سیکھایا گیا ہے۔۔۔میں وہ دیکھتی ہوں جو سچ ہے۔”

رقیہ ناز کا تلخ اور طنزیہ انداز ایسا تھا کہ وہ بے چین ہو اُٹھی ۔

“مجھے یقین نہیں ہو رہا کہ اپنی ہی بیٹی کے لیے آپ کے دل میں اِتنا زہر ہے،شاید اِس لیے کہ وہ آپ کی سگّی بیٹی نہیں۔”

جیون نے بھرپور اعتماد سے اب اُن پر وار کیا تھا۔

“جو محبت ، انسانیت اور خونی رشتوں سے سوتیلا پن کرتے ہیں وہ سگّے ہوکر بھی سگّے نہیں ہو سکتے۔”

رقیہ ناز کے جواب پر وہ ہکا بکّا سی اُنھیں دیکھتی رہ گئی۔

اُس نے سوچا جا کر یہ باتیں من و عن تائی امّی کو بتادے دے ،مگر رقیہ ناز کے خلاف جانا ایک نیا محاذ کھولنے جیسا تھا ۔اُس کا دل کیا اِس عورت سے لڑے ، اُس سے پوچھے کہ آخر کیوں وہ ذکیہ بیگم سے اِتنا بغض رکھتی ہیں ،مگر اُسے مصلحت سے کام لینا تھا ۔یہاں بات ذکیہ بیگم کے وقار سے زیادہ اُس کی اپنی عزت کی تھی۔

“میں آپ کی اُلجھی باتوں کو نہیں سمجھ سکتی۔اُمید کرتی ہوں کہ آپ مجھے بدنام کرنے کی کوشش نہیں کرے گیں۔”

جیون نے کمزور پڑتے ہوئے ملتجیانہ نظروں سے اُنھیں دیکھا۔

“مجھے ایسا کرنا ہوتا تو میرے کمرے کا دروازہ تمھاری طرف نہیں آنگن کی طرف کھلتا۔میرے سینے میں بہت سے راز ہیں،بہت سی بری یادیں ہیں۔میں چاہتی ہوں تم کوئی بری یاد نہ بنو۔”

رقیہ ناز نے اُسے ترحم بھری نگاہ سے دیکھتے ہوئے کہا اور واپس اپنے کمرے کی طرف جانے لگیں۔

“ایک بات سنتی جائیے ،بہت جلد میں آپ کو اور اُس سیف کو غلط ثابت کردونگی۔”

جیون نے اکڑی ہوئی گردن کے ساتھ اُنھیں ویسے ہی چیلنج کیا جیسے وہ ابھی سیف کو کرکے آرہی تھی۔

“مجھے اُسی وقت کا انتظار ہے ۔میں تمھارے لیے دعا کرونگی۔”

رقیہ ناز نے اُسے دیکھے بنا دھیمے لہجے میں کہا تھا۔

“جازم مجھ سے محبت کرتا ہے ۔۔۔تائی امّی میری فکر کرتی ہیں۔۔۔وہ دونوں میرے اپنے ہیں ۔۔۔آپ جیسے سوتیلے رشتے اور سیف جیسے کمتر لوگ جلد ہی محبتوں کی کامیابی کا مظاہرہ دیکھیں گے۔”

وہ تب تک خود کلامی کرتی رہی جب تک رقیہ ناز اُس کی نظروں سے اُوجھل نہ ہو گئیں۔اُسے اب جلد از جلد جازم سے ملنا تھا اُس کے پاس وقت بہت کم تھا۔

*****

“صرف سیف ہی نہیں۔۔۔وہ بھی جانتی ہیں۔۔۔وہ بھی جانتی ہیں۔”

جیون جازم کو دیکھتے ہی بوکھلائے ہوئے انداز میں بولی۔وہ تیار ہو کر کہیں جانے کے لیے کمرے سے نکلا ہی تھا کہ بے ترتیب سانسیں لیتی جیون سے ٹکرا گیا۔

“کون جانتی ہیں؟ کیا جانتی ہیں؟”

جازم اِس ناگہانی تصادم پر چونکے بنا نہ رہ سکا۔

“رقیہ ناز جانتی ہیں۔تمھارے میرے بارے میں سب کچھ۔”

جیون کے ہونٹوں سے لفظ بمشکل ادا ہوئے۔خوف۔۔۔فکر ۔۔۔شرمندگی سے اُس کی کالی آنکھیں لال ہو رہی تھیں۔

“تمھارا مطلب نانی جان۔۔۔”

جازم نے بے پروائی سے کندھے اچکا کر دوبارہ سے اُس کی بات دہرائی۔

رقیہ ناز کے حکم اور خواہش کے مطابق حویلی کا ہر چھوٹا بڑا فرد اُنھیں رقیہ ناز سے مخاطب کرتا ،مگر جازم کو اکثر اُنھیں نانی جان کہہ کر چڑانے کی عادت تھی۔

“ہاں۔۔۔وہی ۔۔۔تمھاری سوتیلی نانی۔۔۔پہلے سیف کی حمایت کی اور پھر تائی امّی اور اُن کی تریت کے خلاف زہر اُگلا ۔وہ مجھے سمجھانے آئی تھیں کہ اِس حویلی کے لوگ محبت کرنا نہیں جانتے۔ وہ مجھے خوفزدہ کرنے آئی تھیں ،ڈرانے آئی تھیں کہ میرے ساتھ نا انصافی ہوگی، کچھ برا ہوگا۔”

وہ جازم کے ٹھنڈے انداز پر بھڑکتے ہوئے اُسے ہر بات سے آگاہ کرنے لگی۔

“تم نے تو اِس حویلی کو میدانِ جنگ سمجھ رکھا ہے اور ڈر بھی کس سے رہی ہو ایک مخالف زخمی سپاہی سے۔مجھے تم سے اتنی بزدلی اور بیوقوفی کی امید نہیں تھی ۔ایک بوڑھی لاچار عورت کچھ نہیں کر سکتی جیون ۔”

جازم اُس کے خوف سے کانپنے پر اب چڑ سا گیا تھا۔

“محاذ ہی تو کھولا جارہا ہے ہمارے خلاف ۔پہلے اُس نوکر نے اور ا ب رقیہ ناز نے۔بظاہر کمزور دکھنے والے یہ دو لوگ کوئی بھی گہری چال چل سکتے ہیں۔حویلی میں میری بڑی عزت ہے۔ میں نہیں چاہتی کوئی مجھ پر انگلی اُٹھائے جازم۔تائی امّی کو خبر ہوگئی تو میرا سر ہمیشہ کے لیے جھک جائے گا۔”

جیون کے چہرے پر تفکّر اور اندیشوں کے کئی رنگ لہرا رہے تھے۔

“یہ تو تمھیں پہلے سوچنا چاہیے تھا احمق لڑکی۔”

وہ اُس کی بدحواسی سے محظوظ ہوتے ہوئے بے ساختہ ہنسا۔

“کیا مطلب ہے تمھارا ؟ “

جیون اِس انہونی بات پر بری طرح چونکی تھی۔

“ارے مذاق کر رہا ہوں۔ایک گوشہ نشین عورت سے مت گھبراؤ جس کی نہ گواہی کی اہمیت ہے اور نہ فیصلوں کی وقعت اور رہی بات سیف کی تو اُسے اِتنی بری طرح سے مسلا گیا ہے کہ وہ عمر بھر بغاوت کرنے کا سوچے گا بھی نہیں۔”

جازم نے اب اُسے سنجیدگی سے سمجھا کر پُر سکون کر نا چاہا۔

“ہمیں شادی تو کرنی ہے ناں جازم ! تو اب کیوں نہیں؟جلد ہی مجھ سے شادی کرلو۔”

وہ اُس کا ہاتھ تھام کر جذباتی ہوئی تھی۔

“ہوجائے گی شادی بھی ،یہ شادی بس دنیا کو دیکھانے کے لیے ہوتی ہے۔تم ایسے بھی میری ہو جیون اور ویسے بھی۔بھروسہ رکھو! میں تمھیں بے آسرا نہیں چھوڑونگا۔”

جازم نے نرمی سے اُس کے گالوں کو تھپک کر اپنے ساتھ کی امید دلائی۔

“شادی ضروری ہے جازم۔ہم چاہے جتنے طاقتور ہوں یہ بات کھلتے ہی ہزار باتیں بنے گیں۔تم مرد ہو تم سے کوئی سوال نہیں کیا جائے گا،مگر میں ایک عورت ہوں اِس حویلی کے لوگوں اور نوکروں کے سامنے میری عزت سستی ہوجائے گی۔یہ معاشرہ نگل جائے گا مجھے۔مجھے کچھ نہیں پتا ، مجھے جلد ہی تمھارا نام چاہیے۔”

وہ نجانے کیوں کسی ہولناک خیال کے تحت سسک پڑی تھی۔

” silly girl خوبصورت لڑکیوں کو رونا نہیں چاہیے۔ یہ آنسوؤں کی آبشاریں اُن کے حسن کو دھو کر اور نکھار دیتی ہیں۔”

جازم گالوں سے ٹپکتے موتی انگلیوں سے اٹھا کر چومتے ہوئے شریر ہوا۔

“تو پھر مت رلاؤ مجھے ،اِسی مہینے کے اندر اندر مجھ سے نکاح کرلو۔”

جیون محبت کا انداز دیکھ کر اور ضد پر اتر آئی تھی۔

“یقیناً وہ احسان فراموش بڑھیا اور وہ خبیث نوکر اپنی چال میں کامیاب ہو چکے ہیں۔آخر اُنھوں نے تمھارے دماغ میں یہ خرافات ڈال ہی دی ہیں۔”

جازم کا شہد ٹپکاتا لہجہ یکدم کڑوا ہونے لگا۔

“تمھیں کیا لگتا ہے میں اُن کے بہکاوے میں آگئی ہوں۔یہ شادی ضروری ہے جازم۔میرے سکون کے لیے، میری عزت کے لیے ۔اِس رشتے کو خرافات کہہ کر اِس کی بے حرمتی مت کرو۔اِس رشتے سے تو ہر تعلق مضبوط اور مقدس ہو جاتا ہے۔”

جیون نے اُس کی بات کا برا مناتے ہوئے خفگی سے کہا ۔

“اچھا کہہ دیا ناں! تمھاری شادی جلد ہی ہوگی۔کل مجھے تین دن کے لیے شکار پر جانا ہے واپس آکر میں امّی جان سے بات کرونگا۔”

جازم نے اُس پاگل لڑکی سے مزید بحث نہ کرتے ہوئے بات ختم کرنا مناسب سمجھا ۔

“سچ!”

اُس کا یہ کہنا گویا جیون کے اندر نئی روح پھونک گیا ۔وہ جھومتی کھلکھلاتی ہوئی اُ س کے سینے سے لگ گئی تھی۔

*****

“میں نے قسم اُٹھا کر کہا وہ تمھیں دھوکہ دے گا۔۔۔

“میں نے تمھیں آگاہ کیا کہ وہ محبت کے خوبصورت جذبے سے ناواقف ہے۔۔۔

“میں نے تمھاری منت کی تھی اِس راہ کی مسافر مت بنو۔۔۔

“میں نے تمھارے آگے ہاتھ باندھے اپنی آنکھوں کو کھولو۔۔۔

“میں تمھارے آگے جھکا تھا کہ اپنا وقار بلند رکھو۔۔۔

“میں تمھارے سامنے رویا بھی کہ تم مسکراتی رہو۔”

اِس پورے ہفتے میں وہ جتنی بار بھی سیف سے ٹکرائی اُس کی سوجھی ہوئی آنکھوں میں اِنھی باتوں کا بیان تھا۔ شاید وہ اُس کے چہرے پر وہ فتح دیکھنے کا منتظر تھا جس کے دعوے جیون دھڑلے سے کر کے گئی تھی۔۔۔شاید وہ اُس خبر کو سننے کے لیے بے تاب تھا جسے سننے کی اُسے امید تک نہ تھی۔ہر روز لمحہ لمحہ پیچھا کرتیں سیف کی بولتی اداس آنکھیں جیون کے اندر کی بے سکونی مزید بڑھانے لگیں۔ کئی بار اُس کا دل کیا جواب طلب کرتی ،افسوس مناتی ،احسان جتاتی آنکھوں کے سوالوں کو کھری کھری سنادے،مگر وہ اب زباں سے نہیں اپنے عمل سے اُسے نیچا دیکھانا چاہتی تھی۔

بعد مدت مجھے نیند آئی بڑے چین کی نیند

خاک جب اُوڑھ لی اور خاک بچھالی میں نے

وہ ہرے بھرے پودوں کے پاس پڑی خشک مٹی پر سر جھکائے بیٹھا تھا۔خاک سے بنے انسان کو کبھی کبھی خاک سے ہمکلا م ہونا چاہیے۔اپنے وجود کی خاک کو زمین کی خاک سے ملنے دینا چاہیے۔اِس مٹی کو محبت سے دیکھ کر چھو کر بتانا چاہیے کہ یہ جسم اُس کا حصہ ہے اور اپنے وجود کو بار بار یہ باور کرانا چاہیے کہ یہ مٹی اُسی کی سانجھی ہے، مگر ایسا ہر شخص نہیں کر سکتا ،ایسا وہی کر سکتا ہے جس نے زندگی کو ریت کی طرح ہاتھ سے پھسلتے ہوئے دیکھا ہو ۔اُن تین دنوں کی اذیت نے اُس کے دل میں اِس مٹی کی قدر و قیمت بڑھا دی تھی ۔وہ آج اِس مٹی سے کئی باتیں کر نے آیا تھا۔مٹی سے بنے اِنسان کے غرور پر ماتم منانے آیا تھا۔وہ مٹی کے پتلوں کی شیطانی چالوں پر حیران تھا جو عارضی لذت کے لیے سگے رشتوں کا لہو چوس رہے تھے۔وہ جازم کا اپنا ہو کر بھی غیر تھا،مگر جیون؟ جیون تو جازم کی اپنی تھی ،اُس جیسی تھی،اُس کی تھی۔اپنے ہی ہاتھ کے پالے کھلائے پرندوں کا شکار کون کرتا ہے ؟اور لوگ کرتے ہیں وہی لوگ جو بدفطرت اور سفاک ہوتے ہیں۔سیف نے بند آنکھوں کو اور سختی سے بند کیا اور پھر کھول دیا۔اب اُس کی نگاہ آسمان کی طرف اُٹھی ہوئی تھی اور دونوں ہاتھ ہوا میں بلند تھے۔

“میری دعا ہے اِن اداسیوں کی ہوا اپنا رخ بدلے ۔۔۔پچھتاوے کی خزاں اِس آنگن میں نہ اُترے۔۔۔ تم کبھی بھی بے وفائی کی دھوپ میں نہ جلو۔۔۔کبھی آنسوؤں کی بارش میں نہ بھیگو۔۔۔محبت اور مان کا موسم تمھارے آس پاس مستقل ٹھرے۔۔۔میری دعا ہے تم ستاروں سی روشن رہو ۔۔۔گلابوں جیسی شاداب رہو۔۔۔تم کبھی نہ تڑپو ۔۔۔کبھی نہ بکھرو۔”

سیف اُس دیوانی لڑکی کے چہرے کو دیکھ دیکھ کر دعائیں مانگ رہا تھا جو حویلی کے بالائی حصے پر واقع جازم کے کمرے کے سامنے گم سم سی کھڑی تھی جس کے چہرے پر انتظار کی تڑپ تھی جس کی آنکھوں میں اعتبار سلامت تھا۔وہ کچھ دیر اُس کی منتظر آنکھوں کو دیکھتا رہا اور پھر سے سر جھکا کر بیٹھ گیا۔

“اور جو تم ٹوٹ گئی ،بکھر گئی جیون تو کون سمیٹے گا تمھیں ؟ کون سنبھالے گا تمھیں ؟ میرا تو اتنا بھی حق نہیں کہ تمھارے آنسو صاف کر سکوں گا؟ “

دعا ختم ہوئی تو کئی وہمے سر اُٹھانے لگے۔اُس نے سر جھٹک کر ایک بار پھر اوپر دیکھا۔وہ ابھی تک وہی کھڑی تھی۔وہ جانتا تھا وہ کیوں وہاں کھڑی ہے ،مگر وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ ہمیشہ وہاں کھڑی رہے۔ جازم کو شکار پر گئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا ۔وہ روز صبح دوپہر شام اُس کے کمرے کے سامنے آکر کھڑی ہو جاتی اور سیف چھپ چھپ کر اُسے تکتا رہتا۔وہ اپنے محبوب کی سلامتی کی دعائیں مانگتی تو سیف اپنے محبوب کی خوشی کی دعا کرتا۔وہ وہاں جازم کی خوشبو محسوس کرنے آتی تو سیف وہاں اپنی زندگی کو محسوس کرنے آتا۔وہ دونوں الگ کشتی کے مسافر تھے۔الگ دنیا کے لوگ تھے۔الگ جہاں کے پریمی تھے جو اپنے اپنے حساب سے محبت کو نبھا رہے تھے ـ *****

تمام جسم کو آنکھیں بنا کے راہ تکو

تمام کھیل محبت میں انتظار کا ہے

انتظار ہوتا ہی کیا ہے؟ اضطراب کی کیفیت۔۔۔الجھن کا سلسلہ۔۔۔اندیشوں کی کڑی ۔۔۔بے سکونی کا موسم ۔۔۔کوفت کا معاملہ۔انتظار کے دریا میں اُس نے ایک ایک لمحہ ہی نہیں کئی آنسو بھی بہا دیے۔ ۔۔تین دن کا وعدہ دو ہفتوں کے انتظار کے بعد وعدہ خلافی بن چکا تھا۔۔۔ پہلے وہ اُس کی خیر کی دعائیں مانگتی رہی ،اُس کے انتظار کی لذت کو محسوس کرتی رہی ،مگر اب اُسے اِس بے مروتی اور لاپروائی پر شدید غصہ آرہا تھا۔۔۔جازم نے اُس سے رابطہ کرکے نہ اُس کی خیریت پوچھی ۔۔۔نہ اپنی خیریت سے آگاہ کیا ۔۔۔۔نہ اُس کے کسی پیغام کا جواب د یا۔۔۔ نہ حویلی میں اپنے دیر سے آنے کی اطلاع بھیجی۔

“نجانے تائی امّی کیسی ماں ہیں ؟ جنھیں اپنے بیٹے کی اِن آزاد حرکتوں پر کوئی اعتراض تک نہیں ۔اُنھی کی ڈھیل کی وجہ سے وہ اِس نہج پر چل رہا ہے ۔وہ کیا سمجھتا ہے میں کوئی عام لڑکی ہوں۔ وہ اپنے قول و فعل سے مکرے گا اور میں بےچاری محبوبہ کی طرح ہنس ہنس کر یقین کر لونگی۔آنے دو اُسے اِس بار کوئی محبت کی بات نہ ہو گی۔اِس بار بس جنگ ہوگی۔ شادی کے بعد جناب کے سارے فضول شوق ختم نہ کرا دیے تو میں بھی جیون حیات نہیں۔”

اُس نے تند مزاجی سے جازم کے خالی کمرے کو چار سنائیں اور پھر اپنے کمرے میں آکر بند ہو گئی۔

اگلے روز ہر پھول کلی کی خبر رکھنے والی کو پتا چل ہی گیا کہ چمن کا شہزاد ہ آچکا ہے ۔جازم کو حویلی میں آئے چار گھنٹے گزر چکے تھے ،مگر وہ ضد پکڑے بیٹھی رہی کہ وہ خود آکر اُسے منائے گا۔صبح کی ضد دوپہر تک غصّے میں بدلی شام کو بے بسی میں ڈھلی اور پھر رات کو آنسوؤں میں بہہ گئی، لیکن جازم نے یہ معلوم کرنے کی کوشش تک نہیں کی کہ جیون کہاں ہے۔ وہ اُس کی سنگدلی پر احتجاج کرنا چاہتی تھی ،مگر دلِ ناداں کب سمجھنے والا تھا۔ تڑپ کی آگ پورے کمرے میں پھیل گئی تو اُسے انا کا دریا پار کرنا ہی پڑا۔

“میں اندر آسکتی ہوں ؟”

وہ دروازے پر منہ بسورے اجنبیوں کی طرح پوچھ رہی تھی۔وہ اُس وقت اُس بچے کی طرح ناراض تھی جس کا کھلونا ٹوٹ گیا ہو ۔

“بلکل نہیں جیون ! اِس وقت میں سخت پریشان اور مصروف ہوں۔”

جازم نے مڑ کر دیکھے بنا رکھائی سے جواب دیا۔اِس روکھے اور اجنبی رویے پر جیون کے اندر کی آگ مزید بھڑکی جسے اُس نے کچھ دیر پہلے پرسکون کیا تھا ۔

“تم اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہو؟ تین دن کا کہہ کر دو ہفتوں بعد آئے ہو۔ ۔۔نہ مجھے کال کی ۔۔۔نہ میرے کسی مسج کا جواب دیا ۔۔۔ اور تو اور واپس آکر یہ پوچھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی کہ میں زندہ ہوں یا مر گئی ۔”

ہ اب کمرے میں داخل ہو کر تیوریاں چڑھاتے ہوئے استفسار کررہی تھی ۔ اُس نے جازم کی گود میں رکھے سارے کاغذ ہوا میں اُچھال دیے ۔اُس کا ہر انداز حق جتانے والا تھا۔

“کیا بدتمیزی ہے یہ ؟ تم میری بیوی نہیں ہو جو یوں بازپرس کرو گی۔میری مرضی میں جب چاہے جہاں جاؤں، جتنے دنوں کے لیے جاؤں۔میں تمھیں یا کسی کو بھی بتانے کا پابند نہیں ہوں۔”

جازم آگ بگولہ ہوتے رعونت اور بے زاری سے چلایا۔

“میں سب پوچھنے کا حق رکھتی ہوں ۔ہماری شادی ہونے والی ہے۔”

جیون نے بے عزتی کے گھونٹ حلق سے نیچے اتارتے ہوئے کمزور لہجے میں مان سے کہا تھا۔

“شادی ۔۔۔ شادی ۔۔۔ابھی وقت ہے اِس شادی میں۔۔۔میں یہاں بہت سے مسائل کا شکار ہوں۔ابّا جان کا کاروبار آگے بڑھانا ہے ۔۔۔اگلے کچھ مہینے الیکشن کے ہیں۔۔۔تمھارے ساتھ وقت گزارنے کے علاوہ بھی میری بہت ساری ذمہ داریاں ہیں۔۔۔ایک سمجھدار اور پریکٹیکل لڑکی بنو۔”

جازم کی آواز کا کھردرا اور بیگانہ پن اُس کے دل میں پھانس کی طرح چبھ گیا۔

“مگر جازم ہماری شادی ؟ تم نے کہا تھا جلد ہماری شادی ہوگی۔”

وہ منہ کھولے حیرانی اور کرب سے وہی باتیں دہراتے ہوئے رو پڑی۔

“پلیز چپ ہو جاؤ! میں یہی عرض کر رہا ہو ں جان ! مجھے کچھ مسائل کو حل کرنے دو ،پھر تمھاری ایسی شاندار شادی ہوگی کہ پوری حویلی دنگ رہ جائے گی۔”

اُس کے آنسو جازم کے لہجے کو نرم اور دل کو موم کر گئے تھے ۔وہ اپنی مجبوریوں کا سہارا لیتے ہوئے مصنوعی محبت سے کام لینے لگا۔ فلوقت اِس جذبا تی لڑکی سے پیچھا چھڑانے کا اُسے یہی راستہ نظر آیا۔

“اِسی ماہ۔۔۔۔”

جیون نے بجھی بجھی آواز میں تصدیق چاہی ۔

“ہاں اِسی ماہ ۔۔۔”

جازم نے سابقہ لہجے میں وثوق سے کہا۔

وہ پھیکے سے انداز میں مسکرائی ۔بے عزتی کی بارش کے بعد پیار کے اِن چند قطروں کی کوئی اہمیت نہ تھی ۔ڈوبتے دل کے ساتھ وہ دروازے کی طرف بڑھی ، مگر اُس کی امید کے باوجود اُسے روکا نہ گیا۔

*****

“جازم تم ایسے تو نہیں تھے۔۔۔

تمھارا رویہ کتنا بدل گیا ہے ۔۔۔

تم نے کبھی مجھ سے اِس لہجے میں بات نہیں کی۔

آج کچھ پل کے لیے ہی سہی تم نے میرا دل دکھا دیا۔۔۔

کہیں تمھارے دل میں کچھ اور تو نہیں ہے ۔۔۔

نہیں۔۔۔نہیں ۔۔۔نہیں جیون۔۔۔یہ اُس معمولی نوکر کی سازش ہے ۔۔۔

وہ ہم دونوں کو لڑوا کر تماشا دیکھنا چاہتا ہے۔۔۔

وہ اپنی کم حیثیت کا انتقام لینا چاہتا ہے۔۔۔

میں اُسے منہ توڑ جواب دونگی۔۔۔

جازم کے بارے میں غلط نہیں سوچو ں گی۔۔۔

اگر ایسا کچھ ہوتا تو وہ شادی کے لیے حامی نہ بھرتا۔۔۔

ہماری محبت عظیم تھی اور عظیم رہے گی۔۔۔

میں کتنی پاگل ہوں اُس سیف کی فضول اور بے معنی باتوں کو سوچ رہی تھی۔۔۔

وہ نوکر ہے چھوٹی سوچ بونے قد والا نوکر ۔۔۔”

اُس نے سب منفی خیالات جھٹک کر دل ہی دل میں سیف کو برا بھلا کہا ۔ابھی وہ اِن باتوں کے اثر میں تھی کہ دور سے سیف آتا دیکھائی دیا۔اُس نے حقارت سے توڑی ہوئی کلیاں نیچے پھینک کر کھوسے کی نوک سے مسلیں اور اُس کے قریب آنے کا انتظار کرنے لگی۔

سیف نے ابھی تک کئی دنوں کا میلا کرتا پہن رکھا تھا ۔جس پر جابجا لگے خون کے دھّبے خشک ہو چکے تھے ،مگر اُس کے دل اور روح پر لگے زخم ابھی تک تازہ تھے۔اُس کا چہرہ فکر میں ڈوبا ہوا تھا تو پاؤں مٹی سے بھرے ہوئے۔اُس کی حالت کسی مجنوں سے کم نہ تھی ۔ایک ایسا مجنو ں جو لیلی کو پانے کا نہیں ، خوش دیکھنے کا خواہشمند تھا۔

“کس قدر بدبو آرہی ہے تم سے ۔تممھاری سوچ جتنی غلیظ ہے تمھارا حلیہ اُس سے بھی زیادہ۔”

وہ قریب آیا تو جیون غصّے سے کھولتے ہوئے کچھ قدم پیچھے ہٹی۔

“یہ لباس یادگار ہے یہ زخم سچائی کی لڑائی میں لگے ہیں۔یہ دھبّے تب تک نہیں دھلے گے جب تک تم جیت نہیں جاتی۔”

وہ دل گیر انداز میں ایسے بول رہا تھا جیسے ذہنی توازن کھو بیٹھا ہو۔

“مجھے لگتا ہے تمھارے دماغ پر کچھ زیادہ گہری چوٹ لگی ہے ۔”

جیون نے دانت پیستے ہوئے اُس کا تمسخر اُڑایا۔

“صرف دماغ پر نہیں ،دل پر بھی ۔یہ لباس میں اُس دن اُتارو ں گا جب تم سُرخ جوڑا پہنو گی۔بتاؤ وہ مبارک گھڑی کب ہے ؟”

وہ خون کے دھبّوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بے خوف ہو کر بولا۔

“کیوں کر رہے ہو یہ بکواس ؟ کیا مقصد ہے اِس جھوٹی پرواہ کا؟ انسان ہو یا جانور؟ کیوں میری خاطر خود کو اذیت دینے پر تلے ہو؟۔”

جیون نا چاہتے ہوئے بھی اُس کی معنی خیز باتوں کا مفہوم تلاش کر نے لگی تھی۔

“کیوں کہ تم میرے بچپن کی دوست تھی۔پھر تم دونوں نے مجھے اپنی دوستی سے محروم کر دیا۔ یاد کرو! بچپن میں جب تمھاری پونیاں اور کھلونے توڑ دیے جاتے تو میں جازم کو سمجھاتا تھا ۔پھر تمھار ے دل کا ٹوٹنا کیسے برداشت کروں۔میں اپنی دوستی نبھاتا رہوں گا۔”

اُس نے جیون کے توہین آمیز الفاظ کا جواب نرمی او ر احترام سے دیا تھا۔

“نہیں چاہیے مجھے تمھاری سستی دوستی ۔۔۔میرے معاملات میں ٹانگ اڑانا چھوڑ دو۔۔۔رہی بات اُس مبارک گھڑی کی تو وہ جلد آنے والی ہے۔۔۔جلد ہی میری اور جازم کی شادی ہے ۔۔۔تمھارے منہ پر طمانچہ پڑنے والا ہے۔”

جیون نے اُس کا خلوص روندتے ہوئے زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ اپنی شادی کا جیسے اعلان کیا۔

مبارک ہو جیون۔۔۔بہت مبارک ہو۔۔۔بہت مبارک۔”

وہ آسودہ مسکراہٹ کے ساتھ پیچھے قدم ہٹانے لگا۔

جیون نے اُسے عجیب الجھی نظروں سے دیکھا ،کیونکہ اُس نے ایک بار نہیں کئی بار مبارک دی تھی۔

*****

“نفرت ہے مجھے باغی لڑکیوں سے ۔۔۔حد درجہ نفرت ! تم جیسی سرکش لڑکیاں زندگی کو محاذ سمجھتی ہیں اور موقع ملتے ہی رشتوں کے مقابل آکھڑی ہوتی ہیں۔۔۔تم جیسی گستاخ لڑکیاں مردوں کے حواس پر سوار ہوکر اُن کے سر پر ناچتی ہیں اور پھر دا لگتے ہی اُن کا سر جھکا دیتی ہیں ۔۔۔تم جیسی نا شکری لڑکیاں پہلے عیش و عشرت کی طلبگار ہوتی ہیں اور جب سب کچھ مل جاتا ہے تو ناقدری کرتی ہیں۔۔۔تم جیسی نافرمان لڑکیاں پیار محبت عزت کے لیے ترستی ہیں اور پھر اپنی بری فطرت سے اِن سب جذبوں کو اپنے قدموں تلے روند دیتی ہیں۔”

وہ اُسے اپنے لفظوں اور ہاتھوں سے چوٹ پہنچاتے ہوئے غصّے اور غضب سے دھاڑ رہا تھا۔

“بتاؤمجھے ! تمھاری ہمت کیسے ہوئی؟ اِس حویلی کی چوکھٹ پھلانگنے کی۔اِس حویلی کی آن سے کھیلنے کی۔تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ تم میری شان و شوکت کا جنازہ نکال کر جنت پا لو گی؟ تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میرا نام ڈبو کر تم نئی پہچان بناؤ گی ؟تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ تم میرے گلے میں ذلت کا پھندا ڈال کر خود عزت سے سانس لو گی ؟”

بھاری بوٹوں سمیت اُسے اتنی زور سے ٹھوکر ماری گئی جیسے وہ کوئی بے جان چیز ہو۔

صاحبہ کے ہونٹوں سے ایک دردناک چیخ بلند ہوئی اور وہ قالین پر گول گول گھومتی ہوئی دور جا گری ۔وہ چند ثانیے اُسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتا رہا اور پھر بار بار وہی حرکت دہرا نے لگا ۔اب کی بار کمرے میں کئی چیخیں گونجیں جنھوں نے بند دروازے کی ہر حد کو پار کیا تھا،مگر اُسے شاید کسی کی بھی پرواہ نہیں تھی۔ اُس نے مزید جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صاحبہ کو بالوں سے پکڑ کر بیڈ پر گرایا اور الماری کی طرف بڑھ گیا۔جنونی انداز میں الماری کی ایک ایک چیز فرش پر پٹخ دی گئی تھی۔آخر کچھ دیر بعد اُسے اپنی مطلوبہ چیز مل ہی گئی۔صاحبہ کی آنکھیں خوف سے بند ہونے لگیں ،کیونکہ وہ آج درندگی کی ہر حد پار کرنے والا تھا ۔

“مت مارو مجھے۔۔۔ خدا کے لیے مت مارو مجھے۔۔۔مجھے بہت درد ہورہا ہے۔۔۔بہت درد ہو رہا ہے ۔۔۔خدا کے لیے رک جاؤ ۔۔۔مت مارو مجھے ۔”

صاحبہ روتے اور التجا کرتے ہوئے ہر ضرب کے بعد پاؤں گھسیٹ کر پیچھے ہوجاتی اور وہ اتنی ہی شدت بھری نفرت سے اُس کی طرف بڑھتا۔

“میرے گلے میں بدنامی کا طوق ڈال کر بھاگنے والی تھی تم ،اِس شرمندگی کی تکلیف سمجھتی ہو ؟میرے رتبے کی دھچّیاں اُڑانے والی تھی تم،اِس بے عزتی کا قلق جانتی ہو؟ دل کرتا ہے اِن پیروں کو توڑ دوں، جن کے سہارے چل کر تم نے میرے اعتماد کو توڑا ہے۔”

چمڑے کی بیلٹ سے صاحبہ کے سفید خوبصورت پیروں کو زخمی کر دیا گیا تو وہ تکلیف سے سسکنے لگی تھی۔

“تم بھاگ جا تی تو میری مردانگی پر سوال پیدا ہوتے ،میرے وقار پر انگلیاں اُٹھتیں ،مجھ پر ہر زبان تھو تھو کرتی ،ہر نگاہ لعنت بھیجتی۔”

وہ اُس کا نازک گلہ دباتے ہوئے وحشی پن کی حد کو چھونے لگا تھا۔

“معاف کردو مجھے۔۔۔ پلیز معاف کردو۔۔میں وعدہ کرتی ہوں۔۔۔ میں پھر ایسا نہیں کرونگی۔۔۔چھوڑ دو مجھے۔۔۔رحم کرو۔۔۔چھوڑ دو مجھے۔ “

وہ دبی دبی آواز میں اُس کے دونوں ہاتھوں میں مچھلی کی طرح تڑپتے ہوئے رحم مانگ رہی تھی ۔

” تم جیسی لڑکیاں کچھ وقت کی محبت اور دو دن کی آزادی کی بھی حقدار نہیں۔سہو !اب یہ درد اور سڑو اِسی کمرے میں۔”

ایک زناٹے دار تھپڑ اُس کی آواز سے بھی زیادہ بلند ہوا تھا۔

وہ صاحبہ کے نیلے پڑتے جسم پر چمڑے کی بیلٹ پھینک کر کمرے سے باہر نکل گیا ۔ اُس کے جسم پر پڑنے والی ضربیں اتنی سخت تھیں کہ وہ اپنے وجود کو سمیٹ کر کئی گھنٹے بلبلاتی ر ہی۔اُس نے بیڈ کی چادر کو مٹھی میں سمیٹ کر آنسوؤں کا ایک سیلاب بہادیا ۔آج اِس شخص کے لیے اُس کے دل میں محبت کا کچّا دھاگہ بھی ٹوٹ گیا تھا۔آج وہ پوری طرح سے بکھر گئی تھی۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.