آج موسم کا حال رہنے دو______عظمی طور

نہ پوچھو مجھ سے کہ میں
کیسی ہوں
نہ اپنا ہی حال کہو کچھ
نہ تولو میری باتیں
نہ یہ سوچو کہ تم کب اور کس وقت یہاں سے اٹھ کے جاؤ گے
نہ یہ سوچو کہ میں نے تمھارے بن جو وقت گزارا ہے میری آنکھوں میں کتنا اترا ہے
کہ ان آنکھوں کے گرد بنے یہ سایے
کتنے گہرے ہونے لگے ہیں
نہ سوچو نہ یہ پوچھو
کہ میں جب بولتی ہوں تو
ہر جملے کے اختتام پر کیوں ماتھے سے اپنی پوریں رگڑتی ہوں
میں کیوں ایسی بھلکڑ ہوں
نہ سوچو کہ کتنے دنوں کی بھوکی ہوں
اور کب سے میرے لبوں نے
کسی لفظ کو خود پر سے پھسلتے نہیں دیکھا
ان پپڑیوں کی کہانی پھر کبھی جان لینا
مرواتاً جو نظریں ملاتے ہو
تو آج رہنے دو
پھر کبھی
میری مچلتی آہ سے
میری خود سے اپنے آپ سے الجھتی انگلیوں
کو جانچ لینا
آج رہنے دو
کہ میں نے
آج
بہت دن سے لکھی اک نظم کو
تصویر کرنا ہے
اس اک نظم کو حقیقت بنانا ہے
کہ اس نظم میں تم مسکراتے
سامنے اس سرخ کاؤچ پہ بیٹھے تھے
اور میں جو کچھ دیر پہلے چائے کی دو پیالیاں
لے کے آئی تھی
ہمارے درمیان رکھی ہیں دونوں
ایک تمھارے سامنے
اک میرے سامنے ہے
اور دیکھو کہ آج یہ دونوں چائے کی پیالیاں
بھاپ اڑاتی ہیں
گرم ہیں اب تک
انھیں ہم نے کئی بار باتوں کے درمیان
ہونٹوں سے لگایا ہے
آج تمھاری آنکھ میں اجنبیت نہیں ہے
نہ ہی میں کسی الجھن میں پھنسی
اپنی انگلیاں چٹخاتی ہوں
یہ ملاقات نظم میں مکمل ہے
سو آج تم مجھے موقع دو
کہ مجھے بہت دن پہلے لکھی اک نظم کو
حقیقت کا روپ دینا ہے __

_____________

شاعرہ:عظمیٰ طور

کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.