سنو_________عظمی طُور

سنو!
ذرا تم اس کے دیکھ کر آؤ
میرا دل بڑا بے چین رہتا ہے
وہ کسی سے کچھ کہتی بھی تو نہیں ہے ناں
تم سامنے سے دیکھو گے تو
کبھی نہ جانچ پاؤ گے
کہ اس پتھر چہرے کے پیچھے چھپی آنکھ سے جو آنسو بہتے ہیں
وہ دل میں دراڑیں بناتے ہوئے
روح تک پہنچتے ہیں
سنو تم زرا اس کو دیکھ کر آؤ
تو دیکھنا کہ
کیا اب بھی وہ اپنے ہاتھوں کے کرب میں زندہ ہے؟
کیا اب بھی سب اسکی کھوکھلی ہنسی پر اعتبار کرتے ہیں؟
کیا اب بھی اسکی نم آنکھوں کا کوئی نوٹس نہیں لیتا؟
سنو !
تم اس کو دیکھ کر آؤ
تو بولتے جانا
اور یہ بھی دیکھنا
کہ کیا اب بھی تمھاری بات سنتی ہے
یا پھر اپنی آپ بیتی
بیکار میں کہے جاتی ہے؟
کیا اب بھی اسے دل کی بات کرنے سے رغبت ہے؟
کیا اب بھی محبت کے ذکر پر
اسکی آنکھیں چمکتی ہیں؟
کیا اب بھی جب کوئی کسی اپنے کی چاہ رکھتا ہے
تو وہ زیرِ لب مسکراتی ہے؟
سنو!
تم اس کو ذرا دیکھ کر آؤ
میرا دل کہتا ہے
کہ بہت دن کے بعد وہ آج پھر تنہا ہے __!!!

________________

شاعری:عظمیٰ طور

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.