قلم کا جنم__________7

رابعہ بصری

شاعرہ۔

بانیYWWF Islamabad

**********************.

میری انگلیوں کے بخت کا یاقوت مجھے اس سمے ملا جب زہریلے خواب نے میرا بدن نیلا کردیا تھا. میرے لئے کوزہ گروں کو چاک گھمانے کا کشٹ نہیں کرنا پڑا میں خود بنی ۔۔بننے کے اس سفر میں کئی بار بِکھری ، ٹوٹی لیکن جھکی نہیں محبت فاتحِ عالم تصور کرکے نکلی اور سوچا جتنی محبتیں بانٹوں گی اس سے بڑھ کے ملیں گی لیکن شاید اوپر والے نے سچ آشکار کرنا ہی تھا اتفاق یہ ہوا کہ محبتوں کے سفر میں وہاں سے پلٹی جہاں سے ایک نئی دنیا بسانی اور بنانی تھی کہ ملاوٹ خواہ کسی بھی رشتے میں ہو ، قبول نہیں۔

یادوں کا ملبہ اٹھانا سہل نہیں کاسنی منظر یونہی زیست کا حاصل نہیں ہوتے ہجر پتھر بھی کردیا کرتا ہے اور جو ہجر مجھے لاحق ہے اس کا مداوا نہیں یہ ہے بھی لامتناہی ۔۔ کوئی آسرا بھی نہیں کہ اِس دنیا میں ان جانے والوں سے مل پاوُنگی انکو چھو پاوُنگی انکو اتنی دیر تک دیکھتی رہی ہونگی کہ ایک ایک نقش خود میں جذب کرلونگی۔

میں ان گلیوں سے بارہا گزری ہوں پرانے گھر میں کئی کئی گھنٹے تنہا بیٹھی ہوں جہاں سے جانے والوں کی خوشبو آتی اب بھی آتی ہے ۔۔ بہت سے مناظر ان آنکھوں نے سمیٹے ہیں ایک چھوٹی سی بچی دو پونیاں باندھے کبھی اپنے بابا کے کاندھوں پر جھولتی دِکھی اور کہیں انکی انگلی تھامے مسلسل بولتی انکے ہمراہ چلی جارہی ہے ۔۔ چہرے پہ سکون اور معصومیت کے سِوا کچھ نہیں ۔۔”سب اچھا ہے , سب اچھے ہیں” والا سبق دہراتی کہ ماں اور بابا نے یہ احساس جیسے گھٹی میں گھول کے پلایا ہوا تھا لیکن چند قدم طے کئے بابا کی انگلی ہاتھ سے چھوٹی تو یہ جانا سب اچھا نہیں ہے سب اچھے نہیں ہیں ۔۔ماں ، کا آنچل تھام کے آگے بڑھی تو جانا زیست ہرگز سہل نہیں ۔۔”زندگی میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے ” قسم کھالی کہ ماں کی اس ایک نصیحت کو پلو سے باندھے رکھنا ہے ۔۔” ایک چھوٹی سی سات سال کی بچی جو تقریر کو گئی اور پرنسپل نے اپنی کرسی پر کھڑا کیا کہ اب بولو بیٹا ۔۔اس دن جس گرج سے بولی لہجے میں وہی گرج آج بھی ہے ( فورم کی بچیاں گواہ ہیں ) 😂 اس کے بعد تقاریر ہوں یا بیت بازی یا شاعری نیشنل لیول کے سبھی مقابلوں میں اپنی عمر اور گریڈ سے بڑے لڑکیوں اور لڑکوں کو ٹکر دے کے ٹرافی پہلے اسکول ، پھر کالج اور یونیورسٹی لے کے آتی رہی ۔۔ بیس سال کی عمر میں تین کتابیں اور سولہ سال سے ایف ایم ریڈیو ، یہ اعزاز اپنی محنت اور محبت کرنے والوں کے حوصلے سے حاصل کیا ۔۔

میں نے اپنے حصے کے بہت سے پھول بانٹ دیئے بہت سی خواہشوں کا خون کیا وہاں شکر کیا جہاں صبر مشکل تھا یہ ہرگز میرا کمال نہیں بابا اور ماں جی کی محبتوں کا اثر تھا ۔۔ میں باخبر تھی کہ دوستوں پر کی گئی عنایات کا کوئی صلہ کچھ اجر مل نہیں پائے گا پھر بھی نہ ہاتھ روکا نہ ساتھ چھوڑا ۔۔ دوستوں کو فائدہ نہ دے سکیں تو دوستی کیا ۔۔ ہے نا ؟

غمِ ہجراں کے کئی موسم گزارنے کے باوجود آج بھی کسی کے بچھڑنے کا سوچتی ہوں تو روپڑتی ہوں ۔۔اشک تو جیسے دہلیز پہ دھرے ہوئے ہیں اسی لئے ایک غزل میں یوں گویا ہوئی۔۔

کٹوروں کو چھلکنے کا بہانہ چاہیے تھا

یہ وہ ٹیسیں ہیں جن کو تازیانہ چاہیے تھا

اسے بھی چاہیے تھِیں تازہ قربت کی ہوائیں

مجھے بھی کچھ بدلنے کا بہانہ چاہیے تھا

سچ بولوں میں ہنستے ہنستے روپڑتی ہوں اور روتے روتے ہنس بھی دیتی ہوں۔ دکھ کسی کا بھی ہو خود پر بیتا لگتا ہے ۔۔

ہر ہفتے کی صبح جب اپنے دونوں بھائیوں کی منتظر ہوتی ہوں اور وہ نہیں آتے (کیسے آئیں وہاں جاکے کوئی پھر سے آتا ہے بھلا )بابا اور بھائی، میرےآسماں سے آپ کے التفات کی کہکشاں یوں رُوٹھی کہ آپ کی لاڈو، آپکو تاعمر دیکھنے کو ترس گئی جِن آنکھوں میں آپ ہلکی سی نمی سہہ نہیں پاتے تھے اب یہ اکثر چھلک پڑتی ہیں ۔۔بابا ، وہ بچی آج تعارف کی ابتداء سے ہی بہت یاد آئی جسے آپکے محنت و مشقت سے اٹے پسینے سے بھیگے لباس میں بھی بھینی بھینی خوشبو آیا کرتی تھی۔۔ جس کا پسندیدہ ترین کام “نونہال ” اور “بچوں کی دنیا” پڑھنا ہوتا جس کا فیورٹ کردار “ایکسٹو” تھا جسے وہ اپنے سیدھے سادے بابا میں ڈھونڈتی امی کی ڈھیر ساری شکایتیں اکٹھی کئے شام کا انتظار کرنے والی بچی ، کہ کب آپ آئینگے اور کب بابا کی سماعتیں جانینگی کہ امی نے ڈانٹا ، امی نے روکا ، امی نے ٹوکا ۔۔۔ اب یہ سوچوں بھی تو آنکھیں چھلک پڑتی ہیں کہ ایسے سکون سے مسکراتے چہرے کے ساتھ گِلے سننا والا بھی کوئی نہیں اور اب تو امی آپ کے بعد ڈانٹنا بھی بھول ہی گئی ہیں، ٹوکتی ہی نہیں بلکل ۔۔

بابا ، ہمیشہ باوضو رہنے والی اور رومال پہنے رکھنے والی عادت وہاں بھی قائم ہے ؟ وہاں پرندوں کو باجرہ اور دانہ ڈالنے کی ضرورت پیش آتی ہے ؟ ایک بات بتاوُں ، آپکا پاسپورٹ اور وہ سرخ دھاریوں والا رومال آج بھی میرے پاس ہے جب بہت زیادہ یاد آتے ہیں تو انہیں چُوم لیتی ہوں آپکے وِچھوڑے نے بتایا کہ اپنوں سے بچھڑنا کیا ہوتا ہے وہ بھی ایسا اپنا کہ جس نے کبھی آپکو زمانے کی ہوا تک نہ لگنے دی ہو.. بابا آج جب اپنے شانوں پہ اتنا بوجھ ہے نا تو آپ زیادہ , بہت زیادہ یاد آتے ہیں .. کون کہتا ہے کہ وقت سب سے بڑا مرہم ہے !! جھوٹ ہے یہ.. جدائی کا زخم اور بچھڑنے کا کرب کبھی کم نہیں ہوتا کبھی مدھم نہیں ہوتا۔۔اپنے بابا اور بھائی کو کچھ بھی دے نہ سکنے کا دکھ جان لیوا ہے بس وصولتے رہے کیا دے پاتے کہ جب ہم کچھ قابل ہوئے کہ آپکی خدمت کرسکیں آپ ہم سے بچھڑ گئے ..

اچھا اکثر لگتا ہے کہ دنیا کےمزاج کی بندی نہیں ہوں سٙو ہجومِ غم سے جب بھی گھبرائی اپنے بہترین دوست سے کھل کے بات کی کھل کے روئی کھل کے لڑی تو وہ جو خالقِ کائنات ہے ہمیشہ راستے کھولتا گیا اور ایک در ایسا کھولا جسے میں اپنی کسی بہت چھوٹی سی نیکی کا بہت بڑا اجر کہتی ہوں ۔۔

لوگوں کی بِھیڑ میں اک ایسا اجنبی ملا کہ عمربھر خودساختہ تنہائی کے سب ارادے توڑنا بہترین لگا لیکن آزمائش ابھی باقی تھی دوست ۔۔ بِیچ چوپال گھر کا قصہ کیا سناوُں لیکن ہمت بندھی کہ شاید کوئی ایک لفظ کسی کے کام ہی آجائے تو سفر کے زخموں کا کچھ تو مداوا ہوگا۔۔ صرف ایک رشتے کو نبھانے کےلئے پیروں کو کتنے آبلے سہنے پڑے اور آنکھوں کو کتنے سمندر ۔۔۔ اپنی غزل کا ایک شعر اسی مناسبت سے کہ

اسے دریا سمجھ کے پار مت کر

میری آنکھوں کا پانی ہے ، سنبھل جا

یہ قصہ اور دلگیر ہوجاتا اگر ہمسفر، ہمنوا نہ ہوتا ۔ وہ جس کے نام سے لفظوں میں چاند اترتے ہیں وہ جسے نظر بھر کے نہیں دیکھتی کہ اپنی نظر نہ لگ جائے مولا میرے اس پیارے سے ہمسفر کو اور میری کُل کائنات میری نعمت اور رحمت کو اپنی امان میں رکھنا زندگی ان کو ایسے کبھی نہ آزمانا جیسے مجھے آزمایا ۔۔

میرا گمان ہے کہ لفظ کی فصیلوں پرآج بھی میری بات ٹوٹ ٹوٹ جاتی ہے میں انہیں سمیٹ نہیں پاتی، ترتیب میں نہیں لا پاتی سو تعارف یا تحریر کچھ بکھری بکھری سے لگے تو درگزر کیجئے گا ۔

_________

ارشد ابرار ارش

رائٹر

میرے قلم کا جنم یقیناً اس دورِ خرافات میں پہلی بار آغوشِ مادر میں آنکھ کھولتے ہی ہو گیا تھا ۔
میرا ماننا ہے کہ ایک لکھاری کے قلم کا سفر اس کی پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے ۔
میرا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں تھا ۔۔۔۔
بچپن میں اماں سے قصے سننے کا شوق تھا ۔ دن بھر کی تھکن اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھائے اماں جب رات کی سیاہی کے یہ چند گھنٹے آرام کرنے کیلئے بستر پر دراز ہوتیں تو میں داستان سننے کی ضد لیئے ان کے پاس آ بیٹھتا اور نیند کی رسیا میری ماں ہمیشہ دورِ قدیم کا کوئی قصہ سنانے سناتے بیچ میں ہی کہیں قصہ ادھورا چھوڑ کر ہوش کی دنیا سے بہت دور نیند کی وادیوں میں جا پہنچتیں ۔
آج تک اماں سے کوئی ” مکمل داستان ” نا سن سکنے کی کسک دل کے کسی کونے میں دبی ہوئی ہے ۔
اس وقت دماغ کے کسی بھی دریچے میں یہ خیال تک نہیں تھا کہ کبھی میں خود بھی قصے کہانیاں لکھ سکوں گا
اور شعور کے زینے چڑھتے ہوئے کبھی قلم پکڑنے کا سوچا بھی نہیں تھا ۔۔۔۔
میرے کمزور کندھے کہاں اس قدر بھاری بوجھ کو سہار پاتے ۔۔۔ مگر یہی دستورِ دنیا ہے کہ ھم جو سوچتے ہیں وہ انجام نہیں پاتا اور جو ہوتا ہے اس کا کبھی سوچا تک نہیں ہوتا ۔
غریب کے بچے بھی جنگلی اور خود رو پودوں کی مانند بڑھتے چلے جاتے ہیں میں بھی بچپن کی بے فکر و مست گلیوں میں بھاگتا دوڑتا کب شعور کے گھنے اور دشتِ ویراں میں آپہنچا ، خبر ہی نا ہوئی ۔۔۔
پڑھنے کی لت تو بہت پہلے سے لگ چکی تھی۔ تب سے جب میں لوگوں کے چہروں پر رقم کرب نہیں پڑھ پاتا تھا نا ہی مجھے آنکھوں کی زباں سمجھ آتی تھی
گاؤں میں ڈائجسٹ میسر نہیں تھے تو دو گھنٹے کی مسافت پر واقع شہر سے منگوایا کرتا
زیست کی کھردری انگلی پکڑے قدم قدم چلتے چلتے سینہ بھاری پڑنے لگا ۔ میرے اندرون سے بار بار مجھے قلم پکڑنے کی صدا سنائی دیتی مگر معاملہ وہی درپیش کہ میں کہاں ۔۔۔۔ اور کہاں یہ مقدس فریضہ ۔۔۔؟
بلآخر عرصے بعد میں اپنے ماحول ، محسوسات اور ہمہ وقت میرے دل و دماغ میں اودھم مچاتے الفاظ سے ہار گیا اور کانپتے ہاتھوں سے پہلی بار قلم اٹھا لیا ۔۔۔
قلم و قرطاس سے ہم آہنگی و یارانہ کیا ہوا کہ بقولِ شاعر
” اک کام سے گئے تھے ، ہر کام سے گئے “
تو میں بھی گویا ہر کام سے گیا۔
میرے اندر کے شاعر نے انگڑائی لی اور میں
گل و بلبل ، زلف و رخسار اور ہجر و فراق کو لفظوں میں پرونے لگا تو شاعری کی لڑیاں ترتیب پانے لگیں
سفرِ زیست کچھ مزید آگے بڑھا تو میں نے خود کو افسانوں اور ناولز کے گنجلک میدان میں پایا ۔
ادب کے میدان میں قد آور شخصیات کی موجودگی میں میرا ” بونا پن ” بھلا کس کو دکھائی دیتا ۔۔۔ مگر ہر دفعہ ایسے موقعہ پر بابا جانی کے لفظوں کی بازگشت سماعتوں سے ٹکرانے لگتی کہ ” پتر ہر شخص میں اللہ نے انفرادیت رکھ چھوڑی ہے ۔۔۔ ہر شخص خوبیوں و خامیوں کا مجموعہ ھے ۔ ضرورت اپنی ذات کی پستیوں سے نکل کر خود کو پہچاننے اور مزید نکھارنے کی ہوتی ہے “
خدا نے توفیق بخشی اور میں اپنا درد ، معاشرتی استحصالی ، غمِ دنیا ، کج رویئے ، متبسم چہروں کے دکھ ، فراقِ یار کے درد کاغذوں پر اتارنے لگا ۔۔۔
خدا کی مدد ھمیشہ ساتھ رہی اور میرے الفاظ قرطاس پر بکھرنے لگے ۔۔۔ گویا میرے اندرون اور محسوسات کو زباں مل گئ خیالات کو لفظوں کے وجود مل گئے ۔۔۔
ادب کے میدان میں قدم رکھے ابھی زیادہ عرصہ نہیں ھوا مگر الحمداللہ کہ اپنے اندر ہمہ وقت ایک سرشاری و اطمینان سا محسوس کرتا ہوں کہ آخری صف میں ہی سہی میرا شمار بھی “لکھنےوالوں ” کی مختصر جماعت میں ہونے لگا ہے ۔۔۔
_______________
نوثیقہ سید

افسانہ نگار

YWWF Islamabad

سرسبز و شاداب وادی میں ایک کمرے کا کچا مکان جس کی چھت لکڑی اور مٹی کی بنی ہو چھوٹا سا صحن جس کی چار دیواری باڑ کی ہو اور صحن میں ایک چولہا ساتھ کچھ کچے برتن دیوار کے ساتھ رکھی چارپائی٬ مٹکے میں ٹھنڈاپانی٬ قریب ہی بہتی آبشار ٬ اور پرسکون زندگی ۔۔۔میں دنیا کی وہ پہلی لڑکی تھی جو ایسی لائف سٹائل کی خواہشمند ہوتے ہوئے خود کو realistic کہتی تھی۔
میری استانی نے میری خواہشات کو سنتے ہوئے مجھ سے کہا تھا نوسیقہ آپ کے لائف سٹائل میں دو چار انعم کی کمی ہے۔(انعم ہماری میڈ کا نام تھا)
میں بہن بھائیوں میں ساتویں نمبر پر تھی
جب ہوش سنبھالا تو ابو گورنمنٹ نوکری سے ریٹائرمنٹ لے چکے تھے بہن اور بھائی بینکر تھے گھر کا نظام وہ دونوں ہی دیکھتے تھے ۔۔زندگی کے نشیب و فراز سے بیگانی شاہانہ زندگی دیکھی۔بھائی عمران سیریز کا دلدادہ اور ساری بہنیں اردو لٹریچر کی۔۔۔ امی شاعری کرتیں اور ابو زمینیں خریدتے رہتے ۔۔۔ہر شخص کی اپنی اپنی زندگی٬ اپنا اپنا لائف سٹائل٬ کوئی دوپٹہ لیتا کوئی حجاب کرتا توکوئی نے نقاب کسی چیز کی پابندی نہ تھی۔ نجانے کیوں یہ پابندی صرف میرے ہی حصے میں آئی کی میں نے آٹھویں جماعت میں پہلا قطع اپنی روٹھی دوست کو منانے کے لیے لکھا اور عمر میں خود سے دو سال بڑی بہن کے سامنے فخر سےکاپی رکھتے ہوئے بولا یہ میں نے لکھا ہے۔
اس نے قطع پڑھا اور کاپی تھماتے ہوئے بس یہ جملہ کہا
“تمھاری عمر نہیں یہ سب لکھنے کی” میں نے کاپی کا صفحہ بغیر سوچے سمجھے پھاڑ کر پھینک دیا۔
کالج میں ایڈمشن کے وقت امی نے مجھے عربی رکھنے کا مشورہ دیا ۔۔۔ان کا ماننا ہے کہ عربی جنتیوں کی زبان ہے شاید ان کی خواہش ہوگی کہ انکی اولاد جنت میں جانے سے پہلے ہی وہاں کی زبان سیکھ لے۔۔ چار سال عربی پڑھی زبان آنا تو دور کی بات امتحانات بھی بمشکل ‏ہی پاس کیے۔۔ اپنی استانی کے اصرار پر اردو ایڈیٹر کے لیے ٹیسٹ دیا اور کامیاب ٹھہری۔۔
ایڈیٹنگ کے دوران کالج کی طالبات کی شاعری پڑھتے پڑھتے پانچ سال بعد میرا قلم دوبارہ چلا اور میں نے “محبت کیا ہے” کے عنوان سے اپنا پہلا آرٹیکل لکھا۔ ڈرتے ڈرتے امی کے سامنے رکھا ان سے اتنی پذیرائی ملی اور ساتھ ہی قلم کبھی نہ رکنے کی دعا بھی۔۔اس پذیرائی نے مجھے جلا بخشی میں نے لکھنا شروع کیا جب جب لکھتی امی تعریف کرتیں۔۔ شاعری کی طرف بھی آ گئ .ایم اے اردو میں ایڈمشن لیا۔۔جب ریڈیو پاکستان میں پہلے مشاعرے میں گئی تو علم ہوا ابو بھی اتنے ہی خوش ہیں جتنی کہ امی۔ اسلامک یونیورسٹی نے لکھائی میں نکھار لایا ایک نڈر لڑکی تھی اس لیے آگے بڑھتی گئ بیٹھک کی صدر رہی۔افسانے کے مقابلے جیتے۔۔۔ ۔۔
میری ہر خواہش اللّٰہ نے پوری کی اس لئے یہ کیوں کر ممکن تھا کہ لائف سٹائل خواہش کے مطابق نہ ہو اپریل 2015 میں خواہشات کی تکمیل کا وقت آن پہنچا۔۔میدان پکھل کا سینا چیرتا ہوا یہ دریائے سرن تھا جس نے اس خوبصورت سرسبز و شاداب میدان کو دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا اور چاروں اطراف سے خوبصورت پہاڑیوں نے اس کو اپنے حصار میں لیا ہوا تھا۔۔۔۔میرا مقام رہائش چنا گیا۔۔وہ بالکل ویسا تو نہ تھا جس کی میں نے خواہش کی تھی مگر اسکے ٪10 ہی نے میری روح تک کو ہلا کر رکھ دیا۔۔ایک محبت کرنے والا،ساتھ دینے والا شخص میرا ہمسفر ٹھہرا اس کے باوجود جگہ اور ماحول جس کی خوائش میں نے خود کی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے تو محض خواہش کی تھی کبھی سوچا ہی نا تھا کی حقیقت کیسی ہو سکتی ہو۔۔۔ان تین سالوں نے مجھے ادب سے بہت دور کر دیا۔۔مجھے مجھ سے دور کر دیا۔میں چاہ کر بھی کچھ لکھ نہیں پاتی۔امی کی دعاؤں میں شاید اب دم نہیں رہا۔۔۔ میرا قلم اب چلتا ہی نہیں۔ میں نے میکے میں اک ضدی،اکڑو، خود مختار، آزاد لڑکی کی حیثیت سے چوبیس سال گزارے یوں سمجھ لیجے کی امیر ماں باپ کی بگڑی ہوئی اولاد کی طرح اس وقت اپنے اردگرد کہانیاں کم ہی نظر آئی کے باوجود افسانے بھی لکھے اور نظمیں بھی لیکن حیرانی اس بات کی ہے کہ تین سالوں میں میرے سامنے جیتے جاگتے کردار ہیں کہانیاں خود بن کر میرے سامنے آکھڑی ہوتی ہیں لیکن میں انہیں صفحہ قرطاس پر اتار نہیں پاتی۔ شاعری مجھ سے الگ ناراض ہے۔میری امی کا خواب پورا ہوتا کہیں دکھائی نہیں دیتا۔

__________________

Advertisements