“پھر سے جاگ رہی ہیں دونوں” ______عظمی طور

کل رات دیر گئے تک
میں اور محبت تمھاری باتیں کرتے رہے
تمھاری ہنسی
تمھاری آنکھوں کی چمک
تمھارا ہر بات پر کہنا “ہیلو کدھر”
تمھارے بائیں ہاتھ پہ تل
وہ تمھارے فیورٹ کُرتے پر شام سے پڑ جانے والی سلوٹیں
میں باتیں دُہرا رہی تھی
محبت مسکراتے ہوئے بولی
اور وہ Levi’s والی پی کیپ
جو وہ ہمیشہ گرمیوں میں گھر سے لیے بغیر نکلتا نہیں تھا
مسکراہٹ نے میرے لبوں کو چھوا
اور میں نے اسے دیر تک جانے نہ دیا___
تمھاری خوشبوؤں سے محبت
غزل کے ہر بول پہ سر دُھننا
میرے ہر شعر پہ تمھارا اترانا
مجھے کہنا
تمھیں معلوم ہے عظمیٰ
مجھے خُدا کی تخلیق کو ہر بار capture کرنے میں
بڑا ہی لطف آتا ہے
میرے کمرے میں جو کتابیں ہیں
اُنھیں جب جب میں پڑھتا ہوں
مجھے محسوس ہوتا ہے
میں آگے بڑھ نہیں سکتا
وہ مجھکو روک لیتی ہیں
تمھارا بات بات پہ نصرت کا
“سانسوں کی مالا” گنگنانا
موبائل کی سکرین سے نظریں ہٹا کر مجھے دیکھنا
محبت اب مسکرانے لگی تھی
ہمیں نیند آنے لگی تھی
بہت سی باتیں رہتی تھیں
مگر ہم نے انھیں آج کی رات پہ چھوڑا
سو آج بھی ہم رات گئے تک
تمھاری بات
اپنے درمیان رکھیں گے
تمھاری ہنسی
تمھاری آنکھوں کی چمک سے
دیر تلک دل آباد رکھیں گے

________________

شاعرہ:(عظمیٰ طور)

کورڈیزائن:،صوفیہ کاشف

فوٹوگرافی:فرحین خالد

Advertisements