جیون اک پگڈنڈی ہے(طارق قریشی )_______مترجم سدرت المنتہی’

سوال پوچهنے والا ایک مقبول میگزین کا نمائندہ تها
اور اس کے سامنے جواب دہ اس کا پسندیدہ جگ مشہور و معروف شاعر تها
جو اٹلی خصوصی طور پر اپنے ادبی حلقے کے ساتهہ ملک کی نمائندگی کرنے اس ثقافتی اور ادبی سیمنار میں شرکت کے لئے آیا تها
اور اب اٹلی کے مشہور میگزین کے نمائندے کے سامنے سوالات کے جوابات ایسے گهڑ رہا تها، جواب بهی شاعری کی طرح اس پر ایسے اتررہے تهے جیسے شعر کا سخن اترتا تها
نمائندہ جو اس کی شاعری کا پہلے ہی مدعی تها جس کی سطر سطر حرف حرف دل کی گہرائیوں کے اندر اترجایا کرتا تها
جس کی شاعری میں عالمگیریت کا احساس اس حد تک کوٹ کر بهرا تها کہ پڑهنے والا اسے اپنی زاتی ترجمانی کی حیثیت دے بیٹهتا
اور اب
اس کی حاضر جوابی اور تند ذہنی کا بهی اتنا ہی متعرف ہوچلا تها ،جبهی یہ انٹرویو بڑهتے بڑهتے ڈهائی گهنٹوں سوال و جواب کا سلسلہ جاری تها
اور اب جب وہ عالمی دنیا کے ادب اور حالات پر بات کرنے کے بعد اس کی زات تک آیا تو اس کا پہلا سوال کچهہ اس طرح تها کہ
“زندگی کے بارے میں آپ کے کیا ویچار ہیں؟”
اس نے ایک ہنکارا بهرا اور مسکراکر کہا تها
“دیکهئے..جیون جیسا دکهتا ہے ویسا ہرگز نہیں ہے..
اس لئے..زندگی کے بارے میں میرے تصورات کچهہ اہم نکات سے نکل کر صرف سائن آف ایکسکلیمیشن رہ جاتے ہیں.”
نمائندے نے دوسرا سوال زندگی کے بارے میں کیا:
“خودکشی کے بڑهتے رجحانات کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟”
“خود کشی کا خیال دوانگلیوں کے بیچ ڈهلکتا ہوا بغیر سلگے ہوئے سگرٹ کی طرح ہے جو کبهی بهئ سلگایا جاسکتا ہے
اسی آسرے پر خود کو بہلاتے ہوئے لائٹر ہمیشہ مٹهی میں ہونا چاهئے.”
“تو گویا آپ نے بهی خود کشی کا سوچا تها.؟”
وہ کہتے ہوئے سوالیہ نظروں سے اسے دیکهنے لگا
شاعر مسکرایا.
“نہ صرف سوچا بلکہ عمل کرنے کے قریب تر بهی پہنچ گیا تها
مگر پهر کسی مضبوط محرک نے جیسے میرا ہاتھ روک دیا تها..شاید یہ وقتی تها..
تعجب اس بات کا ہے کہ جب سے میں نے زندگی کو سنجیدگی سے لینا شروع کیا تو زندگی نے مجهے زلتوں اور رسوائیوں کی گلیوں سے گزارا..اور کئی تلخ تحفے میرے دامن میں بهردئیے ..
پہلے پہل خود کو بہلانے کی خاطر باقیوں کی طرح میں نے بهی اسے حادثے کا نام دے دیا.
محض ایک واقعہ ایک ایوینٹ جان کر سہہ لیا کرتا مگر پهر..
زندگی کی تلخ سچائیوں کے سارے در مجھ پر کهلنے لگے تهے..”
اس کی دو انگلیوں کے بیچ دبے سگرٹ نے بهی شاعر کے ساتهہ ہنکارا بهرا تها
اور پهر ہونٹوں سے..اس کے ہونٹوں کے ساتهہ مس ہوا..
“یہ ایک chain کی طرح تسلسل کے ساتهہ دہرایا جانے لگا..
ایک کے بعد دوسرا..پتا چلا یہ زنجیر تو خاصی لمبی ہے”
شاعر نے ایک لمبا سکون کا سانس دریافت کیا اور پهر ماضی کے دهندلکوں سے کچهہ یادیں اک ایک کرکے ڈهونڈنے لگا..
اس کی کهلی پیشانی کے ساتهہ عقابی آنکهیں کسی سحر میں جکڑی ہوئیں کهوئی ہوئیں..
متلاشی سی دکهتی تهیں
نمائندہ پرسکون مگر منتظر تها
اور لمحوں کی سوچ کی دعوت سے
اس کا ذہن یادوں کی راکھ سے کچھ چنگاریاں بهڑکانے کو تیار تها
“وقت کے دئیے ہوئے سارے زخم یاد ہیں..
جن کے نقش اب تک پوری طرح سے زندہ ہیں..
میرا مقابلہ..سب سے پہلے بیروزگاری کے ساتھ تها..
اسی دوران مجهے ادراک ہوا کہ دنیا کی سب سے بری لعنت بے روزگاری ہی ہے.
بچارگی کا عجب عالم تها..
اب تمپوچهوگے میں نے خود کشی کیوں نہ کی..
ہک..ہا…”
ایک ہنکارہ.
“ہم جس سماج کے باشندے ہیں وہاں کامرانی کی کنجی اسٹیٹس سمجها جاتا ہے.
تیسرے درجے کے افراد میں گرچہ خدائی صفتوں کے کچهہ عکس موجود ملیں..مگر معاشرے چن چن کہ اس کے عیبوں سے پردہ اٹهائے گا کہ بقیہ ماندہ خوش اخلاقیاں بهی اس کے اندر ہی کہیں دم توڑنے لگ جائیں گی.
اس پر افسوس یہ کہ اگر کچھ پوائنٹ آؤٹ کرایا جائے تو اسے یہ کہہ کر چپ کرایا جاتا ہے کہ طبقاتی فرق پر مباحثہ کرنا فیشن ہے
اور جو فیشن ہے وہ ضروری ہوجاتا ہے
سو میں یہ کہہ رہا تها کہ سب سے بری لعنت بے روزگاری ہے
جس کے پیچهے تمام رشتے ناتے..کمزور پڑجاتے ہیں
مجهے یہ ذلت بهی ایک عرصہ بهگتنی پڑی..
تم تب بهی کہو گے میں نے خود کشی کیوں نہ کی…
میں خود بهی یہی سوال کرتا ہوں خود سے..
مگر ٹھہرو ابهی وقت دور ہے..
وہ وقت بهی قریب تها جب میری بچپن کی منگ میری محبوبہ..مجهے چهوڑگئی تهی..
وہ شام قہر بپا کردینے والی شام..”
شاعر کے لفظوں سے جهلکتی اس کے اندر کے کرب کی اک تصویر آنکهوں میں بهی پنہاں تهی
لہجہ گہرے پاتال میں جیسے ہچکولے کهارہا تها.
“تم نے اپنا نام اٹالو ہچکاک ہی بتایا تها نا؟”
وہ نمائندے سے مخاطب ہوا
“جی ہاں سینور!”
“مسٹر اٹالو تو کیا تم الفرڈ ہچکاک کے خاندان سے ہو؟”
“نہیں سینور..یہ ایک الگ کہانی ہے.”
وہ مسکرایا
“دراصل میری ماں الفریڈ ہچکاک سے زرا متاثر تهیں..جبھی ان کے نام پر میرا نام رکھ دیا..”
“اوہ اوہ..آئئ سی..”
شاعر نے سر ہلایا..مسکرایا..مدهم مسکراہٹ.
“تو میں تمہیں یہ بتاتا ہوں اٹالو ہچکاک..کہ بے روزگاری سے بڑی لعنت ملازمت بن جاتی ہے”
“اب وہ بهلا کس طرح کہ روزگار تو عزت کا زریعہ ہوتا ہے سینور؟”
.
“ہوسکتا ہے تمہارے یہاں ایسا ہوتا ہو
مگر ہمارے ہاں ایسا ہرگز نہیں ہے
ہمارے یہاں تو ملازمت بهی غلامی سمجهی جاتی ہے
اور ایسا ہوتا بهی ہے
میں تمہیں اس حوالے سے ایک افسوس ناک واقعہ بتاتا ہوں.
شاعر اٹھ کر کمرے کے اندر چہل قدمی کرنے لگا
ایک لمحے کے لئے اس نے شمال کی طرف کهلتی کهڑکی سے باہر کا پررونق منظر دیکها اور پهر دوبارہ آبیٹها
میں ان دنوں سمجهتا تها کہ قسمت اچهی ہے جو بلآخر ملازمت مل گئی ہے.
مگر ان ہی دنوں مجهے میرے ڈائریکٹر نے طلب فرمایا
میں جو اپنی زندگی میں کبهی باس نامی چیز سے مرعوب نہ ہوا تها سو اجازت طلب کرکے بیٹھ گیا اور تب حیران رہ گیا جب انہوں نے بتایا کہ مجھ پر Misbehave کا الزام ہے
مجهے پہلے تو ہنسی آئی پهر اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی درخواست یاد آئی
ڈائریکٹر کو میری ہنسی ناگوار ہی گزرنی تھی
مجهے مینرز سکهانا ضروری سمجهتے ہوئے بتانے لگے کہ’ مسٹر دانش یہ میرا دفتر ہے
بٹ آئیم ناٹ این اسٹرینجر
ٹهیک ہے مگر صفائی میں کچھ کہو’
میں پهر اس طلبی پر مسکرایا
‘مجهہ پر فقط اس لئے رپورٹ کی گئی ہے کہ میں اسسٹنٹ کی ہم جنسی بداخلاقی کی آفر ٹهکرا آیا ہوں’
‘تم تو اچهے خاصے زبان دراز ہو .
یہ تک یاد نہیں کہ تم ابهی ایڈہاک پر ہو’.
میں نے دوسری غلطی اے ڈی کی مزید اصلیت کهولنے کی کی کہ وہ تو سوئپرز کو بهی منتیں کرتا پهرتا ہے..
مجهے چودهواں دن ملازمت کو چڑها نہیں اور موصوف نے طرح طرح کی لالچیں دینا شروع کردیں..
میں جو کسی حسینہ کے ساتهہ بهی یہ تعلق ناجائز رکهنے کا روادار نہ تها سو اے ڈی کو کیونکر یس کرتا؟’
‘یہ تو نہیں کہ ایڈز کی بیماری کے خدشے سے ڈرتے ہو.؟’
ڈائریکٹر کی گری ہوئی بات پر میں اپنے آپ میں گڑگیا
مگر زہر کا گهونٹ لیکر بس اتنا کہا کہ بجا فرمایا ‘ڈرتا ہوں کہ میرے ضمیر کو کہیں ایڈز جیسی مہلک بیماری نہ ڈس لے’
ڈائریکٹر ہنس کر کہنے لگا کہ’ تم نے مس بی ہیو بہرحال کیا ہے
اب تمہیں اے ڈی سے ایکسکیوز کرنا ہوگا’
اس ایکسکیوز کا مطلب میں سمجهتا تها
نوکری بچانے کے لئیے میں نے زبانی ایکسکیوز سے کام چلانا چاہا..مگرایسا بهی نہ ہوا”
شاعر ہنسنے لگا اور ہنستے ہوئے اس کی آنکهوں میں آنسو آگئے..
“کون کہتا ہے کہ یہاں صرف عورتوں کے لئے اپنی عزت بچائے رکهنا مشکل ہوتی ہے..
میں تو کہتا ہوں..”
لہجہ تلخ ہوا تو بات بیچ میں ہی چهوڑدی
“میں تمہیں کیسی کیسی ذلتوں کے بارے میں بتائوں..جو آگہی کے در وا ہونے کے بعد میرے حصے میں آئیں.
میرے حصے کے درد دنیا کے حساب کتاب پر گنے نہ بهی جائیں تو مجهے اور میری فنی صلاحیتوں کو زیر کرنے کے لئے کافی ہیں
دنیا ئے فرد کی طرح شاید میں بهی اس مظلومیت کا شکار ہوں کہ جہاں بهر کی آزمائشیں بیشتر میرے حصے میں آئی ہیں
اور فن پر گهٹن اور شدت کی یلغار پورے جہاں کے فن پر حملہ سمجهتا ہوں
جبهی ہر گیت اپنے دل کے لہو میں انگلی ڈبوکہ تخلیق کیا ہے
اور ہر بار ایسا کرتے ہوئے روپڑا ہوں”
نمائندے کی آنکهوں میں بهی نمی اترآئی تهی
اور شاعر تو پوری طرح لیس تها
..
“وہ بڑا ظالمانہ وقت تها جب میں ابهی زیر تعلیم تها کہ میرے والدیں ایک اک کرکے اس جہاں فانی سے گزرے..
جدائی کی پہلی کیل تب میرے دل کو چیر گئئ تهی
اور دوسری جوانی میں جب میری محبوبہ نے مجهے چهوڑا..صرف پیسے کی خاطر..اسٹیٹس اور ترقی کی خاطر..
صرف یہ کہہ کر کہ تم ابهی زیر مکتب ہو..
جانے کب دو وقت کی روٹی لانے کے قابل بنو.
میں جس سے شادی کرنے جارہی ہوں
وہ ایک سیٹلڈ انجینئیر ہے
اس کا مستقبل محفوظ ہے
وہ میری زندگی کا کرب ناک لمحہ تها
جب میں نے خود کو اختیاری طور پر غیر محفوظ محسوس کیا تها
میں تمہیں کیا بتاؤں اتنا تو بزدل ہوں کہ تب بهی خود کشی نہ کرپایا..’
سگرٹ دوبارہ سلگایا
“اور اس کے بعد اس احساس نے مجھ سے دن رات محنت کرکے اپنا گهر بنوایا
ابهی سکون کا احساس سرایت کرنے ہی لگا تها کہ پهر سے ایک بهونچال میری زندگی مسمار کرنے کے لئیے تیار کهڑا ہوگیا
میرے گهر کی آدهی عمارت پر بلڈوزر اس لئیے چلا کہ میونسپل کا چئیرمین میرا پڑوسی تها
اور الیکشن میں میں نے اسے اپنے ذاتی ووٹ سے محروم رکها تها
بغیر نوٹس اس زیادتی پر جب میں نے انصاف کا در کهٹکهٹایا تو میرے آدهی عمارت والے گهر کے اندر سے ڈاکو بقیہ ماندہ ضروریات لے گئے ..ایک دل ہلانے والا ڈاکہ تها
ڈاکے کا نقصان گو کہ کم سہی کہ میرے گهر میں چند ضرورت کی استعمال شدہ چیزیں ہی تو تهیں
مگر غیر محفوظ ہونے کا تسلط بڑهتا گیا
پوری کمیونٹی کے سامنے سو طرح کے دلیل رکهنے پڑتے ہیں جب چوری کا خمیازہ بهی بهاری پڑجائے..اور جگ ہنسائی کا ڈر آپکے اعتماد کو ڈس لے .
میں تمہیں کہا بتاؤں..
لہجہ رندھ گیا تها
کیا کیا نہ باتیں ہوئیں.کیا کچهہ سننا پڑگیا..
اس گهر کی عورتوں نے ہوسکتا ہے اپنے صلاح کاروں سے غداری کی ہو..
ذلت کے احساس نے ابهی جان جلائی تهی کہ میرے سگے بهائی کو ڈاکو لے گئے
اور جس دن میں ان کی مطلوبہ رقم قرض لینے کے بعد ڈاکووں کے اڈے بهائی کو چهڑانے پہنچا تو اس سے پہلے انہوں نے طیش میں آکر میرے بهائی کو ماردیا..
اور اڈے پر سوائے جوان لاش کہ کچھ نہ تها
میں نے اپنے کندهوں پر جوان موت اٹهائی ..”
شاعر کا کرب لہجے میں تها
دل سے ..
آنکهوں سے خون بن کر ٹپکنے لگا
اور ہچکاک کی آنکهوں کے چشمے بهی کهل گئے
“مافیا کا شہر سسلی یہاں سے کتنی دور ہے؟”
وہ کچهہ لمحوں بعد نمائندے سے مخاطب ہوا..
پهر خود ہی بڑبڑایا..
“ہمارے شہر پر بهی ڈرگ مافیا کا قبضہ ہے”
لہجہ شکست خوردہ ہوگیا
“اس سال کی برساتوں میں میرے محلے والوں نے پکنک منائی اور میں جوان موت اور ادهوری عمارت کا غم مناتا رہا
..بس ایک تبدیلی آتی گئی..
لوگوں دوستوں یاروں کے چہرے واضح ہوتے گئے..
میں دکهوں کی راہ گزر پر چل کر بے احساس اور مضبوط بنتا گیا
سگرٹ دو انگلیوں کے درمیان آدھ جلا بے سہارا اور ڈهلکتا گیا
اور تب آپنے خود کو کتنا کمزور محسوس کیا ہوگا”
نمائندے نے دکھ بهرے لہجے میں کہا تها
“درست کہتے ہو..”

سگرٹ کا آدها تهکا حصہ ایش ٹرے میں مسل دیا اور آدها ان جلا انگلیوں کے درمیان ڈھلک گیا تھا۔

“بالکل جب آپ معاشرے کے ہاتهوں سنگسار ہوتے رہیں.
تو آپ کمزور تو ہوتے ہی ہیں..ہاتھ تهک جاتے ہیں..”
شاعر نے اپنی ہتهیلیوں کی لکیروں کو اک نظر دیکها تها..بے دم سا ہوکر
“انہیں فگار انگلیوں سے گیت نکلا کرتے تهے
حاکم طبقے کے خلاف جب میں نے شاعری میں جوابی کاروائی کی..تب بهی میرے لئیے مصیبتیں کم نہ تهیں..
ایک فنکار کے لئے اس سے بڑھ کر تکلیف دہ صورتحال اور کیا ہوگی کہ اسے قدر کی نگاہ سے نہ دیکها جائے
اس کے فن کو پزیرائی نہ ملے..
ہمارے ہاں تو…”
تهکن آنکهوں کے ساتهہ لہجے میں اتر آئی تهی
“مگر ایک روز جب آپکو ادب کا نوبل پرائز لگا تو یقینا” سارے غم ڈهلک تو گئے ہونگے؟”
ہچکاک مدهم مسکرایا تها
“ہاں ..تب پہلی بار قوم نے سوچا کہ واقعی یہ تو ہمارا قوی ہے..ہمارے لئے سوچتا ہے
ہمارے لئے قلم کی تلوار چلاتا ہے
مگر تب تک آتے آتے ..میں اپنے پڑهنے والوں کی خاطر ایک بوسیدہ کتاب بن چکا تها
جسے کچهہ دوستوں نے گرد صاف کرکے بهی پڑها ہوگا”.
شاعر نے بڑی دیر بعد اٹالو ہچکاک کی طرف دیکها تها
“ایک سوال جو بڑا ہی عام ہے مگر خاص معلوم ہوتا ہے.
آپ ایک عورت کے بارے میں کیا سوچتے ہیں”

“میں تمہیں بتاؤں اٹالو..عورت کے بغیر زندگی کا تصور بهی فطرت کا سب سے بڑا گناہ سمجهتا ہوں.
اور یہی گناہ ساری زندگی کیا بهی ہے
عورت کے ذکر پر ایک دلنشیں مسکراہٹ ہونٹوں پر کهیل جاتی ہے جو تهکی ہوئی زندگی کے اندر لمحے بهر کو صور پهونک دیتی ہے”
“اور اس کے باوجود آپ نے شادی نہیں کی..؟”
اٹالو کے لہجے میں افسوس ہے
“میں ساری عمر اپنی قسم کی وجہ سے مقسوم رہا..پابند رہا..
وہ قسم جو ایک عورت کے جانے کے بعد میں نے اٹهائی تهی
اس جہاں میں جو بهی پیار سے ناک آؤٹ ہوا ہے وہی اس درد کو جانتا ہوگا..
میں نے تو کبهی کسی بدخواہ کے لئیے بهی برائی نہ مانگی..
مگر جب وہ لوٹ کر پانچ سال بعد میری دہلیز پر آئی ..جب وہ مسترد کردی گئی..تب اسے میں یاد آیا..
بچپن کا منگیتر
پرانا عاشق
پکا شیدائی جس نے اس کے جانے کے بعد قسم توڑکر شادی رچانے کا سوچا بهی نہیں..
ہاں میں جانتا ہوں تب اس نے سوچا ہوگا میں فوری طور پر اسے اپنالوں گا
مگر ایسا نہ تها..
نہ ہوا..
جب میں نے دل پر ایک پہاڑ سا رکھ دیا اور محبت کو دل سے نوچ کر پهینکنے کی اذیت سے ہمکنار ہوکر ایک ستم میں نے خود پر خود کیا ..کہ اسے ٹهکرادیا..
صرف اسے اس درد کا احساس دلانے یا پهر یہ کہ تنہائیوں کو مقدر سمجھ کر قبول کرچکا تها..
میں اس دن بهی مرنا چاہتا تها..
جس دن اس سے لافانی پیار کا اظہار کرنے کے باوجود بهی کس بے رحمی سے میں نے دل پر آرا چلایا…اور اس کے لیئے گهر کا دروازہ بند کردیا..
مگر دل کا تب بهی نہ کرسکا..
چند قطرے جو اس کے دل پر برس رہے تهے وہ اسے کس قدر بهگورہے تهے.
یہ وہی جانتا تها
اسے بلآخر دوسرا ساتهی مل گیا..
میں جہاں تها وہیں کهڑا رہ گیا ..
اور ابهی تک..
جیسے اسی دہلیز پر کهڑا رہ گیا ہوں”

“وہ کون سا مضبوط محرک تها جس نے آپکو خود کشی سے اس شکستگی میں بهی روکے رکها؟”

یہ پوچهتے ہوئے اٹالو کا لہجہ نم تها
“میرے پاس خود کشی کے لئیے نرم ہونے کے جواز موجود تهے اٹالو..
جسے پهولوں کے بدلے خار ملیں..
جس کا مقدر صرف تنہائی ہو

اس سنسار میں سنگ باری کا رواج بهی قدیمی ہے اٹالو..
اور کئی بار زخم کهانے کے بعد آپکو یوں لگتا ہے کہ اس دنیا میں سانس لینا آپکے لئیے جرم ہی ٹھہرا ہے
یہ دور شاید میرے معصوم وجود کی بوء کی قدر نہیں جانتا..
خود کو ضایع ہوتا دیکھ کر میں نے اس معاشرے کے لئے یہ سزا تجویز کردی تهی کہ بلآخر اس باقدر معاشرے کو ایک حساس بلند پایہ فکر رکهنے والے سچے شاعر سے محروم کرنا ہی بہتر ہوگا..
ان سے بهی ان کے حق میں اٹهائی گئی آواز کو چهین لیا جائے
میں خود کشی کے لئے پوری طرح تیار کهڑا تها”
نمائندہ دم سادهے سن رہا تها
“مگر پهر ایک روز..خودکشی کرنے سے ایک شام پہلے ہی مجهے ایک چٹهی ملی.
ایک خط.
جب مجهے نوبل پرائز نہیں ملا تها ابهی
جب تهکن کے بہت سے مراحل زندہ تهے
ایک ایسا خط..جسے پڑهنے کے بعد ایک عجب طرح کی شکتی سرایت کرگئی میرے اندر.”
“اس خط میں کیا لکها تها سینور؟”
“وہ خط میرے ایک پڑهنے والے کا تها
جو خود کو میرا فین کہتا تها
کہنے لگا میں آپکا فین کیسے بنا..
اور میں آپکو کیوں چاہتا ہوں
بتانے لگا
‘..میں جب دنیا جہاں کی کٹهنائیوں سے تهک کر نڈهال ہوکر خودکشی کرنے کے لئیے پوری طرح تیار تها..
بیوی بچے ملازمت ہونے کے باوجود بهی میں جو دنیا سے غیر مطمئن تها..
میں جو تهکن اوڑھ کر ہمیشہ کے لیئے سوجانا چاہتا تها
میں جو روحانی سکون کے لئیے ترسا کرتا تها
خود کشی سے ایک شام پہلے میں نے آپکی آٹو بائیو گرافی پڑهی.
آپکی شاعری کا بهی ابهیاس کیا..
آپکی گوتم کتها کو سروم دکهم دکهم محسوس کرکہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ اس دنیا میں دکهوں کی جنگ میں میں اکیلا نہیں ہوں..
میں جو تهک کر بارہا خودکشی کے لئیے سوچا کرتا تها.
آپ نے کبهی خود کشی کے لئے کیوں نہ سوچا.
خود سے لڑکر اس جنگ سے جیتنے کی طاقت مجهے آپکی آتم کتها سے ملی .
اس دن پہلی بار میں نے جهوٹ کی آنکهوں میں آنکهیں ملاکر اسے جهوٹا کہنے کا ظرف پیدا کرلئیا تها
اور خود کی نفی کی جنگ کو ہارکر میں زندگی کی طرف لوٹا تو زندگی کی جہت نے میرا استقبال کیا ..
اور کل مجهے بیٹا پیدا ہوا ہے
میں نے اس کا نام دانش رکها ہے
وہی جو آپکا نام ہے
میرا بیٹا دانش بڑا ہوکر آپکی طرح بنے گا اور اندهیروں سے یدهہ کرے گا..
وہ لڑے گا
وہ لڑے گا اپنی ذات کی نفی سے لڑے گا
اور وہ اپنے لئیے زندگی ڈهونڈ نکالے گا’
ایسا خط پڑهنے کے بعد میں اپنی زات کے جز سے نکل آیا اٹالو.
مجهے پتہ لگا کہ دنیا میں ہر کوئی دکهہ لیکر پیدا ہوا ہے
مگر ان دکهوں کے اندر جینے کا حوصلہ بهی چاهئے
میں جو آج بهی ہوں کل بهی ہوں
میں اپنا آج تباہ کرکے اپنے کل کا بهی قاتل بننے جارہا تها
میں نے وہ خط اپنے دل میں اتار لیا..
اب میں اپنے لئیے نہیں..ان دو چار لوگوں کے لئیے ہی جینے لگا ہوں جو مجهے پڑھ کر میرے دکهوں کو محسوس کرکے بهی خودکشی کے خیال کو منہ زور شکست سے ہمکنار کردیتے ہیں”
بات مکمل کرکے شاعر نے آرام کرسی کی پشت پر اپنا وجود چهوڑدیا..اور تهکی ہوئی آنکهیں موند لیں گئیں
اس کی دو انگلیوں کے بیچ دبے ہوئے سگرٹ کے ٹوٹے نے ایک لمبی سانس دهویں کی صورت خارج کی اور مسکراہٹ سے اپنا ڈهلکا ہوا وجود شاعر کی رضامندی کے ساتھ ایش ٹرے کے حوالے کردیا
اور اٹالو نے اپنی مدهم مسکراہٹ سے ٹیپ رکارڈ کا بٹن بند کیا
اور نم آنکهوں میں اترتی ہوئی نمی کو آنکھ کے گوشے سے سمیٹ لیا

________________

Advertisements