“میربل شاری ___________ثروت نجیب ــــ

***************

بےتابی سے انتظار کرتی دو آنکھیں وجود کے ہر مسام میں ڈھل چکی تھیں ـ شب اپنی گہرائی پہ نازاں آسمان کے پرات پہ ُچنے تارے انگارے بنے اس کے خوف میں اضافہ کرنے لگے ـ کہیں ان کی روشنی اس سے محبت کی چاشنی نہ چھین لے ـ وسوسوں کے ننھے شیطان اس کے دماغ کے خلیوں میں تیزی سے پھیلنے لگے ـ ہلکی سی آہٹ سے اسے محبوب کے قدموں کا گماں ہوتا ـ
وہ آرزؤں کے رتھ پہ سوار اب آیا کہ آیا ـــ
عشق عقل سلب کر کے عاشق کو ننگے پاؤں ان راہوں پہ چلاتا ہے جہاں سماج نے کوئلے دہکائے ہوتے ہیں ـ
عشق عقیدہ ہے جو پتھر کو بھی خدا بنا دیتا ہے ـ
عشق منطق کی ضد ہے ـ
عشق وہ فلسفہ ہے جو مذہب کی آخری حد بھی پار کر جاتا ہے ـ پھر بدعت نام کی کوئی دلیل اسے روک نہیں سکتی ـ
وہ زمینی حقائق سے آنکھیں چُرائے آفاقی جذبے کی قید میں تھی ـ
انتظار نہ کرتی تو مر جاتی ـ
کیونکہ انتظار امید کا دوسرا نام ہی تو ہے ـ
کرمزی چِرک چادر کی بُکل مارے ـ اُسی لباس میں ملبوس جو اِس نے آخری بار محبوب سے ملتے وقت پہنا تھا ـ جوتے کے تلوں کو ترسے ننگے پاؤں کھردری زمین کی طرح نرماہٹ سے عاری ٹھنڈی زمین کو زندگی کی حدت فراہم کر کے بھی بےچین تھے ـ
کہتے ہیں عراق میں جب قحط آیا تو لوگ عشق کرنا بھول گئے ـ
پر جو دہن نانِ گندم ‘ گوشت و خرمہ کی لذت سے آشنا ہی نہ ہوئے ہوں وہ غربت کے مارے بھی عشق کر بیٹھتے ہیں ـ ایسا عشق جو ضرورتوں کو نچوڑ کر سانسیں کشید کرتا ہے ـ میربل اسے خودرو جھاڑیوں کے پیچھے ملا تھا ـ جب وہ بکریاں چراتی میمنے کو گود میں اٹھائے ہانپتی ہوئی کانٹوں سے دامن چھڑا رہی تھی ـ درخت پتوں کے پنکھوں سے ہوا دے رہے تھے ـ وہ سیاہ لباس میں پَو کی طرح پُھوٹتا ‘ شیشوں سے چمکتی لسکتی ٹوپی میں شاری کی ناک کے سفید کوکے کی طرح دمک رہا تھا ـ شاری خاردار جھاڑیاں پھلانگتی چادر سمیٹے باہر نکلی تب تک وہ دور جا چکا تھا ـ شاری دیر تک اسے دیکھتی رہی ـ پر اس نوجوان نے پلٹ کر دیکھنے کی زحمت تک نہ کی ـ
شاری کے دل میں خارٍ عشق چبھ چکا تھاـ مگر ميربل اس سے بےخبر تھا ـ وه ٹھہری لڑکی ذات ‘ دل ہی دل میں مسکانے کے علاوہ آگے بڑھنے سے رہی ـ ویسے بھی لفظوں سے اظہارِ محبت شرط تو نہیں ـ
زبان و بیاں سے جو عشق ادا ہو، وہ عشق کہاں ہے ـ ـ ـ ـ ـ ـ
صبح ہوتے ہی وہ ریوڑ ہانکتی دشت کے پار لے جاتی ـ جہاں درياے هلمند سے نکلی ندی کے پاس درختوں کی لمبی قطاریں تھیں ـ جھاڑیوں پہ کسیلے بیر و زیتون تھے ـ بکریوں کے لیے ہری بھری گھاس اور اس کے لیے ڈھیر ساری خوشبو ـ نجانے خدا نے کیسی آفرینی کی سبزہ و دشت کے مابین محبت تھی ـ ایک ہی گاؤں کے دو حصے، ایک طرف مفلسی دوسری طرف مسرتیں ـ ایک جانب گاہک دوسری جانب دکانیں ـ ایک اور مویشی دوسری اور چراگاہیں ـ ایک کے نصیب میں ریگ و دشت اور دوسرے حصے میں ندی و میدان ـ جیسے چاند اور سورج ، دونوں حصے ایک دوسرے پہ منحصر تھے ـ مجبوراً دشت کے لوگ گاؤں کے قدرے سرسبز حصے پہ انحصار کرتے ـ جہاں بہار آتے ہی مٹی سونا اگلنے لگتی اور سورج ندی کے پانی کو چوس کر بادل برساتا ـ بارش میں جھومتی شاری مٹی کی خوشبو سے معطر میمنوں کو بھول جاتی ـ وہ کسی درخت کے نیچے جمگھٹا بنائے شاری کی نوخیز جوانی پہ حیران ہو کر انتظار کرتے کہ کب وه چھڑی گھماتی ان کو ہانکنے آئے گی ـ
جب وہ لیلڑی ( بلوچ گیت) گاتی تو سنسناتی ہوائیں ہم زبان ہو جاتیں، رقص کرتی لچکیکی شاخوں پہ پتے تالیاں بجاتے، گُلو سے وہ گل پھوٹتے جن پہ منڈلانے کو بھنورے بےتاب ہو جاتے ـ
دھم دھم کرتے قدم فطرت سے مانوس دھرتی کے لمس سے ایسے حِظ اٹھاتے جیسے اولین جام کا پہلا گھونٹ تلخ، پر سحرانگیزـ
لڑکیاں مٹی کی وہ مورتیاں ہوتی ہیں جن کے ماتھے پہ قدرت محبت کے خال ان کی پیدائش سے پہلے گود دیتی ہے ـ
تبھی وہ بھلے جتنا سر ڈھانپیں ان کے ماتھوں پہ لکھا ہوتا ہے کہ وفا ان کے جسم کی مٹی کے خمیر کا نام ہے ـ جسے پڑھنے کے لیے پڑھا لکھا ہونا قطعی ضروری نہیں ـ
وہ خود محبت کا متن پڑھ کر سناتی ہیں اور شاعری میں ڈھل جاتی ہیں ـ
جیسے شاری اب خود لیلڑی بن چکی تھی ـ جس کی ہر ایک بِحر اس کے دل کے راز کھولتی محبت کے قافیے برابر کرنے میں مگن تھی ـ
پر ابھی تک وہ ـــــ
”جسے آسمان سمجھتی تھی ایک خلا نکلا “ کے دکھ سے ناواقف تھی ـ
ایک بار اونٹ چراتے شتربان لڑکوں نے شاری کی بکریوں کو ہانکا اور اونٹ اس کے علاقے میں لے آئے ـ شاری نے تو تو میں میں کی مگر لڑکے ڈھٹائی سے ہنسنے لگے، قریب تھا کہ وه میدان چھوڑ کر بھاگ جاتی کہ عین اسی وقت میربل آ گیا ـ شاری کی آنکھوں میں بےبسی اور چھڑی گھماتے لڑکے دیکھ کر معاملہ بھانپ گیا ـ
میربل نے شہادت کے انگلی گھماتے ہوئے کہا !
” ـ یہ میدان اور اس پہ لگے درختوں سمیت یہ ساری زمین ہماری ہے ”
شتربان تنک کر بولے !
اور یہ لڑکی؟
لڑکی خود کھسک کر میربل کے پہلو میں جا کھڑی ہوئی ـ
ساربان منہ لٹکائے نکیلیں تھامے کھسکنے لگے ـــ
شاری بت بنی میربل کو تکتی رہی اور میربل ترپ کا پتہ پھینک کر چلا گیا ـ
شتربانوں سے اب شاری کی نوک جھونک مستقل رہنے لگی ـ رستے میں مدبھیڑ ہوجاتی تو وہ کبھی اس کا رستہ روک لیتے کبھی چھیڑ خانی کرتے ـ پر یہ ان بن شاری کو میربل کے قریب لانے لگی.
ایک دن میربل نے کہا!
“سنا ہے چرواہے مسکین مزاج اور شتربان کینہ پرور ہوتے ہیں، احتیاط کرنا”.
شاری نے سیاہ چمکتے ایال والے اسپ کی باگ پکڑ کر پوچها!
“اور گھوڑ سوار؟”
وہ مسکراتے ہوئے دراز قد افغانی گھوڑے سے اترتے ہوئے بولا ـــــــــ
” بہادر اور تھوڑے سے مغرور“
شاری ادا سے بولی!
”وہ تو تم ہو “
جیسے میر حمّل بلوچ ــــ
میربل نے شاری کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچها!
“تم کیا ہو؟ کہیں گوھر بی بی کا دوسرا جنم تو نہیں؟”
“اگر ہوئی تو میرے لیے تیر کمان میں ڈالو گے کیا؟”
میربل نے شاری کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا!
“وہ تو میں کب کا ڈال چکا ہوں”.
اس دن بکریاں لاوارث ہو گئیں ـ میمنے شاری کی گود کی گرمی کو ترستے رہے اور شاری خود ہوا میں تیرتے طیور کی طرح بےنیاز، پوست کے ڈوڈے کی طرح مست، پانی کی طرح عشق کے بہاؤ میں بہتی گئی ـ
اب تو یہ شاری کے روز کا معمول بن گیا ـ وہ بکریاں اللہ کے سہارے چھوڑ کر خود میربل کے سایے میں بیٹھ جاتی ـ میربل اس کے لیے کبھی دنداسہ کبھی پھول کبھی لونگ کا امیل اور کبھی چھلّے لاتا جن کے دائروں میں وہ جکڑتی گئی ـ کبھی رس دار لبلبے پھل جن کو چوس کر اس کے خشک چھوہارے جیسے ہونٹ رسیلے ہوجاتے ـ
شادی کا تو تب سوچا بھی نہیں تھا ابھی تو محبت کی اٹھکیلیاں شروع ہی ہوئی تھیں کہ خاردار باڑ ہجر بن کر دونوں کے درمیان آ گئی ـ
سیم کی تاروں کو جب مزدور پلاس سے کستے تو شاری کا دل لہولہان ہو جاتا ـ
اس نے کو ابا کو بہتیرا سمجھایا ـــــ
باڑ نا لگاؤ ابّا!
ابا کون سا مُلک کا مالک تها ـ اسے تو دیہاڑی ملتی تھی ـ وہ ان چار ‘ چھ پیسوں پہ بھی لات مار دیتا تو کیا حاصل ہوتا ـ
شتربانوں نے اونٹ بیچ دیے ـ نوکنڈی کے باسیوں کی دوکانیں اُس پار بہرامچہ میں ره گئی، بکریاں سوکھے پسلیوں کی نمائش کرنے لگیں ـ میمنے رات بھر بھوک کے مارے باں باں کر کے سونے نہ دیتے ـ
بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی ایک دن شاری کے باپ نے ان کو بیچنے کی ٹھان ہی لی ـ
حرام ہونے سے بہتر ہے بِک کر جیب کو گرمائیں ـ
شاری میمنے کو سینے سے لگائے زار زار روتی رہی ـ جیسے لڑکیاں رخصتی کے وقت بابل کی دھلیز پکڑ لیتی ہیں ـ
شاری کی ماں منہ میں پلو دبائے بیٹی کی بکریوں سے جدائی پہ کڑھتی رہی ـ
اسے کیا خبر ـــ
شاری کی گود میں میمنہ ہے مگر خیال میں میربل ـــــ
گاؤں کے سبھی لوگ اپنے مال مویشی بیچ باچ کر نقصان سے بچ رہے تھے ـ اب کیا فائدہ چارہ تو اُس طرف تھا ـ یہاں تو پہلے ہی بےچارگی تھی ـ جس میں اب اور اضافہ ہونے والا تھا ـ
جس دن شاری کے ابا نے سارا ریوڑ بیچ دیا اس دن وہ صبح ہوتے ہی گھر سے نکلی دشت میں ماری ماری پھرتی رہی ـ اس کا دل ایسے تھا جیسے سیوی (سبی) کے میلے کے بعد رونق تمام ہوتی ہے اور میدان ہجوم سے خالی محض دشت رہ جاتا ہے ـ
شاری دن بھر رو رو کے تھکی ہاری واپس آ گئی ـ
اس کی ساری مصروفیت اور جینے کا جواز ہی باڑوں نے تار تار کر دیا تھا ـ
اس کے لیے تو وقت درد بھرا ایک شعر بن گیا ـ
در و دوُر ءَ مُج و سیاه اِنت
نه منزل پاش نه راه اِنت

(ہر طرف سایوں کا طوفان ہے
نہ منزل کا پتہ نہ رستے کا نشان ہے )

میربل نے کہا تھا وہ آئے گا ـ
باڑیں زمین پہ لگ رہی ہیں دلوں پہ نہیں ـ سماج کا تو کام ہی راستے میں پتھر بچھانا ہے ـ وہ محبت ہی کیا جو مجبوری کی بھول بھلیوں سے محبوب کے گھر تک رستہ نہ تلاشے ـ
پر یہ راز وہ کس کو بتاتی ـ
اس کے ھمراز میمنے بھی اس سے بچھڑ چکے تھے ـ
میربل آئے گا ــــ
میربل ضرور آئے گا ــــ
میربل نہیں آیا ــــ
بےوفا ‘
دغاباز ــــ
وہ میربل کو کوستی ہجر کے ساتھ خدشوں کے دکھ میں بھی مبتلا ہوگئی ـ
پر اس کے دل سے نکلی ہر شگان (طعنہ) میربل کے سینے پہ خنجر کی طرح وار کرتی ـ
وہ کھانا کھاتے کھاتے روٹی کا نوالہ بنائے یہی سوچنے لگتا شاری اس سے کتنی خفا ہوگی ـ پر وہ بھی تو فراق کی راہوں میں سرنگیں کھودنے کے منصوبے بناتا ‘ اوزار جمع کرنے میں مصروف تھا ـ
ادھر باڑ پہ کڑے پہرے تھے ـ چوکیاں بن رہی تھیں جن میں تیز روشنی والے برقی چراغ تھے جن کو گھما کے خاصہ دار جائزہ لیتے تو سارے علاقے پہ جیسے چاندنی چٹک جاتی ـ میربل آدھے راستے سے مُڑ جاتا ـ اُدھر انجان شاری محبت کو کوستی ‘روتے روتے سو جاتی ـ
پر آج تو شاری کے بخت بیدار ہونے کی دوسری رات تھی ـ دیشب میربل اس کے آنگن میں اس سے ملنے چلا آیا تھا ـ
کتنا دیدہ دلیر تھا ـ
شاری نے بمشکل اسے واپس بھیجا ـ
کم بخت صبح سے پہلے ہی مرغے جاگ جاتے ہیں ـ
ڈنڈا بردار خاصہ داروں کی طرح رقیب بڑھنے لگے ـ
پر اس کے باوجود فاصلے گھٹنے لگے ــــ
میربل نے شاری کو زبان دی تهی کہ باڑ سے دور سوکھے پیڑ کے نیچے رات کے ڈھلتے پہر اس کا انتظار کرے ـ
آہ محبوب کا انتظار کروں ــــ
یعنی زندگی سے پیار کروں ـــــ
شاری پہنچ تو گئی پر اسے ڈر تھا اگر ابا جاگ گیا؟
کوئی رفع حاجت کے لیے اس طرف نکل آیا تو کیا ہوگا ؟“
پر میربل نے کہا تھا!
”جو ہوگا دیکھا جائے گا “
وہ چاند کے ہر داغ میں میربل کا مکھ دیکھتی ـ عشق کی کھڑکیوں سے عاشق کو جھانکتی خود انتظار کی علامت بن چکی تھی ـ
اچانک دشت کے سکوت کو قتل کرتی بندوق کی تین متواتر گولیوں سے گاؤں گونج اٹھا ـ شاری خوف کے مارے گھر کی جانب بھاگی پھر الٹے قدموں باڑ کی اور ـــ
پہلی بار گاؤں میں گولیاں چلی تھیں ـ اس سے پہلے تو پیٹ پہ باندھنے کو پتھر بھی نہیں تھے بندوق کہاں سے آتی؟
کون ہو سکتا تھا ؟
اور کس کے لیے گولیاں چلیں؟
شاری کے دل میں عجیب عجیب سے ہول اٹھنے لگے ـ
میربل کی پیٹی سے تو خنجر بندھا ہوتا تھا ـ
میربل ــــ
میربل ـــ
گولیوں کی طرح شاری کی آواز سارے دشت میں گونجنے لگی ـ
خاصہ داروں نے شاری کو آگے بڑھنے سے روک دیا ـ
ایک خاصہ دار چونکا
”غلطی ہوگئی صاحب وہ تو ــــ“
صاحب مونچھوں کو تاؤ دیتے بولا !
”نہیں !!!!
غلطی نہیں تیر ٹھیک نشانے پہ لگا ہے ـ “
صبح ہوتے ہی ایک خبر نے اکٹوپس کی طرح گاؤں کو جکڑ لیا ـ
”شب کی سیاہی میں باڑ عبور کرتے ہوئے ایک دھشت گرد ہلاک “
شاری باڑ سے لپٹی ماتم کناں تھی ـ میربل کی لاش باڑ کے دوسری جانب عاشقوں کی طرح عشق کو نیا آغاز دے رہی تھی ـ کافی فاصلے پہ اس کا گھوڑا گھنے درخت سے بندھا سر جھکائے اداس کھڑا تھا ـ
دیکھتے ہی دیکھتے سرحد پر ہر حد سے گزرتے ظلم کو دیکھنے چند خاصہ داروں کے علاوہ گاؤں کا ہجوم جمع ہو گیا ـ جسے چیرتا اس کا باپ آگے آیا اور شاری کو گھسیٹتے ہوئے لے گیا ـ
وہ چلا رہی تھی ـ
دھشت گرد نہیں عاشق تھا میرا ــ
میربل تھا وہ ـــ
میرا میربل ـــــ
بین کرتی شاری گھر میں رسیوں سے باندھ دی گئی ـ کچھ دیر بعد گاؤں میں ایک اور خبر گردش کر رہی تھی ـ
شاری پاگل ہو گئی ہے ـ
پر یہ خبر اس کے باپ کی افواہ تھی ـ جسے سچ ماننے سے انکار کرنے والے بہت تھے ـ
کہانی تو ویسے بھی کب کی بن چکی تھی ـ بس اِس کا انجام باقی تھا ـ شاری زمین کو کھرچ کھرچ کے مٹی سر پہ ڈال کر ماتم کرنے لگی ـ
اس کی آہیں دلسوز موتک ( رزمیہ گیت) گا رہی تھیں ـ جسے سن کر مہاجر پرندے تڑپنے لگے ـ
جو درخت کاٹ کے حدت کے لیے انگیٹھیوں میں لکڑیاں جلاتے ہیں وہ بھی ایک آدھ کھڑکی کھلی رکھتے ہیں ـ ہوا بادل بارش کی راہیں تکنے والے کب سمجھیں گے ـ محبت بھی اکسیجن کی طرح ہے ـ
شاری کی اکھڑتی سانسیں سب کے سینے پہ بوجھ تھیں ـ
شاری کے باپ نے بیوی سے کہا!
”اچھا ہے اسے ایسے ہی دیوانوں کی طرح رہنے دو افواہ سچ میں بدلتے دیر کتنی لگتی ہے ـ“
گم سم خزانی پتے کی طرح اسکا چہره غم سے زرد اور لمبوترا ہو چکا تھا ـ پچکے ہوئے گال اور الجھے بال ـــ
ہجر رونقِ جان و جہاں چرا لے گیا ـ
مہینوں کی قید کے بعد شاری ایک دن رسی تڑوا کے گھر سے نکل گئی ـ وہیں اسی باڑ کی جانب جہاں ایک جسد اور دو لاشیں گریں تھی ـ ایک میربل کی دوسری اس کے ارمانوں کی ـ ٹھیک اسی جگہ ایک سبز عَلم پہ بےشمار کپڑے کی کترنیں اور دھاگے بندھے تھے ـ کتنی منتیں ‘ کتنی جدائیاں کتنی سسکیاں بےشمار دعاؤں سے لپٹی عَلم کی زینت بنی ہوئی تھیں ـ
شاری عَلم کو تھامے گریہ کرتی رہی ـــ
میربل ـــــ
میری مرادوں کو ہجر کے ساتویں آسمان پہ معلق کر کے ـــــ
کیوں میر سے مرشد بن گئے میربل ــــ
میربل ــــــ
وہاں ایک عمر رسیدہ عورت آئی ـ اس نے سبز رومال کے دو ٹکڑے کیے ـ ایک علم پہ باندھا ایک ٹکڑا شاری کو دیا ـ
دعا سے فارغ ہوئی تو شاری سے پوچھا !
”اُس پار تمھارا کون رہتا ہے ؟“ ـ
شاری کے قطرہ قطرہ آنسو دریائے ھلمند پہ برستی بارش کی طرح برسنے لگے ـ
عورت نےاسکی کیفیت اپنی دانست میں سمجھتے ہوئے کہا!
“دعا مانگ لو، یہ بےگناہ ‘ شہید عاشق کا مزار ہے” ـ
“میں خود بہت دور سے آئی ہوں ـ میں نے اپنی بیٹی خانشین میں بیاہی تھی ـ تب سرحد تھی نہ باڑ نہ فراق تھا ـ اب ایک درد ہے جس کو مرنے سے پہلے نجانے کب راحت ملے ـ بیٹی کے ملن کی دعا کرنے آئی ہوں ـ کاغذات کے بغیر اب وہاں جانے دیتے ہیں نہ آنے ـ ہم غریب لوگ سوکھی روٹی کھانے والے شہر کی درک سے بھی ناآشنا کاغذات کہاں سے لائیں گے اب؟”
دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ کے پھوٹ پھوٹ روئیں ـ
اشکوں کا تبادلہ ــــ
تسلی ـــــ
درد ــــــ
جدائی ـــــ
عورت کی دعا شاید قبول ہو پر مزار کو مجاور مل گئی ـ جہاں بچھڑنے والوں کی مرادیں چِلے کاٹنے آتی ہیں ـ جدائیاں عرس مناتی ہیں ـ اشک دھمال کرتے ہیں ـ صبر کے چراغ جلتے ہیں ـ
پھٹا ہوا پھریرا شاری کے اشکوں کو خشک کرنے کے لیے آج بھی پھڑپھڑاتا ہے ـ
مگر آنسو رُکتے نہیں ـ
کیونکہ آنسؤؤں کا راستہ تو ہوتا ہے مگر ان کی کوئی منزل نہیں ہوتی ـ
شاری کی ہر سسکی ہر پل خاصہ داروں کو مُلا رگام واشی کی یہ نظم سناتی ہے ـ

ترجمہ:۔

(جب کبوتر اور باز ایک جگہ بسیرا کر لیں
اور پاگل بھیڑیا بکریوں کا رکھوالا ہو جائے
اگر بلّی روغن کی پاسبان بن جائے
اگر آگ اور اُون ہمزبان ہو جائیں
اگر آہُو شیر کے ساتھ ہمقدم ہوجائے
انار باجرے کے دانے جتنا چھوٹا ہو جائے
سمندر اتنا خُشک ہوجائے کہ گذرگاہ بن جائے
اور مچھلیاں میدانوں میں دَوڑنے لگیں
اگر اُنتیسویں چاند کی رات کو چاندنی چَٹکے
شاید اُس وقت تم سے میری نفرت کم ہوجائے
شاید اُس وقت میں تم سے مذاکرات کر لوں)

_________________________

تحریر وکور ڈیزائن:ثروت نجیب

Advertisements

2 Comments

Comments are closed.