کہانی کار_____________ذویا ممتاز

میری ساری کہانیاں اب ادھوری رہ جاتی ہیں، میں کہانی لکھنے بیٹھتا ہوں اور کہیں نا کہیں فضا میں “بین” کی آوازیں گونجنے لگتی ہیں، ان آوازوں کے شور تلے دب کر میری کہانی ادھوری رہ جاتی ہے پھر لاکھ سر پٹخوں وہ مکمل نہیں ہوتی اس پر دکھ کی آوازوں کا سایہ پڑ جاتا ہے ، ادھورے کردار گونگے بہرے ہو جاتے ہیں…

پھر کئی جتن کر کے نئی کہانی لکھنے بیٹھتا ہوں تو جلدی جلدی قلم چلاتا ہوں اس بار تو بہت خوش ہوا کہ بس کہانی لکھ ہی لی مگر آخری پیرا باقی تھا جب بارود کی ‘بو’ فضا میں پھیل گئی، باہر سڑک پر بارود کی بو ، جلتے لاشے، لوگوں کی بے ہنگم آوازوں کے بعد نعرے گونجے ، میں اپنے کان بند کیے ڈرتے ہوئے ٹک ٹک کرداروں کو گھورتا رہا، سب کرداروں کے کانوں اور ہونٹوں پر اپنی انگلیاں دھر دیں جو بچ گئے کسی پر پنسل کسی پر کاپی رکھ لی، کہیں پچھلی کہانی کے کرداروں کی طرح یہ بھی گونگے بہرے نہ ہو جائیں، باہر کی آوازیں بڑھ گئیں لیکن! میں مطمئن تھا کہ سب کرداروں کے کان اور ہونٹ محفوظ ہیں،

مگر میں ششدر رہ گیا جب باہر ہونے والی آنسو گیس کی شیلنگ سے سارے کرداروں کی آنکھوں کے بہتے پانی میں میرے قلم سے نکلا ایک ایک لفظ ڈوب گیا، کہانیاں مجھ سے روٹھ گئیں، کہانی بنتی، کردار چلتے پھرتے لیکن لکھنے کی کوشش میں کچھ نہ کچھ ایسا ہوجاتا کہ کہانی ادھوری رہ جاتی.

ایسے میں خواہش اٹھتی کاش! ایک بار پھر وہ زمانہ آ جائے جب دن بھر کے تھکے ہارے شام میں کہانی سنتے سنتے سو جاتے تھے، مجھے تو ایسا لگتا ہے دہشت گردی کے اس زہریلے موسم میں جہاں چاروں جانب لہو ،لاشے اور بے امنی ہے، الف لیلیٰ داستان کی اصل حاجت تو آج کے ابن آدم کو ہے، جدھر وہ شہرزاد ، ہاں وہی شہرزاد جو ایک رات کی ملکہ بنی بیٹھی تھی پو پھٹتے ہی جس کا سر قلم ہو جانا تھا ، موت کے ایسے کالے سائے میں بیٹھی کہانی سناتی ہے، پو پھٹنے پر روک کر کہتی ، کہانی دن کو تھوڑا سنائی جاتی ہے؟ کہانی سننے کی لالچ میں ہر صبح اسے ایک رات کی مہلت ملتی جاتی، اس کی کہانی چلی اور ایسی چلی کہ ایک ہزار ایک رات تک چلتی رہی،

شہرزاد صحیح ہی تو کہتی تھی کہانی بھلا دن میں تھوڑا سنائی جاتی ہے؟ گویا کہانی اور رات کا آپس میں گہرا تعلق ہے، یوں بھی اجلے دنوں پر جب دکھوں کے بادل چھا جائیں، روشن صبحیں ملگجی ہو جائیں، تو کالی راتیں محسن بن جایا کرتی ہیں، جب دوپہریں پھیکی پڑ جائیں تو تاریکی کے کاندھوں پر بازوؤں سے گھیرا ڈالے سر کو ٹیکا جاتا ہے.

سوچتا ہوں شام گئے محلے کے ہر ایک دروازے پر دستک دوں اور بہت پیار سے اصرار کروں کہ بھیا! رات ڈھلے گلی کے نکڑ پر ایک “بیٹھک” کرنے کا جی کرتا ہے…آپ بھی رونق بخشیں نا، لیکن سنانے سے پہلے تو کہانی لکھنی ہوگی، کوہ قاف کے جن اور پرستان کی پریوں جیسی، شہزادہ گلی گلی پھرتا شہزادی کو ڈھونڈنے نکلے، لیکن نہیں یہ سب تو کہیں نا کہیں بچپن میں سنتے ہوں گے،

پرانی کہانی کو نئے ڈھنگ سے لکھنا ہوگا،

میری پسندیدہ کہانی جس میں شہزادی کی جان توتے میں قید تھی اور ظالم دیو کے قبضے میں وہ توتا…

اچھا تو اسی کو نئے رنگ میں سنانے کے لیے لکھتا ہوں، نئی کہانی میں “دیو توتے کی گردن یک لخت نہیں مروڑتا بس وقفے وقفے سے اس کی گردن پر دباؤ ڈالتا ہے، بادشاہ زادی سہہ نہیں پاتی، چیخ اٹھتی ہے پر دیو کو “ترس” نہیں آتا ،

دیو توتے کی گردن مروڑے گا تو وہ شفق زادی مر جائے گی ، اس کی دل دہلانے والی چیخیں شہزادہ سن نہیں سکتا ، وہ شہزادی کی جان کے بدلے اپنی جان دینے کا کہتا ہے مگر شہزادی کو ایسی زندگی سے کیا غرض جہاں اس کا محبوب نہیں ہو…دونوں سوچ رہے ہیں، (جیسے مجھے صرف کہانی سے مطلب ہے چاہے وہ لکھی جائے یا سنائی جائے ، بالکل ویسے دیو کو بھی ‘جان’ سے غرض ہے.)

جوں ہی دیو نے توتے کی گردن ہاتھ میں لی ، میں چلا اٹھا ، دیکھا! وقت بدل گیا ہے اس بار شہزادے کے ساتھ ہی کہانی لکھنے والا بھی اس بادشاہ زادی پر دل ہار بیٹھا، میں نے دیو سے سودا کر ڈالا ، اب کے دیو نے توتے کی گردن توڑی تو میری روح نکلی تھی،

بادشاہ زادی تب سے منہ پر ہاتھ رکھے چیخ رہی ہے ،گلی کے نکڑ پر بھی بس ایک ہی بات گونج رہی ہے،

کیسا عجیب کہانی کار تھا اپنے ہی لکھے کردار کے عشق میں جان گنوا بیٹھا!

__________________

تحریر: زویا ممتاز

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements