ممی کے بچوں کی دوستیاں

ایک دن محمد سکول سے بھاگتا ہوا آیا،خوش سے بھرپور،ہواوں میں اڑتا ہوا اور اس نے مجھ سے آتے ہی پہلی بات کہی

“It’s a best day ever!”

کیوں؟

مجھے بھی سکون ہوا، دل میں طمانیت اتری۔ورنہ روزانہ ہی تھکا ہارا آتا ہے فریڈ اور کرسٹین سے باتیں کرتا ہوا۔،فریڈ اور کرسٹین جو اسکے دو کھلونوں کے نام ہیں،فریڈ ہے اک چھوٹا سا ذیبرا اور کرسٹین ہے اک چھوٹی سی گڑیا۔مگر آج اسے فریڈ اور کرسٹین کی فکر نہ تھی۔آج اس کے دل اور دماغ میں کچھ بہت خوبصورت یادیں بھری ہوئ تھیں۔

Because ،،because I played with Taha!

میرا دل چاہا میں اس کی جھولی دوستوں سے بھر دوں۔وہ کھلونوں سے باتیں کرنے والا،بات بات پر ہنسنے کا شوقین بچہ سب سے بہترین سکول میں ہونے کے باوجود تنہائیوں کا شکار ہے۔کیوں؟

کیونکہ اس کی غیر روایتی ماں ایک روایتی ہوم میکر بیوی ہے،وہ گھر کے دروازے سے اسے جادو کی جپھی دے کر رخصت ضرور کرتی ہے مگر اسے ڈراپ کرنے سکول کے دروازے تک اور وہاں سے کلاس روم تک نہیں جا سکتی۔اسکی وجوہات:بہت سی ہیں،کچھ گھریلو مسائل،کچھ معاشی،کچھ سماجی اور کچھ ذہنی۔تو اسکی کلاس تک جاتے جاتے ان بہت سی ممیز سے ملاقات نہیں کر سکتی جو روز آتے جاتے ہیلو ہائے کرتی،ایک دوسرے کے بچوں کو پیار کرتی ہیں،اکثر و بیشتر ساتھ کھڑے ہو کر آدھ پون گھنٹہ گپ شپ لگاتی ہیں،ہر دوسرے روز ایک دوسرے کو پارٹی پر بلاتی ہیں اور ماؤں کے یہ ذاتی تعلقات انکے بچوں کے قریبی تعلقات میں بدل جاتے ہیں۔اور ایسے میں جب چھوٹی کلاسز کے بچے کھیلنے کے لئے نکلتے ہیں تو اپنے جانے پہچانے چہروں کو ڈھونڈتے ہیں۔ایسے میں محمد کسی کی جان پہچان میں نہیں آتا۔

ایک وجہ یہ بھی کہ سکول سے خاصے فاصلے پر رہنے کی وجہ سے وہ سکول کے قریب واقع کسی بھی جمناسٹک سنٹر، کراٹے کلاس یا سمر کیمپ جیسی جگہ نہیں جاتا۔اس لئے بھی اس علاقے کے رہائشی بچوں کے لئے اک الگ تھلگ بچہ دکھائ دیتا ہے۔

ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسکی ممی ایک سنجیدہ مزاج خاتون ہے اور ہر ہفتے ہونے والی شہر کی کئی مم پارٹیز یا ممی گٹ ٹوگیدر میں جا کر ہر نئے فیشن پر ہر نئے انداز کے ساتھ بحث نہیں کر سکتی، اسکی بجائے وہ بچوں کے کرسی میز پر بیٹھ جاتی ہے اور ممی کی ڈائری لکھتی ہے،اور کیسی گھمبیر غلطی کرتی ہے!کہ یہ ایونٹس ممی کے لئے چاہے کتنے ہی بدمزہ اور غیر پرکشش ہوں مگر یہ بچوں کے میل جول اور تعلقات بنانے کا اک بنیادی ذریعہ ہیں۔اور یہ ممی اس محاذ پر بھی ہار جاتی ہے۔

ایک اور وجہ یہ ہے کہ میرے بچے کا باپ بھی ایک انتہائ خاموش طبع شخص ہے جسکے دوستوں کا بہت محدود حلقہ ہے۔جو کچھ جان پہچان کی فیملیز ہیں انکا سکول کے انتخاب میں اک مختلف نظریہ ہے جبکہ ہم ممی ڈیڈی تعلیم کے معاملے میں غیر معمولی سنجیدہ ہیں۔

بچوں کو بہترین تعلیم دینے کی شدید خواہش تھی کہ ہم نے اپنے دوست احباب کی اکثریت سے مختلف فیصلہ کیا اور ایک چھوٹے لیول کے کم خرچ پرائیویٹ سکول پر راضی ہونے کی بجائے ایک اچھے اور مہنگے سکول میں داخل کروایا جس کی قابلیت اور کمال پر کوئ انگلی نہیں اٹھا سکتا۔پھر چاہے ہمارے گھر کی کھڑکیوں میں سے سمندر نہ دکھائ دے، کمپاونڈ میں سوئمنگ پول نہ ہو،چھٹیوں میں یورپ اور امریکہ کے وزٹ نہ ہو مگر بچوں کی تعلیم مکمل ہو،ہمارے انداز کی اس طرح کی کچی پکی نہ ہو کہ جس میں انسان ساری عمر قابلیت کی الف بے ہی سیدھی کرتا رہے۔یہ ہمارا نظریہ تھا مگر ممی کے بچے اس نظریے کو اور اسکی افادیت کو بہت دیر سے سمجھ پائیں گے۔ابھی تو ان کے سامنے سماجی تنہائی کا اک نہ ختم ہوتا مشکل کدہ ہے۔

۔ چناچہ صرف محمد نہیں یہ میرے تینوں بچوں کا المیہ رہا ہے۔پہلے فاطمہ پھر آمنہ اور اب محمد۔۔۔یہ ممی اور ڈیڈی کسی کی سماجی تنہائی ختم کرنے کا باعث نہ بن سکے۔فاطمہ کو میں ٹافیاں اور چاکلیٹ دے کر بھیجتی رہی تا کہ وہ اپنے دوستوں سے شئیر کر سکے،یہ حربہ کبھی کامیاب ہو جاتا کبھی ناکام ۔بلآخر بڑے ہوتے ہوتے ان دونوں نے اپنے تعلقات اپنی بنیاد پر استوار کرنا سیکھ لئے۔فاطمہ بہت سارے دن سال کے لائبریری میں بیٹھ کر کہانیاں پڑ کر گزار آتی ہے۔آمنہ اب دو تین دوستوں میں خود کو مصروف کر چکی اس کے علاؤہ بہت سی انٹراسرکولر ایکٹیویٹیس میں گم کر رکھا ہے اس نے۔اور محمد،،کتابوں کا شوقین نہیں،کھیلنے بھاگنے دوڑنے کا ہے ،اور اس کے لئے اسے چاہیں دوست،،،جو اسے بہت کم ملتے ہیں۔تو جس دن خوش قسمتی سے وہ اچھلتا کودتا، خوش ہوتا گھر لوٹتا ہے اسکی وجہ ہوتی ہے اسکا دوست طہٰ جو کبھی کبھی بریک میں اس سے ٹکرا جاتا ہے اور دونوں مل کر کھیل لیتے ہیں۔

یہ الفاظ لکھنے اتنے آساں تو نہیں تھے پر ممی نے اپنے دکھتے دل کو تھام کر ان کو لکھ دیا۔یہ دکھ،یہ اذیت،یہ الم ایک ماں کے لئے کچھ کم تو نہیں جب ان کے بچوں کو مسائل والدین سے تحفے میں مل جائیں۔مسائل بھی وہ جن کو حل کرنے کا ممی کے پاس کوئ بھی حل نہیں۔

زندگی میں بہت سے کمپرومائز کرنے ہوتے ہیں اور وہ سمجھوتے سب سے تکلیف دہ ہوتے ہیں جو مائیں اپنی اولاد کی خوشیوں پر کرتی ہیں۔اور ایسا کرنے میں ممی کی رضامندی نہیں ہوتی،کوئ نہ کوئ حل نہ ہوتی مجبوری پاؤں کو پکڑی ہوتی ہے،کوئ نہ کوئ زنجیر ہاتھوں کو باندھ کر بیٹھی ہوتی ہے۔

یہ مسلئہ صرف میرا نہیں۔میں جو دبئی جیسے ماڈرن اور جدید شہر کے ناز و انداز والے نواب لوگوں کے بیچ رہتی ہوں۔پاکستان میں رہنے والی میری مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والی دوست کا بھی ہے ۔

مسلئہ یہی کہ کسی نہ کسی سماجی تفاوت،میل ملاپ،رحجانات کے فرق کی کی بنا پر چھوٹے بچے ہجوم میں ہو کر بھی تنہا ہیں۔۔۔والدین کی مجبوریاں کبھی کبھی بچوں کے سامنے وہ سوال کھڑی کر دیتی ہیں جن کے جواب ان کے ننھے ذہن دینے سے قاصر ہوتے ہیں۔یہ سوال بھی ان میں سے ایک وجہ ہے جن کی وجہ سے محمد کا دل سکول میں نہیں لگتا۔

ایسا بھی نہیں کہ میں نے ان مشکلات کے خاتمے کے لئے کوئ کوشش نہیں کی۔ممی کے اختیار میں جو کچھ تھا سارا نہیں تو کافی کر چکی۔اور جب مزید کچھ نہ کر سکی تو کچھ اضافی سجدے کر کے خدا کے حضور بہت سی دعائیں بھی کی ہیں۔کہ سنا ہے ماؤں کی دعا ہمیشہ مقبول ہوتی ہے۔تو جھولی پھیلا کر بھی کبھی کبھی بچوں کے لئے دوست مانگے ہیں ورنہ انکے حوصلے اور ہمت میں اضافی ضرور مانگا ہے۔کہ کچھ بھی ایسا خدا دے دے کہ یہ تنہایی کے عذاب ان ننھی جانوں سے اتر جائیں۔

یہ تنہائ جو اعصاب کو نچوڑ لیتی ہیں،جو سوچوں کو بڑھا دیتی ہیں اور اعصابی دباؤ میں مسلسل اضافہ کرتی ہے۔وہ تنہائ جو بہت سی مائیں چاہ کر بھی اپنے بچوں کی ختم کر نہیں پاتیں۔یہ ذندگی کے کمبل ایسے ہیں کہ سر ڈھانپیں تو پاؤں اکثر ننگے رہ جاتے ہیں۔

____________________

تحریر:ممی

کور ڈیزائن:ثروت نجیب

Advertisements