محبت کو کسی موسم سے
فرق نہیں پڑتا
محبت کی نظمیں
مارچ کی خوشبوؤں
اکتوبر کی سرسراہٹ کے بیچ
مخصوص لمحوں کے محلول میں
تحلیل نہیں ہوتیں
نا گہانی طوفانوں کے قدموں تلے آکر
ادھوری نہیں رہتیں
کھڑکیوں کو بوسہ دیتی
بارشوں کے قلم سے
تکمیل نہیں ہوتیں
محبت کے اشعار
جون کے رینگتے دنوں سے
وقت ادھار نہیں مانگتے
نہ دسمبر میں چائے کی میز پر
ہر وقت مدعو رہتے ہیں
مہینے کے آخر میں
واہ واہ کی اجرت نہیں لیتے
نہ سات دنوں کے سمندر میں
ہر روز بہتے ہیں
محبت کی غزلیں
ہر سال ـــــــــــ
ایک رت کے دوسری رت سے ملنے کے لیے
آنے والی ٹرینوں میں
سفر نہیں کرتیں
یہ دھند کے اسٹاپ پر
مصرعوں کو نہیں اتارتیں
نہ حبس کے شہروں سے
پیغام لیتی ہیں
ہاں یہ غزلیں ــــــ
چاند کے لوٹ آنے کی
منتظر نہیں ہوتیں
نہ فصلیں اترنے پر
نئے جذبوں کا نام لیتی ہیں
محبت کو موسم کیا
کسی تہوار ــــــــیادگار سے فرق نہیں پڑتا
محبت کی کہانیاں
نئے سال کی پہلی صبح پر
مبارک فرض نہیں کرتیں
نہ فروری کے نصف میں
ہر سستے مہنگے سٹور پر
تحفے ڈھونڈنے نکلتی ہیں
محبت کی کہانیاں
محبوب کے جنم دن پر
کیک کاٹنے سے پوری نہیں ہوتیں
نہ بسنتی رنگ منانے سے
اچھا انجام لکھ پاتی ہیں
محبت کے اپنے موسم اپنے تہوار ہوتے ہیں
یہ جب چاہے
ہر موسم کو پکار سکتی ہے
سن سکتی ہے
یہ جب چاہے
خوشیوں اور آنسوؤں کے دنوں کی
اپنی فہرست بنا سکتی ہے
یہ جب چاہے
مقررہ دنوں سے ہاتھ کھینچ سکتی ہے
عام تاریخوں میں دل لگا سکتی ہے
یہ جب چاہے
بند دروازے کے باہر تحفہ رکھ سکتی ہے
ٹوٹے گلدانوں میں سالم پھول سجا سکتی ہے
اپنی دھن پر اپنا گیت گانے والی محبت
کسی حساب میں نہیں پڑتی
پہر گنا نہیں کرتی
رات اور دن کے ملنے کے
لمحوں موسموں کی جدائی کے
محبت کو واقعی کسی شئے
سے فرق نہیں پڑتا
سوائے بیوفائی کے ـــــــ

_________________

شاعری:حمیرا فضا
کور ڈیزائن:ردا فاطمہ(ردا آرٹ)