مضبوط مائیں محفوظ بچے

بہت ہی پرانی بات ہے کہ ملک کی پچاس فی صد سے زائد عورت کی تعداد کو مضبوط کئے بغیر کوئی ریاست ترقی نہیں کر سکتی۔نئی بات یہ ہے کہ مضبوط عورت کے بغیر آپکی فیملی محفوظ نہیں ہو سکتی۔محفوظ بچوں کے لئے ایک مضبوط ماں بہت ضروری ہے۔

ہمارے ملک کی عورت کی اکثریت اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اپنے بچوں کی تصاویر لگاتی ہیں اور اپنی چھپاتی ہیں۔کتنی کثیر تعداد خود دروازے کے پیچھے چھپتی ہے اور بچے کو دروازے پر دیکھنے یا دکان پر سودا لانے بھیجتی ہے۔کیا ایک بیس ،تیس یاچالیس سال کی عورت ذیادہ غیر محفوظ اور کمزور ہے یا چار ،پانچ سے لیکر گیارہ بارہ سالہ بچہ؟ کتنے ہی فی صد عورت خود گھر کے اندر چھپ کر بیٹھتی ہے اور چھوٹے بچوں کو اکیلے یا رکشے اور ویگن والے کے ساتھ سکول بھیجتی ہے۔کیا اس معاشرے کی ذمہ داری صرف ایک عورت کو بچانا ہے ،اپنی نسلوں اور بچوں کو نہیں؟

سچ تو یہ ہے کہ ایک عورت کو کمزور اور محدود کر کے ہم نے خود اپنے بچوں کی سلامتی خطرے میں ڈال دی ہے۔ایک عورت کو ہمارے عام گھرانوں میں اس قدر دبا اور ڈرا دیا جاتا ہے کہ مکمل طاقت رکھنے کے باوجود ،بیس،تیس چالیس سال کی جوان بچوں کی ماں بن جانے تک وہ ہمیشہ کھڑے ہونے کے لئے ساتھ کسی مرد نما دیوار کا سہارا ڈھونڈتی ہے ۔ایسی کمزور ماں اپنے معصوم اور بائیولوجیکل کمزور بچوں کو کیا طاقت اور سہارا دے سکے گی؟۔کیا اسلام کے نام پر بنے اس معاشرے کی عورت حضرت خدیجہ کی طرح سر اٹھا کر کاروبار کر سکتی ہے؟کتنی عورتیں حاجرہ بی بی کی طرح پہاڑوں کے بیچ تنہا اپنے بچے کے ساتھ صرف اللہ کے نام پر گزار سکتی ہیں؟کتنی عورتوں میں یہ دم ہے کہ حضرت سمعیہ کی طرح سماج کے خلاف اپنے عقاید اور حقوق کے لئے کھڑی ہو سکیں؟کتنی عورتیں حضرت عائشہ کی طرح مردوں کو تعلیم دے سکتی ہیں؟کتنی بچیاں حضرت اسما کی طرح دشمنوں سے گھرے شہر میں سے نکل کر غاروں میں اپنے باپ اور انکے دوست رہبرٌ کے لئے کھانا پہنچا سکتی ہیں؟کتنی عورتوں کے علم کو اتنی اہمیت دی جاتی ہے جتنی حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ کی بیان کردہ احادیث کو دی گئی؟ہمارے ہاں تو ایک آدھی گواہی کی شق کو لیکر ذندگی کی ہر شق میں عورت کا کردار اور حصہ آدھا سے بھی آدھا کر دیا جاتا ہے ۔

اسلام کے نام پر بنے اس معاشرے میں کیا عورت اتنی ہی مضبوط ہے جتنی کہ اسلام نے بنانی چاہی؟سچ تو یہ ہے کہ عورت کی کمزوری اسلام کا تحفہ نہیں بلکہ ہندوستان کی تاریخ سے ملی ہندوازم کا تحفہ ہے جسے آج تک ہمارا مرد اسلام کے نام پر نافذ کرتا آیا ہے کیونکہ اس سے اسے وہ حاکمیت اور ملکیت کا احساس ملتا ہے جو اسلامی عقائد پر چل کر چھن جاتا ہے۔تبھی ہمیشہ سے کمزور کی جاتی ہوئ، دبائی ہوئ عورت آج بھی اپنی عزت اور جان کی خود حفاظت نہیں کر پاتی تو وہ ان بچوں کی کیا کرے گی جنکو آپ اس کے آسرے پر چھوڑ کر روزگار کی تلاش میں نکلتے ہیں اور پھر ہر نقصان کا الزام اس عورت پر ڈال دیتے ہیں جسے آپ نے کبھی طاقت دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔گھر کے مردوں کی خفگی اور باہر کے مردوں کی ہوس سے ڈری عورت چادر اور پردے میں اکثر اللہ کے لئے نہیں اپنی حفاظت اور مردوں کی خوشی کے لئے چھپتی ہے۔چناچہ وہ خود کو بچاتی اور اپنے ہی بچوں کو ڈھال بناتی ہے۔جا بجا بچوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے جنسی واقعات اور انکے وحشیانہ انجام کے پیچھے یہ کمزور مائیں بھی ایک عنصر ہیں جو اپنی صورت چھپا کر بچوں کی تصویر ڈیپی پر لگا کر ان تمام کالے کرتوت والے لوگوں کے لئے ٹارگٹ اور انتخاب آسان کر دیتے ہیں جو بصورت دیگر ان کے لئے کچھ مشکل ہوتا۔پھر بچوں کو مولویوں،دکانداروں کے پاس تنہا بھیجنے والی مائیں خود اپنے بچوں کے معاملے میں کوتاہی برتتی ہیں اور ان کو اس مصیبت میں دھکیلتی ہیں جن کا نہ وہ ادراک کر سکتے ہیں نہ اپنا بچاو۔کیوں نہیں مائیں بچوں کو سکول اور مدرسے کے دروازے سے خود لیکر آتیں؟ کیوں نہیں ماؤں کی اکثریت اپنے بچوں کی ڈھال بنتی بجائے کہ وہ خود اپنے بچوں کو اپنی ڈھال بنائے۔۔عورت ایک جوان جہان، سمجھدار خدا کا بنایا مضبوط وجود ہے جو اپنی حفاظت بھی کر سکتا ہے اور بچوں کی بھی، محض ہم نے اسے ذہنی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔کیوں نہیں ہم انکو پستول اور ڈنڈا چلانا سکھا دیتے تا کہ وہ کسی صورتحال میں اپنا اور بچوں کا دفاع کر سکیں۔کیوں نہیں ہم ان کو سر اٹھا کر زمین پر اکڑ کر چلنا سکھا دیتے تا کہ اس کے بچوں پر نظر ڈالتے لوگوں کے دل پر خوف طاری ہو۔کیوں نہیں ہم ان کو اپنے وجود کے خوف کی بجائے اسکی طاقت سے آگاہ کرتے تا کہ وہ اپنے بچوں اور خاندان کے لئے ایک مکمل مضبوط پناہ گاہ بن سکے؟۔

آج اپنی بیٹیوں کو مضبوط بنائیں تا کہ کل کو لوگوں کی نگاہیں انکی قدموں میں لرزا طاری نہ کر سکیں،تاکہ لوگوں کی نظروں سے ڈر کر چادر اور چار دیواری کے پیچھے چھپنے کی بجائے انکی آنکھیں نکال لینے کی جرات کر سکیں۔چادر اور چار دیواری کو ضرور اپنائیں مگر انکے اندر ڈرتی ہوی کانپتی ہوی نہیں ایک مضبوط اور مستحکم عورت کی تشکیل کریں جو ہر مشکل کا سامنا کر سکے،ہر آذمائش کے مقام پر صحیح فیصلہ لے سکے اور اپنے بچوں کا ہاتھ تھام کر انکے آگے چلے،پیچھے نہیں۔انکو لیڈ کرنا سکھائیں پیچھے چھپنا نہیں۔چادر برقع ،چاردیواری سب بہت محترم ہیں مگر ان کے ساتھ اپنی بیٹی کی شخصیت کو بھی استحکام دیں تا کہ زندگی میں اسے احترام کے لئے لباس کے ساتھ کردار کی مضبوطی بھی میسر ہو۔آج اپنی بیٹی کو وہ احترام اور اعتماد دیں کہ کل کو وہ ایک مضبوط نسل پیدا کر سکے نہ کہ خود ایک بے بسی کی تصویر بن کر رہ جائے۔ ان کو حفاظت سے جینے کے وہ تمام گُر سکھائیں تا کہ کل کو انہیں اپنی حفاظت کے لئے بچوں کو آگے نہ کرنا پڑے،کسی سے بات کر لینے،کسی کے دروازے پر آ جانے یا کسی کی انگلی اٹھا دینے کے خوف سے،بات بات پر عزت نکل جانے کے خوف سے،سر جھک جانے کی اذیت سے انکی جان چھڑا دیں تا کہ کل کو وہ اپنے بچوں کی حفاظت کر سکیں ،انکی ڈھال نہ لیں۔

____________

تحریر و کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

شائع شدہ “ہم سب”

ہم سب پر پڑھیں

Advertisements