“شتربان کی لڑکی”________ذویا ممتاز

پچھلے وقتوں کے بڑے بوڑھے شام ڈھلے چوپالوں میں جب کوئی قصہ چھیڑتے،اپنی آنکھیں میچے یادوں کی کترنوں سے تانے بانے بنتے تو سننے والوں پر سحر طاری کر دیتے ، بہت بولتے بولتے اچانک حقہ تازہ کرنے کا وقفہ لیتے تو خاموشی کا یہ وقفہ بھاری ہو جاتا.. نئی نئی محبت کرنے والے،جن کی مسیں ابھی بھیگ رہی ہوتیں، دھڑکتے دلوں سے تانوں بانوں میں الجھے البیلے “شتربان” کے ہمراہی ہو کر اس رستے کو کاٹتے رہتے جدھر سے ‘بانسری کی میٹھی لے’ نے پیامبر بن کر اس دیوانی کو سنائی دینا ہے،

جس کا سارا وجود ‘کان’ بنے کانپ رہا ہے، آواز سنتے ہی اس کے لبوں کو چھوتا زہر کا پیالہ ہاتھ سے چھوٹ کرکرچی کرچی تو ہو جاتا ہے لیکن گھونٹ بھرا یا نہیں ؟

قصہ گو ، پھر اسی موڑ پر ‘باقی کل’ کا کہہ کر انتظار کو برگد کی گھنی شاخوں سے لٹکا دیتا..

مگر یہ تو پچھلے وقتوں کی باتیں ہیں نا!

آج تو ہر شہ زادی کو عشق کے لیے بھی شہ زادہ ‘ہی’ چاہیے..برگد تلے کی وہ چوپالیں گئے دنوں کا خواب ہوئی ہیں،اب کسی کے پاس بڑے بوڑھوں سے ‘لوک کہانیاں’ سننے کا وقت نہیں ہے.

لیکن!

مجھے کیوں ایسا لگتا ہے کہ میں ہی پچھلی صدی میں تھر سے گزرے کسی قافلے سے بچھڑا وہی گمشدہ باشندہ ہوں جو اصل میں ‘شہ زادہ’ ہو کر بہروپ بھرے “شتربان کی لڑکی” کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس “صدی” میں آ نکلا ہوں…
________________

تحریر :زویا ممتاز

کورڈیزائن:فرحین خالد،صوفیہ کاشف

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.