عرب امارات اور ڈرائیونگ لائسنس_______صوفیہ کاشف

سونے کے لئے لیٹتی ہوں تو ہزاروں چھوٹی بڑی گاڑیاں سر کے اوپر سے بھاگنے لگتی ہیں۔ڈراونے ٹرالر،موٹے موٹے ڈرم مکسر،لوڈرزاور خوفناک ڈراؤنی آنکھوں والی اونچی اونچی کرینیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔گاڑی کے بیک ویو مرر سے غرانے لگتے ہیں اور جو گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ مجھے سستانے کو ملتا ہے میں اس میں ساری ٹریفک کے بیچ میں پھنسی اپنی چھوٹی سی گاڑی کسی کھائ میں،کسی لینڈ سلائیڈنگ کی نکڑ پر یا کسی گہری کھائی کی پگڈنڈی پر چلانے کی کوشش کرتی رہتی ہوں۔یہ میرے کوئ ڈراؤنے خواب نہیں بلکہ ڈرائیونگ ٹرینگ کلاس کے بعد آنے والے وہ ہچکولے ہیں جو اگلے کئی گھنٹوں تک جاگتے میں یا سستاتے مجھے جھٹکے دیتے رہتے ہیں خصوصاً تب جب میں کم سے کم دو تین گھنٹے کی نیند کے بعد خود کو تازہ دم نہ کر سکوں۔اسکی وجہ وہ ڈرائونگ کی ٹرینگ کلاس ہے جو مجھے مسلسل دو گھنٹے کے لئے شہر کی مصروف ترین موٹر ویز پر بڑی بڑی لینڈ کروزرز،رینج روور،پیٹرول اور شہر کی بدترین ٹریفک والے انڈسٹریل ایریا میں دنیا کے بھاری بھاری دیوہیکل ٹرالرز کے بیچ چلانی پڑتی ہے۔اور یہ ڈرائیونگ ٹرینگ کلاس جو مجھے ایک کار لائسنس لینے کے لئے درکار ہے ،کوئ خالہ جی کا باڑہ نہیں ،اسکی ایک خطرناک کہانی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے قواعد کے تحت میں بغیر لائسنس کار کو ہاتھ تو لگا سکتی ہوں اس میں پیسنجر سیٹ پر بیٹھ بھی سکتی ہوں مگر چلا لینے کی صورت میں سیدھا سیدھا مجھے دیس نکال دیا جا سکتا ہے۔اور لائسنس حاصل کرنا یہاں ایک لمبا پراسسز ہے جو اکثر لٹک کر پی ایچ ڈی جتنا لمبا ہو جاتا ہے۔مزید آگے چلنے سے بہتر ہے کہ آپ کو اس عمل کے بارے میں تھوڑی معلومات فراہم کی جائے۔
۔سب سے پہلے آپ ایک بڑے رقبے پر پھیلے احاطے کے ایک کونے میں واقع ڈرائیونگ سکول میں جا کر سکول کی فیس جو ہزار درہم سے اوپر ہے ادا کر کے سکول میں داخلہ لیتے ہیں اور اپنی کلاسز کا شیڈول حاصل کرتے ہیں۔ان کلاسز کے لئے آپکی باری کم سے کم بھی پندرہ بیس دن کے بعد آتی ہے ۔تقریبا بارا کے لگ بھگ کلاسز آپ مختلف دنوں میں دو دو کرکے پوری کرتے ہیں جن میں گاڑی ،روڈ سیفٹی،ٹریفک کے قوانین،سائن بورڑز سے متعلقہ لیکچرز،ڈیمو اور سیمولیشن پریکٹس شامل ہے جس میں آپ کمپیوٹر پر ڈرائیونگ کی پریکٹس کرتے ہیں۔ان تمام کلاسز کے مکمل ہونے پر ایک کمرہ امتحان میں آپکا ایک کمپیوٹر رائزڈ تھیوری ٹسٹ ہوتا ہے جسمیں 46 معروضی سوالات اور انکے اتنے ہی نمبر ہوتے ہیں اور پاس ہونے کے لیے آپ کو کم سے کم 42 نمبر چاہیں۔اسی وجہ سے یہاں سے اکثریت فیل ہو جاتی ہے خصوصاً وہ ایشیائی جو اپنی سڑکوں پر گاڑیاں بھگانے کے تو عادی ہوتے ہیں مگر روڈ سیفٹی اور ٹریفک رولز اور سائن بورڈز کی سائنس سے نا بلد ہوتے ہیں۔لیکچرذ پر وہ اس لئے دھیان نہیں دیتے کہ خود انکی دانست میں وہ اس میدان کے پرانے کھلاڑی ہوتے ہیں جو امتحان سے اناڑی کا اعزاز لے کر نکلتے ہیں۔

اس ٹسٹ کے پاس ہونے کی صورت میں آپ کو سکول میں پریکٹس کے لئے مزید کلاسز جاری کی جاتی ہیں۔جن میں ایک مرد یا خاتون ڈرائیور آپکی سہولت کے مطابق آپ کو مہیا کیا جاتا ہے اور آپ سکول میں بنے پریکٹس کے لئے خاص بنے راستوں ،پلوں اور شاہراؤں پر گاڑی کو چلانا سیکھنا شروع کرتے ہیں۔اگر آپ پہلے سے مشتاق ڈرائیور ہیں تو یہاں سے ایک ایویلیوشن ٹسٹ آپ کو پاس ہونے کی صورت سیدھا آخری منزل یعنی روڈ ٹسٹ پر لے جاتا ہے۔

بصورت دیگر آپ ان سڑکوں سے اپنی پریکٹس کا آغاز کرتے ہیں ۔یہاں بھی کم سے کم بارہ کلاسز آپ مختلف انسٹرکٹرز کے ساتھ لیتے ہیں اور اس پریکٹس کے اختتام پر ایک دوسرا ٹسٹ”ریفریش پارکنگ” کا اسی سکول میں دیتے ہیں۔اس ٹسٹ کے پاس ہو جانے کی صورت آپ کو باہر عام شاہراؤں پر ڈرائیونگ کی پریکٹس کے لئے ٹریننگ کارڈ جاری کر دیا جاتا ہے جسکے بعد آپ ایک پرائیویٹ انسٹرکٹر کے ساتھ باہر کی موٹر ویز اور شاہراؤں پر ڈرائیونگ کی پریکٹس کرنے لگتے ہیں اس صورت کہ آپ کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے انسٹرکٹر کی خاص گاڑی میں اسکی طرف بھی ایک بریک اور ایکسلیریٹر موجود ہوتا ہے اور وہ کسی ایمرجنسی میں گاڑی کو سنبھال لینے پر قادر ہوتا ہے۔یہاں پر اب آپ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت دیے جانے والے روڈ ٹسٹ کی تیاری کرتے ہیں اور پاس کرنے کے لئے آپکے پاس پہلے مرحلے میں تین چانسز ہیں۔

۔ ان تمام مراحل کی الگ الگ فیس ہے جو عموماً ہزاروں میں اور بار بار فیل ہونے کی صورت کئی کئی ہزاروں میں چلے جاتی ہیں۔یعنی ایک ایوریج ڈرائیور اپنی کار جتنی قیمت کم سے کم ان کلاسز میں خرچ کر آتا ہے بشرطیکہ آرام سے پہلی فرصت میں پاس ہوتا رہے۔

اس لائسنس کو حاصل کرنے کے لئے سکول کلاسز،تھیوری ٹسٹ،اور پارکنگ ٹسٹ میں پاس کر چکی مگر آخری چھوٹا سا دو منٹ کا ڈرائوینگ روڈ ٹسٹ مجھے بار بار فیل کر کے زیرو پر پہنچا دیتا ہے۔اس ٹسٹ کو پاس کرنا پی ایچ ڈی سے ذیادہ مشکل ہے اور فیل ہونا اتنا تکلیف دہ ہے جتنا ایک ڈاکٹر بننے کے شوقین کے لئے ایف ایس سی میں فیل ہو جانا۔تو کوئ برسوں پہلے جب میرے میاں صاحب اس کلاس کے لئے گئے تو ہر بار تھیوری کے ٹسٹ کے بعد جب لوٹے تو منہ لٹکائے فیل ہو کر لوٹے۔بلآخر تنگ آ کر ہم نے ایک دن انہیں مٹھائ کھلا کر منہ میٹھا کر کے بھیجا کہ سنا تھا میٹھا کھانا اچھا شگن ہوتا ہے۔اور بلاآخر ہمارے ہاتھ کا میٹھا کھلایا کام آیا اور اللہ اللہ کر کے تھیوری ٹسٹ پاس ہو گیا۔ اسکے بعد میاں صاحب کمان میں سے چھوٹے تیر کی طرح نکلتے چلے گئے اور ایک ہی جست میں روڈ ٹسٹ پاس کر کے لائسنس لینے میں کامیاب رہے۔اگلے کئی سال تھیوری کی ان سپلیوں کا ہم نے ہر آنے جانے والے کے سامنے خوب مذاق اڑایا، ہنسے اور لوگوں کو بتایا کہ کیسے میرے قابل میاں صاحب ہر بار تھیوری ٹسٹ سے فیل ہو کر آ جاتے تھے اور تب تک اڑاتی رہی جب تک کہ خود ہم اس ڈرائورنگ کلاس کی بھول بھلیوں میں گم نہ ہو گئے۔یہی کوئی پانچ سات برس پہلے ایک فائل ہم نے بھی کھلوا لی ڈرائیونگ کی۔

۔ہم جنہوں نے تین پہیوں کی سائکل کے بعد دوسری ڈرائیونگ اسی کار سے شروع کی جو ڈرائیونگ سکول والے انسٹرکٹر ہمیں سکھانے کو لے کر آئے۔ہمیں کہاں خبر تھی وہ موضوع جس پر لکھنے کے لئے میرے پاس کچھ نہ تھا وہ ایک دکھوں بھری داستان نکلے گی۔۔۔تو وہ دکھ بھری داستان یہی کوی پانچ چھ سال پہلے شروع ہوئ جب ہم بھی گردن اکڑا کر ڈرائیونگ سکول میں جا داخل ہوے اور کالج یونیورسٹی کی کتابوں کی طرح نوٹس بناتے یاد کرتے تھیوری کو رٹتے چلے گئے۔قابلیت اور محنت نے خوب رنگ جمایا اور تھیوری ٹسٹ میں ہم 46/46 لیکر ٹاپر رہے۔فل مارکس لیکر باہر نکلے تو ڈھیروں ڈھیر فیل شدہ پریشان حال کھڑے فلپینو،انڈین،اور عرب لوگوں کے سوالیہ چہروں کے سامنے وکٹری کا نشان بنایا اور ہنستے مسکراتے انکے لمبے منہ کھلے چھوڑ کر نکل گئے۔یہی کمال ہم نے پارکنگ میں دکھایا اور بغیر کسی بے دھیانی کے ٹکا کر سیدھی گاڑی پارک کی اور بغیر سپلی کے آخری معرکہ میں یعنی روڈ ٹسٹ میں جا پہنچے۔

روڈ ٹسٹ اک غلام گردش ہے جسمیں سے نکلنا کوئ آسان کام نہیں۔محض دو منٹ کے لئے آپ کو ایک امتحان کی گاڑی میں شرطے کا ساتھ بٹھایا جاتا ہے اور ایک لیڈی کانسٹیبل پچھلی سیٹ پر پہلے فارم لیکربیٹھتی تھی اس پر کارکردگی کے اندراج کے لئے اور اب سارا سسٹم کمپیوٹر رائزڈ ہونے کی وجہ سے آئی پیڈ لیکر بیٹھتی ہے اور بیک ویو مرر میں مسلسل آپکی نگاہوں کا تعاقب کر کے ریکارڈ رکھتی ہے کہ ایک منٹ میں بیک ویو مرر سے آپ نے کتنی علیک سلیک کی۔چونکہ یہ آپ کے فیل ہو جانے کی ایک بہت اہم وجہ ہے۔اس دو منٹ میں آپکے شیشہ سیٹ کرنے سے لے کر کسی انتہائی ایمرجنسی کی سچویشن تک ہر چیز پر نگاہ رکھی جاتی ہے۔ٹسٹ چونکہ انتہائ گھمبیر ٹریفک والے انڈسٹریل ایریا میں ہوتا ہے جہاں ہر طرف ہیوی ویکل،ڈالے،ٹرک آتے جاتے رکتے،سامان اٹھاتے اور نکلتے دکھائی دیتے ہیں۔

پہ در پہ فتوحات نے سینہ بجا طور پر پھلا رکھا تھا۔اعتماد ایسا تھا اپنے زور بازو پر کہ شرطے(پولیس )کے ساتھ بیٹھ کر بھی نہ کانپے اور پارکنگ کے حکم پر دو لائینیں ایک ہی بار میں پھلانگیں اور زن کر کے گاڑی پارک کر دی۔اب چاہیئے تو یہ تھا کہ اس جوان مردی پر ہمیں تمغہ شجاعت تھما یا جاتا مگر شرطے نے بغیر ہمارے حسین چہرے پر ترس کھائے فیل کر کے ورقِ ندامت ہمارے ہاتھ پر دھر دیا۔یوں لگا کہ جیسے آسماں سے سیدھے پاتال میں گر گئے ہوں۔ایسا دکھ زندگی میں صرف ایک ہی بار ہوا ۔۔تار تار وجود ایسا ہوا کہ اگلے کئی سالوں تک اس ناکامی پر دیواروں سے لگ لگ خود کو سنبھالتے رہے کہ ناکامی کا دکھ سنبھالا نہ سنبھلتا۔

مگر آخر کب تک ؟بچے پال پوس کر ہم نے سکولوں میں جا داخل کروائے،برتن مانجھ مانجھ تھک گئے ،اور سارا دن گھر کی بند دیواروں میں اکیلے گزارنے پڑے تو پھر کچھ کرنے کو ،نوکری تلاشنے اور دنیا میں نکلنے کو دل للچایا تو پچھلے سال ہم نے دوبارہ سے روڈ ٹسٹ کے لئے درخواست جمع کروا دی۔اصولوں کے مطابق ہمارے پاس تین روڈ ٹسٹ دینے کے چانسز تھے اور جن میں سے ایک پہلے گنوا چکے اور دوسرا اب سامنے تھا۔خدانخواستہ تینوں چانسز میں فیل ہونے پر امیدوار کو پولیس کے ہاتھوں سے واپس سکول بھیج دیا جاتا ہے جہاں وہ سکول کے انسٹرکٹرز سے دوبارہ سے کلاسز لیتا ہے۔

تو یہ دوسرا ٹسٹ دینے کے لئے کئی کئی گھنٹے میں نے ابوظہبی کی موٹر ویز اور انڈسٹریل ایریا میں پچھلے سال پریکٹس کی اور بہت ہی ماہر اور مشتاق ڈرائیور بن کر اس سال کے شروع میں روڈ ٹسٹ کے لئے جا حاضر ہوی۔بہت ناپ تول کر روڈ کا ایک حصہ چنا جہاں پر کم ٹریفک تھی مگر شومئی قسمت کہ پچھلی امیدوار نے گاڑی ایسی ادھوری جگہ پارک کر رکھی تھی کہ وہاں سے کس اصول کے تحت وہ واپس شاہراہ پر آئے گی کچھ خبر نہ تھی۔سو وہی ہوا کہ نکلتے نکلتے پیچھے سے کوئی ویو نظروں سے اوجھل ہوا اور شرطے کو ہینڈل گھمانا پڑا۔چناچہ دو منٹ کی کامیاب ڈرائیونگ اس ایک غلطی کا ازالہ نہ کر سکی جو ہم سے پارکنگ سے نکلتے سرزد ہوئی اور ہم دوسری بار بھی حیران پیشمان سے، اپنی بھرپور قابلیت سمیت فیل فرما گیے۔

ناکامی برداشت کرنی اس بار بھی خاصی مشکل تھی مگر اس قدر نہیں کہ پھر سے پانچ سال غم غلط کرنے میں لگا دیتے ۔نظریہ ضرورت نے پھر گھر سے نکالا اور گرما کی تعطیلات ختم ہوتے اور بچوں کے گھر سے نکلتے ہی ہم نے پھر سے آستینیں چڑھائیں اور تیسرے اور آخری معرکے کے لئے کمر کس لی۔میاں صاحب کو بھی ہدایات دے دیں کہ دل کو تھام کر رکھیں اس بار ہاتھوں کے میل جیسے پیسے کی فکر نہیں کرنی !اس باری کا آغاز ہی ہم نے دو گھنٹے کی کلاس سے کیا کہ ٹسٹ ایریا کا ہمارے گھر سے کوئ پینتالیس منٹ کا فاصلہ ہےتو گھر کے دروازے سے انسٹرکٹر انکل کے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے،اور سو سے ایک سو بیس کی سپیڈ پر موٹر وے پر گاڑی بھگاتے ٹسٹ ایریا میں پہنچتے،پھر آدھ پون گھنٹہ اس ایریا کے ہر موڑ اور چوراہے کا طواف کرتے اور پھر سے پینتالیس منٹ کا فاصلہ طے کر کے گھر کو لوٹتے۔جب تک کہ غلطی کی گنجائش نشتہ نہ ہو گئی ہم اس پریکٹس میں مصروف رہے اور کوئ پچیس تیس کلاسز کے بعد جب ہماری رفتار اور انداز میں چیتے جیسی پھرتی آ گئی اور انسٹرکٹر نے ہاتھ کھڑے کر کے ہری جھنڈی دکھا دی تو ہم اس امید کے ساتھ ٹسٹ دینے پہنچے کہ اس بار تو ہم نے فیل ہونے کی کوئ صورت ہی نہیں چھوڑی۔اس بار جب ہر بار ہماری غلطیاں نکالتے میاں صاحب کے پاس نکالنے کو کوئ غلطی نہ بچی ،اور انسٹرکٹر گال پر ہاتھ رکھ کر گہری سوچ میں ڈوب گیا اور ہم حیران و پریشاں کہ اس بار کونسے نشے میں تھے جو خود ہمیں بھی اس بار کوئی غلطی نہ سجھائ دی مگر ہم پھر سے فیل ہو گئے اور ناکام و نامراد لوٹے۔اور میاں صاحب کو کامیابی کی دعوت کھلانے کی بجائے اگلا ایک گھنٹہ کافی شاپ میں بیٹھ کر میاں کے ہاتھ سے ناشتہ کھاتے اور آنسو پونچھتے رہے۔کہ اگرچہ تین بار کی ناکامی سے قوت مدافعت میں کچھ افاقہ ہوا ہے مگر اتنا بھی نہیں کہ مسکرانے ہی لگ جائیں۔تاذہ ترین اطلاعات کے مطابق اب اور کوئ رستہ نہیں ہمارے پاس کہ اب لوٹ کر پھر سے سرکاری سرپرستی میں جائیں اور مزید فیس ہے کر کے سرکاری انسٹرکٹر کے ساتھ پھر سے کلاسز کا آغاز کریں اور اس پریکٹس اور ٹسٹ کے عمل سے تب تک گزرے رہیں جب تک کہ مہارت کے ساتھ ساتھ ہمارا حافظہ اور انہماک بھی بہترین نہ ہو جائے ۔عزیز دوستوں سے دعا کی درخواست ہے۔

____________

تحریر و فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف ،

شائع شدہ،”ہم سب”

“ہم سب”پر پڑھیے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.