قلم کا جنم________6

صادقہ خان

ناولسٹ،بلاگر

“چلے تھے یار کے مل جائے گی کہیں نہ کہیں”

ہر لکھاری کی داستان کا اولین سرا اس کے بچپن سے جڑا ہوتا ہے۔ بچپن کی کوئی بڑی محرومی ، کوئی اندوہناک حادثہ ، کسی بے حد عزیز شخصیت یا شے کی جدائی۔۔ کہیں نہ کہیں کو ئی سرا د ماغ میں ایسا اٹک جاتا ہے جس سے لاکھ جان چھڑانے کی کوشش کرو مگر نجات کا راستہ نہیں ملتا ۔ مگر زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ یہ رکتی نہیں ہے ۔ آپ تنہا ئی کا عذاب جھیلنے کے لیئے بلکل اکیلے رہ جائیں یا خیر خواہوں کے ہجوم میں گھرے ہوں۔۔ دن ، ماہ اور سال اپنی مخصوص رفتار سے گزرتے رہتے ہیں ۔ البتہ البرٹ آئن سٹائن کے قانون ِ اضافیت کے مطا بق کبھی ہمیں لمحے ، سالوں پر محیط محسوس ہوتے ہیں تو کبھی سالہا سال ، گھنٹوں کی مانند بیت جاتے ہیں۔
میری جیسی باپ کی شفقت، محبت اور سپورٹ کو ترستی لڑکیوں کو خود کو مکمل کرنے کے لیئے دانش کی بیساکھی کی ضرورت پڑتی ہے۔ باپ کی شفقت کی کمی ہمارے اندر مسلسل کسی ناسور کی مانند پلتی رہتی ہے اور جب دکھ حد سے سوا ہو جائے تو آخری سہارا ہم مرد کی محبت میں تلاش کرتے ہیں یا پھر قلم اور کاغذ میں۔۔۔
سائنسی ذہن اور رجحان ہونے کے باعث محبت، یا رومانیت میں کبھی کوئی کشش محسوس ہی نہیں ہوئی سو کالج کے زمانے سے ہمیشہ کاغذ کو اپنے احساسات و جذبات کا رازدار بنایا ۔ کالج اور پھر یونیورسٹی میں ہونے والے مقابلۂ مضمون نویسی یا تقاریر میں ہمیشہ کوئی نہ کوئ انعام ملنے پر حوصلہ افزائی ہوئی اور یوں یہ سلسلسہ مضامین سے افسانوں پر منتقل ہوا۔ آج بھی وہ دن اور وہ اولین خوشی مسحور کر دیتی ہے جب میرا پہلا افسانہ ‘ بند گلی’ جنگ کوئٹہ کے ادبی صفحے پر شائع ہوا تھا۔ اس کے بعد چھ مال تک یہ سلسلہ وقفے وقفے سے چلتا رہا ۔ مگر میرے یونیورسٹی اساتذہ جب کبھی کوانٹم فزکس یا کمیونیکشن سسٹمز کی کلاس میں میرے پاس منٹو، عصمت یا امرتا پریتم کی کتابیں دیکھتے تو شدید ناراضگی کا اظہار کرتے تھے۔ ان کے خیال تھا کہ مجھ میں اچھا لکھنے کی صلاحیت ضرور ہےمگر میرا رجحان کلاسک ادب کے بجائے سائنس کی طرف زیادہ ہے ۔ لہذاٰ مجھے دو کشتیوں میں سوار ہونے کے بجائے کسی ایک کو اختیار کرنا ہوگا۔
یوں اسی ادھیڑ بن میں کئی سال یونہی بنجر گزر گئے ، اور پھر ایک روز میرے اندر کی لکھاری نے دونوں میں سے کسی ایک کشتی کا انتخاب کرنے کے بجائے دونوں کو آدھا آدھا جوڑ کر ایک نئی کشتی ایجاد کرلی۔ اور میرے قلم سے کئی ماہ کی شدید محنت، تحقیق اور رتجگوں کے بعد میرا پہلا ناول ‘ دوام ‘ وجود میں آیا جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے ماحولیات پر لکھا گیا پاکستان کا پہلا ناول ہے۔
اس ناول سے جڑے کچھ بے انتہاء تلخ تجربات مجھے پرسنل بلاگنگ کی طرف لائے جہاں سے سلسلہ دراز ہوکر پہلے پہل اے آر وائی نیوز اور پھر ڈان نیوز تک پہنچا ۔ اچھے ،مخلص ،اور محنتی ایڈیٹرز کی حوصلہ افزائی کی بدولت الحمد للہ آج چار میڈیا ہاؤسز میں انگلش اور اردو دونوں میں آرٹیکلز اور بلاگز لکھ رہی ہوں۔ اور مستقبل کے لیئے ارادے بہت بلند ہیں ۔ بچپن کی محرومیوں کا خلا جو میرے اندر مسلسل بڑھتا جارہا تھا کچھ عرصے سے کوئی نادیدہ قو ت اس خلا کو بھرنے لگے ہے۔ یہ ادراک ہوگیا ہے کہ کچھ رشتے اور کچھ محبتیں ایسی ہوتی ہیں جن کی کمی کو کوئی بھی پورا نہیں کر سکتا۔ مگر ان رشتوں سے جڑے تلخ تجربات کو سینے سے لگا کر جینا محض حماقت ہے۔ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ یہ کبھی ، کسی کے لیئے بریک نہ لیتی ہے نہ لینے دیتی ہے۔ اگر آپ زبردستی بریک لیں گے تو جمود آپ کے حال کے ساتھ مستقل کو بھی نگل جائیگا ۔ زندگی نےقلم بلکہ کی بور ڈ سے پکی دوستی کرلی ہے دیکھئے اگلا پڑاؤ کہاں پڑتا ہے۔
چلے تھے یار کے مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دشت پر تاروں کی آخری منزل

_________________

سحرش مصطفیٰ

ناولسٹ

قلم کا جنم انسان کے ساتھ ہی ہوجاتا ہے۔ یہ الگ بات کہ کچھ لوگ اپنے اس ساتھی کو پہچان لیتے ہٕیں اور کچھ میری طرح آگہی اور ادراک کے بیچ ڈولتے رہتے ہیں۔ میرٕے قلم نے کٸی سال میری بے رخی سہی لیکن وہ مسلسل مجھے اکساتا رہا اور بالآخر مجھے رب کی اس عطا کے آگے سر جھکانا ہی پڑا۔اکثر لکھاری ساتھی کہتے ہیں کہ ہمیں بچپن سے راٸٹر بننے کا شوق تھا ہم نے دس سال کی عمر میں پہلی کہانی لکھی وغیرہ وغیرہ ۔ میرے معاملے میں کچھ الگ ہوا۔ چودہ سال کی عمر میں ڈاٸری لکھنا شروع کی تھی ( جس میں زیادہ تر روٹین کی باتیں اور پسندیدہ شاعری کاپی ہوتی تھی). اٹھارہ سال کی عمر مجھے صرف ہلکا سا ”احساس“ ہوا کہ میں لکھ سکتی ہوں۔ میرے پاس زندگی کے مختلف معاملات کے بارے میں ایک پوائنٹ آف ویو تھا۔ جیسا کہ میں اوپر لکھا ہے کہ قلم کے جنم کا احساس ہونا بھی ایک نعمت ہے ۔ پڑھاٸی مکمل کرنے کے بعد چھے سال تک ایک مالیاتی ادارے میں ٹف جاب کرنے دوران بھی ڈائری لکھنے کا سلسلہ ختم نہیں ہوا بلکہ اس میں شدت آگٸ اب کے دفعہ میرے اپنے تخیل سے جنم لینے والے کردار قلم کی نوک سے کاغذ تک پہنچے ۔ اس دوران ایک پختہ ارادہ بنا کہ زندگی میں ایک ناول تو ضرور لکھوں گی ۔ اسی دوران ٹیچنگ کی طرف رخ موڑا اور اسی سال الف کتاب کے مقابلے زمابے کے انداز بدلے گۓ میں حصہ لیا ۔ اس میں چوتھی پوزیشن حاصل کرنے والا ناول داٸرہ میری زندگی ٕ کی پہلی باقاعدہ کاوش تھا نیت صرف اتنی تھی کہ زندگی میں ایک ناول تو لکھنا ہی تو کیوں نہ اب لکھ لیا جاۓ ۔ اس کے بعد سے اب تک پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ لکھاٸی میری زندگی میں اچانک آٸی ہے بغیر کسی خاص ارادے کے ۔ بس واقعات کا ایسا تسلسل بندھا کہ اب میں اپنے قلم کی طاقت کوسنجیدگی سے اپنانے کا سوچ رہی ہوں ۔ اب تک کے اس مختصر سفر میں شازیہ خان (باغی فیم )نے میرے قلم کو جگانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی اور ٹیم الف کتاب کی حوصلہ افزاٸی ہمیشہ بہت اہم رہی ہے۔ میری کہانیوں کے موضوعات اگر پرانے بھی ہوں تو سوچ ہمیشہ نٸی اور حوصلہ افزا ملے گی ان شاء اللہ .لکھنے کی بنیادی وجہ دنیا میں پھیلی ہوٸی مایوسی اور افراتفری ہے۔ ابتدا ہو چکی ہے انتہا کیا ہوگی یہ تو اللہ تعالی جانتے ہیں ۔ آج کل تخیل کی بارش اور لفظوں کی پھوار سے میرا قلم پھل پھول رہا ہے ۔ مجھے امید ہے کہ میرے دوست اور قارئين اس سفر میں میرا ساتھ دیں گے جو ابھی اپنے ابتداٸی پڑاٶ میں موجود ہے ۔

_______________

زویا ممتاز

مصنفہ
قلم سے تعلق الفاظ سے تعلق ہے اور الفاظ کا تعلق آپ کے احساسات سے ہے، احساس جو آپ کے اندر اترے، ہر خوشی اور غم کے ملنے پر…

وہ خوشی اور غم آپ کی اپنی بھی ہوسکتی ہے اور آپ کے اپنوں کی بھی… ایک بار آپ احساسات لکھنے پر دسترس حاصل کر لیں تو قلم سے یہ تعلق ٹوٹے نہیں ٹوٹتا…

لیکن وہی بات قلم تھامنے سے بھی پہلے لفظوں سے محبت کی جاتی ہے اور لفظوں سے محبت مجھے ورثے میں ملی ہے…

لیکن میں نے کبھی نہیں سوچا تھا، میں قاری سے لکھاری تک کا فاصلہ طے کروں گی…ایک بہت پیاری سہیلی آمنہ خورشید جو کہ ایک آنلائن میگزین کی ایڈیٹر ہیں کے اصرار پر افسانہ لکھا تھا… اور پھر جنوری 2014 میں قلم سے جوڑا گیا یہ تعلق قائم دائم ہے…

ایک بار لفظوں کو اپنی من پسند شکل میں ڈھالنے کی دیر ہوتی ہے لفظ آپ کے اندر اگنے لگتے ہیں.. پھر آپ چاہیں نہ چاہیں یہ فصل آپ کو کاشت کرنی ہی پڑتی ہے

میرے ساتھ بھی بالکل ایسا ہے…!

______________________

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.