سچی سڑک ________حمیرا فضا

تحریر:حمیرا فضا
کور ڈیزائن:ردا فاطمہ

وہ متزلزل قدموں سے گرتا سنبھلتا بمشکل اپنے فلیٹ تک پہنچا۔بجھتی اُمیدوں نے دماغ کی بتی گل کردی تھی ورنہ وہ دوسری منزل تک رسائی کے لیے لفٹ کا سہارا ضرور لیتا۔لرزتی ہوئی اُنگلیوں نے دبوچی ہوئی چابی کو دائیں بائیں گھمایا تو بند دروازے نے منہ چڑا کر کہا “صاحب غلط گھر کیوں گھُستے ہو؟” ـ “دو ٹَکّے کے اَب تُو بھی مجھے جھانسا دے گا۔”اُس نے زور آور مرد کی طرح چنگھاڑتے ہوئے خوبصورت دروازے پر گندے جوتے سے دو مُہریں ثبت کیں ۔”منحوس دروازے کُھل بھی جا __ نہ کر اٹکھیلیاں __ نہ لے مجھ سے ٹکّر “وہ جُھوم جُھو م کر اَناپ شناپ بکتا ، دروازہ کھولنے کی جدوجہد میں لگ گیا۔آخر کار پانچویں بار کی کامیاب کوشش نے اُس کے بچے کُھچے ہوش کی گواہی دے دی۔
“کیا کمی ہے آخر اچھا فلیٹ، بینک بیلنس ،گاڑی پھر بھی چھوڑ گئی مجھے؟ “اُس نے دیوار میں نصب مقابل آیئنے میں اپنے لڑکھڑاتے ہوئے عکس سے اَکڑ کر سوال کیا ۔”احمق ترین ہو تمـ ، مدہوش مردانی شکل میں تحلیل ہوتی ہوئی گھمنڈی زنانی شکل نے تمسخرانہ قہقہہ لگا کر کہا”۔”مار ڈالوں گا تجھے بدہیئت عورت ” برانڈڈ جوتے نے شیشے کے سینے میں شگاف ڈالا تو وہ بھی کِرچی کِرچی ہوتا صوفے پہ ڈھے گیا۔”کتنا بد بخت ہو ں میں ، ماں باپ مرگئے اور چھوڑ گئے یہ دولت کے چھچڑے جس کی بُو سونگھ کر لوگ میرے پیچھے لپکتے ہیں” وہ دائیں ہاتھ میں مُرڑی ہوئی سگریٹ سے لمبے لمبے کَش لگا کر کلیجے کی آگ بُجھانے لگا۔”اور وہ بے حیا بھی چھوڑ گئی مجھے ،بے قدری__سنگدل کہیں کی “چند سرکش آنسو برداشت کو مات دے کر آنکھوں کی کھڑکیاں پٹختے گالوں پر پھسلے ۔ اُس نے شاپر سے شراب کی نئی بوتل نکالی اور چوتھی محبت کی ناکامی کو گھونٹ گھونٹ بھر کر ہضم کرنے لگا۔ـ”سارا شرّ ہی اِسی نے پھیلایا ہے “وہ چند ثانیے نوٹوں سے بھرا ہوا بٹوا ناخنوں میں پھنسا کر لال آنکھوں کے سامنے تنافُر سے لہراتا رہا۔”تجھے دولت چاہیے میری __یہ لے لالچن __لُوٹیری__بھکارن ” اُس نے تخیل میں اپنی سابقہ محبوبہ کے منہ پر بٹوا مارا جو کچھ فاصلے پہ رکھے کچرے کے ڈبے میں جا گرا تھا۔
“مجھ سے بڑھ کر کوئی دل گیر نہیں ،مجھ سے زیادہ کوئی کنگال نہیں ،کوئی بے کس نہیں۔اِس گھر کے ملائم فرش پر محبت کے پائوں نہیں ٹکتے، اِس گھر کی بیش قیمت چیزوں میں محبت کی مہک نہیں سماتی اور اِس گھر کے خوبرو مالک کو محبت کا لمس نصیب نہیں ہوتا ، آخر کیوں __ محبت کا ہم سے اِتنا بیر کیوں؟ میری محبت __اِنسانیت __وفاداری __ بس اُن بے رنگ سستے پیکٹوں میں بند ہو کے رہ گئی ہے جس پر دولت کا چمکیلا ٹیگ لگا ہے اور اِسی ٹیگ کی بھڑکیلی روشنی اِن لڑکیوں کی آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے “وہ مخمور آنکھوں کو چاروں طرف گُھما گُھما کر اِتنا بڑبڑایا کہ شراب میں ڈوبے لبوں سے بے بسی کی ڈھیروں رال ٹپک ٹپک کر مخملی صوفے میں جذب ہو گئی۔
“میرے اندر جو اِنسان بستا تھا اُس کے لہو میں ایمانداری تھی ,پارسائی تھی اور یہ مکار محبت میرا سارا لہو چوس گئی اور مجھ میں بھر گئی بے ایمانی, گنہگاری۔ میں کتنا بد قسمت ہوں__کتنا تنہا ہوں__کوئی تو مجھے سمجھتا__سنبھالتا __کوئی نہیں ہے میرا__کوئی نہیں ہے میرا __سب کو بس ٹھگنا آتا ہے ” سردی اور نشے کی کپکپی کو غصّے کی کپکپی نے دھکا مارا تو وہ اُٹھ بیٹھا۔”مجھ جتنے دکھ اور عذاب کسی نے نہ جھیلے ہونگے۔میں کیوں زندہ ہو؟میں کیوں زندہ رہوں؟ “اُس نے کوٹ کی جیب سے نیند کی گولیوں کے کئی پتے کھینچ کھینچ کر نکالے۔”میں کتنا اکیلا ہوں __کوئی تو ساتھ دیتا __کوئی تو غم خوار ہوتا۔”وہ بدمست بلند آواز میں دُہائیاں دیتا اور سگریٹ شراب کی باریاں لگاتا دروازے سے باہر نکل گیا۔
نجانے رات کا کونسا پہر تھا روشنی کا ہیولا کبھی اِتنا پھیل جاتا کہ اُس کی آنکھیں چندھیانے لگتیں اور کبھی اندھیرے کے سائے اِتنے گھنے ہوجاتے کہ اُسے کُھلی سڑک پر قبر کا گُمان ہوتا۔یوں تو سڑک سنسان تھی اگر کچھ تھا تو ہوائوں کی گفت وشنید تھی پتھروں کا ہجوم تھا۔وہ بے مقصد چلا جارہا تھا کہ سڑک کے بیچ ایک روگی سوگی سی بڑھیا ماتھے پہ غربت کی پٹی باندھے آہ و زاری کرتی نظر آئی۔اُس کا چہرہ اَ لَم سے لپٹا ہوا تھا اور کپڑے خون سے لتھڑے ہوئے۔سڑک کے سیاہ آئینے میں خون کی چھوٹی بڑی سُرخ شکلیں رو رہیں تھیں۔بڑھیا سے ہٹی تو اُس کی نظر جوان میت پر جا پڑی جس کے کٹے پھٹے جسم پر موت کا سکوت تھا تو اَدھ کُھلی آنکھوں میں اِنصاف مانگتی بے گُناہی کی چلاّہٹ۔”ہائے یہ بے داد گری __کیا کسی گاڑی نے کچل ڈالا، دہشتگردی کی نظر ہوا یا سفاک رشتوں کی بھینٹ چڑھ گیا۔”شرابی دماغ میں کئی سوالوں کی کِرنیں اُبھریں مگر خوف کا اندھیرا غالب آیا تو وہ ہیبت زدہ ہو کر پھُرتی سے قدم اُٹھاتا آگے بڑھ گیا۔
ڈگمگاتے قدم اَچانک تھم گئے تھے۔وہ ہوش باختہ سا اُجاڑ سڑک کو تکنے لگا۔پتھریلی سڑک کب ہموار سڑک سے بغل گیر ہوئی اُسے پتا نہ چلا۔کچھ فاصلے پر اُسے سفید کپڑوں میں لپٹی ہوئی ایک سوگوار عورت دِکھائی دی جس کی نوخیز جوانی دیکھ کر وہ مغموم ہو گیا۔”اِتنی حَسین عورت اور یہ بیوگی ” سرد لرزاں ہاتھوں نے افسوس کی ماچس سے آٹھویں سگریٹ سُلگائی۔ عورت کے ارد گرد بیٹھے چار چھوٹے چھوٹے بچے پلیٹوں میں مٹی بھرے بھوک سے کھیل رہے تھے۔اُس نے جیب ٹٹولی مگر اُس کی دانست میں بٹوہ کہیں گِر گیا تھا۔شرمندگی کا ایسا دھچکا لگا کہ وہ اگلے موڑ پہ جا گِرا۔
سگریٹ سے سُلگتے ہونٹوں کو ٹھنڈی سڑک نے بُوسہ دیا تو چبھن کی ایک لہر پورے بدن میں تھر تھرانے لگی۔ وہ ہتھلیاں مسلتا اُٹھا اور سڑک کے وسط میں ٹانگیں پھیلا کر بیٹھ گیا ۔”کم بخت تو بڑی پکّی ہے __میرے دل سے بھی پکّی __ جسے اِن لڑکیوں کی تیکھی باتیں توڑ دیتی ہیں اور تیرا تو اِس سڑک کی سخت لاتیں بھی کچھ نہ بگاڑ سکیں” اُس نے فخریہ نظروں سے شراب کی بوتل کو چُوم کر دیکھا ـــــــــ جو باوجود گِرنے کے سلامت تھی۔وہ بوتل کی گردن کو ہونٹوں کے شکنجے میں پھنسا کر قطرے قطرے سے مزہ سمیٹنے ہی لگا تھا کہ دھند کے اُجلے شیشے میں ایک ٹوٹی پھوٹی چارپائی کی تصویر اُبھری جس پر ایک بیمار شخص دھیمی دھیمی سانسوں کا بوجھ حوصلے اور صبر کی ڈور سے اوپر تلے کھینچ رہا تھا۔اُسکی ہڈیاں قوت سے ماس کو پیچھے دھکیل کر اُبھری ہوئیں تھیں اور آنکھیں نقاہت کی چادر تان کر اندر کو کھبّی ہوئیں۔اُس کے بدن کی بنجر زمین پر جابجا موٹے پیپ سے بھرے پُھوڑے اُگے ہوئے تھے۔کراہت نے یوں گھیرا کہ اُس نے سگریٹ کے دھویں میں اُبلتی ہوئی قے باہر اُنڈیل دی۔
“کیسی سڑک ہے یہ؟ تقدیر کا کیسا مکّر ہے ؟کون ہیں یہ لوگ؟”وہ جھنجلاہٹ میں خود سے سوال کرتا چیختا چِلاتا پھر سے بھاگنا شروع ہو گیا۔ٹیڑھی میڑھی سڑک اُس کے ساتھ بھاگ رہی تھی ۔اَب اُسے سڑک کے ایک طرف دل لُبھاتے مسکراتے ہوئے پھول نظر آنے لگے تو سڑک کی دوسری جانب دل دہلاتی روتی ہو ئیں جھاڑیاں ۔ بھاگتے ہوئے خمار آلود آنکھوں سے اُسے یہ منظر ایسا لگا ” جیسے زندگی کے سمندر میں ڈوبتی اُبھرتی خُوشی اور غمی کی کشتیاں ۔ “سڑک نے پھر پینترا بدلا تھا وہ پھر ویران ہوچکی تھی ۔یکایک اُسے ایک لکڑی کا پھٹہ دِکھائی دیا جس پر تین آدمی بُجھے بُجھے بیٹھے تھے ۔اُن کے چہرے پہ یاسیت اور محرومی کی کئی سسکتی پر چھائیاں تھیں۔ وہ اِشاروں کی زبان میں بول رہے تھے ۔شاید اُن میں ایک اندھا ایک گونگا اور ایک بہرہ تھا ۔یہ منظر دیکھ کر سوختگی کی ٹیسیں اُ س کے جسم کے کئی حصّوں سے اُٹھیں ۔اُس نے اپنے گرد آلود کانوں، پھڑپھڑاتی آنکھوں اور تر لبوں کو باری باری چھو کے دیکھا اور اطمینان سمیت بچی کھچی شراب اندر اُتار لی۔
نہ ختم ہونے والی سڑک نے اُس کے اندر ایک ہلچل مچا دی تھی۔بھاگ بھاگ کر سانسوں نے پھُولنا اور طاقت نے سمٹنا شروع کر دیا تھا۔آخر تھک ہار کر وہ دونوں گھٹنوں کو پکڑ کر جھک گیا اور اپنے آپکو متحرک رکھنے کے لیے ہونٹوں میں ایک اور سگریٹ دبالی ۔سر اُٹھایا تو سامنے سڑک کے کنارے پر رِینگتی ہوئی ایک قطار تھی ویل چیئر گھسیٹتے بچے ،جوان اور بوڑھوں کی لمبی قطار۔دل پہ ایک اور گھائو لگا ، “یہ چل نہیں سکتے تو جیتے کیسے ہونگے؟ ” اُس نے اپنے ایک جوتے اور ایک بغیر جوتے کے پائوں کو دیکھ کر سوچا۔”مجھے گھر جانا چاہیے ،کہاں ہے میرا گھر؟ کس سمت ہے؟ بہت پیچھے بہت پیچھے __کئی سالوں پہلے میری زندگی کتنی اچھی تھی میں نیک تھا، شریف تھا، ایماندار تھا۔اور اَب__اور اَب __اور اَب میں کیا ہوں __ایک شرابی ،جواری، عاصی اِنسان۔ہاں پیچھے__پیچھے ہی میرا گھر ہو گا “جھٹ پٹ جیسے سویا ہوا دِماغ جاگا وہ مڑا اور اُس نے پیچھے کی جانب دوڑ لگا دی۔وہ جتنا راستہ طے کر آیا تھا اُس سے راستہ دوگنا ہو گیا تھا بلکل ویسے جب اِنسان بے سکونی میں سکون کی جستجو کرے،دکھوں میں خُوشیوں کو ڈھونڈے تو مشقتیں دُگنی ہو جاتی ہیں۔
شراب سمیت ساری طاقت ختم ہو چُکی تھی، وہ تھکن سے بے حال تھا مگر اُسے گھر جانے کی چاہت تھی منزل پانے کی عُجلت تھی۔ساری ہمت جمع کر کے وہ مزید تیز رفتار سے بھاگا ۔نظر اِرد گرد بھٹکی تو تنگ اور ٹوٹی سڑک ہر بڑھتے قدم کے ساتھ کشادہ اور یکساں ہوتی جارہی تھی۔سڑک پہ کالی کُھردری چادر کی جگہ ملائم سفید چادر بچھ چُکی تھی۔ہمت اور حوصلے کا ہاتھ چھوٹا تو وہ بھاگتا بھاگتا دھڑم سے گِر گیا۔اَندھیرا روشنی__ اَندھیرا روشنی__بلآخر اَندھیرا مٹ گیا ہار گیا، روشنی ٹھر گئی جیت گئی۔
کسی نے اُسے جھنجھوڑا تھا اور وہ روشنی تھی __نور تھا۔اُس نے پورا زور لگا کر آنکھیں کھولیں۔دائیں گھٹنے کے قریب شراب کی خالی بوتل ہوا سے آگے پیچھے جھُول رہی تھی،دونوں ہاتھوں کے دائرے میں نیند کی گولیوں کے پتے تاش کے پتوں کی مانند بکھرے ہوئے تھے، منہ کے گرد کچھ بُجھے کچھ سالِم سگریٹ بوس وکنار کی کیفیت اختیار کیے ہوئے تھے۔اُس نے خود کو چُھوا وہ زندہ تھا پہلے سے کہیں زیادہ زندہ۔جسم میں درد اور تھکن کی کوئی کسر نہ تھی۔اُس نے آنکھیں پھیلا کر بائیں طرف دیکھا تو فلیٹ کا دروازہ کُھلا ہوا تھا ۔وہ کپڑے جھاڑتا اُٹھا خالی بوتل کو ٹھوکر مارکر ، سگرٹوں کو جوتے تلے مسلتا دروازے سے اَندر داخل ہو گیا۔
پریشان دل مطمئن تھا کیونکہ وہ سمجھ گیا تھا ، جان گیا تھا ، مان گیا تھا کہ اُس کا کوئی ہے سمجھانے اور سنبھالنے والا__غم باٹنے اور مٹانے والا__ اُس کا اَپنا__اُس کا خدا __جس نے کیف کی حالت میں، خواب کے عالم میں اُسے سچی سڑک سے گزار کر سچی منزل کا پتا دیا تھا “ناشکری سے __شکرگزاری کی منزل کا پتا”۔

_______________

ـ

Advertisements