میرا اثاثہ میرے بچے ________گل ارباب

سادہ کاغذ پر تصویر اپنی بنائی ہے ۔

میرا کردار تعارف ہے میری ماں کا ۔

آج کل میڈیا اور سوشل میڈیا پر اک بچے کی شرارت معصومیت یا بدتمیزی کو لے کر
بحث چھڑی ہوئی ہے اور یہ بحث ہے بچوں کی تربیت اور ان میں اچھے اقدار کی
منتقلی کی ۔

میں چونکہ اک لکھاری اک تخلیق کار اک حساس ترین انسان اور مردوں کے اس
معاشرے کی اپنے حقوقِ کے لیے خاموش جنگ لڑتی ہوئی اک امن پسند عورت ہوں لیکن
ان سب سے پہلے میں اک ماں ہوں میری اولاد میرے لیے سادہ کاغذ یا اک ایسا صاف
کینوس ہے جس پر میں نے اپنے من پسند رنگوں سے اک ایسی تصویر بنانی تھی جو ہر
لحاظ سے مکمل ہو ۔
ماشاءاللہ میرے بچے میری تربیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ اور یہ میں نہیں کہتی
سب لوگ کہتے ہیں ۔مجھے لگا کہ اپنا یہ تجربہ اپنا یہ ہنر اپنی ساتھی ،اپنی
سکھیوں ،اپنی ریڈرز ماؤں کے ساتھ ضرور شئیر کرنا چاہیے سو اس لیے چند سادہ لفظ
لے کر آپ کے سامنے ہوں ۔
میں نے کیسے اپنے بچوں کی تربیت کی اور ان کی تربیت میں سب سے زیادہ کس بات
کو اہم جانا ؟
سب سے پہلے میں نے اپنے بچوں کی شحصیت میں عجز پیدا کیا، عجز جو غرور کا قاتل
ہے اور غرور جو نہ رب کو پسند ہے نہ رب کے بندوں کو ۔ تو ایسا عمل اک ماں کیسے
پسند کر سکتی ہے ۔ میں نے بچوں کو گھر میں کام کرنے والوں سے ادب اور احترام
سے بات کر کے انہیں بھی غیر محسوس طریقے سے یہ سب سیکھایا۔ اپنے کام اپنے
ہاتھوں سے کرنا بھی عجز کا اک حصہ ہے۔ جب ایک بڑی عمر کی خاتون سے بچہ پانی
مانگ رہا تھا تو میں نے کہا بیٹا آپ فارغ بیٹھے ہو اور ماسی کام کر رہی ہیں
خود پانی پیو اٹھ کر ۔ اس نے مجھے غور سے دیکھا اور کہا مما ماسی تو آپ سے بھی
بڑی ہیں آپ بیٹھی ہیں اور یہ کام کیوں کر رہی ہیں ۔اس سوال نے مجھے یہ سمجھا
دیا کہ قول اور فعل میں تضاد آپ کی بات کا اثر ختم کر سکتا ہے ۔ سو جب بھی
ماسی کام کر رہی ہوتی میں خود بھی کسی نہ کسی کام میں خود کو مگن رکھتی۔ بچوں
کو سچے اور ایمان دار والدین چاہیں جیسے والدین کو تمیز دار اور بات کو سمجھنے
والے بچے چاہیے ہوتے ہیں۔ ایک بار میرے بچے نے ملازمہ سے بدتمیز ی سے بات کی،
وہ بہت چھوٹا تھا نوکرانی گھر چلی گئی اور بچے نے مجھے بتایا کہ ماسی کو میں
نے اس بات پر ڈانٹا ہے ۔گرمی کے دن تھے اور ماسی کا گھر پچیس منٹ کے پیدل
فاصلے پر تھا ۔میں نے اسی وقت بیٹے کو ماسی کے گھر بھیجا میری ساس نے کہا کہ
دوپہر ہے دھوپ میں مت بھیجو مگر میں نے کہا وہ خاتون شام تک اس تکلیف میں رہے
گی کہ بچے نے میرے ساتھ بدتمیزی کی ہے ۔ اس نے جا کر ماسی سے معافی مانگی تب
میں نے معاف کیا ۔یہ تجربہ اسے بہت کچھ سیکھا گیا اور اس سے چھوٹے بہن بھائیوں
کو بھی وہ لوگ گھر میں موجود ملازمین اور گاؤں کے غریب بیمار سبھی کا خیال اور
عزت کرتے ہیں ۔سلام میں پہل بھی تربیت کا حصہ ہونا چاہیے ۔
میں نے پرندوں جانوروں پر رحم کی چھوٹی چھوٹی کہانیاں ، ایمانداری سچ اور
اچھائی کے انعام اور لالچ جھوٹ اور برائیوں کی سزا کے اصلاحی قصے روز رات
کو انہیں سنائے ہیں ۔
دین کی باتیں دلچسپ انداز میں انہیں بتاتی رہی انہیں اللہ سے فقط ڈرایا نہیں
بلکہ اللہ سے محبت کرنی سیکھائی ہے ۔
میری بیٹی چار سال کی تھی تو میری بھانجی اسے کہتی ہے جہنم میں اللہ انسان کو
جلائے گا تم بھی اللہ سے ڈرا کرو ۔تو لیزا نے بڑی حیرت سے کہا ارے اللہ جان
تو اتنا اچھا ہے مجھے تو اس سے ڈر نہیں لگتا میں ان سے پیار کرتی ہوں ۔
اپنے حق کے لیے بولنا میں نے انہیں سیکھایا، وہ دلیل سے بات کرتے ہیں اور دلیل سے
سمجھتے بھی ہیں ۔وہ آنکھیں بند کر کے ہماری ہر بات پر سر تسلیم خم نہیں کرتے
بلکہ سوال کرتے ہیں اور والدین جب غلط ہوں تو انہیں غلطی کا احساس بھی دلاتے
ہیں ۔ظلم کے خلاف آواز ضرور اٹھاتے ہیں اس میں کئی بار نقصان اٹھایا مگر ضمیر
کا اطمینان یہ سوچ کر حاصل ہوتا ہے کہ ایمان کے سب سے کمزور درجے سے اوپر ہیں
میرے بچے ۔۔۔ کیونکہ وہ برائی کو صرف دل سے برا نہیں کہتے بلکہ زبان اور ہاتھ
سے بھی کہتے ہیں ۔
دکھاوا جب والدین میں ہو تو آٹو میٹکلی بچوں میں منتقل ہوتا ہے اس لیے سادگی
سیکھانے کے لیے سادگی اپنانی بھی پڑتی ہے ۔اگر ایسا نہ کریں تو قول و فعل کا
تضاد بچے کی شخصیت میں بھی ضرور پروان چڑھتا ہے۔
بڑے ہوتے ہوئے بچوں اور والدین کے درمیان جنریشن گیپ بہت بڑی خلیج ہے اس خلیج
کو پاٹنے کے لیے کوششیں صرف والدین کو کرنی پڑتی ہیں کیونکہ بچے اپنی الگ دنیا
میں اپنے من پسند لوگوں کے ساتھ خوش رہتے ہیں۔ لیکن والدین کی ساری دنیا ہی
اولاد کے دم سے ہوتی ہے سو میرا تجربہ اس طرح کامیاب کہ میں نے سوشل میڈیا پر
دوسری ساتھی ماؤں کی طرح پابندی نہیں لگائی بلکہ ان کے ساتھ خود بھی جدید
زمانے کی لازمی چیزیں استعمال کرنی سیکھ لیں ۔میرے سبھی بچے انسٹا گرام فیس بک
واٹس ایپ وغیرہ پر میرے ساتھ ایڈ ہیں ۔مجھے ان کے سبھی دوستوں کا پتہ ہوتا ہے ۔
ایک اہم چیز یہ کہ بچوں کو ہر عمر میں سب سے زیادہ ضرورت دوستوں کی ہوتی ہے اس
سے پہلے کہ وہ دوستی کی خواہش میں غلط صحبت میں بیٹھ کر کچھ ایسا سیکھیں کہ جو
آپ کے لیے بھی عمر بھر کا پچھتاوا بن جائے بچوں کے دوست بن جائیں اور یہ سب
سے مشکل کام ہے ۔
جب آپ کو بیک وقت دو کردار جینے پڑتے ہیں ۔ماں کی خواہش کے دسمبر کی سرد ترین
شام میں ائیسکریم کھانے سے منع کروں کہ بچے کا سینہ کمزور ہے ۔لیکن وہ جو اک
دوست والا کردار ہے وہ کہتا ہے چل یار ایک آئسکریم اور ہو جائے ۔ماں کا کردار
کہ بچہ پڑھائی میں دل لگائے لیکن دوست کا کردار کہ ایک کارٹون اور دیکھ لو ۔جب
اک ماں یہ دونوں کردار نبھانا سیکھ لے تو بچہ آپ کے ساتھ جڑا رہتا ہے خاص طور
پر بیٹی کی سہیلی بننا بہت ضروری ہے ۔کہ بیٹیاں جب محبت اور توجہ و اہمیت کی
تشنگی دل میں چھپائے باہر نکلتی ہیں تو ہر گندی سوچ دریا بن جاتی ہے اور یہ
دریا پیاس بجھاتے نہیں بلکہ ڈبو دیتے ہیں
وہ محبتوں کے شہد آگیں مشروب سے سیراب ہو کر گھر سے نکلے گی تو اب حیات بھی
اسے بے کار لگے گا ۔اور کوئی شکاری انہیں جھوٹے اور میٹھے لفظوں کے جال میں
نہیں پھنسا سکے گا ۔
بچوں میں احساس شکر اور اپنے سے نیچے دیکھنے کی عادت ڈالنی چاہیے ۔
ہم کہیں جاتے ہوئے رستے میں دیکھتے ہیں کہ چھوٹے بچے گاڑیاں دھو رہے ہیں ۔
کوڑے کرکٹ سے کھانا چن رہے ہیں ۔کہئں ٹافیاں وغیرہ بیچ رہے ہیں
بہت دکھ سے یہ دیکھ کر نکل نہیں جانا چاہیے بلکہ انہیں باقاعدہ یہ احساس
دلانا چاہیے کہ یہ آپ ہی جیسے بلکہ آپ سے بھی پیارے بچے ہیں لیکن اللہ نے جو
آپ کو دے رکھا ہے اس میں آپ کا کوئی کمال نہیں یہ بھی آزمائش ہے ان کے لیے بھی
جن کے پاس یہ سب نہیں اور ان کے لیے بھی جن کے پاس بہت کچھ ہے ۔
عملی زندگی کے لیے بچوں کی آنکھوں میں اپنے خواب سجانے کے بارے میں لوگ بہت
کچھ کہتے ہیں لیکن میں اس حق میں ہوں کہ آپ اپنے خواب ان کی آنکھوں میں سجانے
کی کوشش ضرور کریں اگر فٹ آ جائیں تو بہت اچھا ہے لیکن اگر چھوٹے یا بڑے ہوں
تو پھر انہیں اپنی آنکھوں جتنے خواب دیکھنے کی عادت ڈال دیں ۔الحمدللہ میرے
جاننے والے جانتے ہیں کہ میں ایک کامیاب ترین ماں ہوں میرے بچوں میں وہ ہر
خوبی بدرجہ اتم موجود ہے جو کسی بھی ماں کے لیے فخر کا باعث ہو سکتی ہے ۔
تعلیم کے میدان میں بھی انہوں نے مجھے کبھی مایوس نہیں کیا اس کی سب سے بڑی
وجہ اپنی تربیت کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو سمجھتی ہوں تربیت بعد میں
آتی ہے
جب آپ نماز پڑھیں گے تو بچے لاشعوری طور پر یہ سب کرنے کی کوشش کریں گے ۔جب آپ
رشتوں سے محبت کریں گے تو وہ بھی کریں گے ۔کسی پھوپھی چاچی سے نفرت کا اظہار
نہ کریں کہ ان کے ننھے ذہنوں میں یہ باتیں بیٹھ جاتی ہیں ۔ جبپ مہمان نواز
ماں ہوں گی تو بچے مہمان نوازی سیکھیں گے ایک بات ۔۔۔بچے میں عزت نفس کا احساس
پیدا کرنا ۔
عزت نفس ہوگی تو وہ اچھا رزلٹ دے گا کیونکہ اسے شرمندگی ہوگی بڑے رزلٹ کی عزت
نفس اسے تھوڑے میں خوش رینا سیکھائے گی کیونکہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے سے
پہلے عزت نفس کو قتل کرنا پڑتا ہے اور جب آپ کے بچے قسمت پر شاکر ہوکر تھوڑے
میں خوش ہونا سیکھ لیں گے تو یہ سبق ساری عمر آپ کے بچے کو خوش رکھے گا اور
والدین کی خواہش ہی یہ ہوتی ہے کہ آپ کے بچے خوش رہیں

_______________

تحریر:گل ارباب

کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

Advertisements

3 Comments

Comments are closed.