الف،آڈیو اور عمیرا احمد_______صوفیہ کاشف

جس دن میری دوست نے مجھے عمیرا احمد کا نیا ناول الف پڑھنے کے لئے بھیجا۔میں زرا چلتے پھرتے کاموں میں لگی تھی۔میرے پاس ان کے ناول کی آڈیو کا لنک آیا تھا۔میں نے سوچا چلتے پھرتے کام کرتے ساتھ ساتھ سن لیتی ہوں ۔میں نے اسے آن کیا۔مگر پھر کچھ ہی دیر میں اسے بند کر دیا۔یہ آڈیو اس قابل قطعی نہ تھی کہ اسے چلتے پھرتے نمپٹا دیا جاتا۔خوبصورت آواز میں ناول کے خوشنما ، پر تاثیر فقرے زرا فرصت کے لمحات اور مکمل توجہ کے متقاضی تھے، وہ توجہ جو کتاب کھول کر اسکے اندر نظر جما کر اسکے لفظوں پر لگائی جاتی ہے۔اس کتاب کو بحرحال خوبصورت آڈیو کے باوجود آپ صرف آڈیو پر نہیں سن سکتے کہ کتاب کی لذت اور کہانی کا مزا ادھورا رہ جاتا ہے ۔چناچہ دو تین بار کی آڈیو سے مستفید ہونے کی ناکام کوشش کے بعد میں نے ویب سائٹ سے اسکا لکھا ورثن نکالا اور ناول کی دونوں اقساط پڑھیں۔

عمیرہ احمد کا نام ادبی حلقوں میں چاہے جتنا متنازعہ دکھانے کی کوشش کی جائے یہ ایک حقیقت ہے کہ عمیرہ احمد ایک مکمل اور بھرپور ناول نگار ہیں۔خواتین لکھنے والوں میں سے اس وقت یقینا سب سے اوپر کھڑی ہونے کی وجہ عمیرہ کی پاپولر فکشن لکھنا نہیں بلکہ مکمل ناول نگار ہونا ہے۔انکے ناول بھلے کسی خلائی مخلوق،یا کسی تاریخی حوالوں اور واقعات کے گرد نہیں گھومتے یا کوئ سائنس فکشن یا تھر کے صحراؤں کی یا گونگے بہرے مسکین لوگوں کی داستان نہیں سناتے مگر ناول نگاری کے اسلوب کی بات کی جائے تو وہ جانتی ہیں کہ ناول کیا ہے اور اسے کسطرح سے لکھا جائے گا۔بنیادی خیال سے لیکر پلاٹ اور ایکشن تک,کرداروں سے لےکر مکالمات تک۔منظر نگاری سے تاثر تک، عمیرہ اپنے فن میں طاق ہے۔اسکے بعد چاہے وہ ہاتھوں میں مچھیروں کے جال لیکر مچھلیاں پکڑنے والوں پر لکھے یا عورتوں پر اس سے کوئ فرق نہیں پڑتا۔آپ کو یہ بات تسلیم کر لینی چاہئے کہ اپنے ملک کی پچاس فی صد سے زیادہ عورتوں پر مشتمل آبادی جسے آپ نے زندگی کے بنیادی دھارے سے الگ کر کے محض ہانڈی چولہا تک محدود کر رکھا ہے ،اسے دنیا کے تلخ حقائق،قحط زدہ معاشروں،جنگ ذدہ قوموں سے کوئ غرض نہیں۔پڑھی لکھی،باشعور اور تعلیم یافتہ عورت کوجسکی آنکھیں ستاروں سے پرے تک دیکھ سکتی ہیں،دماغ کوانٹم تھیوری سے لے کر شیکسپیئر تک بحث کر سکتا ہے،انگلیاں دنیا جہان کے رنگوں میں سے لمحوں میں صورت نکال سکتی ہیں،نسخہ دنیا جہان کی بیماریوں کا علاج لکھ سکتا ہے،اور قلم بڑے بڑے برج منٹوں میں ڈھا سکتا ہے، چولہے پر کھڑی کر کے ہی آپ اسکی اسقدر طاقت نچوڑ لیتے ہیں کہ وہ اس کے بعد آپ کے اردو ادب کے نام پر لکھے جانے والے ثقیل ناولوں اور گھمبیر زبانوں سے کوئ تعلق پیدا کر ہی نہیں پاتی۔جو تعلیم حاصل کر کے ہمارے مرد اونچے گریڈوں کے افسر بن جاتے ہیں اور طاقت ور کرسیوں پر بیٹھتے ہیں وہی حاصل کرنے والی عورت کو محض گھر کی اک کک،ماسی اور میڈ کا درجہ ہی مل پاتا ہے۔پھر چاہے آپ اسے ملکہ کا نام دے دیں یا کنیز کا اس کی تمام تر صلاحیت اور شعور عمر بھر اسی ادنی نوکری پر فٹ بیٹھنے میں ہی خرچ ہو جاتا ہے،یعنی اس نوکری پر جس کی اہلیت محض پانچ کلاسیں تھیں۔ایسی بن کر پھر سے بگڑتی عورت کو صرف اس عورت کی کہانی سے غرض ہے جس کے ساتھ میں وہ اپنے خواب پھر سے جی سکے،اپنی آنکھوں میں پھر سے وہ جگنو جگا سکے چاہے کچھ دیر کے لئے ہی جو بہت محنت سے اسکی آنکھوں سے نوچے جاتے ہیں۔کچھ گھڑی سکوں کے وہ ٹھنڈے میٹھے سانس لے سکے جو گھر اور چار دیواری کی بھول بھلیوں میں اسکے لئے مشکل ہو جاتے ہیں۔اور ملک کی پچاس سے ذیادہ فی صد آبادی اگر ایسا ادب چاہتی ہے تو آپ ہزار طاقت ور ہونے کے باوجود اسکا رستہ نہیں روک سکتے۔ایسے میں یقینا عمیرہ احمد وہ ناول نگار ہے جو ہر طرف سے چھان پھٹک کر ناپ تول کر اتنا مکمل لکھتی ہیں کہ ایک عام قاری تو مزا لیتا ہی ہے ایک اچھے ذوق کا قاری بھی خوب اسکے لطف سے سیر ہوتا ہے۔وہ ایسے غیر حقیقی کردار کہ جو آس پاس کی دنیامیں ڈھو نڈنے مشکل ہوں نہ وہ اوٹ پٹانگ رویے جو اکثر صرف ناولز اور خصوصاً ڈائجسٹ رائٹر کے ہاں پائے جاتے ہیں۔نہ وہ آسمان سے توڑ کر لائی گئی اخلاقیات کہ پڑھنے والا خود کو زمین میں دھنسا محسوس کرنے لگے نہ وہ افراد کی بے باکی اور آزادی کہ قاری کی آنکھ ہی حیا کر جائے یا تلملا اٹھے۔نہ حسینہ معین کے ڈراموں کا تڑکہ،نہ شوخی اور چنچل پن کے نام پر طوفان بدتمیزی۔آپ کو ماننا پڑے گا کہ عمیرہ نے اپنے ریڈرز اور ناظرین کو وہ دیا جو اسے چاہیے تھا۔وہی اقدار جو آپ اپنے گھروں اور زندگیوں میں بدلنے سے ڈرتے ہیں،وہی لحاظ اور مروت جو آپ اپنی اولادوں کو ادب کے نام پر پڑھانا چاہتے ہیں۔جب ساری دنیا حسینہ معین کے سے کردار تخلیق کرنے کی کوشش میں مرے جا رہی تھی عمیرہ نے اسی مشرقی حسینہ کو کہیں سے کھوج نکالا جو بھیڑ چال میں کہیں کھو گئی تھی۔یہ اور بات کہ اس کے بعد اٹھنے والے تمام قلم ستی ساوتری دکھی حسیناؤں کا ڈھیر لگانے لگے۔

ڈرامائ ٹیکنیک دیکھی جائیں تو عمیرہ کو بخوبی علم ہے کہ مکمل اور اوریجنل کردار کس طرح سے تخلیق کرنے ہیں ایسے کہ انوکھے بھی ہوں اور عام سے بھی،مکالمے،منظر نگاری،دیکھنے اور پڑھنےوالے کے دل میں کب وحشت پیدا کرنی ہے کب انکی آنکھ سے آنسو نکالنا ہے۔کلائمکس کے وقت کلائمکس،اتار کی جگہ پر اتار،چڑھاو کی جگہ پر چڑھائ۔بالکل جیسے کسی ماہر درزی کے ہاتھ کا سلا خوبصورت باکمال جوڑا ،بھرپور اور مکمل۔۔۔یہی کاملیت ہے جو عمیرہ احمد کو باقی تمام خواتین پاپولر فکشن لکھنے والوں سے ممتاز کرتی ہے۔اور اس میں کوئ شک نہیں کہ تنقید کی خاطر یا تعریف کی خاطر مردوں کی ایک بڑی تعداد نہ صرف انکے نام اور مقام سے واقف ہے بلکہ چھپ کر یا کھلے عام انکو پڑھ بھی چکی ہے۔

عمیرہ کی تحریر کی یہی خوبی ہے کہ پاپولر فکشن پڑھنا ہو تو عمیرہ سے بہتر اور کوئ چوائس نہیں۔ایک اوریجنل پاپولر فکشن کا ناول عمیرہ سا مکمل اور مضبوط بہت کم لوگ لکھ پائے ہیں۔

عمیرہ کا نیا ناول”الف” ابھی آغاز میں ہے مگر اپنے کرداروں اور مکالموں سے اپنا خوب رنگ جما چکا ہے۔

جتنی خوبصورتی سے اس کا آغاز کیا گیا ہے اس کی دلکشی محض اس کو پڑھ کر کشید کی جا سکتی ہے اس کے باوجود کہ شاید یہ ان پہلے ناولز میں سے ہے جن کو ایک خوبصورت اور ڈرامائی انداز کی آڈیو کے ساتھ بھی پیش کیا گیا ہے جو ان لوگوں کے لئے ایک بہت اچھی خبر ہے جو آڈیو ریڈرز استعمال کرنے یا ریڈیو سننے کے عادی ہیں۔لیکن اگر آپ میرے جیسے مطالعہ کے عادی مجرم ہیں تو پھر اپنا نشہ پورا کرنے کے لئے ایک جھولتی کرسی اور تنہائ،اور لمبی فراغت بہت ضروری ہے تا کہ آپ اس کے دھنک رنگ کرداروں کے طلسم میں مکمل طور پر گرفتار ہو سکیں۔

__________

صوفیہ کاشف،

24/102018 کو”ہم سب” میں شائع ہوا۔

Advertisements

2 Comments

Comments are closed.