#می ٹو_________اسما ظفر

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

آجکل می ٹو کے ہیش ٹیگ سے ایک مہم بہت زور شور سے چل رہی ہے۔ اسکا آغاز ہالی ووڈ سے ہوا جب آسکر ایوارڈ ونر پروڈیوسر ڈائریکٹر ہاروے ونسٹن پر انکے ساتھ کام کرنے والی ایک اداکارہ الیسا میلانو نےہراسانی کا الزام لگایا اور 15 اکتوبر 2017 کو ایک ٹوئیٹ کے ذریعے اپنی ساتھی اداکاراؤں کو دعوت دی کہ اگر وہ بھی اس ہراسانی کا شکار ھوئیں ہیں تو وہ اس ہیش ٹیگ می ٹوکو لکھ کر اظہار کریں ۔اسکے بعد کئ اور خواتین نے ان پر اسی طرح کے الزامات لگائے جسکے نتیجے میں انہیں سزا ہوئ اور الزامات بھی قبول کرنے پڑے ۔

حالیہ دنوں میں انڈیا میں بھی نانا پاٹیکر ،ڈائریکٹر ساجد خان اور مشہور اداکار آلوک ناتھ پر بھی انکی ساتھی اداکاراوں نے سنگین الزامات لگائے۔ پاکستان میں نادیہ جمیل اور فریحہ الطاف نے بھی اپنے ساتھ گزرے تکلیف دہ دن کو می ٹو کے ہیش ٹیگ کے تحت بیان کیا ۔ایک الزام علی ظفر پر بھی میشا شفیع نامی گلوکارہ نے لگایا جسکی عدالتی تحقیقات بھی چل رہی ہیں ۔
بات یہ ہے کہ صرف شو بز انڈسٹری ہی میں خواتین ہراسانی کا شکار نہیں بلکہ ہر وہ جگہ جہاں خواتین مرد حضرات کے ساتھ مخلوط ہو کر کام کرتی ہیں ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں ۔جہاں جس جگہ مرد بااختیار ہوتا ہے اسکے ماتحت کام کرنے والی خواتین اسکا سافٹ ٹارگٹ یوتی ہیں چاہے وہ شوبز ہو، کارپوریٹ ادارے ،کارخانے یا گھر پر جھاڑو پونچھا کرنے والی، ہر جگہ ہراسانی عام ہے ۔بعض خواتین کی مجبوری ہوتی ہے کام کرنا اور پیسے کمانا اسلیئے اسی فیصد خواتین جبراً یہ سب برداشت کرتی ہیں اور کسی سے کچھ نہیں کہتیں ۔می ٹو کے تحت بولنے والی خواتین نے بھی کسی نے دس کسی نے سولہ اور کسی نے بیس سال بعد ہمت پکڑی، اپنے ساتھ ھونے والے ناروا سلوک کے بارے میں وجہ صرف وہی ھے کہ جن کے ماتحت کام کر رہیں تھیں وہ طاقتور اور بااثر تھے انکے خلاف بولنے کا مطلب تھا اپنے کام سے ہاتھ دھو لینا اور ایسا ہوا بھی۔ کئ خواتین کا کیرئیر تباہ ہوگیا انہیں انڈسٹری میں کام ملنا بند ہوگیا ۔مگر اس ہیش ٹیگ می ٹو کے چلتے اب لوگوں میں یہ آگاہی پیدا ہوئ ہے کہ وہ بااثر لوگوں کے بارے میں بات کررہی ہیں ۔نہ صرف یہ بلکہ انکے ساتھ انصاف ہونا بھی شروع ہو گیا ہے ہالی ووڈ اسکی اہم مثال ہے مگر مگر ٹھریئے ۔۔۔۔۔۔
کیا صرف شوبز یا مشہور خواتین کے ساتھ ہی ہراسانی کے واقعات ہوتے ہیں؟؟ کیا وہ غریب خواتین جو کارخانوں اور گھروں میں معمولی اجرت کے بدلے اپنا استحصال کروانے پر مجبور ہوتی ہیں انکے لیئے بھی کوئ ہیش ٹیگ بنے گا کبھی؟؟ کیا وہ بھی کبھی اپنے ساتھ ہوئ ناانصافی اور استحصال پر بول پائیں گی؟؟ انہیں انکا انصاف کون دلوائے گا ؟؟ یہ خواتین معاشرے کا حصہ نہیں؟؟ انہیں باعزت طریقے سے روزگار کمانے کا حق نہیں؟؟ یہ اور ایسے کئ سوالات ہیں جو اپنا جواب چاہتے ہیں اس معاشرے سے ۔اللہ کرے کبھی انکے تسلی بخش جواب ملیں اور یہ دنیا مظلوم کے لیئے رہنے کے قابل ہوسکے ۔۔
میں یہ نہیں کہتی کہ معاشرے میں صرف عورت ہی مظلوم ہے ۔مظلوم تو وہ مرد بھی ہے جس پر جھوٹا بہتان لگایا جائے اور اسکی عزت خاک میں ملائ جائے کیونکہ عزت صرف عورت کی نہیں مرد کی بھی ھوتی ھے ۔اس پر لگائے گئے الزام سے اسکا سارا خاندان اذیت کا شکار ہوتا ہے۔ بلکل اسی طرح جسطرح ایک خاتون کا گھرانہ بات سامنے آنے پر تکلیف ،دکھ اور اذیت کا شکار ہوتا ہے ۔اسلیئے اگر کوئ عورت یا مرد زبان کھولے تو اسکی غیر جانبدار تحقیق ھونا ضروری ھے تاکہ کسی کی عزت چوراہے پر نیلام نا ہو ۔مگر یہ سب بہت آگے کی باتیں ہیں فی الحال تو اتنا بہت ہے کہ خواتین میں ہمت پیدا ہورہی ہے ۔کم از کم اتنا تو ہوا دس سال، بارہ سال بعد ہی سہی انکے اندر کی تکلیف گھٹن باہر تو نکل رہی ہے ۔ ایک عورت اپنی ساری عزت داؤ پر لگا کر اگر کسی پر انگلی اٹھاتی ھے تو دنیا پلٹ کر اسکی عظمت پر بھی انگلی اٹھاتی ھے اور پھر اسکا دفاع کرنا واقعی بہادری اور ھمت کاکام ھے اور اب بس بہت ھوا یہ ھمت تو دکھانی ھی ھوگی کچھ تو احتساب کا ڈر ھو ایسے مردوں کو جو اپنے ماتحت کام۔کرنے والی ہر عورت کو اپنے باپ کا مال سمجھ کر اسکا استحصال کرتا ھے ھوسکتا ھے اسی طرح کچھ مثبت تبدیلی آئے اور ھمارے لیئے نا سہی ھماری بیٹیوں کے لیئے یہ معاشرہ کسی حد تک محفوظ ھوجائے ۔۔۔
کوئی دن ایسا بھی آ جائے کبھی

لب پہ نالہ نہ ہی فریاد آئے۔۔۔۔۔۔۔۔

_________________

تحریر: اسماء ظفر

کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

Advertisements