Incurable Disease________حمیرا فضا

گھڑی کی سوئی بارہ سے بارہ تک جاکر

جیسے سانس نہیں لیتی

ویسے سوچ کا کبھی دن بھر میں ایک چکر

پورا نہیں ہوتا

لوگ سوچوں کا الارم لگا کر

سرہانے کے پاس رکھتے ہیں

اور صبح کی مارننگ واک میں

جوگرز کے تسموں سے باندھ لیتے ہیں

لوگ سوچوں کو چمڑے کے تھیلے میں

رنگ برنگی سبزیوں کے ساتھ گھماتے ہیں

اور اخبار کی سات سرخیوں کے علاوہ

آٹھویں خبر بنا کر چہروں پر اشتہار لگاتے ہیں

اور چاہتے ہیں اُن کی عمر اور شیڈول کا کوئی حساب نہ رکھے

لوگ میلے کپڑوں کی ٹوکری میں

سوچوں کی بدبو قید کرتے ہیں

پھر استری سٹینڈ پر رکھے دھلے کپڑوں میں

وہی سوچیں تہہ لگاتے ہیں

لوگ سوچوں کو قیمتی دیگچیوں میں

گھنٹوں پکاتے ہیں

کفایت شعاری دیکھیے

وہی خوراک کئ کئ دن کھاتے ہیں

پھر چاہتے ہیں اُن کے مزاج اور معدے پر کوئی آنچ نہ آئے

یوں تو ــــــــــ

ہر گھر میں سوچ کا ایک سیرپ فریج میں

لازمی ہوتا ہے

چابیوں کے گچھے میں سوچ کی ایک چابی

بیکار رہتی ہے

ہر کیبینٹ میں سوچ کا ایک جار

بھرا ہی ملتا ہے

ہر کیاری میں سوچوں کے پھول

سارا سال کھلتے ہیں

ہر ڈائری کے ننانوے صفحے

سوچوں سے چھپ چھپ کر ملتے ہیں

بے معنی سوچیں ہر گھر میں ڈیرا ڈالے رکھتی ہیں

بچوں کی فٹ بال سے کھیلتی ہیں

عورتوں کے پلو سے پسینہ پونچھتی ہیں

بوڑھوں کی لاٹھی سے ٹھک ٹھک کرتی ہیں

پھر بھی سوچ کا ختم یہ سفر نہیں ہوتا

شہر کا ہر فرد اِس وبا میں گھرا ہی رہتا ہے

اور المیہ یہ ہے ــــــــــــ

چار سو سے چار ہزار فیس لینے والے ڈاکٹر کا

کوئی نسخہ کارگر نہیں ہوتا!!!

________________________

شاعرہ: حمیرا فضا

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements