گھڑی کی سوئی بارہ سے بارہ تک جاکر

جیسے سانس نہیں لیتی

ویسے سوچ کا کبھی دن بھر میں ایک چکر

پورا نہیں ہوتا

لوگ سوچوں کا الارم لگا کر

سرہانے کے پاس رکھتے ہیں

اور صبح کی مارننگ واک میں

جوگرز کے تسموں سے باندھ لیتے ہیں

لوگ سوچوں کو چمڑے کے تھیلے میں

رنگ برنگی سبزیوں کے ساتھ گھماتے ہیں

اور اخبار کی سات سرخیوں کے علاوہ

آٹھویں خبر بنا کر چہروں پر اشتہار لگاتے ہیں

اور چاہتے ہیں اُن کی عمر اور شیڈول کا کوئی حساب نہ رکھے

لوگ میلے کپڑوں کی ٹوکری میں

سوچوں کی بدبو قید کرتے ہیں

پھر استری سٹینڈ پر رکھے دھلے کپڑوں میں

وہی سوچیں تہہ لگاتے ہیں

لوگ سوچوں کو قیمتی دیگچیوں میں

گھنٹوں پکاتے ہیں

کفایت شعاری دیکھیے

وہی خوراک کئ کئ دن کھاتے ہیں

پھر چاہتے ہیں اُن کے مزاج اور معدے پر کوئی آنچ نہ آئے

یوں تو ــــــــــ

ہر گھر میں سوچ کا ایک سیرپ فریج میں

لازمی ہوتا ہے

چابیوں کے گچھے میں سوچ کی ایک چابی

بیکار رہتی ہے

ہر کیبینٹ میں سوچ کا ایک جار

بھرا ہی ملتا ہے

ہر کیاری میں سوچوں کے پھول

سارا سال کھلتے ہیں

ہر ڈائری کے ننانوے صفحے

سوچوں سے چھپ چھپ کر ملتے ہیں

بے معنی سوچیں ہر گھر میں ڈیرا ڈالے رکھتی ہیں

بچوں کی فٹ بال سے کھیلتی ہیں

عورتوں کے پلو سے پسینہ پونچھتی ہیں

بوڑھوں کی لاٹھی سے ٹھک ٹھک کرتی ہیں

پھر بھی سوچ کا ختم یہ سفر نہیں ہوتا

شہر کا ہر فرد اِس وبا میں گھرا ہی رہتا ہے

اور المیہ یہ ہے ــــــــــــ

چار سو سے چار ہزار فیس لینے والے ڈاکٹر کا

کوئی نسخہ کارگر نہیں ہوتا!!!

________________________

شاعرہ: حمیرا فضا

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف