قلم کا جنم———5

فاطمہ شیروانی

لکھنا ایک سعادت ہے اور یہ سعادت نصیب والوں کے حصے میں ہی آتی ہے ۔اپنے تخلیقی سفر کے بارے میں لکھنے بیٹھی تو ذہن کے گوشوں پر بار بار یہی ایک جملہ دستک دیتا رہا ۔مجھے تو ٹھیک سے یاد بھی نہیں کہ میں نے اپنا پہلا جُملہ کب تخلیق کیا ۔اور مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ خالقِ کائنات نے نے ایک لکھاری کی حثیت سے میرا چُناؤ کیوں کیا ۔لکھنے والے بہت خاص ہوتے ہیں سو خالقِ کائنات نے ان خاص لوگوں میں میرا نام بھی لکھ دیا ہاں مگر ساتھ ہی حد سے زیادہ حساسیت بھی میرے خون میں شامل کر دی کہ جب تک حساسیت ساتھ نہیں ہوگی کوئی شاہکار بھی تخلیق نہیں ہو گا ۔ایک تخلیق کار کے تخلیقی سفر کا آغاز تو شائد اس دُنیا میں آنے کے فوراً بعد ہی شروع ہو جاتا ہے ہاں وہ لوگوں تک تب ہی پہنچتا ہے جب وہ شعوری عمر کے حصے میں منتقل ہو کر قلم کو تھامنے کا سلیقہ سیکھ جاتا ہے .مگر مجھے تو لگتا ہے کہ ابھی تک مجھے قلم کو تھامنے کا سلیقہ نہیں آیا ہاں مگر کوشش جاری ہے کہ میں اپنے قلم کار ہونے کا حق ادا کر سکوں۔میں چار بھائیوں کے بعد اس دنیا میں آئی تھی۔والدین کی محبت پورئے حق سے وصول کی مگر ماں نے صبر کا گھونٹ دودھ کے ساتھ ہی میری رگوں میں اُتار دیا۔کم بولنا اور زیادہ محسوس کرنا میری فطرت کا حصہ بنتا چلا گیا۔حساسیت حد سے بڑھی تو آنسوؤں کے ساتھ ساتھ کاغذ اور قلم کا سہارا لے لیا۔ہہ میرے بہترین دوست ثابت ہوئے ۔میرئے آنسو زمین پر گرنے سے پہلے ہی کاغذ اپنے دامن میں جذب کر لیتا تھا اور قلم اُسے ایک لفظ کا درجہ دئے دیتا تھا اور یوں میرے درد کو مرہم مل جاتا ۔مگر کبھی کبھی یہ بہترین دوست بھی روٹھ جاتے ہیں اور ایک قلم کار کے لئے اُس سے زیادہ اذیت ناک وقت کوئی نہیں ہوتا ۔میں شائد تیرہ سال کی تھی جب میں نے اپنی پہلی کہانی لکھی اور ایک رسالے کو بھیج دی۔ٹھیک ایک ماہ بعد ادارے نے اُس مکمل کہانی کی بجائے اُس کے چند جملے اپنے ایک صفحے پر میرے نام کے ساتھ شائع کر دئیے ۔وہ لمحہ میری زندگی کا یادگار ترین لمحہ تھا میں اپنی ہی نظروں میں معتبر ہو گئی ۔کتنا خوبصورت ہوتا ہے نا وہ لمحہ جب آپ کے تخلیق کردہ جُملے دوسروں تک پہنچنے ہیں اور آپ کے پڑھنے والے انہیں زیرِبحث لاتے ہیں ۔سبھی لکھنے والے اسی احساس سے گزرتے ہیں ۔میرئے اندر کے تخلیق کار کے جاگنے کی دیر تھی پھر تو صفحات کالے کرنے کی عادت سی پڑ گئی ۔نجانے کتنی ہی ڈائریاں بھر ڈالیں۔کتابیں پڑھنا اور ڈائریاں لکھنا لگتا تھا زندگی میں بس دو ہی کام تھے اوپر سے گھر کا ماحول بھی ایسا جہاں کپڑوں اور جوتوں سے زیادہ کتابوں کے ڈھیر تھے ۔والدہ نے کبھی گھر کے کاموں کے لئے دباؤ نہیں ڈالا اور یوں قلم کے ساتھ رشتہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا ۔لکھا بہت مگر سب ڈائریوں میں ہی بند رہا ۔یہ ڈائریاں بھی ہم مڈل کلاس لڑکیوں کی بڑی ہی پکی سہلیاں ہوتی ہیں، ہمارے کتنے ہی آنسوؤں کی گواہ ہوتی ہیں ۔ہمارے قہقہے، ہمارے آنسو سب ان کے پاس محفوظ ہوتے ہیں ۔۔گریجویشن کے بعد اپنے دل کا سارا غبار اشعار کی شکل میں نکال لیا ۔وہ اشعار بھی ڈائری میں ہی بند رہتے اگر ایک دوست اُس کو کتابی شکل میں شائع کروانے کی ذمہ داری نہ اُٹھاتی ۔مگر ماسٹرز کے آخری سال میں نثر نگاری کی طرف توجہ دی اور پہلا مضمون لکھا جو مکمل تعارف کے ساتھ ایک میگزین میں شائع ہو گیا ۔ماسٹرز کے بعد روزنامہ جنگ کے ادارتی صفحات پر باقاعدہ طور پر مضامین شائع ہونے لگے ۔میرا قلم اب میرا تعارف تھا ۔مضامین سے افسانوں اور افسانوں سے بات طویل ناولز تک چلی گئی ۔رہنمائی کرنے والے کچھ دوست ملے تو لکھنے کی مزید تحریک پیدا ہوئی ۔یہ رہنمائی کرنے والےدوست ایک قلم کار کے لئے چراغِ زیست کا کام دیتے ہیں جن کی رہنمائی میں وہ آگے بڑھتا چلا جاتا ہے ۔۔میرا قلم بھی نہایت روانی سے جملے تخلیق کرتا جا رہا تھا کہ اچانک ایک حادثے نے مجھے کاغذ قلم سے بیزار کر دیا ۔مجھے لگتا تھا کہ اب میں کبھی لکھ نہیں پاؤں گی مگر لکھنا ترک نہیں کر سکی ۔البتہ بہت تلخ لکھنے لگی ۔ایک رسالے کی مُدیرہ نے کہا تلخی ذرا کم کریں ۔یہی بات ایک اخبار کے ایڈیٹر نے بھی کہی ۔اب لفظوں میں مٹھاس کیسے لائی جائے ۔یہ کام مجھ سے نہیں ہو سکا ۔۔میرے حصے میں تو قلم کے ساتھ حساسیت آئی تھی جو میری تحریر کا ذائقہ بہت تلخ بنا دیتی ہے ۔عظیم ہیں وہ لوگ جو بدترین حالات میں بھی اپنی تحریروں کے ذریعے قہقہے تقسیم کرتے ہیں ۔کاش میرا شُمار بھی ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ۔

———————————–

صباحت رفیق

محبت صرف حساس دلوں پر نازل ہوتی ہے۔ یہ ایک آفاقی جذبہ ہے، آسمان سے اُترا ایک حسین تحفہ ہے۔ روح کو نکھار دیتا ہے۔انسان پر جب محبت وارد ہونے لگے تو اُسے ساری دُنیا حسین نظر آنے لگتی ہے۔یہ کائنات اور اس میں موجود تمام چیزیں جیسے کہ پھول، پتے، چاند اور ستارے سب اُس کی توجہ کھینچنے لگتے ہیں ۔اُسے ان کہی باتیں سُنائی دینے لگتی ہیں۔ اُسے رات اور اُس کی خاموشی سے اُسے عشق ہونے لگتا ہے کیونکہ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ساری دنیا میٹھی نیند کے مزے لے رہی ہوتی ہے اور ہم اپنے محبوب کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں اُس سے ہم کلام ہو رہے ہوتے ہیں ۔

سترہ برس کی عمر میں پہلی دفعہ مجھ پر محبت وارد ہوئی تھی اور وہ تھی ’حقیقی محبت‘ ۔ تب میرے قلم نے حقیقی معنوں میں جنم لیا تھا۔ اُس قلم سے سب سے پہلا لفظ جو میں صفحہ قرطاس پر بکھیرا وہ ’محبت ‘ تھا۔

؂ خُدا بھی نہ بچ سکا محبت کے تقاضوں سے فراز

اک محبوب کی خاطر پوری کائنات بنا دی

اور میرا محبت پر لکھا گیا ایک صفحے کا آرٹیکل پڑھ کر میری امی مُسکرائی تھیں تب میں نے اس محبت کو ’ماں کی مُسکراہٹ‘ کے نام کر دیا۔

مجھ سے جب بھی لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ رائٹر کیسے بنیں ؟تو مجھے سچ میں اُن کے سوال پر بہت حیرانی ہوتی ہے کہ یہ کیسا سوال پوچھ رہے ہیں ؟ کیا رائٹر بنا جاتا ہے؟ کیا کہیں خصوصی طور پر رائٹر بننے کے لیے کلاسز لی جاتی ہیں ؟ یا ایسا کچھ کیا جاتا ہے جسے کرنے سے رائٹر بن جاتے ہیں ؟

میرے خیال میں تو یہ سوال ہی فضول ہے۔کیونکہ رائٹر جب پیدا ہوتا ہے تو وہ تب سے ہی رائٹر ہوتا ہے۔ اللہ نے اُسے دنیا میں بھیجتے وقت ہی اس صلاحیت سے مالا مال کر کے بھیجا ہوتا ہے۔ اُس کے پاس لفظوں کا خزانہ ہوتا ہے۔جلد یا بدیر وہ اپنے اس خزانے کا سُراغ پا ہی لیتا ہے بعض اوقات کسی سے امپریس ہو کر اور بعض اوقات کسی حادثے کی وجہ سے اُس کا قلم جنم لے ہی لیتا ہے۔اس لیے آپ پہلے یہ بات ذہن میں بٹھا لیں کہ رائٹر، پیدائشی رائٹر ہوتا ہے۔اس لیے یہ مت پوچھیں کہ آپ رائٹر کیسے بنیں بلکہ یہ پوچھیں کہ آپ کے قلم نے کب اور کیسے جنم لیا؟کیونکہ پہلے سوال کا رائٹر کے پاس کوئی جواب نہیں ہو گا لیکن دوسرے سوال پر آپ بہتر طور پر رائٹر کے بارے میں جان سکتے ہیں۔

وہ آٹھ اکتوبر کا خاموش دن تھا۔میرا کالج سڑک کے ایک طرف تھاوہاں جانے کے لیے مجھے ریل کی پٹری کراس کرنا پڑتی تھی۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ آج میرے ساتھ کچھ ایسا ہونے والا ہے جو میری زندگی پر بہت اثر انداز ہو گا۔میں اپنی ہی دھُن میں مُگن رکشے سے اُتری اور آگے بڑھنے لگی، تبھی میں نے سامنے سے اپنی دوست اور اُس کی والدہ کو آتے دیکھا ۔ میں اُن کی طرف دیکھ کے مُسکرا دی اور قدم اُٹھاتی گئی۔جبکہ وہ اور اُس کی امی وہیں رُک گئیں اور میری دوست مجھے ہاتھ ہلا کے اشارے کرنے لگی مجھے یوں لگا جیسے وہ مجھے کہہ رہی ہو، ’صباحت جلدی آؤ۔‘ سو میں اور جلدی قدم اُٹھانے لگی لیکن جیسے ہی میں ریل کی پٹری پر قدم رکھنے لگی مجھے پیچھے کی طرف جھٹکا لگا اور میرے قدم خود بخود پیچھے ہٹ گئے اور جیسے ہی میں نے سر اُٹھایا ریل کا پہلا ڈبہ میرے اتنے قریب سے گُزرا کہ مجھے ڈبے میں بیٹھے آدمی کی سُرخ آنکھیں اور ہلتے ہونٹ واضح دکھائی دئیے جس کے خیال میں ، میں خود کشی کرنے جا رہی تھی۔میں وہیں کانپ کے رہ گئی۔ مجھے حیرت ہوتی ہے آج بھی کہ نہ ہی میں اندھی تھی نا ہی بہری، تو پھر مجھے ٹرین کیوں نہیں دکھائی دی تھی؟ کان پھاڑتی ٹرین کی آواز کیوں نہیں سُنائی دی تھی؟اور وہ کون سی چیز تھی جس نے میرے قدم خود بخود پیچھے کر دئیے تھے۔میں سہم گئی تھی یہی سوچ کر کہ اگر میں قدم رکھ دیتی تو۔۔۔؟

اور اس سوال کا جواب مجھے گھر جا کر مل گیا جب میں نے اپنی امی کو بتایا اور یہ سُنتے ہی اُنہوں نے مجھے اپنے سینے سے لگا لیا۔ تب مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا کہ اگر میں قدم رکھ بھی دیتی تو مجھے کچھ نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ میرے گرد میری ماں کی دُعاؤں کا حصار تھا۔یہ واقعہ صرف ایک ہی دن میرے ذہن پر سوار رہا اور اگلے دن مجھے چھُٹی کرنے کا بہانہ مل گیا۔ میں نے اسی واقعے کو بہت ہی خوفناک طریقے سے لکھا جس سے یوں لگے کہ اس حادثے کا مجھ پر بہت گہرا اثر ہوا ہے جس کی وجہ سے میں اتنا سہم گئی ہوں کہ آج کالج نہیں آ سکتی۔ہمارے گھر کے قریب سے دو تین لڑکیاں اور بھی جاتی تھیں میں نے اُن کے ہاتھ وہ درخواست کالج بجھوا دی۔مزے سے گھر میں ایک دن گُزار کر جب اگلے دن کالج گئی تو صبح صبح ہی دوسری کلاس کی لڑکیاں ہماری کلاس میں آئیں اور میرا پوچھیں کلاس فیلوز بتائیں تو وہ میرے پاس آئیں مجھے دیکھیں اور چلی جائیں ۔ یہ سلسلہ بریک وقت بھی جاری رہا اور جب میں کلاس سے باہر نکلی تو تب تک کافی لڑکیاں مجھے جان چُکی تھیں میں نے بذاتِ خود اپنے کانوں سے لڑکیوں کے یہ کمنٹ سُنے جو میرے پاس سے گزرنے پر اُنہوں نے کیے تھے۔

یہ رائٹر ہے۔۔

یہ افسانہ نگار ہے۔۔۔

یہ کالم نگار ہے۔۔

مجھے نہیں پتہ تھا ان سب کا مطلب کیا ہے؟ اور غصہ آیا کہ یہ ایسے کیوں مجھے کہہ رہی ہیں ؟

لیکن وہ تو مجھے وہی کہہ رہی تھیں جو میں اصل میں تھی۔۔

میں رائٹر تھی

میں افسانہ نگار تھی

میں کالم نگار تھی

ہاں تب بھی جب مجھے علم بھی نہیں تھا کہ ان سب لفظوں سے کن لوگوں کو مُخاطب کرتے ہیں ؟ تب مجھے یہ سُن کر غصہ آ رہا تھا میرے اسی غصے کو دیکھ کر میری دوست نے مجھے بات بتا دی جو وہ مجھ سے صبح سے چھُپا رہی تھی کہ میڈم نے میری درخواست نا صرف اپنی کلاس کو بلکہ پورے کالج کو پڑھ کر سُنائی تھی۔

اسے سُن کرتو مجھے اور غصہ آیا یہ فیصلہ کیا مجھے میڈم سے پوچھنا چاہئیے اُنہوں نے ایسا کیوں کیا؟یہی سوال جب میں نے اُن سے پوچھا تو وہ مُسکرانے لگیں اورپھر اُنہوں نے اپنی مدھم آواز میں مجھے بتایا کہ وہ اُنہوں نے اس لیے سب کو سُنائی کہ وہ اس قابل تھی کہ اُسے دوسروں کو سُنایا جاتا۔جس طرح ایک ایک لفظ کا انتخاب کیا گیا تھا وہ پڑھ کر کوئی بھی شخص داد دئیے بنا نہیں رہ سکتا تھا۔ اور ایسا ہوا تھا کالج میں سب سٹوڈنٹس کیا ٹیچرز تک نے داد دی تھی۔اگلے دن اکاؤنٹنگ کی میم کلاس میں آئیں مجھے کھڑا کیا اور پوچھا۔

’بچے آپ ناول پڑھتے ہو؟‘

تب اُس وقت گھر میں آنچل ڈائجسٹ آیا کرتا تھاجو صرف ایک بہن اور امی پڑھا کرتی تھیں اس کے علاوہ کسی کو اُسے ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں تھی۔میں نے ناول نہیں پڑھا تھا تب کبھی۔ اس لیے بتا دیا نو میم۔لیکن میم نے کندھے اُچکاتے ہوئے کہا ۔

’ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ ناول نہ پڑھتی ہو۔‘

میری کلاس فیلوز نے اور میرے کالج نے مجھے رائٹر مان لیا ہوا تھا ۔یہ وہ وقت تھا جب میں نے کچھ بھی لکھ کے پبلش نہیں کروایا تھا۔ کالج چھوڑتے وقت کلاس فیلوز نے خصوصی مجھ سے درخواست کی۔ جب بھی ڈائجسٹ میں اپنی کہانیاں بھیجناتو اپنے اصلی نام سے بھیجنا۔ جنہوں نے مجھے اتنی محبت دی اُن کا حُکم بھی سر آنکھوں پر۔ نام تو پہچان ہوتا ہے ہماری۔مر بھی جائیں تو نام ہی زندہ رہتا ہے۔میں نے اپنا قلمی نام بھی وہی رکھا جو میرا اصلی نام ہے۔اور مجھے یقین ہے وہ سب لوگ جن سے میرا رابطہ نہیں ہے۔ وہ میرا نام دیکھتے ہوں گے تو فخر سے اپنے آس پاس کے لوگوں کو بتاتے ہوں گے کہ یہ ہماری کلاس فیلو ہے۔میں ان محبتوں کا قرض کبھی نہیں چُکا سکتی۔

مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میرے قلم نے کسی کی وجہ سے نہیں صرف میری وجہ سے جنم لیا ہے۔اور مجھے پہچان کسی ادارے نے نہیں دلوائی میں نے اپنی پہچان خود بنائی ہے۔وقت کے بہاؤ میں زندگی بہتی ہی جا رہی تھی۔لوگوں کی چالوں ، اُن کے حسد اور اُن کی نفرت نے مجھے اندر سے زخمی کر ڈالا تھا۔اور اُس وقت میں نے خود سے عہد کیا تھا کہ مجھے لوگوں کے بارے میں نہیں سوچنا مجھے صرف اپنے بارے میں سوچنا ہے۔تب میں نے سب کچھ بھول کر اپنے بارے میں سوچا تھا اور ’محبت نا محرم تُو‘کہانی لکھ ڈالی۔جو تین نامور ڈائجسٹ سے بُری طرح ریجیکٹ ہوئی۔ایک لوکل چھوٹی سی آرٹیکلز والی ویب سائیٹ پر دے دی۔وہاں سے ایک مشہور ویب سائیٹ والوں کی طرف سے آفر آ گئی تو وہاں بھی دے دی۔کسی نے اُس کا ایک اقتباس ایڈٹ کر کے شئیر کر دیا لیکن کہانی اور رائٹر کا نام لکھنا بھول گیا۔اب کوئی کہے عمیرہ احمد کی کہانی ہے یہ کوئی کہے نمرہ احمد کی اور کوئی بولے سمیرا حمید کی۔جو بھی تھا لیکن میری یہ کہانی پڑھنے والوں کے دلوں کو چھونے لگی۔سب سے ذیادہ رسپانس مجھے اسی کہانی پر ملا۔ یہ دیکھ کر تب میری باجی نے مجھے ناول پڑھنے کی اجازت دی اور پیرِکامل پڑھنے کے لیے بولا۔ تب میں نے پہلا ناول عمیرہ احمد کا پڑھا تھا اور وہ ’باس لیڈی‘ ہیں ۔اُن کا لکھا ہوا پڑھ کے مجھے اُن پر بہت پیار آتا ہے۔کبھی ملیں مجھے تو میں اُن کے ہاتھوں کو عقیدت سے اپنی آنکھوں سے لگا لوں۔

ہزاروں داستانیں ذہن میں آ کے دستک دیتی رہتی ہیں ، اور کبھی اشکوں کے موتیوں میں پرو کے اور کبھی ہنسی کے بہتے سمندر میں غوطہ زن ہو کے اُنہیں صفحہ قرطاس پر بکھیرنے کی کوشش کرتی رہتی ہوں ۔مجھے میرے لفظوں سے اور میرے لفظوں کو مجھ سے بہت محبت ہو گئی ہے۔ میں اُنہیں ہمت نہیں ہارنے دیتی اور وہ مجھے کبھی ہمت نہیں ہارنے دیتے، کبھی ٹوٹنے نہیں دیتے۔میں اکیلی بھی ہوں تو تب بھی میں اکیلی نہیں ہوتی مجھے دلاسہ دینے کے لیے میرے اپنے کردار ہی میرے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں ۔ جو مجھے وہی سبق سکھاتے ہیں جو میں اُن کی زندگیوں میں جا کر اُن کو سکھا کر آئی ہوتی ہوں ۔اسی وجہ سے میں نے ہمت نہیں ہاری حالات کا مقابلہ کیا اور کھُلی آنکھوں سے دیکھے گئے اپنے خواب کو حقیقت کا رنگ دیا۔

’کسی بُک ریک میں سجی کوئی کتاب ، جس کے فرنٹ پرجگمگاتا میرا نام!‘

؂ مر بھی جائیں تو کہاں لوگ بھُلا ہی دیں گے

لفظ مرے ہونے کی گواہی دیں گے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماہ وَش عدیل کرمانی

کراچی

ورجینیا وولف نے اپنے ایک مضمون

A Room of one’s own

میں ایک زنانہ کردار تخلیق کیا اور اسے شیکسپئیر کی خیالی بہن “جوڈیتھ” کا نام دیا کہ اگر شیکسپئیر کا ہنر خود اس کے بجائے اس کی بہن کے اندر ہوتا تو یقینا” اسے اپنے جوہر مکمل طور پر دکھانے کا کبھی موقع نہیں ملتا کیوں کہ وہ عورت بطور بیوی اور ماں اپنے دوسرے فرائض کی انجام دہی میں وقت ہی نہ نکال پاتی.”

یہ پڑھنے کے بعد مجھے میرے اس سوال کا جواب ملا کہ اردو ادب میں بھی لکھنے والے مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی تعداد انگلیوں پر گننے والی کیوں ہے.

بہرحال میرے نزدیک ماں بننا اور لکھاری ہونا یہ دونوں ہی دنیا کی سب انمول صلاحیتیں ہیں اور میں خدا کا شکر ادا کرتی ہوں اس نے مجھے ان دونوں سے نوازا.

جہاں تک بات ہے میرے سفر کی شروعات کی تو میں اسے اپنے ستارے “برج دلو” کی خصوصیت کہوں یا اپنے خمیر میں لٹریچر کی گندھی ہوئی دلچسپی کہ بچپن سے اخبارات و رسائل سے خاصی انسیت رہی ہے. یا شاید اس کی وجہ نانی کا لکھنئو سے تعلق اور دادی کا بچپن سے سنائے گئے قصے کہانیوں کا کوئی اثر ہو کہ کب داستان گوئی بطور پہلی محبت خون کے ساتھ گردش کرنے لگی پتہ بھی نہ چلا.

سات سال کی عمر میں جب میں اخبار کا مطالعہ کرتی اور گھر والے خوشگوار حیرانگی کا اظہار کرتے تو میں سوچتی یقینا” یہ کوئی غیر معمولی بات ہے اور شاید یہ اس وقت کی حوصلہ افزائی کا ہی نتیجہ تھا کہ اس سے ٹھیک دس سال بعد سترہ سال کی عمر میں جنگ کے دفتر میں بیٹھے ہوئے ایڈیٹر انوار علیگی صاحب سے اپنے ایک افسانے پر داد وصول کرتے ہوئے تھوڑا سا فخر اور بےپناہ خوشی محسوس کر رہی تھی.

وہاں تک کیسے پہنچی؟ اس میں کوئی راکٹ سائنس نہیں بس آٹھویں کلاس میں تھی تو کچھ نہ کچھ لکھتی رہتی تھی. مادری زبان اردو ہے چنانچہ اس زبان سے محبت ہونا بھی فطری عمل تھا. شاعری سے لگاؤ کا یہ عالم تھا کہ چاہے سمجھ آئے نہ آئے مگر غالب کو پڑھنے سے ہی موڈ اچھا ہو جاتا تھا. کچھ نہیں ملا تو چپکے سے چاچو کے زیر مطالعہ جاسوسی ڈائجسٹ پر ہاتھ صاف کرلیا. (جی ہاں اس زمانے کی ہوں جب میٹرک سے پہلے لڑکیوں کو ڈائجسٹ سے ایسے دور رکھا جاتا تھا جیسے بچوں کو دوائی کی پہنچ سے)

خیر میٹرک کے امتحانات سے فراغت کیا ملی، ہمیں ڈائجسٹ پڑھنے کی آزادی کا پروانہ مل گیا. بس پھر ہم ہوتے تھے اور گھر کا کوئی گوشہ. مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کہ مصداق اب صرف مطالعے سے تشفی نہیں ہوتی تھی تو لکھنے کا قصد کیا. ہفت روزہ میگزین میں چھوٹے چھوٹے کٹ پیس تو بھیجتی ہی رہتی تھی آٹھویں سے لیکن باقاعدہ افسانہ میٹرک کے بعد لکھا. ان دنوں کالج کے فنکشن کے لئے مستنصر حسین تارڑ صاحب کے ٹی وی پروگرام شادی آن لائن کی پیروڈی لکھی جسے بہت پسند کیا گیا.

طنز و مزاح سے اتنا شغف رہا ہے کہ ابن انشا، ممتاز مفتی، شفیق الرحمن اور مشتاق احمد یوسفی صاحب کو پڑھ پڑھ کر زندگی تمام بھی کرلوں تو لگے گا ٹھیک ٹھاک گزری ہے.

دراصل اسے لکھنے کی ایک عالمگیر حقیقت کہہ لیں کہ جب آپ بہت مطالعہ کرتے ہیں اور اس کے ساتھ آپ کا مشاہدہ بھی اچھا ہو تو اکثر لوگوں کا ذہن از خود کہانیاں بننا شرور کردیتا ہے. اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اگر آپ اچھا لکھنا چاہتے ہیں تو پہلے اچھا پڑھیں اور بہت پڑھیں. اور ایسا ہی میرے ساتھ ہوا مجھے لکھنا آگیا. لیکن جب میں نے اپنی دیگر مصروفیت کے باعث مطالعے کی عادت ترک کر دی تو الہام نے بھی میرا ساتھ چھوڑ دیا. گریجویشن کے بعد کارپوریٹ جاب اس کے بعد من چاہے شخص سے شادی اور اوپر تلے کی دو خوبصورت شہزادیوں کی محبت میں کئی سال اڑن چھو ہوگئے.

ڈیڑھ دو سال قبل اچانک پیاری سہیلی مصباح کا میسج آیا کہ “کچھ لکھو. عمیرہ احمد صاحبہ نے آن لائن میگزین شروع کیا ہے.” بس پھر کیا تھا اپنے اس شوق کی بجھی ہوئی راکھ کو جوں ہی میں نے ہوا دی تو ایک شعلہ اٹھا اور آٹھ سال پہلے لکھا ہوا ایک افسانے کا مسودہ میری ڈائری میں سے برآمد ہوا جسے میں نے مکمل کر کے بھیجا تو اگلے ہی شمارے میں شائع ہوگیا. اور وہاں سے میرے ادبی سفر کا دوسرا جنم ہوا.

اب ایسا ہے گھڑی کی سوئیوں سے جنگ کرتے اور اپنے گھریلو فرائض پورے کرتے ہوئے جب بھی موقع ملے جائے تو کچھ نہ کچھ لکھ کر اپنے عشق کے پودے کی آبیاری کرلیتی ہوں اور ایلف شفق کے میموئر “بلیک ملک” کو اکثر پڑھتی رہتی ہوں جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ بطور مصنفہ اپنی شادی اور بچوں کی پیدائش کے بعد لائف کو کیسے مینیج کیا. اور یہی وجہ ہے کہ میں لکھنے کی شدید خواہش کے باوجود اپنے آپ کو بچوں کے علاوہ اپنے جنون سے بانٹنے میں بھی اکثر ایک کشمکش میں رہتی ہوں.

بقول لئیق عاجز’

قلم اٹھاؤں کہ بچوں کی زندگی دیکھوں

پڑا ہوا ہے دوراہے پہ اب ہنر میرا

Advertisements