میں اور وہ__________عظمی طور

وہ اکیلا اسکے سرہانے کھڑا تھا – کفن میں لپٹی وہ ہمیشہ کی طرح دکھ کی تصویر بنی تھی ۔ وہ چاہ کر بھی اسے پرسکون نہ کر پایا ۔

“آپکو نہیں پتہ میں نے آپکے انتظار میں بہت تکلیف سہی ہے ۔”

وہ ہنستے ہنستے رونے لگتی ۔

وہ دلگرفتہ سا اٹھ جاتا

“میں نے تمام عمر تنہا گزاری ہے ۔ میں مرنے کے بعد بھی تنہائی چاہتی ہوں”

“ظاہر ہے میں قبر میں تمھارے ہمراہ نہیں جا سکتا”

وہ اسکی بات کے جواب میں مسکراتا تو وہ اور بھی پختہ لہجہ اختیار کر لیتی

“میں سچ کہہ رہی ہوں ۔ مجھے آپکے سوا کوئی نہیں ۔اور سن لیں مجھے قبر میں بھی صرف آپ ہی اتاریں گے۔”

“لیکن میں تنہا ایسا نہیں کر سکتا ۔اور تمھارا وزن بھی تو ذیادہ ہے”

اسکی بات کو ہلکے پلکھے انداز میں ٹالنے کی بھرپور کوشش بھی ناکام جاتی

وہ ہے ہی ایسی تھی ۔ ایک حتمی لکیر کھینچ دیتی اور اس پر اٹل حقیقت کی مانند ڈٹ جاتی ۔

“میں جانتی ہوں آپ سب کو بلا لیں گے ۔ لیکن سنیں میں ایسے مرنا نہیں چاہتی ۔”

“لیکن میری جان مرنے پہ سب آتے ہیں غسل دیا جاتا٫ جنازہ ہوتا ہے ۔میں بھلا کیسے کسی کو روک سکتا ہوں ۔”

“مجھے نہیں پتہ ، جیسے بھی روکیں مجھے کسی موجودگی پسند نہیں “۔

وہ اسکے کندھے سے اپنے ہاتھ ہٹا لیتی تو وہ مان جاتا ۔

“جیسے تم کہو گی ویسا ہی ہو گا ۔”

وہ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتی تو وہ بھی پرسکون ہو جاتا ۔

وہ جب اسے ملی تھی تو اس نے سوچا تھا کہ وہ اسے سمیٹ لے گا ۔

لیکن وہ کسی پھول سے ٹوٹی پتیوں کی طرح سے تھی ۔ جو ٹوٹنے کے بعد جڑ نہیں پاتا ۔جو خوشبو تو رکھتا ہے لیکن باسی ۔

“یہ جو تھوڑی بہت خوشبو بچی ہے یہ آپ سے محبت کے عوض مجھ میں چھوڑ دی گئی ہے ورنہ آپ آئیں اور دیکھیں کہ اندر صرف اندھیرا ہے اور کچھ بھی نہیں “۔

وہ بارہا اسے سمجھاتا کہ محبت تو روشنی ہے جو تن من اجلا کر دیتی ہے لیکن وہ اپنے آنکھوں کے سیاہ حلقوں کی سیاہی کی مانند جم چکی تھی ۔ جو اسکے مسکرانے پر بھی قائم رہتے تھے ۔

یہ ہلکے بھورے آنکھوں کے حلقے بھی اس نے اس کی محبت میں اپنی آنکھوں کے گرد پھیلائے تھے ۔

اسکی شفاف رنگت کے ساتھ ایسے ہی ہلکے بھورے حلقے جچتے تھے ۔

اسکے سنہری بال جو ہمیشہ اسکے شانوں پہ بکھرے رہتے ان آنکھوں کے بھورے حلقوں سے مل کر اسے اور اداس بنا دیتے

وہ جب اسے دیکھتا اسکے گرد اداسی اپنے شکنجے گاڑھ لیتی ۔

“تم نے اچھا نہیں کیا ، کس نے کہا تھا مجھے اس قدر چاہو “۔

وہ الجھتا تو وہ مسکرانے لگتی ۔

“چاہنے پر اختیار تھوڑا ہی ہوتا ہے ۔”

“لیکن تم نے بہت توڑ پھوڑ لیا خود کو اور میں جوڑتے جوڑتے _”

وہ اپنی بات ادھوری چھوڑ دیتا تو وہ اپنی خالی آنکھوں کو اور خالی کر لیتی ۔

“مجھے نہ جوڑیئے مجھے ٹوٹا رہنے دیں ، ہاں بس بچے کھچے حِصّے کہیں جمع کر لیجئے اور بس __”

“تم میری ذات کا حِصّہ ہو میں ہوں تم ، میں کیسے تمھیں بکھرنے دے سکتا ہوں ۔”

وہ شدتِ جزبات میں اسکے یخ ہاتھ تھام لیتا ۔

وہ نڈھال سی اسکے شانے سے سر ٹکا لیتی ۔

آج بھی ایسے ہی سر ٹکائے بیٹھی تھی ۔ جب بیٹھے بیٹھے کافی دیر بیت گئی تو اس نے اسکی ٹھوڑی کو چھوا ۔ اس نے کچھ حرکت نہ کی تو وہ سمجھا کہ شاید سو گئی ہے ۔

اس نے اسکا سر اٹھا کر صوفے کی پشت سے ٹکایا تو وہ ایک طرف کو ڈھلک گیا ۔

اس نے گھبرا کر اسکی ناک کے نتھنے کے نیچے انگلی رکھی ، سینے پر ہاتھ رکھ کر دل کی دھڑکن کو محسوس کیا لیکن سب طرف خاموشی تھی ۔ وہ جا چکی تھی ۔

آج بھی اسکے سنہری بال بکھرے تھے ۔ اور ہلکے بھورے آنکھوں کے ہلکے اسکی آنکھوں کے گرد گھیرہ کیے ہوئے تھے ۔

لبوں پر پپڑیاں جمی تھیں ۔ اور اسکی تمام محبتیں خاموش تھیں ۔

“آپ کو چاہنا ایسے ہے جیسے میں کسی سپلیمنٹ سے انرجی گین کر لوں ۔”

“تم دیوانی ہو “۔

وہ مسکراتا ۔

“آپ …”

“کیا؟؟”

“جب آپ مسکراتے ہیں تو مجھ سے کچھ کہا نہیں جاتا ۔”

“تم بھی مسکرایا کرو” ۔

وہ اسکے جھکے سر کو اپنے سر سے چھوتا ۔

اب اسکے گرد اپنے پنجے گاڑنے والی اداسی نہیں رہی تھی ۔

اسکے سرد ہاتھ اسکی گود میں دھرے تھے ۔ اس نے اسے دھیرے سے صوفے پر لٹا دیا ۔ اور گرم شال اوڑھا دی خود اسکے قریب زمین پہ بیٹھ گیا ۔

“ٹھنڈ اتنی نہیں ہے جتنا تم محسوس کرتی ہو” ۔

وہ اسکی بات پر پھیکا سا مسکراتی ۔

وہ اسکے قریب بیٹھا اسے تکنے لگا ۔

“تم بہت ظالم ہو “۔

“آپ بہت اچھے ہیں” ۔

مسکرانے کی کوشش میں اسکے پھیکے ہونٹ کھچ جاتے ۔

“دل سے کیوں نہیں ہنستی” ۔

“دل سے ہنستی ہوں ۔ دیکھیں __”

وہ منہ پھیر لیتا ۔

اسکی شفاف رنگت پیلی پڑ گئی تھی ۔

اسکے سنہری ملائم بال کھردرے ہو چلے تھے ۔

“تم اپنا خیال کیوں نہیں رکھتی” ۔

“رکھتی تھی اب کیا کروں خیال رکھ کر ۔ آپ ہیں ناں خیال رکھنے کو “۔

وہ اسکی آنکھوں جھانکتا تو سوائے یاسیت کے اسے کچھ دکھائی نہ دیتا ۔ وہ نظریں چرا لیتی ۔

“یہ کیسی محبت ہے جو تمھیں مایوسی سے نکال نہیں پاتی ۔ تم ڈھونگ کرتی ہو ،تمھیں مجھ سے محبت ہوتی تو تم جینے لگتی ۔ تمھارے اندر خواہش جاگتی لیکن تم دن بہ دن مرنے لگی ہو

” ۔

“محبت کا مل جانا مل جانا نہیں ہوتا ۔ وقت پر مل جانا معنی رکھتا ہے “۔

وہ انتظار کی کیفیت میں منجمند ہو گئی تھی ۔ اور ایک عمر انتظار کی کیفیت سے گزرنے کے بعد انسان کو کوئی چیز حدت نہیں پہنچا سکتی ۔

اس نے اپنا کفن تیار کر رکھا تھا ۔ وہ اسے غسل دے کر کفن پہناتے ہوئے کئی بار اسکا جی چاہا کہ زندہ ہو جائے اور وہ اسے بتائے کہ اب اسے اس یاسیت کی اس اداسی کی عادت ہو چلی یے تو وہ کیوں اسے چھوڑ کے چلی گئی ۔

“مجھے تم اچھی لگتی ہو ۔ میں اکثر وجہ جاننے کی کوشش کرتا ہوں ، شاید تمھاری آنکھیں یا پھر ان میں رہنے والی اداسی “۔

“اگر میں مر جاؤں تو آپ تب بھی ایسے چاہیں گے مجھے”.

اسکے بال سہلاتے ہاتھ دکھ جاتے ۔

“نہیں ، میں تمھیں بھول جاؤں گا “۔

“ہاہا جھوٹ ،آپ مجھے بھول نہیں سکتے” ۔

اسکا قہقہہ بھی اسکی طرح بوسیدہ تھا ۔

وہ اسے اسی کمرے میں چھوڑ کر قبرستان آ گیا تھا ۔

گورکن کی مدد سے قبر کھودنے لگا ۔

“کیا قبر تھوڑی کشادہ نہیں رکھی جا سکتی” ؟

گورگن کے انکار پر وہ چپ چاپ مٹی ہٹانے لگا ۔

اسے یاد آیا تنگ جگہوں پر اسکا دل گھبراتا تھا ۔ وہ ہمیشہ کھڑکیاں دروازے کھلے رکھتی ۔

“سنیں ، یہ کھڑکیاں نہ بند کیا کیجئے میرا دل گھبراتا یے سانس گھٹنے لگتا ہے ۔”

وہ اسکی شرٹ کے بٹن بند کر رہی تھی ۔

“دل کی کھڑکی کھول لو کچھ گھٹن محسوس نہ ہو گی”_

“آپ نے کھول رکھی ہے ناں ، بس میری جانب آتی ہیں ہوائیں ۔”

دو گھنٹوں کی محنت کے بعد قبر تیار یو چکی تھی ۔

وہ آج اسے دفنائے گا ، جو کئی برس پہلے ہی مر چکی تھی ۔

گلی کے چار بندوں کی مدد سے اسے اس گھر سے قبرستان لانے میں مدد کی ۔

“آپ میری کفن کی ڈوریاں کسنے سے پہلے میرا چہرہ دیکھ لیجئے گا ۔”

“مجھے نہیں دیکھنا تمھارا چہرہ ۔”

وہ منہ موڑ کے بیٹھ جاتا

“اچھا دیکھیں تو ،ابھی تو میں زندہ ہوں”

“خاک زندہ ہو– “وہ اسکی جانب رخ موڑتا تو وہ مسکرانے لگتی ۔

“اب ہنسنے کا مطلب ۔”

“آپ خفا نہ ہوں”_

“میں خفا نہیں ہوں “۔

وہ گھر سے یہاں تک کے رستے میں اسکی چارپائی کو کاندھا دیئے ہوئے یہی سوچتا رہا ۔

اگر وہ نہ مرتی تو اس پل اسے دیکھ کے تڑپ جاتی ۔

“آپ اتنا کام نہ کیا کریں ، تھک جاتے ہیں تو ذرا اچھے نہیں لگتے ۔”

“میں تھک گیا ہوں ۔ پہلے تمھارے محبت کی لاش اٹھائے اٹھائے پھرتا رہا اور اب تمھاری “۔

قبر میں اتارنے کے بعد سب چلے گئے تو وہ اسے دیکھنے لگا ۔

وہ کہاں تھی صرف سفید کفن میں لپٹی ایک لاش تھی جو سامنے تھی ۔

“سنیں مٹی نہیں ڈالیں گے ؟”

“میں نہیں ڈالوں گا ۔”

“کیوں؟”

“تم کیوں مر گئیں ؟ مجھے تمھاری ضرورت تھی” ۔

“ہاہا ….آپکو میری نہیں ،مجھے آپکی ضرورت تھی ۔ چلیے اٹھیے مٹی ڈالیے “۔

وہ اٹھا اور مٹی ڈالنے لگا ۔

“کون کون تھا جنازے میں ؟”

“کوئی نہیں، میں تھا اور گورگن ،تین لوگ اور تھے جو یہاں تک لائے ۔”

“اور تو کوئی نہیں تھا ناں” ۔

سفید کفن کہیں چھپ گیا تھا ۔

ہاں ،چند آہیں اور سسکیاں تھیں کچھ نوحے تھے ۔ اور ایک اداس محبت تھی ۔

“جنازہ تو اچھا ہو گیا _ مٹی کون کون ڈال رہا ہے ؟”

“میں تنہا ہی ہوں “۔

“اور کتبے پر کیا تحریر ہے ؟”

“تمھارا اور میرا نام __”

“اب بس کیجئے تھک گئے ہونگے “۔

“تھوڑا ہی کام بچا ہے” ۔

وہ قبر کو مٹی بھر چکا تھا ۔ بھوری مٹی اسکی آنکھوں کے گرد رہنے والے ہلکے بھورے حلقوں جیسی __

کتبہ نصب کرنے کے بعد اس نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے تو اسکا مسکراتا چہرہ ہتھیلی پہ ابھر آیا ۔

________________

تحریر:عظمیٰ طور

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements