وقت________سبین شیخ

کئی بار اس کی اپنی ساس سے چپقلش ہوئی تھی.ساس کہتی تھی کہ بہو! تم نے اپنی اولاد کے دل میں پاکستان کی محبت پیوست کیوں نہیں کی؟. یہ میرے پوتے پاکستان کا ترانہ سن کھڑے کیوں نہیں ہوتے.یہ باہر سڑک پہ ان سے کچرا کیوں پھینکواتی ہو ؟,تو یہ کیوں نہیں سمجھاتی کہ یہ روڈ رستے سب ہمارے اپنے گھر پاکستان کے ہیں ان کو صاف رکھنا ہماری ہی ذمہ داری ہے.بہو! تو ان کو بتایا کر کہ یہ پاکستان ہم نے کس قدر قربانیوں سے حاصل کیا ہے”.بہو تھی کہ اس کی اولین ترجیح گھر کے کام تھے اسے کبھی اولاد کی تربیت کا وقت ہی نہیں ملا.

آج ٹی وی کی ہر نشریات میں اس کے بیٹے کا ذکر تھا. اس کا دل دہل رہا تھا,آنکھوں سے آ نسو رواں تھے اور زبان مسلسل بیٹے کی سلامتی کی دعا کر رہی تھی. آج اسے اپنی ساس کے الفاظوں کا مول نظر آ رہا تھا کہ وہ کس قدر تاکید سے کہا کرتی تھی کہ اپنی زمین سے غداری کر کے انسان امان نہیں پا سکتا! لیکن اب ان سب باتوں کا وقت کہاں تھا.

وقت تو اب اس کے بیٹے کے پاس بھی نہیں تھا کیوں کہ پولیس دروازے پہ کھڑی تھی اور اس کے بیٹے کو اپنے محکمے,اپنے پاکستان,اپنی قوم سے کروڑوں روپے کا غبن کرنے کے جرم میں لے کے جانے والی تھی.

________________

تحریر:سبین شیخ

کورڈئزائن: صوفیہ کاشف

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.